مکتوبات

اپنوں کی یاد

موسم بدلتا ہے تو وقت گزرنے کا احساس ہوتا ہے۔ ہر بدلتی رُت آنے والے نئے دَور کی نوید سناتی ہے۔ سردی، گرمی، خزاں، بہار، برسات موسم چاہے کوئی بھی ہو، اگر انسان ذہنی اور دلی طور پر شاد ہے تو اُسے ہر موسم اچھا لگتا ہے مگر خدانخواستہ کوئی فکر یا پریشانی دامن گیر ہو تو کیا پھول کیا خوشبو، اس کے لئے تو چمن بھی گویا صحرا ہے۔

 

ہم نے کینیڈا میں سارے موسم دیکھ لئے ہیں۔ نظم و ضبط اعلیٰ انتظامی امور، قانون کی بالادستی، قواعد کی پابندی، تفریح گاہیں، ساحل پہاڑ، دریا، سمندر، حسین نظارے، بلند و بالا عمارتیں سبھی کچھ دیکھ لیا۔ بس اب ایک تمنا ہے جو ہمہ وقت بے قرار رکھتی ہے، پاکستان واپس جانے کی خواہش ، یہ ایک ایسی آرزو ہے جس نے دل ودماغ کو جکڑا ہوا ہے۔ پاکستان فون کرو تو گھر والے بتاتے ہیں کہ شدید گرمی ہے، لوُ چل رہی ہے، درجہ حرارت40 سے اُوپر ہے، پھر بجلی نے الگ قیامت ڈھا رکھی ہے۔ اسی باعث پانی بھی نہیں آرہا، شدتِ پیاس میںٹھنڈا پانی میسر نہیں۔ یہ تمام باتیں سُن کر بھی ہم اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتے۔ اگر چہ یہ مسائل کینیڈا میں نہیں۔ یہاں نہ بجلی جاتی ہے نہ نلوں میں پانی بند ہوتا ہے، پانی کی ٹینکی کس بلا کا نام ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ یہاں تو گرمیوں میں بھی گرمی نہیں پڑتی۔ مئی، جون، جولائی۔ بس ان تین مہینوں میں دن کے وقت سورج کا پتہ چلتا ہے اور شام ہوتے ہی ٹھنڈ ہو جاتی ہے۔ گرمی یا سردی، موسم کی شدت عام طور پر انسان کو متاثر کرتی ہے۔ مگر پردیس میں بندے کو اپنے وطن کے سوا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ اب بھلے کراچی میں سورج آگ برسا رہا ہو، بھلے بجلی بند ہو مگردل کی ہر دھڑکن بس جیسے وہی پکار رہی ہے۔

ایک تو ویسے ہی ہر وقت ہمیں اپنی فیملی اور گھریاد آتا ہے۔ مگر اُن کی یاد آج کل کچھ زیادہ ہی آرہی ہے۔ ہم یہاں بھی لوکل ٹی وی چینلز دیکھنے کے بجائے پاکستانی چینلز ہی دیکھتے ہیں۔ سینما پر فلمیں بھی پاکستانی دیکھتے ہیں۔ کوئی پاکستانی سماجی یا ثقافتی پروگرام ہو لازمی شرکت کرتے ہیں۔ یہ سب دل کو قرار دینے کی کاوشیں ہیں۔ پھر اگر کوئی ایسی خبر پاکستان سے ملے جو تکلیف دہ ہو تو بس سمجھ لیجئے کہ ہمارے اوپر بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ حال ہی میں سینیئر ٹی وی فنکارہ کلثوم سلطان اور تھیٹر کی معروف ڈائریکٹر مدیحہ گوہر کے انتقال کی خبر ملی تو دل اداس ہوگیا۔ امجد صابری، کمال احمدرضوی، فاطمہ ثریا بجیا، زبیدہ طارق، بانوقدسیہ، عبداﷲ حسین ، انتظار حسین، قاضی واجد اور جمیل الدین عالی جیسے عظیم لوگ چلے گئے۔ ان دو تین سالوں میں کیسے کیسے گوہر نایاب ہم سے جدا ہوگئے۔ رسا چغتائی، عفیفہ صوفیہ الحسینی، عبدالستار ایدھی بھی راہیئِ ملک عدم ہوئے۔ موت برحق ہے، سب کو جانا ہے مگر بعض لوگوں کے بچھڑنے کا دکھ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

 

یوں تو ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہر ایک کا وقت معیّن ہے لیکن پھر بھی دل میں حسرت رہتی ہے کہ کاش مرنے سے پہلے ان سے ایک بار مل لیتے۔ہم سوچتے ہیں کہ اب گویا علم ثقافت کا خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے، کوئی بھی نہ رہا۔ ایک ایک کرکے سبھی رخصت ہو رہے ہیں۔ اب اپنے مُنّوبھائی کو ہی لے لیجئے، 'منوبھائی' کتنا پیارا نام ہے، لگتا ہے آپ کا کوئی اپنا، کوئی پیاراہے' منیر احمد قریشی' کے نام سے تو کم ہی لوگ اُنہیں جانتے ہوں گے مگر منوبھائی سے سبھی واقف تھے۔ یہ قلمی نام تو ایسا سب کو بھایا کہ لوگ اُن کا اصل نام ہی بھول گئے۔

 

منو بھائی کے وصال کی خبر جب ہمیں ملی تو طبیعت اداس ہوگئی۔ وہ نہ صرف بہترین ڈراما نگار تھے بلکہ بہت عمدہ صحافی، کالم نگار اور مصنف بھی تھے۔

ان کا تحریر کردہ ڈراما'سونا چاندی' کون بھول سکتا ہے۔ سونا چاندی1982 میں لاہور مرکز سے نشر ہوتا تھا، اس ڈرامے کے ہدایت کار راشد ڈار تھے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ 36 برس گزر جانے کے باوجود لوگ اسے نہیں بھولے۔ یہاں کینیڈا میں بہت سے غیر ملکی ہیں جو ہم سے اکثر سونا چاندی اور اندھیرا اُجالا ڈرامے کا ذکر کرتے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے ان دونوں معرکة الآرا ء ڈراما سیریز کے پروڈیوسر راشد ڈار تھے۔ راشد ڈار کے زیرِ ہدایت بننے والے ڈرامے 'مسافتیں' میں ہمیں کام کرنے کا موقع ملا، اس ڈرامے میں ہمارے ساتھ عابد علی اور عجب گل بھی تھے۔

 

ہم تذکرہ کررہے تھے سونا چاندی کا جو منو بھائی کا ایسا شاہکار تھا جس سے اُنہوں نے اصلاحِ معاشرہ کی۔ اُس دَور میں نہ تو ریٹنگ کا چکر تھا نہ ہی ڈراما اتنا کمرشل ہوتا تھا۔ اس کے باوجود اتنا جاندار اور شاندار ڈراما ہوتاتھاکہ ماہ و سال کی گرد ان پر جم نہ سکی۔ آج بھی لوگ وہی پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں کو یاد کرتے ہیں۔

اب ڈراموں کی بات ہو رہی ہے تو ہم ذرا کلثوم سلطان اور مدیحہ گوہر کا بھی تذکرہ کرنا چاہیں گے۔ کلثوم سلطان اُردو اور سندھی ڈراموں کی فنکارہ تھیں، ہم نے ان کے ساتھ کئی ڈراموں میں کام کیا۔ پاداش ان کا ایک یادگار ڈرامہ تھا۔

مدیحہ گوہر نے اگر چہ ٹیلیویژن ڈراموں میں بھی کام کیا ہے لیکن ان کی اصل شناخت تھیٹر ہے۔ وہ معروف اداکارہ فریال گوہر کی ہمشیرہ تھیں۔ مدیحہ کچھ عرصے سے سرطان میں مبتلا تھیں۔ ہماری ان سے آخری ملاقات آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں ہوئی تھی اور آرٹس کونسل میں ہی ہماری آخری ملاقات قاضی واجد سے بھی ہوئی تھی۔ انور مقصود، قاضی واجد آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ اور ہم چائے پی رہے تھے اور انور مقصود کے نئے ڈرامے پر گفتگو ہو رہی تھی۔سوچنے بیٹھو توسب خواب سا لگتا ہے۔ قاضی واجد ریڈیو اورٹیلی ویژن کے نامور فنکار تھے جو رواں برس ہم سے جدا ہوگئے۔ خدا کی بستی، اَن کہی، تنہائیاں، ان کے مقبول ترین ڈرامے تھے۔ قاضی واجد، سبحانی بایونس اور محمود علی کو ٹی وی کی تکون کہا جاتا تھا۔ آہ ! یہ تینوں حضرات رخصت ہوگئے۔


مضمون نگار مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

 

یہ تحریر 223مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP