متفرقات

اپنوں سے دور

ہے کوئی حصہ دار‘ اس عید پرہم نے محبت کی قربانی دینی ہے 5اکتوبر کی سنہری شام اسلام آباد سے براستہ سڑک بنوں روانہ ہوتے وقت میرے ذہن میں کئی سوالات کی بھرمار تھی اور میرے فون پر مسلسل گھنٹیوں اور پیغامات کی یلغار ! 6اکتوبر پاکستان میں عید الاضحی کا دن تھا اور 5اکتوبر چاند رات کو میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ یہ منزل میرا گھر نہیں تھا۔ اس بار میں اپنے فوجی بھائیوں کے پاس بنوں عید منانے جارہی تھی۔ میرے یہ بھائی آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہونے کی بنا پر اپنے گھر سے دُور مسلسل دوسری عید منا رہے تھے۔ میرا فون مسلسل چیخ رہا تھا۔ بالکل میرے گھر والوں اور دوستوں کی طرح جو ناراض تھے کہ ایسی بھی کیا ’’ڈیوٹی‘‘کہ عید بھی گھر پر نہ منا سکوں! اور میرے پاس اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔ میں مسکراتے ہوئے سب کو جواباً عید مبارک کہہ رہی تھی اور عید کے دوسرے ہی دن واپسی کا وعدہ کر رہی تھی۔ میرے ذہن
میں بے شمار سوالات تھے۔ اپنے ان پرخلوص‘ بے لوث‘ حب الوطنی سے سرشار محبوب فوجی بھائیوں کے لئے۔ آپریشن کی کامیابی کے متعلق‘ ان کی پیشہ ورانہ مشکلات کے متعلق اور خاص طور پر یہ کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ اپنا گھربار چھوڑ کر بے گھر قبائلی بھائیوں کے ساتھ عید منانے پر پورے خلوص سے راضی ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ان حالات میں جب بنوں کے آئی ڈی پیز کی اکثریت کی عید کا دن مختلف ہو۔ ان کی زبان مختلف ہو اور دونوں طرف سماجی رسوم و رواج کا فرق بھی ہو۔۔۔ یہی سب باتیں ذہن میں لئے 7گھنٹے کی مسافت کے بعد بنوں پہنچی تو رات کے 10بج چکے تھے۔ بنوں شہر میں ہو کا عالم تھا لیکن سڑکوں پر پولیس‘ ایف سی اور فوج کے جوان مستعد تھے کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی رات کی نیند محفوظ اور پرسکون بنا سکیں۔ بریگیڈیئر آفتاب اور لیفٹیننٹ فرحت نے پرتپاک استقبال کیا اور پرسکون آرام کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ان کے ساتھ صبح کا پروگرام ڈسکس کیا اور بنوں کی خاموش رات کی گہرائی میں نیند کی وادی میں اتر گئے۔ اگلے دن صبح کا آغاز 6بجے ہوا کیونکہ 8بجے نماز عید تھی اور جی او سی بنوں میجر جنرل اختر راؤ سے ملاقات بھی طے تھی۔ عید گاہ پہنچے کا تو منظر حیران کن تھا۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ نماز عید کی تیاری میں مصروف تھے۔ احساس ایک بار پھر مضبوط ہوا کہ پاک فوج یونہی عوام کی امنگوں کے مطابق جمہوری روایات اور قانون کی پاسداری کرتے آگے بڑھے تو پوری قوم ان کی طاقت بن کر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاک فوج نے جس طرح عوام کا اعتماد‘ اعتبار اور پیار ایک بار پھر apnoon se door1حاصل کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ لگتا ہے کہ سول و ملٹری ریلیشنز عوام کی سطح سے زیادہ اب خواص کی سطح پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ نماز عید پڑھی گئی اور خوشی سے سرشار شہری اپنے فوجی بھائیوں کے گلے لگ گئے۔ عید کی مبارک بادیں فضا میں گونجیں اور میرے دل میں ایسی خوشی پھوٹی کہ یقین کریں کبھی گھر والوں سے عید مل کر بھی ایسی خوشی نہ ملی ہو گی۔ اسی عیدِ سعید کے ماحول میں جی او سی بنوں میجر جنرل اختر راؤ سے بات ہوئی‘ کہنے لگے کہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے ایک کیا ہزاروں عیدیں قربان ۔ ان کے چہروں پر تحفظ اور اطمینان کی ایک لہر دیکھنے اور لبوں پر مسکراہٹ کی ایک کرن کے لئے ایک ایک جوان اپنی پوری زندگی صرف کر سکتا ہے۔ ٹی ڈی پیز کا ذکر بھی چھڑا۔ پاک فوج ان کے لئے عارضی گھروں کی آسائش اور مستقبل کے مستقل تحفظ کا بھرپور سامان کر رہی ہے۔ انہی باتوں کے دوران بنوں کے بکاخیل ٹی ڈی پیز کیمپ روانگی ہوئی تاکہ متاثرین کا احوال اپنی آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔ کیمپ پہنچے تو وہاں عید کا الگ خوبصورت سماں تھا۔ اگرچہ متاثرین ایک روز پہلے عید منا چکے تھے لیکن سرکاری طور پر عید کی وجہ سے کیمپ کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ پتا چلا کہ کچھ ہی دیر میں آرمی چیف بھی کیمپ کا دورہ کریں گے۔ متاثرین اور فوجی جوانوں سے عید ملیں گے اور متاثرین کے لئے نئے پیکیجز کا اعلان بھی کریں گے۔ کیمپ میں ننھے منے فرشتے عضب خان سے ملاقات ہوئی۔ اس کی قابل رشک صحت دیکھ کر آپریشن ضرب عضب کی صحتمندی اور متاثرین کی دیکھ بھال کا اندازہ ہوا۔ قبائلی بہن بھائیوں سے بات چیت میں زبان کا مسئلہ درپیش رہا لیکن علاقے سے تعلق رکھنے والے کچھ فوجی بھائیوں اور اردو جاننے والے کچھ متاثرین نے کافی مدد کی۔ پتا چلا کہ یہاں کیمپ میں یہ لوگ خوش تو بہت ہیں لیکن اپنی قبائلی روایات کے تحت اپنے گھروں کو فوری واپس جانے کے لئے بے قرار بھی اور اداس بھی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور فوج بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ علاقے کو مکمل کلیئر کر کے اور اس بات کو یقینی بنا کر کہ آئندہ وہاں دہشت گردی کا بیج بویا نہ جا سکے گا‘ ان متاثرین کو واپس بھیج سکے۔ کچھ ہی دیر میں آرمی چیف بچوں کے لئے ڈھیروں تحائف اور بڑوں کے لئے ضروری اشیاء لے کر کیمپ پہنچ گئے۔متاثرین اور فوجی جوانوں سے عید ملے‘ تحائف تقسیم کئے اور فاٹا یوتھ پروگرام کے تحت فوج میں اور دیگر ذرائع سے نوکریوں کا اعلان کیا۔ بکاخیل کیمپ میں عید کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں اور میں سوچنے لگی کہ گھر اور اپنوں سے دور عید میں بھی اگر کوئی آپ کو گلے لگائے تو اس سے بڑی عید اور کوئی نہیں!!! زآئی ڈی پیز کے حال سے مطمئن ہو کر اب وقت آیا کہ اگلے مورچوں پر تعینات فوجی بھائیوں سے ملا جائے۔ جو سوالات اسلام آباد سے چلتے وقت ذہن میں تھے‘ ان کا جواب لیا جائے۔ بکاخیل کیمپ سے ذرا دورسید گئی چیک پوسٹ پہنچے جس سے آگے شمالی وزیرستان کے دیوہیکل پہاڑ ان جوانوں کے عزم و ارادے کے سامنے ہیچ نظر آئے۔ سیدگئی کیمپ وہ جگہ ہے جہاں آپریشن سے پہلے سات لاکھ سے زائد متاثرین کی رجسٹریشن کا مشکل کام ان تھک محنت سے جناتی انداز میں سات دن میں مکمل کیا گیا۔ کمانڈر عمران اور کاظمی صاحب
ایسی ہی خوشگوار گفتگومیں پتا ہی نہ چلا کہ کب سورج شمالی وزیرستان کے پہاڑوں کے پیچھے غروب ہو گیا اور روانگی کا وقت آن پہنچا۔ رخصت کا سلام ہوا اور واپسی میں ایسی سرشار اور مطمئن تھی کہ اپنی زندگی کی اب تک کی بہترین عید گزاری۔ سمجھ گئی تھی کہ قربانی کی عید کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ یہی تو قربانی کا پیغام ہے کہ اپنی سب سے عزیز شے اﷲ کی راہ میں قربان کر دو اور یہ فوجی جوان اپنے گھر بار‘ رشتہ دار‘ اپنی اولاد جیسی سب سے پیاری چیزیں اﷲ کی راہ میں قربان کئے یہاں بیٹھے ہیں۔
نے اپنے جوانوں کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا۔ آنکھوں میں اپنی ہم وطن بہن بھائیوں کے لئے اپنائیت‘ ہونٹوں پر خوش آمدید لیکن چہرے پر ایسی بلا کی متانت اور سنجیدگی کہ میرے سارے سوال جیسے ان کے بلند عزم و ارادے کی راہ میں خاک ہوکر رہ گئے۔ کچھ بھی پوچھے بنا جیسے میرے سارے سوالوں کو جواب مل گئے۔ اپنے گھروں کے نرم و گداز بستروں کو چھوڑ کر ایسے چٹیل پہاڑوں کے دامن میں دن رات کیوں کر اور کیسے جاگتے ہیں؟ اپنے ماں‘ باپ‘ بہن‘ بھائیوں‘ بیوی اور بچوں سے دور ان متاثرین بہن بھائیوں کو گلے لگا کر اور ان کے ساتھ عید کے پکوان کھا کر انہیں کیا خوشی ہو تی ہے۔ جوانوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کا موقع ملا۔ آزادکشمیر رجمنٹ کے جوان اس پوسٹ پر تعینات ہیں لیکن نمائندگی پورے پاکستان کی تھی۔ سندھ کی صوفی دھرتی سے لے کر گلگت و بلتستان اور جنت نظیر وادی کشمیر کے جوان موجود تھے۔ ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی اور احساس ہوا کہ بھاری بھر کم وردی‘ بوٹوں اور ہتھیاروں کے پیچھے ایسے معصوم اور نرم دل چھپے ہیں جنہیں ماں کا پیار‘ بچے کی قلقار اور عید کی بہار ہم سب کی طرح عزیز ہے۔ لیکن وطن کی مٹی سے عشق شاید ہم سے کہیں زیادہ۔ کھانے میں ہماری ہی طرح قورمہ‘ بریانی‘ تکے بوٹیاں‘ چانپیں پسند ہیں لیکن وطن کی محبت میں یہاں کی خاک چھانتے ہیں اور روکھی سوکھی پر صبر کرتے ہیں۔ ایک جوان میں تو ہم نے سریلا عاشق بھی ڈھونڈ نکالا۔ ایک مشہورعشقیہ غزل کے سر ایسے دردناک انداز میں چھیڑے کہ میں نے پوچھ ہی لیا۔ ’’کہیں عشق میں ناکامی تو نہیں ہوئی۔‘‘ شرماتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا۔’’ نہیں جی! عشق میں تو کامیابی ہو گئی تھی شادی ہو گئی ہے۔‘‘ اس پر ایک اور جوان نے لقمہ دیا کہ اسی لئے اتنا دکھی ہے۔ ایسی ہی خوشگوار گفتگومیں پتا ہی نہ چلا کہ کب سورج شمالی وزیرستان کے پہاڑوں کے پیچھے غروب ہو گیا اور روانگی کا وقت آن پہنچا۔ رخصت کا سلام ہوا اور واپسی میں ایسی سرشار اور مطمئن تھی کہ اپنی زندگی کی اب تک کی بہترین عید گزاری۔ سمجھ گئی تھی کہ قربانی کی عید کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ یہی تو قربانی کا پیغام ہے کہ اپنی سب سے عزیز شے اﷲ کی راہ میں قربان کر دو اور یہ فوجی جوان اپنے گھر بار‘ رشتہ دار‘ اپنی اولاد جیسی سب سے پیاری چیزیں اﷲ کی راہ میں قربان کئے یہاں بیٹھے ہیں۔


[email protected]

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP