متفرقات

اپنا دیس، اپنی شان

یہ اگست2009 کی بات ہے جب میں اپنے سٹوڈنٹ ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد لندن سے مستقل طور پر پاکستان واپس شفٹ ہو گیا۔ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جس دن میری پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی اور مجھے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ایک امیگریشن آفیسر نے روک کر طنزیہ سوال کیا کہ کیا تم پاکستان واپس جا رہے ہو؟ تمھیں پاکستان میں نوکری مل جائے گی؟ جس طنزیہ لہجے سے اس افسر نے یہ سوال پوچھا، اس سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کے مطابق ہر پاکستانی طالب علم اپنے ویزا کی میعاد پوری ہونے کے بعد بہتر نوکری اور مستقبل کے حصول کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں ہی رہنے کو ترجیح دیتا ہے لہٰذا یہ اس افسر کے لیے ایک حیران کن بات تھی کہ میں نے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جب میں پہلی دفعہ لندن جانے کے لیے لاہور ایئرپورٹ پر پہنچا تو میرے دل میں یہی خواہش تھی کہ برطانیہ میں ہی مستقل طور پر سکونت اختیار کر لوں اور واپسی پربھی دل میں یہی خواہش تھی کہ برطانیہ میں ہی کوئی نوکری ڈھونڈ کر دوبارہ واپس آئوںگا لیکن اللہ کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا لہٰذا جب امیگریشن افسر نے طنزیہ سوال پوچھا تو مجھے کانٹے کی طرح چبھا کہ ہم ان سے آزاد تو ہو گئے لیکن یہ لوگ آج بھی ہمیں اپنا غلام ہی سمجھتے ہیں۔ اس ایک لمحے نے مجھے اپنی سوچ بدلنے کے لیے مجبور کردیا اور میں نے تہیہ کیا کہ واپس ضرور آئوںگا لیکن اب نوکری کرنے یا مستقل سکونت اختیار کرنے نہیں بلکہ اپنی طالبعلمی کے دور کی یادیں تازہ کرنے کے لئے۔

پاکستان واپس آکر میں نے برطانیہ کی خواہش دل سے نکال کر پوری محنت اور جستجو کے ساتھ نوکری کی تلاش شروع کردی لیکن کہیں سے نہ کوئی حوصلہ افزا جواب آیا اور نہ ہی نوکری کی پیشکش۔ میں نے ہمت ہارے بغیر اپنی کوشش جاری رکھی۔ اسی دوران میری والدہ نے خواہش ظاہر کی کہ میں چاہتی ہوں تم سب کچھ چھوڑ کر سول سروس کے مقابلے کا امتحان دو ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے کبھی بھی سرکاری نوکری کا شوق نہیں رہا لیکن والدہ کی خواہش کی تکمیل کے لیے میں نے ہامی بھر لی۔ 2009 کے آخری مہینے میں جبکہ میں سول سروس کے امتحان کی تیاری میں مصروف تھا تو پاکستان بحریہ میں شارٹ سروس کمیشن کے لیے اخبار میں اشتہار دیکھا اور نہ جانے کیوں دل میں خیال آیا کہ ادھر بھی اپلائی کیا جائے حالانکہ میرا دور دور تک فوج سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ میرے خاندان میں سے آج تک کوئی فوج میں گیا البتہ 2003 میں ایک آرمی آفیسر سے کراچی میں ملاقات ہوئی جو اس وقت لیفٹیننٹ رینک پر تھے ۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات ایک مستقل دوستی اور تعلق میں بدل جائے گی۔ بہرحال انہوں نے نیوی میں اپلائی کرنے کے لیے بھرپور رہنمائی کی اور مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے ان سے پوچھا کہ نیوی کی جاب کیسی ہے اور تنخواہ کتنی ہوگی؟ وہ میرے اس سوال سے بہت حیران ہوئے اور کہا کہ اگر تم نوکری کرنے اور تنخواہ لینے آرہے ہو تو تم نے غلط انتخاب کیا ہے بہتر ہے کہ تم کسی پرائیویٹ فرم میں نوکری ڈھونڈو کیونکہ فوج نوکری نہیں بلکہ سروس ہے جس کے لیے شوق اور جذبہ ہونا چاہیے اور تمھیں اس سروس کے بدلے سہولیات تو میسر ہوںگی لیکن تنخواہ پرائیویٹ کمپنیوں کے مقابلے میں تھوڑی ہوگی۔ اس وقت تو ان کی بات میرے پلے نہیں پڑی لیکن ان سے بات کرنے کے بعد ایک جذبہ اور خواہش جاگی کہ اپلائی ضرور کرنا ہے آگے ہونا یا نہ ہونا اللہ کی مرضی۔ مارچ 2010 میں سول سروس کا امتحان دیا اور اپریل 2010 میں نیوی کے آئی ایس ایس بی کے لیے کال لیٹر آگیا۔ آئی ایس ایس بی کوہاٹ میں گزارے وہ چار دن میری زندگی کے تجربوں میں سے ایک بہترین تجربہ تھا۔ ان چار دنوں میں میری ملاقات پورے پاکستان سے آئے ہوئے نوجوانوں سے ہوئی اور ان کا فوج میں سروس کرنے کے لیے جذبہ اور شوق دیکھ کر میں نے ہمت تو نہیں ہاری البتہ یہ ضرور سوچا کہ میری جگہ ان میں سے کوئی شارٹ لسٹ ہوا تو یہ بالکل جائز اور برحق فیصلہ اور انتخاب ہوگا لیکن چونکہ یہ فیصلہ اور انتخاب اللہ کی مرضی سے ہونا تھا لہٰذا اس میں میری یا کسی اور امیدوار کی خواہش کا عمل دخل بے معنی تھا۔ اگر میں آئی ایس ایس بی کے چار دن کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں تو شاید یہ پانچ سے چھ صفحوں کا مضمون بن جائے۔ مختصراًیہ کہ آ ئی ایس ایس بی کے ڈپٹی پریذیڈنٹ نے مجھ سے دوران انٹرویو جو آخری سوال پوچھا وہ یہ تھا کہ آپ نیوی کیوں جوائن کرنا چاہتے ہیں جبکہ آپ لندن سے پڑھ کر آئے ہیں اور آپ کو کسی پرائیویٹ کمپنی میں بھی اچھی نوکری مل جائے گی، اس وقت میرے ذہن میں اپنے عزیز دوست ،جو آج کل لیفٹیننٹ کرنل کے رینک پر ہیں ،کے ساتھ ہونے والی گفتگو چلنے لگی اور میں نے جواب دیا کہ میں نہ تو نیوی میں پیسہ کمانے آرہا ہوں اور نہ ہی نوکری کرنے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی تعلیم، قابلیت اور تجربے سے نیوی اور اپنے ملک کو زیادہ نہیں تو کچھ فائدہ تو دوں۔ اس کے بعد نیول ہیڈکوارٹر کے آخری انٹرویو میں مجھ سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو شارٹ سروس کے پانچ سال کے کنٹریکٹ پر رکھا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس دوران کسی پرائیویٹ کمپنی سے اچھی تنخواہ کی آفر آجائے تو آپ کیا کریں گے؟ میں نے جواباًکہا کہ پانچ سال کے بعد کی میں گارنٹی نہیں دے سکتا- لیکن اپنی زندگی کے بہترین پانچ سال [25-30] میں نیوی کو دینے کے لیے تیار ہوں۔
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میرے خاندان میں کسی کا تعلق فوج سے نہیں رہا اسی لیے فوج میں جانے سے پہلے میرے ذہن میں بھی بطور سویلین بہت سی غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات تھے جن میں سے ایک بہت عام سی اور مشہور زمانہ غلط فہمی یہ تھی کہ فوج ملک کا 80 فیصد بجٹ کھاتی ہے لیکن یہ سب غلط فہمیاں دور ہو گئیں بلکہ 5 سال سروس کر کے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے فوج وہ بڑا بھائی ہے جس کے کندھوں پر گھر کا سارا بوجھ ہے اور تنقید بھی وہی سنتا ہے، لہٰذا میرے ذہن میں فوج کے بارے میں جو ذرا برابر بھی شکوک و شبہات تھے وہ سب دور ہو گئے۔ میں فوج کے ناقدین کو اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ آپ خود یا اپنے بچے کو فوج میں بھیجیں اور اس کے بعد اپنا نقطہ نظر بیان کریں لیکن صرف اس لیے کہ فوج نے آپ کو یا آپ کے بچے کو بھرتی نہیں کیا یا پھر کسی ایک فوجی افسر کے ساتھ ذاتی عناد یا حسد کی بنیاد پر پوری فوج کوہدفِ تنقیدبنانا مناسب نہیں ہے۔ عموماًیہ سمجھا جاتا ہے کہ جب جنگ لگے تو فوج تب ہی قربانیاں پیش کرتی ہے جبکہ امن کے دنوں میں فوجی صرف سہولیات سے بھری زندگی گزارتے ہیں۔
 جیسا کہ قرآن میں بھی فرمایا گیا ہے کہ قربانی صرف جان کی ہی نہیں ہوتی بلکہ مال ، نفس ، خاندان ، اولاد اور پسند نا پسند کی بھی ہوتی ہے۔ میں زیادہ دور نہیں جاتا بلکہ اپنی پانچ سال کی مختصر مگر یادگار سروس کے چند ایک تلخ تجربات آپ کے لیے بیان کر دیتا ہوں کہ فوج میں کس قسم کی عیاشی کی جاتی ہے: 
 پاکستان نیول اکیڈمی میں دوران ٹریننگ میرے دادا کی وفات ہوگئی لیکن ان کے جنازے میں شرکت کے لیے مجھے چھٹی نہیں ملی۔
 بحری جہاز پر پوسٹنگ کے دوران ہمارے جہاز کو سمندری قزاقوں کے خلاف گشت کے لیے ایک مہینے کی ڈیپلائمنٹ پر بحیر ہ عرب میں بھیجا گیا ، اس دوران چار دن کے لیے ہمارا پڑا ئو دبئی کی بندرگاہ پر بھی تھا۔ دبئی پہنچنے سے چند دن پہلے بیچ سمندر سیٹلایٹ فون کے ذریعے سے خبر موصول ہوئی کہ ہمارے ایک سیلر کے والد کی طبیعت شدید خراب ہے۔ کمانڈنگ افسر کے حکم کے مطابق اس کی سیٹلایٹ فون کے ذریعے اپنے والد سے بات کروائی گئی تاکہ اس سیلر کی حوصلہ افزائی ہو۔ چند دن بعد جب ہم دبئی کی بندرگاہ پر پہنچے اور اس سیلر کا اپنے گھر دوبارہ رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ اس کے والد صاحب کی رحلت ہو گئی ہے۔ اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے دبئی سے فلائٹ لے کر فوراًواپس پاکستان پہنچے لیکن چونکہ ہمارا جہاز خیر سگالی دورے پر تھا لہٰذا نہ تو کسی کے پاس پاسپورٹ تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سرکاری کاغذ کہ جس کو دکھا کر دبئی ایئرپورٹ سے نکلا جا سکتا جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفارتخانے سے ایمرجنسی پاسپورٹ بنوانے کے لیے بھی وقت درکار تھا لہٰذا اس سیلر کا واپسی کا رستہ بذریعہ بحری جہاز ہی تھا۔ وہ چار دن، اس نے انتہائی کرب میں گزارے اور جیسے ہی جہاز دبئی کی بندرگاہ سے دوبارہ گشت کے لیے نکلا تو نیول ہیڈکوارٹر کی اجازت اور کمانڈنگ افسر کے حکم کے مطابق جہاز کو گوادر کے قریب لے جا کر جہاز کے اندر ہی موجود ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس سیلر کو روانہ کر دیا گیا۔
 دو سال پہلے سمندری مشق کے دوران نیوی کا ایک ہیلی کاپٹر لا پتہ ہو گیا جس میں دو آفیسر اور دو سیلر سوار تھے۔ بد قسمتی سے تکنیکی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر کریش کرگیا اور چاروںافراد شہید ہو گئے۔ کافی تلاش کے بعد ہیلی کاپٹر کا ملبہ اور تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ لیفٹیننٹ ذیشان ، جوکہ نہ صرف ایک بہترین افسر بلکہ میرا کورس میٹ بھی تھا ، کی لاش کئی دن بعد جا کر ملی۔ ذیشان کی شادی کو دو مہینے ہی ہوئے تھے اور میں داد دیتا ہوں ذیشان کی زوجہ کی ہمت اور حوصلے کو کہ وہ آخری لمحے تک پر امید تھیں کہ ذیشان صحیح سلامت واپس آجائے گا اور انہوں نے اس کی شہادت کے بعد بھی مثالی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
 یہ ہیں وہ چند واقعات جن کا میں خود گواہ ہوں لیکن ایسے بے تحاشا واقعات سے فوج کی تاریخ بھری پڑی ہے اور یہ میں کوئی شکوہ نہیں کر رہا کیونکہ یہ سب سروس کا حصہ ہے اور ہر ایک فوجی نے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے لیکن بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جس وقت آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ سکون سے بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں ہو سکتا ہے اس وقت کوئی آرمی کا جوان وزیرستان میں دشمن کی گولی کا شکار بن رہا ہو، کوئی ایئرفورس کا جوان ریڈار پر عقابی نظر رکھ کر بیٹھا ہو کہ کب کوئی اور ابھینندن جیسا آئے جس کا شکار کیا جائے اورنیوی کا کوئی جوان دو مہینے کی ڈیپلائیمنٹ پر آبدوز میں ہو،یہ جانے بغیر کہ وہ آبدوز دوبارہ کبھی سطح سمندر پر بھی آئے گی یا اللہ کے حکم سے سمندر میں ہی ڈوب جائے گی۔ 
میرے سے بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر آپ فوج کے اتنے خیر خواہ ہیں تو پانچ سال بعد چھوڑ کیوں آئے اور اب اگر کبھی جنگ لگی اور فوج کو آپکی ضرورت پڑی تو واپس جائیںگے؟ پہلی بات تو یہ کہ جب میں لندن سے واپس آیا تو اس امیگریشن افسر کے طنزیہ لہجے کو سامنے رکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جس طرح یہ اپنے ملک کے لیے اتنا فخر محسوس کرتے ہیں تو پاکستان کا بھی میرے اوپر قرض ہے اور جیسا بھی ہے، ہے تو آخر اپنا ملک، اس لیے بیشک تھوڑا ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ میں بھی اس ملک کی حفاظت میں اپنا حصہ ضرور ڈالونگا۔ میری زندگی کے ذاتی اہداف میری اس سوچ سے مطابقت نہیں رکھتے تھے کیونکہ بہت کچھ ایسا تھا جو میں عمر کے اس حصے میں حاصل کر سکتا تھا لیکن میں نے اپنے ذاتی مفاد اور سوچ کو پس پشت ڈال کر نیوی میں جانے کی ٹھان لی۔ جیسا کہ میں پہلے اوپر بیان کر چکا ہوں اور یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ میں نے انٹرویو بورڈ میں بھی یہ بات کہی تھی کہ پانچ سال سب کچھ بھول کر نیوی کو دوں گا لیکن اس کے بعد کی کوئی گارنٹی نہیں۔ عموماًیہی خیال کیا جاتا ہے کہ جو ایک دفعہ فوج میں کمیشن حاصل کرلے وہ کم سے کم دس سال کی سروس اور پینشن لیے بغیر نہیں جاتا لیکن میرا ذہن اس معاملے میں بہت صاف شفاف اور میرے اہداف بہت واضح تھے اس لیے میں نے بلا جھجک پانچ سال بعد نیوی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ مجھے سروس ریلیز لیٹر چار مہینے پہلے موصول ہو چکا تھا لیکن میرے ساتھ اور میری زیرنگرانی کام کرنے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ میں سروس کے آخری دن بھی ٹائم ختم ہونے تک دفتری امور نمٹا رہا تھا، اس لیے الحمدللہ میرا دل اور ضمیر صاف ہیں کہ میں نے اپنی پانچ سالہ سروس کا ایک ایک پل حلال کیا ہے ۔ اس سے میرے اوپر سے پاکستان کا قرض تو شاید نہیں اترا لیکن میں نے اپنا حصہ ضرور ڈال دیا ہے۔ رہی بات جنگ کے دوران دوبارہ سروس جوائن کرنے کی تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میرا نام نیوی کی ایمرجنسی لسٹ میں موجود ہے اور اگر کبھی میری ضرورت پڑی اور زندگی رہی تو دنیا کے جس بھی کونے میں موجود ہوا، انشااللہ میں حاضر سروس ہو جائوںگا لیکن میں بہت پر اعتماد طریقے سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی فوج کے ہر سپاہی کے اندر شہادت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور دشمن اس بات سے باخبر ہے کہ جب تک پاکستان کی فرسٹ لائن آف ڈیفنس کا جذبہ نہیں ٹوٹے گا تب تک ایمرجنسی لسٹ اور ریزرو فورس کی باری نہیں آئے گی۔ 
یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کا فوج سے کوئی ذاتی عناد نہیں تو براہِ مہربانی سنی سنائی باتوں پر کان مت دھریں اور نہ ہی چند ایک واقعات کو مثال بنا کر فوج کے لیے اپنے دل میں کوئی بغض رکھیں۔ آئیے یہ عہد کریں کہ ہمارے جو بھی خیالات ہوں،لیکن مشکل وقت میں ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے بالکل ویسے جیسے کراچی کے سیلاب اور کرونا کے خلاف جنگ میں فوج ہمارے شانہ بشانہ رہی ہے۔ ہم ان تمام شہیدوں، غازیوں دلیروں اور بہادروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان سب کے لیے مل کے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے وطن عزیز کو رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھےـ ||

یہ تحریر 299مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP