متفرقات

اپنا تشخص برقرار رکھیئے

زندگی میں ہم نے جہاں بہت سے کام کئے وہیں ایک اچھا کام یہ کیا کہ ایڈورٹائزنگ پڑھ لی اور ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں ملازمت کرلی۔ اس کے بعد پاکستان کے پہلے ایڈورٹائزنگ انسٹی ٹیوٹ سے بطورِ انسٹرکٹر منسلک ہوگئے۔ اس شعبے میں زیادہ دل لگنے لگا تو اپنی اشتہاری ایجنسی کھول لی۔
مندرجہ بالا سطور پڑھ کر آپ قطعاً یہ گمان نہ کیجئے گا کہ ہم اپنی قابلیت و مہارت آپ کو جتانا چاہ رہے ہیں۔ ہم تو دراصل ایڈورٹائزنگ سے اپنی وابستگی بتا رہے ہیں تا کہ قارئین کو یہ معلوم ہوسکے کہ اب آگے جو تبصرہ ہم کرنے جارہے ہیں‘ وہ غیر متعلقہ نہیں ہے۔
ہمارا جی آج کل بہت کُڑھ رہا ہے۔ ٹیلی ویژن پر چلنے والے اشتہارات ہمارا خون جلا رہے ہیں۔ صرف ٹی وی کمرشل ہی نہیں بلکہ سڑک پہ لگے بڑے بل بورڈ بھی اس کارِ خیر میں برابر کے شریک ہیں۔


دیکھئے صاحب ! اشتہار چاہے انگریزی میں ہو یا اُردومیں‘ بھلا یہ کہاں کا طریقہ ہے کہ لکھا انگریزی میں ہو اور الفاظ اُردو کے ہوں۔ اکثریت تو آدھی اُردو اور آدھی انگریزی کی ہے۔ یعنی عام بول چال کے بجائے‘ وہ زبان استعمال کی جارہی ہے جو نہ تو شائستہ کہی جاسکتی ہے نہ تہذیب یافتہ ۔ رہی سہی کسر ادائیگی نے پوری کردی ہے۔ آج کل اشتہارات میں پسِ پردہ آواز بھی ایسی ہوتی ہے جو کان پھاڑنے کے علاوہ پہاڑوں میں دھماکا کرنے کے لئے بطورِ ڈائنامائٹ بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ چیخ چیخ کر کہا جاتا ہے ’یہ کھاؤ‘ ‘ یہ ’نہ پیو‘ ’’توُ تڑاخ‘‘ کسی زمانے میں غیر مہذب سمجھا جاتا تھا‘مگر آج کل یہی ’اسٹائل ‘ہے۔ ایک ستم یہ ہے کہ اشتہارات ہماری تہذیب اور ثقافت سے متصادم ہیں۔ ایک جوتے کا اشتہار جس میں پوتایا پوتی اپنے دادا کی کمر پہ جوتے سمیت سوار ہو کر یہ بتا رہے ہیں کہ دادا کو دبانا ہو یا بڑوں کی خدمت کرنا ہو تو جوتا پہن کر کریں۔ اُس آئس کریم کے اشتہار کو کون بھول سکتا ہے جس میں ایک بچے کو ٹوائلٹ میں آئس کریم کھاتے دکھایا گیا یا پھر وہ اشتہار جس میں ایک خاتون ساڑھی میں ملبوس ایسے دلربا پوز دے کر چائے کی پبلسٹی کررہی ہیں جیسے چائے کوئی ممنوع شئے ہے۔


ہمارے یہاں خواتین کے وقار کو اشتہارات میں مجروح کیا جاتا ہے جس کی ذمہ دار خود خواتین بھی ہیں۔ جس طرح لان کے اشتہارات میں خواتین کو پیش کیاجاتا ہے‘ وہ قابلِ مذمت ہے۔ لباس زیب و زینت کے لئے ہوتا ہے مگر افسوس اسے بھی ذہنی افلاس کے شکار لوگوں نے قابلِ اعتراض بنادیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جو ہیجان انگیز پوز بنائے جاتے ہیں وہ بھی سراسر غلط ہیں۔
ہر سال خواتین کے عالمی دن پر جہاں ملک بھر میں خواتین کی این جی اوز عورتوں کے حقوق کی بحالی کے لئے فائیوسٹار ہوٹل میں سیمینار کر رہی ہوتی ہیں۔ (کچھ کے لئے تو یہ فارن ایڈ بٹورنے کا ذریعہ ہے) وہاں کسی کو عورت کی نمائش کا خیال نہیں آتا ‘کوئی نہیں کہتا کہ اشتہارات میں خواتین کو غلط انداز سے پیش کرنا عورت کے وقار کے منافی ہے اور اس کی مذمت کرنی چاہئے۔
افسوس ہم ماڈرن بننا تو چاہتے ہیں مگر اپنی اقدار اور ثقافت سے ہٹ کر‘ ہم دنیا سے مقابلہ تو کرنا چاہتے ہیں مگر اپنی شناخت اور پہچان کھو کر۔
اشتہاری کمپنیاں پراڈکٹ بیچنے کے لئے ہر قسم کے غیر ضروری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے پاکستانی اشتہارات پاکستان کی ثقافت کے عکاس ہوں۔ اس وقت جو صورت حال ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ہم نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ۔ اﷲ ہمارے حال پر رحم فرمائے‘ ہم ترقی کے گمان میں تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی خالق ہیں۔ [email protected]

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP