ہمارے غازی وشہداء

اِس پیکرِ خاکی میں اِک شے ہے

نائب صوبیدار عناب گل (شہید) جس نے اپنی جان دے کر سیلاب میں ڈوبتے لوگوں کی جان بچائی

منظر ہی کچھ ایسا تھا۔ دریائے چناب کے پانی سے ایک فوجی کوباہر نکالا جا رہاتھا جس کے چہرے کا نیلا رنگ گواہی دے رہا تھا کہ بہت دیر تلک پانی کی بے رحم موجوں سے لڑنے کے بعد خود کو اُن کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہو گا لیکن جو منظر سب کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، وہ اِس سے ہٹ کر تھا۔ جی ہاں! پانی کی تہہ سے نکالے جانے والے فوجی کے ایک بازو میں جھولتی کمزور عورت جبکہ دوسرے میں دبا ہوا ایک معصوم بچہ تھا۔ یہی وہ منظر تھا جس نے شور مچاتے بینوں کو خاموش کیاتھا، دُھائی دیتے ہاتھوں کو دعاؤں میں مصروف کیا تھا اور سہارا دیتے سپاہیوں کو بجانے پر مجبور کیا تھا۔ دریائے چناب کے پانیوں سے لڑتا یہ فوجی نائب صوبیدار عناب گل تھا جس نے موت کے پنجے میں الجھی معصوم زندگیوں کو بچاتے ہوئے اپنی زندگی کی بازی ہار دی اور ابدی زندگی کو گلے لگا لیا۔ انہوں نے پانی کے طاقتور شکنجوں کے سامنے بے بس ہوتی معصوم عورت اور ظالم بپھری لہروں سے خوفزدہ و معصوم بچے کو اپنی بانہوں میں بھر کر زندگی کی جانب لے جانے کی پوری کوشش کی لیکن یہاں سے اُن کی ابدی زندگی کا آغاز ہو چکا تھاجس کا وعدہ اور خواہش ہر سپاہی کرتا ہے۔
ستمبر 2014 ء

دریائے چناب کی بپھری موجوں پر ڈولتی کشتی نے غوطہ کھایا اور دریا کی تہہ کی طرف جانے لگی۔ کشتی پر کئی معصوم جانیں زندگی کی امید لئے کنارے کی سمت روانہ تھیں لیکن اِس اچانک آفت نے کشتی پر سوار سبھی افراد کو پانی کی بے رحم موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اب دریا ئی موجوں کی بے رحم للکار کے ساتھ ساتھ بچاؤ ، بچاؤکی فریادیں بھی آسمان کی سمت بڑھنے لگی تھیں۔ کشتی پر سوار حفاظتی جیکٹوں والوں نے جلد ہی پانی کی لہروں پر خود کو سنبھال لیا اور پھر ایک ایک کر کے ڈوبنے والوں کی آوازوں پر لبیک کہتے ہوئے دریا میں بکھر گئے۔ کچھ ہی دیر میں فضائی امداد بھی آن پہنچی اور کناروں پر موجود کشتیوں نے بھی اپنے اپنے سامان کے ساتھ جائے وقوعہ کی جانب کوچ کیا اور دریا کی بے رحم موجوں کے رحم وکرم پر ڈولتی زندگیوں کو سہارا دینے لگے۔ ایسے میں چند ایک طوفانی موجوں کے نرغے میں آکر سانس لینا بھول چکے تھے جنہیں دریا کی چکنی مٹی سے نکال نکال کر سفید چادروں میں لپیٹا جا رہا تھا۔ اچانک شور مچاتے بین خاموش ہو گئے، دُہائی دیتے ہاتھ دعاؤں میں اُٹھ گئے اور سہارا دیتے لوگ سلامیوں میں لگ گئے۔ منظر ہی کچھ ایسا تھا۔ دریائے چناب کے پانی سے ایک فوجی کوباہر نکالا جا رہاتھا جس کے چہرے کا نیلا رنگ گواہی دے رہا تھا کہ بہت دیر تلک پانی کی بے رحم موجوں سے لڑنے کے بعد خود کو اُن کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہو گا لیکن جو منظر سب کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، وہ اِس سے ہٹ کر تھا۔ جی ہاں! پانی کی تہہ سے نکالے جانے والے فوجی کے ایک بازو میں جھولتی کمزور عورت جبکہ دوسرے میں دبا ہوا ایک معصوم بچہ تھا۔ یہی وہ منظر تھا جس نے شور مچاتے بینوں کو خاموش کیاتھا، دُھائی دیتے ہاتھوں کو دعاؤں میں مصروف کیا تھا اور سہارا دیتے سپاہیوں کو بجانے پر مجبور کیا تھا۔ دریائے چناب کے پانیوں سے لڑتا یہ فوجی نائب صوبیدار عناب گل تھا جس نے موت کے پنجے میں الجھی معصوم زندگیوں کو بچاتے ہوئے اپنی زندگی کی بازی ہار دی اور ابدی زندگی کو گلے لگا لیا۔ انہوں نے پانی کے طاقتور شکنجوں کے سامنے بے بس ہوتی معصوم عورت اور ظالم بپھری لہروں سے خوفزدہ و معصوم بچے کو اپنی بانہوں میں بھر کر زندگی کی جانب لے جانے کی پوری کوشش کی لیکن ابتدائی تربیت میں کامیابی پر آپ کو پاک فوج کی ایف ایف رجمنٹ کی ایک مایہ ناز پلٹن 29 ایف ایف ’’ضربِ حدید‘‘ میں پیشہ ورانہ خدمات کی بجاآوری کے لیے بھیج دیا گیا۔آپ اپنی یونٹ میں ایک تربیت یافتہ سپاہی اور خالصتاً پیشہ ور جوان کے طور پر جانے پہچانے گئے۔یہی وجہ رہی کہ کسی بھی تربیتی میدان میں نائب صوبیدار عناب گل کی حاضری انتہائی ضروری جانی جاتی رہی۔ آپ سپاہی رہے تو ایسے کہ ہر کمانڈر آپ کو اپنے ساتھ رکھنے میں سہولت جانتا اور جب نائب صوبیداری کی کمان ملی توہر سپاہی آپ کے ساتھ کام کرنے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ آپ تربیتی میدان میں ہی ہراول دستے کی قیادت نہیں کر رہے تھے بلکہ تعلیمی میدان میں بھی پیشہ وارانہ اوج پر فائز رہے ۔ یہی وجہ رہی کہ آپ کی تعلیمی کارکردگی کی بنا پر ہی کمپیوٹر سیل میں اُس وقت کام پرمامور کیا گیا جب ابھی تک فوج میں چیدہ چیدہ لوگوں کو اس مشین کی جان کاری تھی۔ نائب صوبیدار عناب گل نے ایک انفنٹری یونٹ میں کیے جانے والے سبھی کاموں کو بطریقِ احسن نبھایا جس کا منہ بولتا ثبوت آپ کو ملنے والی ذمہ داریاں ہیں جن میں آپ سب پر سبقت رکھتے تھے۔ نائب صوبیدار عناب گل کا اپنی دھرتی کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا۔اس سے پہلے آپریشن المیزان کے دوران انہوں نے بعض مشکل حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یونٹ کی اس تعیناتی کے دوران آپ نے کئی کامیاب آپریشن کئے اور ہر آپریشن میں اپنے جوانوں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بجاآوری میں حصہ لیا۔آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلاف انہیں کامیابیاں ملتی گئیں اور دہشت گرد راہ فرار اختیار کرتے دکھائی دیئے۔ اس دوران کئی دہشت گرد ہلاک بھی ہوئے اور کئی ایک پکڑے بھی گئے۔ نائب صوبیدار عناب گل نے کمال جرأت سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا جس پر بے شک نہ صرف اِن کی پلٹن ’’ضربِ حدید‘‘کو فخر ہے بلکہ پوری پاک فوج اور پاکستانی قوم بھی اپنے اس شہید کو دعاؤں اور محبتوں کا خراج پیش کرتی نظر آتی ہے۔آپ اپنے مقصد کو نبھانے اور وطن عزیز کے امن داعی ہونے کے دعوے کو لے کر اقوام متحدہ کے امن مشن دستے میں بھی شامل رہے اور لائبیریا میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ نائب صوبیدار عناب گل شہید نہایت سادہ طبیعت انسان تھے جو زندگی میں سچائی کے اصولوں پر کاربند رہ کر اپنا کام نہایت ایمانداری اور وفاداری سے انجام دینے کے عادی رہے۔ دوسروں کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ آپ کا طرۂ امتیاز رہااور ان کا یہی اصول زندگی کے آخری لمحات تک ان کا طریقہ اولین بنا رہا اور انھوں نے ثابت کیا کہ کس طرح ایک مخلص اور وفادار سپاہی دوسروں کی جان بچانے اور ملک و قوم کی عزت و ناموس کی لاج نبھانے کے لئے جان کا نذرانہ تک دے دیتا ہے۔نائب صوبیدار عناب گل شہید کی شادی 1998ء میں گاؤں کے رسوم و رواج کے مطابق ہوئی۔ شہید کے تین بیٹے ہیں جن میں سیف اللہ عناب‘ امان اللہ عناب اورفصیح اللہ عناب شامل ہیں جب کہ ایک سب سے چھوٹی بیٹی ابریش عناب بھی اپنے باپ کی یادوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔آپ اپنے بڑے بیٹے اور چھوٹی بیٹی سے بہت پیار کیا کرتے تھے کیوں کہ بڑے بیٹے کو گھر کا ذمہ دار سمجھتے اور بیٹی کو گھر کا مان جانتے تھے۔ نائب صوبیدار عناب گل نے اپنی آخری چھٹی کے دوران بڑے بیٹے کو خصوصی نصیحت کی تھی کہ چھوٹی بہن کا خاص خیال کرنا۔ تب سیف اللہ نے بچپنے کی معصوم ادا سے ہاں میں سر ہلایا ہو گا لیکن اُسے کیا خبر تھی کہ اُس کا باپ کہیں سے اشارہ مل جانے پر ہی تو نصیحتیں کررہا ہے۔ بچے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے آج بھی اس کی چھٹی کا انتظار کرتے اور راہ تکتے ہیں۔ نائب صوبیدار عناب گل شہید کی بیوہ ایک سیدھی سادھی عورت ہے جو اپنے فوجی شوہر کی شہادت پر جہاں فخر کرتی ہے وہاں مغموم بھی ہے لیکن اس کا حوصلہ اس کے پرعزم ارادوں کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نائب صوبیدار عناب گل روزانہ ایک خاص وقت پر گھر کال کرتے اور اپنی خیریت سے آگاہ کرتے تھے۔ شہادت کے روز معمول میں کوتاہی ہوئی اور فون نہیں آیا تو آپ نے خود سے کئی بار کوشش کی لیکن بات نہیں ہو پائی۔ جب بہت انتظار کے بعد فون کی گھنٹی بجی تو نائب صوبیدار عناب گل نے کہا: ’’یہاں سیلاب نے معصوم زندگیوں کو محصور کر ڈالا ہے جنہیں کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بات نہیں ہو پائی اور شاید چند روز تک ایسا ہی چلتا رہے کہ جب تک بے کس لوگوں کو امداد نہ پہنچا دی جائے، ایسے میں تم فکر مند نہ ہونا اور بچوں کا خیال کرنا کیوں کہ میری یہاں زیادہ ضرورت ہے‘‘۔ یہ آخری بات ہوئی اور پھر فون کی گھنٹی نے دوبارہ تب شور مچایا جب نائب صوبیدار عناب گل کی شہادت کی خبر یونٹ والوں کی جانب سے سنائی گئی۔ دریائے چناب کے پانیوں میں محصور زندگیوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے والے اس کشتی کی کمان تو نائب صوبیدار عناب گل کے پاس تھی لیکن اِس کی قیادت میں ایک پوری ٹیم تھی جو اس مشن کو تکمیل پہنچانے میں مصروف تھی جس میں شامل سیپر سہیل شہزاد جو کشتی کا آپریٹر تھا، کا نائب
نائب صوبیدار عناب گل شہید کی بیوہ ایک سیدھی سادھی عورت ہے جو اپنے فوجی شوہر کی شہادت پر جہاں فخر کرتی ہے وہاں مغموم بھی ہے لیکن اس کا حوصلہ اس کے پرعزم ارادوں کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نائب صوبیدار عناب گل روزانہ ایک خاص وقت پر گھر کال کرتے اور اپنی خیریت سے آگاہ کرتے تھے۔ شہادت کے روز معمول میں کوتاہی ہوئی اور فون نہیں آیا تو آپ نے خود سے کئی بار کوشش کی لیکن بات نہیں ہو پائی۔ جب بہت انتظار کے بعد فون کی گھنٹی بجی تو نائب صوبیدار عناب گل نے کہا: ’’یہاں سیلاب نے معصوم زندگیوں کو محصور کر ڈالا ہے جنہیں کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بات نہیں ہو پائی اور شاید چند روز تک ایسا ہی چلتا رہے کہ جب تک بے کس لوگوں کو امداد نہ پہنچا دی جائے، ایسے میں تم فکر مند نہ ہونا اور بچوں کا خیال کرنا کیوں کہ میری یہاں زیادہ ضرورت ہے‘‘۔ یہ آخری بات ہوئی اور پھر فون کی گھنٹی نے دوبارہ تب شور مچایا جب نائب صوبیدار عناب گل کی شہادت کی خبر یونٹ والوں کی جانب سے سنائی گئی۔
صوبیدار عناب گل کے بارے کہنا ہے کہ آپ ایک ایسے کمانڈر تھے کہ جس کی قیادت میں مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے ، اُس روز بھی آپ نے سب سے پہلے ہاتھ بڑھا کر ڈوبتی زندگی کو سنبھالا دیا اور کئی ایک کو ریسکیو والی کشتی تک پہنچایا لیکن جب آخری بار ایک ڈوبتی عورت کو پکڑنے کے لیے غوطہ لگایا تو دوبارہ نہیں ابھرے جنہیں بعدمیں تلاش کر کے نکالا گیا۔ سیپر اکرم بھی اُسی کشتی میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا جس کا کہنا تھا کہ نائب صوبیدار عناب گل کام کے معاملے میں انتہائی بے چین طبیعت کے مالک تھے لیکن کام کے ساتھ ساتھ اپنے جوانوں کا خیال رکھنا بھی آپ کی انفرادی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ سپاہی فراس خان کا تعلق نہ صرف اس کشتی سے ہے جو حادثے کا شکا رہوئی بلکہ اُس کمپنی سے بھی ہے جس میں نائب صوبیدار عناب گل ایک پلاٹون کمانڈر کی ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔ فراس کا کہنا ہے کہ حادثے سے چند منٹ پہلے ہی جب وہ کشتی میں سوار ہونے لگا تو نائب صوبیدار عناب گل نے اُسے بڑے بوٹ اتار کر بیٹھنے کا کہا ، جسے وہ وقتی طور پر مان تو گیا لیکن جس دم کشتی نے غوطہ کھایا اور فراس نے نہ صرف اپنی بلکہ کئی اور لوگوں کی بھی جان بچائی تو اُسے اپنے قابل استاد کا خیال رہ رہ کر آیا جس کی بدولت وہ آج بھی دوسروں کی جان بچانے کے مشن پر کامیابی سے روانہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ شہید اللہ کے بندوں میں سے چنا گیا ایک خاص بندہ ہوتا ہے جسے اپنے شہادت کے سفر کا ادراک ہونے لگتا ہے ۔ جبھی تو نائب صوبیدار عناب گل نے بھی شہادت کی صبح اپنی منزل کی جانب روانگی سے پہلے ہی رات آخری پہر میں اپنا سامان بندھوا دیا تھا۔ اُس کے ساتھی نے پوچھا بھی کہ رات کے اس پہر کس سفر کی تیاری کر رہے ہیں تو شہید نے مسکرا کر سامان باندھنے کا اشارہ کیا اور خاموش رہا۔ نائب صوبیدار عناب گل کو خبر ہو چکی تھی کہ اگلی صبح اُس نے ابدی منزل کو رختِ سفر باندھنا ہے لہٰذا تیاری کر کے سویا اور اگلے سفر کو نکلا۔ شہادت سے دو روز قبل ہی آپ کی پیدائش کا دن تھا جس پر آپ کے کمپنی کمانڈر نے کھانے کا کہا تو سب کو کھانا کھلایا۔ نائب صوبیدار عناب گل شہید صرف اپنے گھرانے کا قابل فخرسپوت نہیں تھا بلکہ وہ پورے ملک کا ایک ایسا جی دار بیٹا تھا کہ جس کی قربانی کو آنے والے ہر دور میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔نائب صوبیدار عناب گل شہید کا جسد خاکی سبز ہلالی پرچم میں لپٹا جب اپنے گاؤں پہنچا تو قرب و جوار کے سبھی علاقوں سے لوگ جوق درجوق شہید کے آخری دیدار کو آئے۔ بلاشبہ شہید اپنی یونٹ، اپنے گاؤں اورملک کا فخر ہی تو ہے جسے اتنے اعزاز کے ساتھ دھرتی کی آغوش کے حوالے کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید کے درجات کو بلند فرمائے، جملہ لواحقین کو صبر کی نعمت سے نوازے اور ہم جیسے سپاہیوں کو اپنے ان دلیر، بہادر اور شہ زور جوانوں کے نقش پا پر قائم دائم رہنے کا حوصلہ اور شہادت کی سعادت نصیب فرمائے۔
حوالدار غلام احمد شہید

میجر سید عمران حسین شاہ اے ای سی

جس قوم میں جذبہ شہادت سے لبریز دل دھڑکتے ہوں اس قوم کو دشمن زیر کر ہی نہیں سکتا۔ ہمارے وطن عزیز کی مقدس مٹی ہزاروں شہداء کی خوشبو سے معطر ہے جنہوں نے راہ حق میں جان کی قربانی تو دے دی مگر وطن عزیز کی حرمت پر حرف نہ آنے دیا۔ ان میں سے ایک شہید حوالدار غلام احمد ہیں۔ حوالدار غلام احمد یکم نومبر 1970کو آزادکشمیر کے علاقے گگناڑہ کے گاؤں ڈھوک سوئیاں میں پیدا ہوئے۔ paker2اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اسی وجہ سے گھر کا ہر فرد آپ کو بہت زیادہ پیار کرتا تھا۔ پرائمری تعلیم اپنے گاؤں کے سکول سے حاصل کی۔ جبکہ مڈل اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سہنسہ سے کیا۔ والدین کا سایہ بچپن سے ہی سر سے اٹھ گیا تھا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اولین ترجیح پاکستان آرمی کو جوائن کرنے کو دی۔ وہ اکثر آرمی میں جانے کی خواہش اپنی والدہ سے کیا کرتے تھے۔ 26اپریل 1989کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔دوران ٹریننگ بہت محنت کی۔ ان کی پوسٹنگ اے کے (AK) رجمنٹ میں ہوئی۔ کھیلوں کے میدان میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہ تھے۔ اپنی یونٹ میں ایک مایہ ناز کھلاڑی تھے۔ جرأت و بہادری ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھی۔ اپنی یونٹ میں وہ وقار حاصل کیا جس کا ہر شخص متمنی ہوتا ہے۔ سروس کے دوران اپنی ڈیوٹی ہمیشہ ایمانداری اور خلوص سے انجام دی۔ انہوں نے جہلم چھاؤنی‘ منگلا‘ راولپنڈی‘ ایبٹ آباد‘ پی ایم اے کاکول‘ رحیم یار خان‘ سوات‘ آزادکشمیر کے علاوہ بلوچستان میں بھی خدمات انجام دیں۔یونٹ کے تمام افسروں او رجوانوں کو ان پر اعتماد تھا۔ ملکی حالات خراب ہوئے تو ان کی یونٹ کو آپریشن راہ راست میں حصہ لینے کا حکم ملا۔ اپنی یونٹ کے ہمراہ مئی 2009میں سوات پہنچے۔ مختلف آپریشن میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ 15جون 2009کو ایک سرچ آپریشن میں کمپنی کوارٹر ماسٹر حوالدار غلام احمد نے والنٹیئر کیا۔ اس سرچ آپریشن میں انہیں بھاری مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے حوصلہ نہ ہارا۔ آخرکار اس جگہ کو کلیئر کروا کر دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ کامیاب آپریشن کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں چھپے دہشت گردوں نے دو اطراف سے فائرنگ کر دی۔ انہوں نے نہایت جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور ان کے سامنے ڈٹ گئے۔ دہشت گردوں کو کافی نقصان پہنچایا۔ اسی اثنا میں ایک گولی اُن کے ہیلمٹ کے ایک نچلے حصے کو چھوتی ہوئی سر کے پار ہو گئی اور انہوں نے وہیں جام شہادت نوش کیا۔ اسلام سے محبت اس شہید وطن کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بہت ہی نیک اور برگزیدہ انسان تھے۔ اُن کے چار بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹا محمد شعیب احمد ملٹری کالج مری کا ایک محنتی کیڈٹ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے دلیر باپ کی طرح پاک فوج میں جا کر اپنے لہو سے وطن کی آبیاری کرے۔ اﷲ تعالیٰ شہید کے درجات بلند کرے اور لوحقین کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP