متفرقات

او ماہی چھیل چھبیلا

6

عمر کا سفر

کچھ ایسی شان سے رخصت ہوئے ہو دُنیا سے
فلک کے تارے تمہارے سفر پہ نازاں ہیں
’’شہیدسر‘‘ بھی نصیبوں پہ ناز کرتی ہے
ہوائیں اور بگولے بھی محوِرقصاں ہیں
تمہارے قدموں نے ریزہ کیا چٹانوں کو
پہاڑ و سنگ تمہارے عزم سے لرزاں ہیں
لہو سے برگِ وطن اس طرح سے سینچا ہے
کہ اس کی کونپلیں بھی زندہ و جاویداں ہیں
بہت ہی اعلیٰ رفاقت تمہارا حق ٹھہری
ملائکہ عروجِ آدمی پہ حیراں ہیں
مقام بعدِ ازاں نبییّن و صدیقین
کہ صالحین بھی اس معرفت کو ترساں ہیں
اچھوتا بابِ شجاعت کیا رقم تم نے
زمین زادے تری جرأتوں پہ نازاں ہیں
ایئر کموڈور آصف شہزاد

[email protected]

نظم کے خالق شہید لیفٹیننٹ عمرشہزاد کے والد محترم ہیں۔

عمر شہزاد پشاورکے قریب فضائی حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔

ستمبر 1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں دوسرے نغمے ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ پہلا نغمہ ’’میریا ڈھول سپاہیا‘‘ نشر ہونے کے دوسرے روز مرحوم ایوب رومانی (جو کہ ڈپٹی کنٹرولر تھے) میرے پاس آئے اور کہنے لگے اعظم میاں سپاہی کی بات کی ہے تو اب کرنیل جرنیل کی بات بھی ہونی چاہئے۔ کیونکہ دشمن سے لڑائی میں ساری
Planning
آفیسرز کی ہوتی ہے۔ وہی سپاہیوں کو جنگ کی صورت حال کے مطابق لڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے محترم صوفی تبسم سے عرض کیا کہ مجھے اس عنوان پر ترانہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد یہ استھائی مجھے لکھ کر دی۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی۔‘‘ میں اپنے منتخب کارندوں یعنی صادق علی مانڈو (کلارنیٹ نواز) خادم حسین (بانسری نواز) سردار حسین ہاشمی اور سردار لطیف(وائلن نواز) محمد علی مھنُّوں (ہارمونیم) فیض فرید (سرود) پرویز مہدی (سرمنڈل) حامد حسین (ستار) صابرحسین (طبلہ) رحمت خان (ڈھولک) کو لے کر فوراً سٹوڈیو نمبر2میں اس نغمے کی دھن بنانے کے لئے چلا گیا۔ ستمبر 65کی جنگ کے دوران اﷲ کی مہربانی اور فضل و کرم سے میری اور میڈم نورجہاں کی نغمے کی دھن بناتے وقت بہت ’آمد‘ ہوتی تھی۔ بہت جلدی اس کی دھن میڈم نورجہاں نے خود بنائی ۔ پورے دن باقی نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو ریکارڈ کیا گیا۔ تمام نغموں کی ریکارڈنگ میں نے خود کی کیونکہ مجھے میوزک کی مکمل سُوجھ بُوجھ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ آواز اور سازوں کو کس

Level

پر رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ (جو میں نے خود کی) کا رزلٹ بہت اچھا تھا۔ میں نے ریکارڈنگ کی تربیت اپنے شوق اور ذوق کی وجہ سے کراچی ٹریننگ سکول سے حاصل کی ۔ مجھے ریکارڈنگ کا اتنا شوق تھا کہ کئی کئی گھنٹے میں

ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔
Balance
کرنے کی مشق کرتا تھا۔ ریکارڈنگ ایک بہت بڑا فن ہے۔ اس کے لئے موسیقی کے اسرارورموز جاننے ضروری ہیں۔ میں ریڈیو میں آنے سے پہلے موسیقی کے پروگراموں میں ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے باقاعدہ حصہ لیتا تھا۔ بعد میں جب پروڈیوسر منتخب ہوا تو اپنی تمام توانائیاں موسیقی کے پروگراموں میں صرف کیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نورجہاں میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کرواتی تھی ہمیشہ کہتی اعظم صاحب ریکارڈنگ آپ خود کریں، حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات بہت محدود تھے مگر محنت اور لگن کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میوزیشن حضرات صبح صبح ریڈیو سٹیشن پہنچ جاتے اور رات تک ریکارڈنگ میں مصروف رہتے۔ یقین مانیں ان دنوں مجھے کبھی کسی میوزیشن نے تنگ نہیں کیا۔ یہ ہم سب کا قومی جذبہ تھا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی دھن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے میڈم نورجہاں نے خود بنائی۔ انتروں میں ماسٹر محمد علی مھنُّوں اور میری کوشش شامل تھی۔ اس نغمے کی دھن بناتے وقت میڈم نورجہاں گانے کے ساتھ ساتھ تالی بجاتی تھی اور بہت اچھے موڈ میں تھی۔ نغمے کی ریکارڈنگ شام کو مکمل ہوئی۔ مجھے اسٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا حکم تھا کہ نغمے کو فوری طور پر خصوصی اناؤنسمنٹ کے ساتھ تسلسل سے نشر کیا جائے تاکہ اس کی آواز ہماری بہادر اور نڈر افواج تک پہنچے۔ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوتے اور ہمارے نغمے کی تعریف کی جاتی۔ میرا یہ معمول تھا کہ میں ہر صبح ملکہ ترنم کو ان کے گھر سے ایک جیپ میں لاتا تھا یہ جیپ مجھے دفتر کی طرف سے مہیا کی گئی تھی جو میرے زیراستعمال ہوتی شا م یا رات کو جب بھی نغمہ ریکارڈ ہو جاتا میں فوراً ملکہ نورجہاں کو اسی جیپ میں گھر چھوڑ آتا۔ مجھے بعض اوقات یہ تمام کام انجام دیتے دیر ہو جاتی تو میں ریڈیو سٹیشن پر ہی سوجاتا۔ صبح صبح گھر سے ہو کر پھر میڈم نورجہاں کو لینے گلبرگ ان کے گھر چلا جاتا۔ دوپہر کے وقت کھانا میڈم نورجہاں کے گھر سے آتا اور میرا کھانا میرا چپڑاسی میرے گھر سے لاتا۔ یہ ہم مل کر اکٹھے کھاتے۔ ملکہ ترنم کے گھر سے جو روٹیاں آتیں نہایت باریک اور چھوٹے سائز کی ہوتیں۔ جن کو ہم پنجابی زبان میں ’’پھلکے‘‘ کہتے ہیں۔ میڈم کو یہ بہت پسند تھے۔ مرغی کے سالن میں چھوٹے وزن کی مرغی ہوتی۔ ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ میری تمام ریکارڈنگ ٹیم کا یہی جذبہ تھا ہم اپنے کام میں مگن رہتے۔ یہی وہ جذبہ ہے کہ ہم بروقت اتنے اچھے ملی نغمے ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
 

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP