قومی و بین الاقوامی ایشوز

انیس سو سینتیس جمہوری و سیکولر کانگریسی سرکار اور ہندوستانی اقلیتیں

تاریخ کو کھنگالنے، پرکھنے اور جاننے کے دو انداز ہوتے ہیں۔ اوّل، تاریخ کو تعصب اور تنگ نظری کے عدسے پہن کر اپنی منشا کے مطابق سمجھا جائے، دوئم، خود کو تاریخ کے کسی بھی مخصوص حصے کے ساتھ وابستہ کئے بغیر، غیر جانبدار رہ کر فقط قاری کی حیثیت سے پڑھا جائے اور پھر اس سے سبق حاصل کیا جائے۔ اب جہاں تک مسلم لیگ اور کانگریس کے باہمی تعلقات کا معاملہ ہے تو قاری اور لکھاری بغیر سوچے سمجھے، تدبر اور نظر کا دامن چھوڑ کر جھٹ سے تاریخ کے اِس حصے کو ہندو مسلم مخاصمت کے تناظر میں پڑھنا اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ شناسی کی یہ متعصبانہ روش تاریخ شناسی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ہم اِس تحریر میں کسی بھی قسم کی مذہبی منافرت کے بغیر کانگریس کے اڑھائی سالہ عہد حکومت کا تجربہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

کانگریس کے منجھے ہوئے اور جہاندیدہ سیاستدان روزِ اوّل سے ہی اس بات کا پرچار کر رہے تھے کہ کانگریس سب سے زیادہ جمہوری، سیکولر، اور Peaceful Co-existance پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے۔ نیز ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ کانگریس مسلمانانِ ہند کی ترجمانی کرنے والی واحد پارٹی ہے۔ اب جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تو اس کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ یہ ڈکیٹر شپ کے اصولوں کی طرح فردِ واحد یا کسی ایک سوچ اور نظریے کی خواہاں نہیں ہوتی۔ یہ نظام تو تمام لوگوں، مذاہب، نسلوں اور گروہوں کے حقوق کا مخافظ وامین ہوتا ہے۔ جب برطانوی سرکار نے 1935ء کے ایکٹ کے تحت ہندوستان میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کروانے کا اعلان کیا تو کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سیاسی جماعتوں نے نہ صرف الیکشنوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا بلکہ دونوں پارٹیوں نے الیکشن کے بعد اسمبلیوں میں قائم ہونے والی حکومتوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مژدہ بھی سنایا۔ قائداعظم نے 1936ء میں اپنی ایک تقریر میں یہ بات واضح کر دی کہ ’’ 1935ء کا ایکٹ اور مسلم لیگ کی پالیسی ہمیں کسی بھی دوسرے گروہ یا سیاسی پارٹی سے تعاون کرنے سے نہیں روکتی۔ ہم ہر کسی کے ساتھ چلنے اور تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ الیکشن کے ابتدائی ایام میں کانگریسی سیاستدانوں نے اِس اعلان و تعاون کا خیر مقدم بھی کیا۔ مگر یہاں یہ بات جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ عوام میں زیادہ رچی بسی ہوئی نہ تھی اور اس کا اندرونی ڈھانچہ بھی کافی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ مسلم لیگ کا بہت سے اضلاع میں اپنا نمائندہ تک نہ تھا۔ مسلم لیگ کی سیاسی شکست و ریخت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں ہونے والا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس بھی بہت سالوں کے تعطل کے بعد منعقد ہوا تھا۔ پنڈت نہرو نے تب کی مسلم لیگ کی غیر فعالیت پر انتہائی برمحل فقرہ کہا تھا

"Muslim League represents only upper middle class.I know more about the hunger and poverty then those who talk in terms of percentages and seats in the councils."

مگر اس کے چند ماہ بعد اُسی پنڈت نہرو سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی غلطی سرزد ہوئی۔ انہوں نے جمہوری انداز کا دامن چھوڑتے ہوئے بالکل ایک مطلق العنان حکمران کا روپ دھارتے ہوئے کہا

"There are only two dominant powers in India, Congress representing Indian nationalism, and British Imperialism, other parties do not exist."

اس تاریخی حقیقت میں ذرا برابر شبہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ کسی بھی لحاظ سے اس الیکشن میں کانگریس کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی۔ مگر کسی بھی جمہوری پارٹی، جس کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ ہندوستان کی سب سے بڑی ڈیموکریٹک پارٹی ہے، اُس پارٹی کے سب سے زیادہ جمہوری کہلوائے جانے والے لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ طاقت اور یقینی فتح کے نشے میں ڈوب کر دوسرے افراد اور اُن کی سیاسی پارٹیوں کے وجود ہی سے انکاری ہو جائے۔

محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے ہر طرح کے تعاون سے بھرپور رویے کے برعکس پنڈت نہرو اور کانگریس نے مسلم لیگ کے ساتھ کسی بھی قسم کا بندھن جوڑنے سے انکار کر دیا۔ کانگریس کا یہ رویہ جمہوری روایات کی سرا سر خلاف ورزی تھا۔ اسی کشاکشی کی فضا میں 1937ء کے الیکشن کا انعقاد ہوا اس کے نتیجے میں کانگریس آٹھ صوبوں میں واضح اکثریت لے کر جیت گئی۔ کانگریس نے کل 1585 صوبائی سیٹوں میں سے 711 نشستیں حاصل کیں جبکہ اس کے برعکس مسلم لیگ کہیں بھی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی اور 489 مسلم نشستوں میں سے صرف 104 سیٹیں حاصل کر سکی۔

الیکشن جیت جانے کے بعد خود کو ڈیموکریٹک اور سیکولر کہلوانے والی کانگریس پارٹی مزید متشدد اور تنگ نظر ہو گئی۔ کانگریس کے صدر سبھاش چندر بھوس نے اپنی ایک تقریر میں کہا:

From now on the Congress would adopt the slogan of Congress dictatorship and should abandon the idea of co-operation or formation of a coalition government.

کانگریسی لیڈروں کے اذہان میں پوشیدہ آمریت کی جھلک کا عملی نمونہ پہلی دفعہ صوبہ اُتر پردیش میں حکومت سازی کے مراحل میں دیکھنے کو ملا۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے اُترپردیش کے مسلمانوں کے لیڈر چودھری خلیق الزمان کو خط لکھ کر کہا کہ اگر مسلم لیگ اُترپردیش میں حکومت کا حصہ بننا چاہتی ہے تو اُس کو کانگریس کی چند شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔

UP .1 میں مسلم لیگ کو اپنے پارلیمنٹری بورڈ کو ختم کرنا ہو گا۔

2۔ مسلم لیگ کے تمام ممبران اسمبلی میں کانگریس کے ممبران تصور ہوں گے۔

3۔ مسلم لیگی ممبران کو کانگریس پارٹی کے تمام احکامات ماننا ہوں گے۔

4۔ مسلم لیگ آج کے بعد ہونے والے کسی بھی ضمنی الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

5۔ مسلم لیگی ممبران کے استعفوں اور وزارتوں کے تمام تر اختیارات کانگریس پارٹی کے پاس ہو گے۔

اتر پردیش کے مسلمانوں نے ان غیر جمہوری، غیر آئینی اور آمریت سے بھرپور شقوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس طرح انتہائی غیر جمہوری انداز میں کانگریس نے حکومت بنائی۔ کانگریس کے اِس غیر جمہوری رویے پر Sir Percivall Joseph Griffiths نے اپنی کتاب The British Impact on India میں انتہائی خوبصورت تبصرہ کیا

"It was a grievious blunder on the part of Congress.Muslims in this situation were compelled to believe that they were removed from power only because the Congress was an utterly Hindus party."

کانگریس پارٹی کی آمرانہ سوچ کا نشانہ فقط اتر پردیش کے مسلمان ہی نہ بنے بلکہ کانگریس پارٹی کی ہائی کمان نے پوری کانگریس پارٹی کو بھی یرغمال بنا لیا۔ الیکشن کے بعد کانگریس پارٹی کے سربراہان نے ’’پارلیمانی سب کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی مولانا ابو الکلام آزاد، راجندر پرساد اور ولبھ بھائی(Vallabh bhai) اس سب کمیٹی کے ارکان مقرر کئے گئے۔ کانگریسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے ممبران ان تین افراد کی منشا اور اجازت کے بغیر خود کوئی قدم نہ اُٹھا سکتے تھے۔ بلکہ انہیں کانگریس کور کمیٹی کی طرف سے واضح ہدایات دی گئیں کہ انہیں اپنے ہر کام کے لئے ان افراد سے اجازت لینا ہو گی اور وہ عوام کی بجائے انہی تین افراد کو ہی جوابدہ ہو گے۔ پس اس طرح کی اور بہت سی غیر جمہوری روایات کی وجہ سے کانگریسی پارٹی چند بااثر افراد کی خواہشات اور ترجیحات کی باندی بن کر رہ گئی تھی۔

پروفیسر اشتیاق حسین قریشی کی زبان میں کانگریس کے جمہوری اور سیکولر عہدِ حکومت میں عوامی ترجیہات ’’ہائی کمانڈ‘‘ کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

"Under the secular and democratic rule of Congress, public opinion was replaced by the high command."

کانگریسی پارٹی کا جمہوری جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا نعرہ یہ تھا کہ وہ ایک سیکولر جماعت ہے نیز وہ مسلمانوں کی واحد سیاسی پارٹی ہے۔ ان کھوکھلے نعروں کی قلعی تب کھلی جب کانگریس نے صوبوں میں حکومت بنائی اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ گائے کے ذبح کرنے والوں پر فوجداری قانون کے تحت مقدمات چلانے شروع کر دئیے۔ نیز مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لئے ’وندے ماترم‘ جیسے ترانے کو ہندوستان کا ترانہ قرار دے دیا۔ ’وندے ماترم‘ بنگالی زبان کے لکھاری ’’بینکم چندرا چیٹرجی‘‘ کی تخلیق ہے اور اُس نے اِس ترانے کو اپنے ناول ’’آنند ماتھ‘‘ کا حصہ بنایا۔ اس ناول کا مرکزی خیال اک ہندو جنگجو کے گرد گھومتا ہے جو اپنے ہندو عقائد کی بقاء کے لئے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ ناول کے ہیرو ’’بہونند‘‘ نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ جب تک مسلمان اس خطے میں حکمران ہیں‘ ہمارا ہندو دھرم خطرے میں ہے۔ وہ ایک فوج بناتا ہے اور پھر جنگ لڑنے سے پہلے ’’کالی ماتا‘‘ کے مندر میں حاضر ہو کر وندے ماترم پڑھتا ہے اور اپنی دھرتی کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کرنے کی قسم کھاتا ہے۔ کانگریسی سرکار نے اپنے تمام صوبوں میں یہ احکامات صادر کئے کہ صوبائی اسمبلیوں اور ضلعی بورڈز کے تمام اجلاس کی باقاعدہ کارروائی وندے ماترم پڑھ کر کی جائے جب مسلم لیگی سربراہان نے پنڈت نہرو کو یہ کہا کہ براہِ کرم اس ترانے کو سرکاری درجہ نہ دیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو پنڈت نہرو نے جواباً کہا کہ مجھے تو اس ترانہ میں کسی مذہب کے خلاف کوئی مواد نظر نہیں آتا۔ بلکہ یہ ترانہ تو ملکِ ہندوستان کی تعریف بیان کرنے کا ایک عمدہ شاعرانہ نمونہ ہے۔ جبکہ پنڈت نہرو کے ان خیالات کے خلاف "Lord Zetland" نے وندے ماترم پرجو رپورٹ وائسرئے ہند "Lord Linlithgo" کو ارسال کی اُس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

In fact, it was not a song but a declaration of war.

ایک ایسی سیاسی پارٹی جو خود کو سیکولر اور مسلمانوں کی واحد ترجمان سیاسی جماعت کہلواتی ہو اُس کا اس طرح کے مذہبی منافرت پھیلانے والے ترانے کو قومی ترانہ قرار دینا کہیں سے بھی جمہوری اور سیکولر طرز عمل معلوم نہیں ہوتا۔

کانگریسی سرکار کی غیر آئینی، غیر جمہوری اور اقلیت و مسلم کش اقدامات کی رُوداد یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ انہوں نے اس سب سے بڑھ کر کانگریسی صوبہ جات میں مسلمان، عیسائی، بدھ مت اور اچھوت ذات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اُن کے مذہب سے دور کرنے کے لئے ودیا مندر اور وردا ایجوکیشن سکیم جیسے متعصب تدریسی نصاب کے اجراء کا اعلان کیا۔ اوّل تو مسلمانوں کو ودیا مندر سکیم کے نام سے ہی اعتراض تھا۔ دوئم ان تعلیمی سکیموں میں دانستہ طور پر سنسکرت کو اُردو کی جگہ نصابی زبان کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ سوئم ان تعلیمی سکیموں کے تحت تمام بچوں کو جس میں ایک غالب اکثریت مسلمان بچوں کی بھی تھی‘ مجبور کیا گیا کہ وہ گاندھی جی کی تصویر کے سامنے ہاتھ باندھ کر اور جھک کر سلام کریں۔ چہارم جو نصاب ان تعلیمی سکیموں کے تحت بچوں کو پڑھایا جا رہا تھا اُس میں اسلام اور دوسرے مذاہب پر بے جا سوالات اُٹھائے گئے تھے جبکہ ان کے برعکس ہندو دھرم کو دُنیا کے سب سے مہذب اور قدیم ترین مذہب کے طور پر ثابت کیا گیا تھا۔ انہی شکوک و شبہات کو سامنے رکھتے ہوئے مولوی عبد الحق نے گاندھی جی کو خط لکھا اور انہیں آگاہ کیا کہ اُن کا ایک ساتھی اپنے ایک مقامی اسکول میں گیا اور وہاں یہ دیکھ کر ششدہ رہ گیا کہ مسلمان بچے، سرس وتی (Saras Vati) ماتا کے بت کے سامنے تالیاں بجا کر جھک رہے ہیں اور آپس میں سلام کہنے کی بجائے ’’نمستے‘‘ بول رہے ہیں۔ آپ (گاندھی) ان تعلیمی سکیموں میں تبدیلیاں کرائیں تاکہ مسلمان بچے اپنے دین سے دور نہ ہوں۔ گاندھی جی نے جواباً مولوی عبد الحق کو لکھا کہ ان تعلیمی سکیموں میں ایسا کوئی بھی عمل نہیں ہے جس کے نتیجے میں مسلمان بچے اپنے دین سے دور ہو جائیں۔ نیز نہ ہی وہ کوئی قانونی و آئینی اثرورسوخ رکھتے ہیں جس کو بروئے کار لا کر وہ ان تعلیمی سکیموں میں تبدیلی کروا سکیں۔ پس کانگریس کے اس آمرانہ مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے قائداعظم نے مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کا احاطہ کرنے کے لئے راجہ صاحب آف محمود آباد اور ایس ایم شریف کی سربراہی میں دو الگ الگ کمیٹیاں قائم کیں اور انہیں حکم دیا کہ کانگریسی عہد حکومت میں ہونے والے مسلم کش اقدامات کو جامع رپورٹوں کی شکل میں عوام اور برطانوی سرکار کے سامنے لایا جائے۔ ابھی ان رپورٹس کو منظرِ عام پر آئے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا اور برطانوی سرکار نے اہلِ ہندوستان سے مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے جواب میں کانگریس نے ایک انتہائی غیر منطقی مطالبہ برطانوی سرکار کے سامنے رکھ دیا جس کے پورا نہ ہونے پر کانگریس نے احتجاجاً 22 اکتوبر 1939ء کو وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا۔ محمد علی جناح نے کانگریسی استعفوں پر مسلمانوں کو سجدہ شکر ادا کرنے اور ہندوستان کی دوسری اقلیتوں کے ساتھ مل کر 22 دسمبر 1939ء کو یومِ نجات منانے کا اعلان کیا۔

All Indian Association of Deprersed Class کے صدر ایس ایم راجھا نے قائدِاعظم کے یومِ نجات منانے کے عمل کو خوش آمدید کہا۔ پارسی مذہب کے لیڈر Homi Rastom Ji نے کانگریسی وزارتوں کے خاتمے پر کہا:

"Today, Jinnah is undoubtedly, the hero of minorities who is fighting against the Congress Fascism alone."

حتیٰ کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے اچھوت ذاتوں کے لیڈر ’’ڈاکٹر امبیدکر‘‘ نے کانگریسی وزارتوں کے خاتمے پر شکر ادا کیا اور مسلم لیگ کے یومِ نجات منانے کے عمل کو خوش آئند عمل قرار دیا۔ پس یہ کانگریسی سرکار کے اڑھائی سالہ جمہوری و سیکولر دورِ حکومت سے متعلقہ وہ زمینی و تاریخی حقائق ہیں جن سے آج کے مودی سرکار نے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور دسمبر 2014ء میں فقط آگرہ شہر سے تعلق رکھنے والے پچاس مسلم خاندانوں کو زبردستی ہندو دھرم میں شامل کر لیا گیا۔ مودی سرکار کو چاہئے کہ دُنیا کے سب سے بڑے جمہوری اور سیکولر ملک میں اپنی اقلیتوں کے تحفظ پر بھی غور کریں تاکہ وہاں پر بسنے والے مسلمان، بدھ، اچھوت اور عیسائی اپنے مذاہب کی تعلیمات کے مطابق بآسانی زندگی بسر کر سکیں۔

[email protected]

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP