متفرقات

انہیں یقیں ہے

میدانِ جنگ میں مسلمانوں کے جسم نہیں روحیں لڑا کرتی ہیں۔ جذبہ ایمانی سے سرشار سپاہی جب ٹکراتے ہیں توبڑے سے بڑے دشمن کی ٹانگیں بھی کانپنے لگتی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے بھی اسی جذبے کے تحت دفاع وطن کا فریضہ انجام دیا اور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بہادری کی اعلیٰ ترین روایات کو زندہ رکھا۔ شہادت بہت سوں کا مقدر ٹھہری اور بہت سے غازی بن کر لوٹے۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ میں افواج پاکستان کے افسر اور جوان بڑے کٹھن حالات سے گزرے ہیں۔ انہوں نے اس اندرونی عفریت‘ جس میں غیروں کی سازشیں بھی شامل ہیں‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بہت سے زخمی بھی ہوئے۔ شہادت پانے والے تو ابدی حیات پا گئے تاہم جو اپنے کسی عضو سے زخمی ہو کر محروم ہوگئے ان کا ایثار اور صبر وتحمل بھی مثالی ہے۔ ان میں زندگی بھی بھرپور ہے اور جذبہ بھی وہی ہے۔ ان کو دیکھ کر ہم سب حوصلہ اور جذبہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ جدوجہد اور دلیری کی وہ تصویریں ہیں جن کو دیکھ کر بے حوصلہ‘ حوصلہ پکڑتے ہیں۔ ناامید ، امید کا چراغ جلاتے ہیں ۔ انہی میں سے ایک غازی صوبیدار سرفراز بھی ہیں ، جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں زخمی ہوگئے۔ اس نوجوان کو جب ہوش آیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ تو ایک ٹانگ اور ایک بازو سے محروم ہوچکا ہے۔ اپنی ٹانگ اور بازو سے محروم ہونا کتنا اذیت ناک ہے ، اس لئے کہ اب وہ شاید دشمنوں کے خلاف اپنی افواج کے ہراول دستے کا حصہ نہ بن سکے۔ پاک فوج کے اس بہادر سپوت کا علاج آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن (AFIRM)میں ہورہا ہے۔ AFIRM کا ادارہ جسمانی معذوری کی صورت میں اپنے جوانوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ صوبیدار سرفراز سے ہلال ٹیم نے بات چیت کی جو نذر قارئین ہے:

ہلال:اس واقعے کے بارے میں بتائیں جس نے آپ کو ایک بازو اور ٹانگ سے محروم کردیا؟

صوبیدار سرفراز: پاک فوج کے سپاہی کی زندگی حادثات اور واقعات سے بھری پڑی ہوتی ہے۔ اگر زندگی میں کوئی واقعہ نہ ہو تو زندگی ایک جگہ رک جائے ۔ 24 جو ن 2012ء کو دیر شہر میں میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ میں ڈیوٹی پر تھا۔ ہمیں علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا تھا ۔ میں کیونکہ صوبیدار ہوں اس لئے میری ڈیوٹی تھی کہ میں آپریشن کے لئے علاقے کو Clear کراؤں ۔ ہم لوگ سارا دن اس علاقے کو Clear کرنے میں لگے رہے ۔ رات کو آرام کے لئے اپنے خیمے میں گئے ۔ کیونکہ سب مطمئن تھے کہ صبح ہمارا کارواں، باقاعدہ آپریشن کے لئے آئے گا تو آسانی سے آپریشن کر سکے گا۔ ہم رات گئے تک باتیں کرتے ہوئے سو گئے۔ صبح سویرے میں نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اس علاقے کا Visit کیا ۔کیونکہ ابھی صبح مکمل طور پر نہیں ہوئی تھی اس لئے مجھے معلوم نہ ہوا کہ دشمن نے رات کے کس پہر یہاں پر بارودی سرنگیں لگا دیں تھیں ۔ جوں ہی میں نے زمین پر اپنا پاؤں رکھا تو میرا پاؤں مائنز پر جا پڑا ۔ ایک زور کا دھماکہ ہوا جس کی وجہ سے مجھے کچھ بھی اندازہ نہ ہوا کہ کیا ہوا ہے ۔جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنی دائیں ٹانگ اور دائیں بازو سے محروم ہو چکا تھا ۔ مگر میں نے حوصلہ نہ ہارا بلکہ ہمت سے کام لیا۔ زخمی ہونے کے بعد مجھے پشاور کے آرمی ہسپتال میں لے جایا گیا۔ میں وہاں کافی عرصہ رہا۔ وہاں میرا علاج ہوتا رہا۔ لیکن میرے ایک ڈاکٹر نے فیصلہ کیا کہ میری ٹانگ اور بازو کاٹنے پڑیں گے ۔اس وقت تک میں نے اپنے گھر والوں سے اس واقعے کو چھپایا ہوا تھا ۔ڈاکٹروں نے حوصلہ اور ہمت بندھائی تو میں نے ان کواجازت دی کہ آپ جو بہتر سمجھتے ہیں وہ کریں۔ ہلال:جب آپ کی ٹانگ اور بازو کاٹ دی گئی تو اس وقت کے اپنے محسوسات کے بارے میں کچھ شیئر کریں گے؟ صوبیدار سرفراز: جب میری ٹانگ اور بازو کاٹ دیئے گئے تو مجھے یہ محسوس ہوا میں ساری زندگی کے لئے معذور ہی رہوں گا۔مگر جب ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے جلد ہی نئی ٹانگ اور بازو لگ جائے گا تو میرے اندر زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی ۔ میرا زیادہ علاج پشاور میں ہوتا رہا۔ میری ٹانگ اور بازو بھی وہیں کاٹے گئے۔مگر ایک دن مجھے راولپنڈی لے جانے کے لئے کہا گیا کہ وہاں جا کر تمہیں نئے بازو اور ٹانگ لگ جائے گی تو میں یہاں آگیا ۔ یہاں آئے ہوئے مجھے 3 ماہ ہوئے ہیں۔

ہلال:آپ کا علاج تسلی بخش ہو رہا ہے؟

صوبیدار سرفراز: جی بالکل تسلی بخش ہو رہا ہے ۔ میں اس ادارے اور اپنی فوج کا جتنا بھی شکر یہ ادا کروں اور اس رب کا شکر کہ جس نے مجھے پاک فوج جیسے ادارے میں خدمت کرنے کا موقع دیا۔ اس ادارے نے مجھے زندگی کی وہ روشنی دی ہے جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے میرے سائز کی ٹانگ اور بازو بنوائے اور آج جب میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں‘۔ مجھے میرے دونوں ٹانگ اور بازو ملے ہیں ۔ میں آپ کو دکھاتا ہوں ۔ میں بہت خوش ہوں ۔اب میری ان دونوں مصنوعی اعضاء کے ساتھ ٹریننگ اور فزیوتھراپی کرائی جائے گی اور جب میں ان دونوں مصنوعی اعضاء کے ساتھ عادی ہو جاؤں گا تو پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جاؤں گا۔

ہلال:آپ نے گھر کی بات کی ہے تو کچھ باتیں اپنے گھر اور گھر والوں کے بارے میں بتائیں ؟

صوبیدار سرفراز: میرا گھر سیالکوٹ میں ہے میرے گھر میں میری امی اور میرے بیوی بچے ہیں۔ میں نے سیالکوٹ کے سرکاری سکول سے میڑک پاس کیا اور پھر فوج میں بھرتی ہو کر اپنی یونٹ میں خدمات سر انجام دینے لگا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری فوج نے مجھے بہت عزت دی اور آج میں ایک عام آدمی سے فوج کا صوبیدار ہوں۔ میرے اس حادثے کی وجہ سے میر ی بیوی شروع میں بہت پریشان ہوئی لیکن جب میں نے اسے حوصلہ دیاتو اس کو میری باتوں سے کافی تسلی ہو گئی۔میری والدہ کیوں کہ کافی بوڑھی ہیں او ر انہوں نے ساری زندگی گاؤں میں ہی گزاری ہے اس لیے انہیں مصنوعی اعضاء کے بارے میں کچھ خاص علم نہیں ہے اور نہ ہی انہیں میری اور میری بیوی کی باتوں کی سمجھ ہے ۔اب جب فوج نے میر ا بازو او ر میری ٹانگ دے دی ہے تو میں دونوں بازوں اور ٹانگ کے ساتھ اپنی ماں کے سامنے جا کر انہیں سلیوٹ کروں گا اور بتاؤں گا کہ آپ کا بیٹا خود چل کر آپ کے پاس آیا ہے تو میری ماں کو یہ یقین آ جا ئے گا کہ میرے بیٹے کی فوج نے میرے بیٹے کو بھلا چنگا کر کے میرے پاس بھیجا ہے تو وہ یقین کر لیں گی۔اس لیے جب میں اپنے دونوں بازوں کے ساتھ اپنی ماں کے یقین کو پختہ کرنے کے لیے پہلے گاؤں جاؤں گا اور اس کے بعد اپنی ڈیوٹی پر ۔ ہلال: AFIRM کے ادارے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ صوبیدار سرفراز: فوج کے اس ادارے میں جہاں جوانوں کو مصنوعی اعضاء سے دوبارہ مکمل انسان بنایا جاتا ہے۔اس نے ان مشکل لمحات میں اپنی فوج کے جوانوں کی ہمیشہ ہمت بندھائی ہے او ران کو مشکلات سے نکالا ہے ۔جس کی وجہ سے پوری قوم کو پاک فوج کے اس ادارے پر فخر کرنا چاہیے ۔

ہلال: اپنے بچوں کے بارے میں بتائیں؟

صوبیدار سرفراز: میرے 5بچے ہیں۔ 4بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ میرے سارے بچے سکول میں پڑھتے ہیں اور میرا اکلوتا بیٹا بھی فوج میں جانا چاہتا ہے۔میں اپنے بیٹے کے اس خواب کو ضرور پورا کروں گا اور وہ اپنے باپ کی طرح فوج جوائن کر کے اس ملک کی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے گا اور پاک فوج کی عظمت کو سربلند کرنے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا ۔انشاء اللہ

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP