انٹرویو

انٹر ویو انتظار حسین

معاشرے میں امن اس طرح سے ممکن ہے کہ ادب ، آرٹ اور فلسفے کوفروغ دیں ، افسانہ یا ناول آپ کو تشدد کے لئے نہیں اُکسائے گایہ تو امن کے پجاری ہیں، جمالیاتی علوم پر زور دئیے جانے کی ضرورت ہے، آپ کا نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ تشدد کا راستہ خود بخود رُک جائے۔

ادیب ایسا مشورہ دے رہا ہوتا ہے جو اور ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا

نامورادیب انٹر ویو انتظار حسین کی باتیں

انتظارحسین اردو ادب کی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ فکشن اورجدید افسانے پر ان کے انداز بیان کے دُور رَس اثرات ہیں، قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کے تجربے کو جس طرح سے انہوں نے ماڈرن ٹیکنیک سے ہم آہنگ کرکے بیان کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ انتظار صاحب نے افسانے کی ایک نئی روایت کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ اس کو مضبوط اور مستحکم بھی بنایا۔ان کی تحریروں کے موضوعات اگرچہ لامحدود نہیں لیکن ان کا اپنا ایک خاص اسلوب ہے جس کی پذیرائی عالمی سطح پر کی گئی ہے۔ دو ہزار تیرہ میں انتظار حسین ’’ مین بُکر پرائز‘‘(Man Booker Prize) کے لئے دنیا بھر سے نامزد کئے گئے دس نامور ادیبوں میں شامل تھے جبکہ اگلے ہی برس فرانسیسی حکومت نے انہیں اپنااعلی سول ایوارڈ ’’آرڈر آف آرٹس اینڈ لٹریچر ‘‘ عطا کیا، وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ادیب ہیں۔ انتظارحسین عمر کی نوے بہاریں دیکھ چکے ہیں ان کا تخلیقی سرمایہ پانچ ناولوں اور افسانوں کے سات مجموعوں پر محیط ہے، ہلال نے اپنے قارئین کے لئے انتظارحسین سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔

سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟ بچپن کہاں گزرا؟ تعلیم کہاں پائی؟

جواب: میری پیدائش دیبائی ضلع بلند شہر کی ہے۔ میں نے ایسے زمانے میں آنکھ کھولی کہ نئی زندگی ہمارے قصبے سے کوسوں دُور تھی، نئے آلات یا سائنسی ایجادات وہاں تک پہنچی ہی نہیں تھیں۔ وہ تو ہندوستان میں ہی دیر سے آئیں اور قصبوں میں اور بھی دیرسے پہنچیں۔تو میں نے ایسے قصبے میں ہوش سنبھالا جہاں بیل گاڑی چلتی تھی، یکے چلتے تھے اور نئی سواری ہم نے سائیکل دیکھی۔ پھر ہم نے سائیکل چلائی اور اس کے بعد ہم نے لاری دیکھی جسے آپ آج بس کہتے ہیں، سٹیشن تھا لیکن بہت دُور تھا یعنی ہم ریل کی سیٹی کی آواز نہیں سن سکتے تھے، ریل گاڑی کی شکل اس وقت دیکھی جب اس میں سفر کرنے کا موقع میسر آیا، گاوَں میں ریڈیو نہیں تھا، ٹیلی ویژن تو بہت ہی بعد میں آیا۔ ریڈیو سے میرا تعارف میٹرک کے بعد ہوا جب میں اپنے قصبے سے نکل کر میرٹھ گیا،وہاں مجھے پتا چلا کہ ریڈیو بھی ہوتا ہے، فلم بھی میں نے میرٹھ میں ہی جا کر دیکھی،ہم نے تو ایک ایسی فضا میں ہوش سنبھالا کہ درخت تھے اور پرندے تھے، سائیکل سواری کے طور پر استعمال ہوتی تھی، موٹر کار پورے علاقے میں ایک آدھ ہوتی تھی۔

سوال: ابتدائی تعلیم کس ادارے سے حاصل کی ؟

جواب: میرے والد نے مجھے گھر میں ہی زیادہ پڑھایا، دیبائی سے ہمارا خاندان ہاپڑ آگیا، یہ بھی میرٹھ ضلع کا ایک قصبہ تھا لیکن قدرے ترقی یافتہ تھا۔یہاں میں آٹھویں کلاس میں ڈائریکٹ سکول داخل ہوا، اس سے پہلے کے مدارج میرے والد نے گھر میں ہی مجھے مکمل کروا دئیے تھے وہ مجھے نویں کلاس میں داخل کروانا چاہتے تھے لیکن سکول والوں نے کہا کہ یکایک نویں کلاس میں داخلے کا کوئی تصور نہیں ہے، آسان حل یہ ہے کہ ہم آپ کا امتحان لیں گے جسے آپ نے پاس کیا تو آٹھویں جماعت میں داخل کرلیں گے، تو میں نے میٹرک تک تین سال سکول میں گزارے، گورنمنٹ سکول میں داخلہ بھی نہیں ملا تھا تاہم ایک ہندو مشنری سکول میں داخلہ ملا جہاں میری سکول کی تعلیم کے تین سال مکمل ہوئے۔ پھر میں میرٹھ کالج چلا گیا جہاں میں نے گریجویشن مکمل کی۔ میرٹھ کالج سے ہی میں نے اردو لٹریچرمیں ماسٹرز مکمل کیا۔

سوال: لکھنے کی جانب کیسے مائل ہوئے کیا کسی سے متاثر ہوکر لکھنے کا آغاز کیا تھا ؟

جواب: مجھے دوران تعلیم ہی ادب سے دلچسپی ہوگئی تھی، اس زمانے میں غالب تو کورس میں تھا، اس کو تو پڑھنا ہی تھا یا پھر غزل کہہ لیں یا فکشن‘ افسانے میں پریم چند‘انہی کو پڑھ کر ادب میں دلچسپی پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس وقت شاعری میں زیادہ دلچسپی تھی کہ ہم غالب کو پڑھ رہے ہیں ، میر کو پڑھ رہے ہیں یا اقبال کو پڑھ رہے ہیں، ہمارے لئے نئی شاعری اقبال کی تھی کیونکہ اقبال غالب سے بالکل الگ قسم کے شاعر ہیں اور بڑے شاعر ہیں۔ پھر ہم نے جب ہوش سنبھالا تو پتا چلا ایک نئی تحریک شروع ہوچکی ہے جس میں فیض ہیں، راشد ہیں، میر اجی ہیں۔جب ہم نے ان کو پڑھنا شروع کیا تو ہماری دلچسپی اور بڑھی اور ہم نئے ادب سے آشنا ہوئے۔

ہم نے مغرب سے اچھی باتیں لی ہیں اور اچھی باتیں لینی چاہئیں‘ چاہے جس تہذیب میں بھی ہوں۔ لیکن جس آزادی کا وہاں تصور ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں، ہمارے ہاں اخلاق کا اپنا ایک تصور ہے‘ اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدارہیں‘ تو ہماری نسوانی آزادی کی شکل بہرحال مغرب کی نسوانی آزادی سے مختلف ہوگی۔ اور توازن یہی ہے کہ ہم ان سے اچھے پہلولیں۔

سوال: آپ کا شمار اُردو ادب کے ’’لِونگ لیجنڈز‘‘ میں ہوتا ہے۔ آپ بے شمار کتابوں کے خالق ہیں۔ آپ اس طویل اور کامیاب سفر کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: اب لِونگ لیجنڈہوں یا نہیں یہ تو مجھے پتا نہیں ہے لیکن میرا بہرحال ایک طویل سفر ہے بس یوں سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ میں نے ایک لکھنے والے کی حیثیت سے جنم لیا۔ سن سینتالیس اڑتالیس سے میں اس عمل میں شریک ہوں اور جو برا بھلا کام ہے آپ کے سامنے ہے ۔۔۔ تو میں اس کے بارے میں خودکیا کہوں۔ کبھی ناقدری کا شکارنہیں رہا نہ ہی کبھی اس ضمن میں کوئی شکایت ہوئی بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے ہاں ناشروں کی وجہ سے ادب خاصی مشکلات کا شکار رہا ، رائلٹی کے مسائل رہے ، کتاب کا دوسرا ایڈیشن نہیں آیا کرتا تھا۔ کہتے تھے بک ہی نہیں رہی کتاب۔ اب کتابوں کا دوسرا ایڈیشن آتا ہے ، رائلٹی بھی مل جاتی ہے، حالات قدرے بہتر ہیں۔ لیکن اگرماضی میں ناشروں کا رویہ ذرا بہتر ہوتا تو ادب کے زیادہ فروغ پانے کی گنجائش تھی۔ ناشر نے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی نہیں کی، ان کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اگرچہ مجھے ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن میں نے دیکھا کہ اچھے اچھے لکھنے والے اس مشکل کا شکار رہے۔ ان کی کتابیں نہیں چھپ سکیں۔ایک مصنف جب ناول لکھتا ہے تو وہ توقع کرتا ہے کہ اس کو وہ ناشر ملے جو کتاب چھاپنے کے لئے تیار ہو اور وہ اس کو رائلٹی بھی دے۔ کیونکہ ناول کو پورا وقت دینا پڑتا ہے، بعض اوقات اس میں سالوں لگ جاتے ہیں پھر اس کی رائلٹی نہ ملے تو ناول پنپ نہیں سکتا ۔ناشروں نے ناول کی سرپرستی نہیں کی کیونکہ وہ پاپولر لٹریچر کی طرح کا ناول چاہتے تھے جس کو ہم ادب میں شمار نہیں کرتے۔ ناول اور افسانہ دو الگ چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں اردو ادب میں چلنے والی تحریکوں میں زیادہ زور افسانے پر رہا، افسانے کے سلسلے میں ہم ناشروں کے محتاج نہیں تھے ، رسالے نکل رہے تھے اور رسالے ناشروں کے نہیں تھے۔ افسانہ لکھ کر رسالے کو د ے دیا، اس نے شائع کردیا، معاوضہ بیس پچیس روپے مل جاتا تھا۔ ہمارے ہاں شروع سے رسالے کی روایت بڑی پختہ رہی ہے۔ مخزن سے آپ شروع ہوجائیں اور اب تک رسالے نکل رہے ہیں افسانہ اسی لئے یہاں پنپا کیونکہ انہیں اظہار کا میڈیم میسر تھا جبکہ اگر ناشرہی رسالے نکال رہے ہوتے تو ان کے ساتھ بھی ناول جیسا مسئلہ ہوتا۔

سوال:آپ کا خاندان 1947میں ہجرت کرکے پاکستان آیا۔ آپ کی تحریروں پر بھی ہجرت اور بٹوارے کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔ اپنی تحریروں کے اس اسلوب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: میں پہلے آگیا تھا، میرا خاندان بعد میں رفتہ رفتہ یہاں آیا۔ اپنی تحریروں کے بارے میں میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ نقاد اس ضمن میں بہتر رائے دے سکتے ہیں۔ویسے میں نے تقسیم کے وقت پیش آنے والے واقعات کو افسانوں میں بھی لکھا ہے ، ناول میں بھی بیان کیا ہے اورجس طریقے سے میں نے وہ صورتحال دیکھی جیسا تجربہ ہوا اور جس طریقے سے میں نے وہاں سے لوگوں کے قافلے آتے دیکھے کہ وہ یہاں آرہے ہیں اور وہاں ان کی بستیاں اُجڑ رہی ہیں، لوگ یہاں آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ بڑا ابتلا کا زمانہ تھا۔ یہاں آکر بہت پریشان ہونا پڑتا تھا، لوگ اپنے اچھے اچھے گھر چھوڑ کر آئے اور یہاں انہیں جھگیوں میں رہنا پڑا، ہجرت اپنے ساتھ جو پریشانیاں لاتی ہے ان سے گزرے اور پھر رفتہ رفتہ آباد ہوئے، یہ قوم کا ایک پورا تجربہ ہے جو میری کہانیوں میں آتا ہے، افسانوں میں آتا ہے۔ اس زمانے میں افسانوں کا موضوع ہی یہی ہوتا تھا کہ فسادات ہیں، تشدد ہو رہا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ رہے ہیں۔ یہی کہانیوں کا موضوع تھا، اس پر پورے پورے ناول لکھے گئے۔تقسیم ہندمنٹو کے افسانوں کا خاص موضوع رہا ہے، خدیجہ مستور کا ناول ہے، ہمارے ہاں پارٹیشن لٹریچر کی ایک پوری روایت ہے، اردو میں اس موضوع پرسب سے زیادہ لکھا گیا ہے، ہندی سمیت دیگر زبانوں میں بھی لکھا گیاہے ۔

سوال: آپ کا ادبی کام بہت انمول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اُردو اور انگریزی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھے ہیں۔ کیا آپ کالم نگاری کو بھی ادب نگاری کے احاطے میں دیکھتے ہیں؟

جواب: ادب سے کالم کا کوئی تعلق نہیں، یہ تو پیشہ ہے۔میری جو کالم نگاری ہے، وہ صحافت کا حصہ ہے، اسے میں ادب کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرتا، دونوں الگ الگ اصناف ہیں۔ کیونکہ میں اخبار میں ملازمت کرتا تھا، میں نے سب ایڈیٹنگ سے شروع کیا، تراجم کئے، ڈیسک پر کام کیا، پورا وقت گزارا،پھر رفتہ رفتہ مجھے یہ احساس ہوا کہ کالم نگاری میرے لئے مناسب شعبہ ہے، خبروں کے کام سے پھر میں نکل آیا اور سارا زور کالم نگاری پر ہی دیا۔ صحافت میں میرے کیرئیر کاآغاز امروز سے ہوا، میں نے کچھ فیچر لکھے، لیکن اصل میں میری جاب سب ایڈیٹنگ کی تھی جس میں میرے لئے زیادہ گنجائش نہیں تھی کہ میں نیوز ایڈیٹر بن جاتا، کیونکہ میرے اندر وہ قابلیت نہیں تھی۔ وہاں میں ہمیشہ سب ایڈیٹر ہی رہتا لیکن میں نے جب فیچر لکھے، دیگر تحریریں لکھیں تو رفتہ رفتہ یہ احساس ہوا کہ کالم نگاری کا شعبہ میرے لئے زیادہ مناسب ہے پھر میں کالم نگار ی میں آگیا جب میں نے مشرق کو جوائن کیا تو خالص کالم نگارکی حیثیت سے جوائن کیا، میراکام صرف کالم لکھنا تھا، باقی اخبار کے کسی شعبے سے میرا کوئی ناتا نہ تھا، تو میں یہی کہوں گا کہ کالم خالصتاً صحافت کی صنف ہے ، ادب کی صنف ہے ہی نہیں۔

سوال:آپ کو پاکستان‘ بھارت‘ مشرقِ وسطیٰ میں بہت سے ایوارڈز ملے۔ آپ کو فرانس کی جانب سے فرنچ سول ایوارڈ بھی دیا گیا۔ بہت زیادہ خوشی کون سا ایوارڈ لینے پر محسوس ہوئی؟

جواب:فرانس نے مجھے جو ایوارڈ دیا۔ اس کی بہت اہمیت ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک مغرب میں اردو ادب کو شناخت نہیں ملی تھی، اسے بطور زبان قبول نہیں کیا گیا تھا ، آپ انگریزی میں لکھیں تب آپ کی تحریر قابل غور ہوگی۔ یہ جو انعامات کا سلسلہ شروع ہوا جیسے بُکر پرائز ہے، یہ تیسری دنیا کے جو مصنف انگریزی میں لکھ رہے ہیں ان کا کام ایوارڈ کمیٹی کے پیش نظر ہوتا تھا۔ تو بھارت کے رائٹروں کو ایوارڈ بھی ملے لیکن ہمارے ہاں کبھی کوئی قابل ذکر ایوارڈ نہیں آیا۔ میرے لئے حیران کن واقعہ تھا کہ بکر پرائز کی نامزدگیوں میں میرا نام آگیا۔میں نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا کیونکہ بکرپرائز تو صرف انگریزی ناولوں کے لئے ہے تو پتا چلا کہ جب ان پر اعتراض ہوا کہ تھرڈ ورلڈ کے لوگوں کی اپنی زبانیں ہیں اور ان کا نمائندہ ادب ان کی اپنی زبانوں میں ہے تو بکرپرائز والوں نے انٹرنیشنل ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا اس وجہ سے ہمارانام آگیا، پھر ہمیں قبول کیا گیا، بلایا گیا، دس میں سے ایک کو ایوارڈ دینا تھا جو انہوں نے دے دیا، لیکن اس سے فرق یہ پڑاکہ جو مشرقی زبانوں کے لوگ ہیں، ان کا وہ کام ان کے سامنے آیا جو ترجمہ ہوتاتھا ۔ مکمل کام ترجمہ نہیں ہوتا تو سارا کام ان کے پیش نظر کیسے آتا اور پھر ترجمے کا معیار بھی معنی رکھتا ہے کہ اچھا ترجمہ ہوا ہے یا برا ترجمہ ہوا ہے ، ہمارے ہاں اچھے ترجمے بہت کم ہوئے ہیں تو ہم ان کے مقابلے میں کسی حوالے سے نہیں آسکتے تھے کیونکہ ان کا پورا کام ہے اور اوریجنل کام ہے۔ ہمارا ترجمہ شدہ کام ہے جس کاصرف ایک حصہ پیش نظرہے۔ تو جتنا مل گیا غنیمت ہے لیکن فرانس نے ایوارڈ ایسے نہیں دیا۔ انہوں نے ہمارا جو بھی کام ہے، وہ دیکھا ہوگا ، ترجمے دیکھے ہوں گے، پھر انہوں نے ہمارا جو اوریجنل کام ہے، اسے پرکھا ہوگا، وہ کیا ہے؟ کس قسم کا ہے؟ کیونکہ فرانس والے تو اس طریقے سے انعام نہیں دیتے، جیسے ہمارے ہاں دیتے ہیں، وہاں تو اکیڈمی آف لیٹرز ہے اور پوری چھان بین کرکے انعام دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہمارا پوراکام دیکھا، ممکن ہے کہ اردو کا کوئی ماہر بھی انہوں نے انگیج کیا ہوکہ اردو کا جو کام ہے اس کی رپورٹ دیں۔ باقی انگریزی کا ترجمہ شدہ کام تو ہے ہی ۔ تو وہ انعام ملا جو ہمارے لئے زیادہ فخر کا باعث ہے ایک تو یہ کہ اردو کو تسلیم کیا گیا ساتھ ہی اردو والے کو مغرب کی طرف سے پہلی بار انعا م ملا۔اس کی اپنی اہمیت ہے مجھے یہ خوشی ہوئی کہ میں پہلا آدمی ہوں جسے اردو دان کے طور پر مغرب کا یہ ایوارڈ دیا گیا۔مجھے اردو فکشن رائٹر کے طور پر انہوں نے مانا اور انعام دیا تو میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے۔

سوال: آپ نے دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ کر رکھا ہے۔ آپ نے دیگر زبانوں کے ادب کے اُردو زبان میں تراجم بھی کئے۔ کیا آپ ترجمے کو ’لٹریری ورک‘ کا حصہ گردانتے ہیں؟

جواب: یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ترجمہ کیا کر رہے ہیں میں نے تو زیادہ تر ان تحریروں کا ترجمہ کیا ہے جو ادب سے متعلق ہیں۔ایک آدھ کتاب ایسی ہے جس کا ادب سے براہ راست تعلق نہیں ہے لیکن بالواسطہ طورپر ہے۔جیسے میں نے فلسفے کی ایک کتاب کا ترجمہ کیا تو فلسفے کا تعلق بالواسطہ طور پر ادب سے ہے اور میں اسے ادبی سرگرمی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ باقی میں نے ناول ترجمے کئے ہیں، افسانوں کا ترجمہ کیا ہے تو میں اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بھی میری ادبی سرگرمی کا حصہ ہے۔

سوال: ایک دور تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کا بہت شہرہ تھا۔ کیا آج بھی ادب میں ترقی پسندی کا رواج موجود ہے؟

جواب: وہ تو ایک تحریک شروع ہوئی جس نے اپنی منازل طے کیں اوراس نے بڑا عروج بھی پایا، قیام پاکستان کے ابتدا کے سالوں میں یہ تحریک بڑے عروج پر تھی تو اس نے اپنا رول ادا کیا۔ اب وہ ایک تحریک کے طور پر زندہ نہیں ہے بلکہ آپ کی ادبی تحریک کا حصہ ہے لیکن اس نے لکھنے والوں کے خیالات کو متاثر کیا، اس میں تبدیلی لائے، ہمارے ادب میں ان کا اپنی جگہ پر حصہ ہے۔ اگرچہ مجھے اس تحریک سے اختلافات تھے اور میں کبھی اس تحریک کا حصہ نہیں رہا۔ لیکن وہ بڑی تحریک تھی جس نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔ سیاسی سماجی شعور اسی تحریک کی دین ہے۔ جیساہمیں ارد گردبھی دیکھنا چاہئے کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے، سیاست میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کے بارے میں لکھنا چاہئے، تحریک نے ایک قسم کا پس منظر دیا ۔

سوال: آپ کی نظر میں ہمارے ادیب کا سماج کی ترویج‘ ترقی اور اصلاح میں کیا رول رہا ہے؟ اور کیا ادیب کا اس عمل کوئی حصہ ہوتا ہے یا ادیب کا کام خالصتاً ادب کی تخلیق ہے۔

جواب: دیکھئے رول تو یہی ہے کہ ہم اس معاشرے میں بیٹھ کر ایسا کام کر رہے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہے لیکن جب ہم کہانی لکھتے ہیں یا شعر کہتے ہیں تو گویا ہم قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر تو قومیں بنتی ہی نہیں ہیں۔ شائستہ اور مہذب قوموں کا اپنا ادب بھی ہوتا ہے، فنون لطیفہ کی باقاعدہ روایت ہوتی ہے۔ تو جب مصور تصویر بناتا ہے تو سماجی موضوع لے یا نہ لے لیکن وہ تصویر آپ کی قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوتی ہے۔جب میں افسانہ لکھتا ہوں تو لازم نہیں ہے کہ میں سماجی مسئلے پر ہی لکھوں، یا سیاسی موضوع پر لکھوں لیکن میں کہانی لکھ رہاہوں اور وہ اچھی کہانی لکھی گئی ہے تو وہ تو ایک طریقے سے قومی زندگی میں میرا حصہ بن جاتی ہے۔میرے خیال میں ادیب کا حصہ بھی یہی ہے کہ وہ کام ایسا کر رہا ہے جو دوسرے نہیں کر رہے تو وہ تو آپ کی تہذیبی زندگی میں ایک رول ادا کر رہا ہوتا ہے۔ آپ کو ایک ایسا شعور دے رہا ہے جو ووسرے ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا۔جب آپ ادب پڑھتے ہیں، تصویریں دیکھتے ہیں‘ موسیقی سنتے ہیں تو آپ کو جمالیاتی شعور آتا ہے جو آپ کی قومی زندگی کی بقا او ر نشوونما کے لئے بہت ضروری بھی ہے تو ہم اپنا جو کام کر رہے ہیں اس کام کے ذریعے ہم قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، اس کی ترقی کو تیز کررہے ہیں۔’ادب برائے ادب‘ ہو یا ’ادب برائے زندگی‘ وہ ادب ہے۔ ادب ہونا اوّلین بات ہے، باقی ثانوی باتیں ہیں۔ لیکن وہ کہانی لکھ رہا ہے ، شعر لکھ رہا ہے تو وہ قومی زندگی میں اضافہ کرکے اپنا حصہ ڈال رہا ہے، شعور کی تربیت کر رہا ہے۔جیسے میں نے عشقیہ کہانی لکھی ہے تو عشق خود ادب کا بڑا موضوع رہا ہے، شاعری کا موضوع رہا ہے۔ تو اگر کہانی اچھی ہے تو میں نے انسانی زندگی کو ایک نیا شعور دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ انسانی زندگی میں عشق کا اپنا ایک مقام ہے۔

سوال: آپ بحیثیت دانشور مغربی اور مشرقی تہذیبوں کا موازنہ کیسے کریں گے۔

جواب: یہ لمبا موضوع ہے لیکن اگر ہم مختصر بات کریں تو ہماری تہذیب مشرقی ہے، مشرق کی اپنی کچھ بڑی تہذیبیں ہیں جیسے اسلامی تہذیب ہے۔ اس کے ساتھ بدھسٹ تہذیب ہے‘ ہندو تہذیب ہے پھر چینی تہذیب ہے، مشرق بڑی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ ہماری اسلامی تہذیب کے مختلف حصے ہیں کیونکہ اسلام عرب تک محدود نہیں رہا،وہ تو ایران تک پہنچا، ہندوستان تک آیا، پھر آگے بھی گیا تو یہاں مسلمانوں کی جو تہذیب بنی اسے ہم ہند اسلامی تہذیب کہتے ہیں۔ ایرا ن میں جو اسلام گیا تو وہاں ایرانین اسلامی تہذیب وجود میں آئی تو یہ مختلف رنگ ہیں‘ اسلامی تہذیب کے۔ مشرقی اور مغربی تہذیب کا بنیادی فرق بڑاواضح ہے۔ مغربی تہذیب کے دوسر چشمے ہیں، ایک عیسائیت اور دوسرا یونانی تہذیب۔ ان دو سرچشموں سے مغرب کی تمام تہذیبوں نے اپنی شکل بنائی، اس کی نشوونما ہوئی۔ ہمارے سرچشمے مختلف ہیں، ہمارا سر چشمہ اسلام ہے اور ہندوستان میں جو قدیم تہذیب تھی اس کے بعد تو فرق آتا چلا گیا۔ جب ہم مسلمان آئے تو ان کا جو قدیم ہندو فلسفہ تھا وہ وجدان کا فلسفہ تھا، اسی طرح چینیوں کے اپنے بڑے دماغ تھے۔ مثلاً تاؤازم وغیرہ، پھر یہ بدھ ازم کی جو تحریک ہے اس کی پیدائش کی سرزمین تو ہندوستان ہے لیکن یہاں اس کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو اس نے دوسرے ملکوں میں جاکر اپنا سکہ جمایاتو چین میں، جاپان میں سری لنکا میں پھلی پھولی اوربڑی تہذیب کے طور پر منظر عام پر آئی ۔

سوال: ارتقا اور انقلاب عمومی طور پر معاشرے میں تبدیلی کی اپروچز بیان کی جاتی ہیں۔ آپ کے خیال میں عام انسان کی آزادی‘ معاشی خوشحالی‘ انصاف اور سماجی برابری کے حصول کے لئے کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے؟

جواب: دیکھیں اصلاحی حوالے سے تحریکیں تو چلتی رہتی ہیں اور ان کا مقصد لوگوں کی اصلاح ہی ہوتا ہے اور وہ مختلف حوالوں سے اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہیں اور اس سے ہماری ذہنی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے اور ہمارے رویوں میں تبدیلی آتی چلی جاتی ہے۔ اصلاح یا برابری کا تصور تو اب آیا ناں جب سوشل ازم آیاکہ معاشرہ زوال کی طرف جا رہا ہے اس میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں مزدور کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو یہ شعور سوشل ازم کی تحریک نے دیا کہ مزدور کو بھی اپنا حصہ ملنا چاہئے، عورت کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ سوشل ازم ہم نے اختیار کیاہویا نہ کیا ہولیکن اس کے اثرات سے یہ خیالات ہماری سوچ کا حصہ بن گئے۔

سوال: عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا مغرب کے معیار کی آزادی فیملی یونٹ کو متاثر کرتی ہے؟ توازن کا راستہ کون سا ہے؟

جواب: مغرب کی اپنی تہذیب ہے، ان کے اپنے معیار ہیں،ان کے بعض معیارات کو ہم قبول کرسکتے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں جب ہم نے دیکھا کہ عورت پردے کے اندر بیٹھی ہوئی ہے اور اسے تعلیم بھی نہیں مل رہی، وہ سکول نہیں جاسکتی، کالج نہیں جاسکتی تو یہ ہم نے مغرب سے سیکھاکہ ان کے سکول ہونے چاہئیں، کالج ہونے چاہئیں اور پھر ایک منزل ایسی آنی چاہئے کہ مخلوط تعلیم ہو۔اب یونیورسٹی میں تو یہ نہیں ہوتا کہ عورتوں کو پردے میں ہی ساری تعلیم دی جائے حالانکہ شروع میں مَیں نے پنجاب یونیورسٹی میںیہ دیکھا ہے کہ استاد جب پڑھانے آتے تھے تولڑکیاں پردے میں بیٹھی ہوتی تھیں، خاص طور پر اردو کی کلاس میں، یہ مقبول طریقہ تھا لیکن اب یہ نہیں ہے، آپ اوریئنٹل کالج میں جائیں وہاں اب پردہ نہیں ہے۔ توہم نے مغرب سے اچھی باتیں لی ہیں اور اچھی باتیں لینی چاہئیں‘ چاہے جس تہذیب میں بھی ہوں۔ لیکن جس آزادی کا وہاں تصور ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں۔ ہمارے ہاں اخلاق کا اپنا ایک تصور ہے‘ اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدارہیں‘ تو ہماری نسوانی آزادی کی شکل بہرحال مغرب کی نسوانی آزادی سے مختلف ہوگی۔ اور توازن یہی ہے کہ ہم ان سے اچھے پہلولیں۔لیکن یہ جو عورت کو پوری آزادی ملنی چاہئے‘ یہ غور طلب بات ہے۔ ہمارے مذہب نے طلاق کا حق عورت کو پہلے ہی دے رکھا ہے باقی مذاہب میں عورت کو یہ حق حاصل نہیں۔ ہندو مذہب میں عورت کے طلاق حاصل کرنے کا تصور نہیں ہے، ان کے وہاں جو سول قانون ہے اس کے حوالے سے طلاقیں ہوجاتی ہیں مگر مذہب اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں مذہب اجازت دیتا ہے۔

سوال: ہمارا دب کلاسیکی روایت پر چل رہا ہے یا اپنی نئی راہیں متعین کر چکا ہے؟

جواب: کلاسیکی روایت ہمارے ساتھ ہے اور ساتھ ہی نئی راہیں ہیں،جیسے ترقی پسند تحریک کا ذکرکیا۔ شاعری میں نئی تحریکیں آئیں کہ غزل کے خلاف ایک ردِّ عمل ہوا تو اس ردِّ عمل میں یہ ہو اکہ ہمارے ہاں نئی سوچ او ر فارمزآئی، نظم آزاد آئی، نظم معرہ آئی ، پہلے تو ہمارے ہاں غزل، غز ل اور غزل ہوتی تھی لیکن اب ہمارے ہاں مختلف اصناف ہیں، نئی اصناف ہیں جو ہم نے مغرب سے مستعار لی ہیں اور ہمارا فکشن تو ہے ہی مغرب کی دین ۔۔۔بلکہ اس حد تک ہوا کہ ہم نے اپنی پرانی روایت کو فراموش کردیا، اس کا احیاء اب ہورہا ہے، اب داستانوں کو دہرایا جا رہا ہے، ان کے انگریزی ترجمے ہو رہے ہیں۔

سوال: ہمارے ہاں آج کل جیسا ادب تخلیق ہورہاہے، شاعری، نثر یا افسانے میں‘ اس کا معیار کیسا ہے؟

جواب: معیار تو بدلتے رہتے ہیں، اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔جیساکہ گروپ تحریک کے طور پر آتے ہیں۔ جیسے ہماری ایک نسل تھی جس میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، ظفر اقبال، اشفاق احمد، اے حمید، قرۃ العین حیدر آئیں لیکن اس وقت انتشار زیادہ ہے، میڈیا کی طرف لکھنے والوں کا رخ زیادہ ہوگیا ہے، انہیں یہ نظرآتا ہے کہ یہاں معاوضہ بھی مل رہا ہے اب جو افسانہ لکھ رہا ہے، شاعری لکھ رہا ہے، اسے معاوضہ کیا ملنا، وہ تو نیکی کر دریا میں ڈال والا کام ہے۔ وہ تو ایک جذبہ آپ سے لکھواتا ہے جسے تخلیقی جذبہ کہہ لیں۔ آپ یہ نہیں سوچتے کہ معاوضہ آپ کو کیا ملے گا، اس کے بعد آپ مطالبے کرتے ہیں کہ ناشر آپ کی تحریر سے فائدہ اٹھائے گا تو کچھ رائلٹی مجھے بھی ملنی چاہئے لیکن لکھتے وقت ذہن میں پیسہ کمانے کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔ پیسہ کمانے والے ادب کو کمرشل ادب کہنا زیادہ مناسب ہے وہ اصلی ادب نہیں ہوتابلکہ ہم توکمرشل لٹریچر کو لٹریچر ہی نہیں سمجھتے۔

سوال: تخلیقی عمل میں مطالعے اور مشاہدے کا کیا ربط ہے؟

جواب: مطالعہ اور مشاہدہ دونوں بے حد ضروری ہیں، محض مطالعہ نہیں ہونا چاہئے مشاہدہ بھی اتنا ہی ضروری ہے تب جاکر آپ ادیب بنتے ہیں۔ ہمارے بعض غزل گو کہتے ہیں کہ ہم پڑھتے ہی نہیں ہیں وہ نہایت بے وقوف لوگ ہیں ، اگر آپ غزل لکھ رہے ہیں تو آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ آپ سے پہلے غالب گزرے ہیں، میر گزرے ہیں، محض ٹیلنٹ پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں، ٹیلنٹ آپ کا اسی وقت نشوونما پاتا ہے جب آپ اپنی روایت سے شناسائی حاصل کریں ، پہلے جو گزر چکے ہیں انہیں دیکھیں، پڑھیں،تبھی آپ کے ٹیلنٹ کی نشوونما ہوگی اور آپ کی ذہنی تربیت ہوگی۔

سوال: آج کل کیا مصروفیت رہتی ہے؟ وقت کن سرگرمیوں میں گزرتا ہے؟

جواب: زیادہ تر وقت مطالعے اور لکھنے لکھانے میں صرف ہوتا ہے، باقی ادبی فیسٹیولز بہت ہو رہے ہیں، وہاں کبھی کبھار جانے کا موقع مل جاتا ہے، ابھی بھارت گئے وہا ں ہمیں بڑا حوصلہ ملا۔ لگتا تھا کہ بھارت میں اردو ختم ہورہی ہے لیکن ہم نے وہاں اردو کی بہت پذیرائی دیکھی، ایک ایسا ادارہ قائم ہو اہے وہاں جسے کسی مسلمان نے نہیں بنایا اور وہ سارا اردو ادب کمپیوٹرائزکر رہاہے۔ ہمارا کلاسیکی اردو ادب تو نول کشور نے چھاپا تھا جسے انہوں نے کمپیوٹرائز کردیا اور اب جدید ادب کی جانب آرہے ہیں، ساتھ ہی وہاں داستان گوئی کا فن زندہ ہو رہا ہے ، کیا ہندو ، کیا مسلمان یا عیسائی‘ سبھی مل کر داستان گوئی سن رہے ہیں اور یہ احیا دہلی سے ہورہا ہے، الٰہ آباد میں ہمارا ایک محقق بیٹھا تھا شمس الرحمان فاروقی، انہوں نے طلسم ہوشربا کی پوری داستان پر کام کیا اور پھر کئی نوجوان ایسے آئے جنہوں نے اس داستان کو انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کردیا اور پھر وہ ایڈیشن چھپے، وہ بک رہے ہیں، اور اسی کے اثرات سے دو ایسے نوجوان پیدا ہوئے جو داستان گو ہیں،وہاں داستان گوئی کی محافل بڑا رش لے رہی ہیں۔ وہاں اور ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اردو سے واقف نہیں، انہوں نے ہندی یا انگریزی ہی پڑھ رکھی تھی۔ میں ان کی دلچسپی پر حیران تھا، سو ہمیں احساس ہو اکہ ایسا نہیں کہ اردو ایک طبقے میں وہاں مقید ہوگئی ہوبلکہ یہ تو پھل پھول رہی ہے اور غالب جس طریقے سے وہاں پاپولر ہوا ہے وہ ایک عجیب ماجرا ہے۔ اشرافیہ اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ ان کے ہا ں غالب کے ریکارڈز ہیں۔ جیسے سہگل نے غالب کو گایا ہے یا دیگربڑے مغنیوں نے اپنی آواز سے تو غالب کو کہیں سے کہیں پہنچادیا یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے۔

سوال: کیا ہمارا ادب دہشت گردی کی زدمیں آیا ہے؟دہشت گردی کی لہر سے جنم لینے والے موضوعات ہمارے ادب کا حصہ بن رہے ہیں؟

جواب: بالکل بن رہے ہیں،ان کے خلاف لکھا گیا ہے شاعری میں، خاص طورپر بہت اچھی نظمیں لکھی گئی ہیں،زہرہ نگاہ کی نظمیں ہیں، کشورناہید کی نظمیں ہیں، فہمیدہ ریاض کی نظمیں ہیں، لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے، افسانے بھی لکھے گئے ہیں۔

سوال: ہم معاشرے میں تشدد اور انتہا پسندی کو کیسے ختم کرسکتے ہیں؟

جواب: معاشرے میں امن اس طرح سے ممکن ہے کہ ادب ، آرٹ اور فلسفے کوفروغ دیں ، افسانہ یا ناول آپ کو تشدد کے لئے نہیں اُکسائے گایہ تو امن کے پجاری ہیں، جمالیاتی علوم پر زور دئیے جانے کی ضرورت ہے، آپ کا نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ تشدد کا راستہ خود بخود رُک جائے۔

سوال: دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: اس وقت پاک فوج جو فریضہ سر انجام دے رہی ہے یہ بہت اہم بلکہ انتہائی اہم ہے، ایک عرصے کے بعد ہمیں یہ احساس ہوا کہ فوج شاید ہماری نجات دہندہ ہے۔ اس سے پہلے جو چل رہا تھا ، یا جو تشدد ہورہا تھا، سیاسی لیڈران کی ہمت نہیں تھی کہ وہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ، بلکہ مذاکرات کی بات کرتے تھے۔ تو پہلی مرتبہ فوج نے سٹینڈ لیا۔ ہمارا آرمی چیف راحیل شریف بھی نیا آیا ہے تو اس نے آتے ہی جو سٹینڈ لیا اس سے ہم میں حوصلہ پیدا ہوا اور ساتھ ہی آپریشن شروع کردیا گیا۔ اب دہشت گرد بھاگتے پھر رہے ہیں اس سے ہمیں یہ احساس ہو اکہ یہ جو آشوب کا دور تھا اب ختم ہوجائے گا۔ فوج کا رول بہت اہم ہے اور اسی پر ہمار ی قومی بقا کا انحصار بھی ہے۔ اگر ہم دہشت گردی کے فتنے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو گویا یہ ہماری قومی زندگی کا احیا بھی ہوگا۔

سوال: سرحدوں پر متعین جوانوں کے لئے کوئی پیغام؟

جواب: ہم ان کے لئے دعاگو ہیں کیونکہ وہ ایسا مبارک فریضہ سر انجام دے رہے ہیں جو ادا کرنے کی ہمت ابھی تک ہم میں پیدا نہیں ہو سکی۔ وہ قوم کی زندگیوں کی حفاظت کررہے ہیں اللہ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

[email protected]

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP