متفرقات

انور مسعود

’’آپ کو اتنی عزت اور شہرت ملے گی جس کے بارے میں آپ اس وقت سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘ زائچہ نویس کی نظریں زائچے کی لکیروں میں الجھی ہوئی تھیں اور میرا ذہن گجرات کی گلیوں میں بھٹکتا ہوا اس دروازے پر جا پہنچاجہاں میری ماں میرے انتظار میں بیٹھی تھی۔مجھے دیکھتے ہی میرا چہرہ ہاتھوں میں تھاما‘پیشانی پر بوسہ دیا اور بولیں


کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں
نگاہیں در پہ لگیں ہیں‘ اداس بیٹھے ہیں
میری والدہ کو شاعری اور ادب سے بہت لگاؤ تھا ۔


’’آپ کی شادی انتہائی کامیاب رہے گی۔‘‘ شادی کے بعد آپ کے حالات(بہتری کی جانب)اس طرح بدلیں گے جیسے سکرین پر سین بدلتے ہیں۔‘‘ زائچہ نویس کی آواز کے ساتھ ہی صدیقہ کی روشن اور مسکراتی ہوئی نگاہیں میری نظروں کے سامنے آگئیں۔صدیقہ ایم اے فارسی میں میری کلاس فیلو اورفارسی سو سائٹی کی وائس پریزیڈنٹ تھیں جبکہ میں یونین کا جنرل سیکریٹری تھا، کالج اور پرشیئن سوسائٹی کے انتظامی امور کے بارے میں مشوروں میں اکثر اس سے ملاقات ہوتی تھی اور مجھے صدیقہ کی شخصیت میں کشش اور جاذبیت محسوس ہوتی تھی۔ایک بار صدیقہ نے مجھ سے کہا تھا کہ’’میں آج تک کسی کی آوازاور اندازِ بیان سے متاثر نہیں ہوئی لیکن آپ کی آواز اور اندازِ بیان نے مجھے اس حد تک مسحور کیا ہے کہ میں آپ کے سامنے اس کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں‘‘میں نے اپنے جذبات کا محتاط اظہار صدیقہ کے سامنے کچھ یو ں کیا


میں تو قائم ہوں تیرے غم کی بدولت ورنہ
یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے
اس کے جواب میں صدیقہ نے اقبال کا یہ شعر پڑھ دیا تھا۔
در طلب کوش ومدہ دامنِ امید ز دست 
دولتے ہست کہ یابی سرِ راہے گاہے


(ترجمہ:تو طلب اور جستجو جاری رکھ اور امید کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑ۔ممکن ہے کہ یہ دولت تجھے سرِراہ مل جائے۔)

’’آپ کے پانچ بچے ہوں گے،تین لڑکے اور دو لڑکیاں۔آپ کا منجھلا بیٹاایک منفرد اور قابلِ تحسین کام کرے گا‘‘

 

میں ڈیرہ غازی خان میں تھاتو ایک امام مسجد نے میرا زائچہ لکھا ‘انہوں نے کہا کہ جب آپ کی شادی ہو گی آپ کے حالات اس طرح بدلیں گے جس طرح سکرین پر تصویریں بدلتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ آپ کے پانچ بچے ہوں گے۔ دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہوں گے اور آپ کا منجھلا بیٹا ایک عجیب کام کرے گا۔ تیسری بات یہ کہ اللہ آپ کو اتنی شہرت دے گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکیں گے اور یہی ہوا میرے حالات اسی طرح بدلے میری بیگم میرے لئے خوش بخت ثابت ہوئی۔ میرے بیٹے عما ر مسعود کے نام اور کام کو ساری دنیا جانتی ہے اور خد ا نے مجھے اتنی شہرت اور عزت دے دی ہے کہ اگر خدا مجھے ایک اور زندگی بھی دے تو بھی میں اس زندگی کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ مجھے ساری دنیا سے مشاعروں میں بلایا جاتا ہے۔اتنی محبت‘ اتنی پذیرائی کہ میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ میں ان کو کیا سناؤں۔ لوگوں کو میری شاعری زبانی یاد ہے۔یہ اللہ کا کرم ہے۔


کہاں کی سیر نہ کی توسنِ تخیل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا

انور مسعود شاعری کی دنیا کا ایک بڑا نام اور مزاحیہ شاعری ان کی پہچان ہے جولوگوں کے دل و دماغ مسحور کر دیتی ہے۔شاعری تو بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن ساحر کوئی کوئی ہوتا ہے۔برِ صغیر پاک و ہند بلکہ پوری دنیا میں جانے پہچانے مشہور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی ہلال کے لئے کی جانے والی خصوصی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔

 

س۔اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج۔میں گجرات (پاکستان) میں پیدا ہوا۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔میرے والد صنعت کار تھے۔میں نے ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کی ۔پھر والد صاحب کاروبار کے سلسلے میں لاہور چلے گئے۔چھٹی جماعت تک لاہور میں پڑھا۔ان کا لاہور میں بہت اچھا کاروبار تھا ۔کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں مگر جب ان کا نقصان ہو ا تووہ برداشت نہ کر سکے اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا دنیا سے دل اچاٹ ہو گیا‘ وہ دنیاوی زندگی سے کٹ گئے اور صوفی بن گئے اور سارا بوجھ مجھ پر آگیاتھا۔پھر والد صاحب گجرات واپس آئے تو باقی تعلیم گجرات میں ہی حاصل کی میٹرک فرسٹ ڈویژن سے کیا۔ میرے والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر جو اللہ کو منظور ۔۔۔


زمیندار کالج سے ایف اے کے امتحان میں کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور سکالر شپ حاصل کیا۔ پھر بی اے میں فرسٹ کلاس اور سلور میڈل کے ساتھ سکالر شپ حاصل کیا۔مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور گجرات سے چھ میل کے فاصلے پر ایک قصبے کنجاہ کے پرائیویٹ سکول میں ملازمت کر لی۔اس سکول میں کسی زمانے میں ڈپٹی نذیر احمد نے بھی پڑھایا تھا۔وہاں کام کرنا میرے لئے فخر کی بات تھی۔ دو سال بعد اسلامیہ کالج میں ایم اے انگلش کرنے گیامگر بد قسمتی سے داخلے کی تاریخ گزر چکی تھی۔حمید علی خان وہاں پرنسپل تھے۔ انہوں نے کہا اگر وقت پر آجاتے تو مجھے خوشی ہوتی مگر اب کوئی صورت نہیں تو میں نے اورئینٹل کالج میں فارسی میں داخلہ لے لیا۔فارسی زبان سے مجھے شروع سے لگاؤ تھا۔ پھر میں نے ایم اے فارسی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔اچھی پوزیشن کی وجہ سے ملازمت جلدی مل گئی۔


س۔آپ کی زندگی میں زیادہ اثرات آپ کی والدہ کے ہیں یا والد صاحب کے؟
ج۔میرے والد کی طرف سے مجھے تصوف کی طرف رجحان ملا ۔میرے بعض اشعار میں صوفی ازم جھلکتا ہے جیسے
؂ اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے 
میرے والد کی دعائیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں ۔وہ مجھے کہتے تھے کہ خدا تمہیں بہت شہرت اور مقام دے۔


س۔آپ نے شاعری کی ابتداء کب کی؟
ج۔میری نانی شاعرہ تھیں۔ لوگ انہیں استانی صاحبہ کہتے تھے۔ان کا نام کرم بی بی اورعاجز ان کا تخلص تھا۔ان کا دیوان بھی چھپ چکا ہے۔والدہ بہت قابل اور ذہین خاتون تھیں۔لفظ شناس تھیں۔میرے تایا عبداللطیف افضل شاعر تھے۔گھر کا ماحول ادبی تھا۔اب بزرگوں کا کچھ اثر توبچوں پر بھی پڑتا ہے۔


س۔شاعری میں استادکسے مانتے ہیں؟
ج۔استادی شاگردی کا زمانہ اب نہیں رہا۔البتہ جن لوگوں نے میری حوصلہ افزائی کی ان میں احمد ندیم قاسمی ، پیر فضل اور بہت سے شعراء ہیں۔


س۔پہلا شعر کس عمر میں کہا تھا؟
ج۔میری پہلی باقاعدہ نظم ’’میری پہلی نظم ‘‘کے نام سے اپنی کتاب ایک دریچہ ایک چراغ کے آخر میں لکھی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس کا ایک شعر جو میرا پہلا شعر تھا‘ میری ساری شاعری پر آج بھی محیط ہے۔ 
یہ جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے
یہ رونے کو چھپانا ہوتا ہے


س۔شعر کیا ہے؟
ج۔شعر جگنو ہے،پھول ہے،ستارہ ہے۔فن ہوتا ہی حسن پیدا کرنے کے لئے ہے ۔آپ بات کو کتنے خوبصورت انداز سے بیان کرتے ہیں۔
میرا لکھاں دا وکدا تکیہ 
جے ہنجواں دا مل پیندا 
اگر آنسوؤں کی قیمت پڑتی تو میرا تکیہ لاکھوں میں بکتا۔یہ بات کرنے کا ایک ڈھنگ ہے۔


س۔ہم نے سنا ہے کہ شاعری کانزول ہوتا ہے‘ کیا یہ سچ ہے؟
ج۔ شروع شروع میں ایسا ہوتا ہے۔ بعد میں محنت کرنی پڑتی ہے۔ قدرت آپ کی رہنمائی ضرور کرتی ہے۔آپ کو احساس دلا دیتی ہے کہ آپ کے اندر یہ ٹیلنٹ ہے۔علامہ اقبال سے کسی نے کہا کہ مجھے آپ کا یہ شعر بہت پسند ہے تو فرمایا میں نے اس شعر کو 78 مرتبہ کاٹ کر لکھا۔اچھا شعر کہنا مشکل کام ہے۔شعر کے بہت عجیب تجربے ہوتے ہیں خاص طور پر جوانی میں ایسے تجربے بہت ہوتے ہیں۔جیسے میں نے نیند میں شعر کہے، جب اٹھا تو یاد تھے۔


؂ بہت چوما ہے اپنا ہاتھ میں نے
تیرے پاؤں کے نیچے آگیا تھا
یہ شعر میں نے سوتے میں کہاتھا۔


س۔کیا محبت کے بغیر شاعری نا ممکن ہے؟
ج۔با لکل درست ۔محبت کی مختلف شکلیں ہیں۔فیض صاحب نے اپنی محبت کو وطن سے منسلک کر دیا۔ماں سے محبت ،اولاد سے محبت ا ور سب سے بڑی محبت جو اقبال نے کہا کہ حضور ﷺ سے محبت ہے۔آپ ﷺ سے محبت کا مطلب زندگی کے بہترین انداز سے محبت ہے۔زندگی میں تجربے ہوتے ہیں۔مگر فانی وجود سے محبت بھی فانی ہی ہوتی ہے۔اصل محبت باقی سے ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔میں نے محبت بھی کی اور شاعری بھی، میری بیوی بھی ایک تجربہ ہے مگر کامیا ب تجربہ ۔

(ہنستے ہوئے۔)


س۔آپ نے شاعر ی کے لئے پنجابی زبان کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
ج۔میرے ایک استاد چوہدری افضل حسین نے مجھے پنجابی میں لکھنے کو کہا۔ پہلے میں صرف اردو میں شعرکہتا تھا۔اس زمانے میں مشاعروں میں طرح مصرع دیا جاتا تھا اور ہم لوگ شعر لکھ کر لے جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ میں نے اپنے پڑوسی کی بھینس پر ایک نظم لکھی۔جس میں اس کی جوانی‘ خوبصورتی،اس کی اداؤں اور اس کے نینوں کو اس طرح سے بیان کیا کہ اچھا خاصا ہنگامہ ہو گیا۔وہ لوگ مار پیٹ کرنے کے لیے لاٹھیاں لے کر آگئے۔خیر بڑی مشکل سے صلح صفائی ہوئی اور صلح نامہ کے طور پر میں نے وہ نظم پھاڑ دی‘ اس وقت میں ایف اے میں تھا ۔مگر اگلے دن دوبارہ لکھ کر کالج میں سنائی تو میرے استاد کہنے لگے کہ بھئی تمہارا بھینس کامطالعہ تو کمال ہے۔اسی طرح گجرات کے ایک بڑے شاعر پیر فضل نے کہا کہ تم پنچابی شاعری کرو ۔


س۔آپ مزاحیہ شاعری اتنی سنجیدگی سے کیسے کرتے ہیں؟
ج۔ہنسنے کے علاوہ میرے پاس چارہ ہی نہیں تھا۔میرے لئے درد چھپانا مشکل ہو گیا تھا‘ میں نے ہنس کے چھپایا۔اس مسکراہٹ کے پیچھے آنسوؤں کی جھالریں ہیں۔بندہ اس لئے بھی تو ہنستا ہے نا!کہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے۔میرا مزاح مکئی کے دانوں کی طرح ہے‘ مکئی جب جلنے لگتی ہے تو ہنسنے لگتی ہے مجھے یوں لگتا ہے جیسے بادل کا ٹکڑا میرے اندر داخل ہو گیا ہو‘جب اس میں بجلی چمکتی ہے تو وہ ہنستا ہوا لگتا ہے اور جب وہ برسنے لگتا ہے تو وہ روتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یوں میری شاعری رونے لگتی ہے۔


ْس۔آپ کو بھی رونا آتا ہے؟
ج : اصل میں میں نے عوامی سطح پر زندگی بسر کی ہے۔میں نے لوگوں کے غربت کے دکھ سکھ بہت قریب سے دیکھے ہیں۔۔مجھے پتہ ہے کہ بھوک کیا ہے۔کیونکہ میں نے وہ دن گزارے ہیں لیکن اللہ نے صبر عطا کیا اور آج کسی چیز کی کمی نہیں۔میں نے اپنی فارسی کی ایک نظم یونان میں ایرانی سفیر کو سنائی تو وہ رونے لگا۔
میرے کئی مصرعے آپ سنیں گے تو ہنس پڑیں گے لیکن وہی میں دوسری دفعہ پڑھوں تو آپ حیران ہو جائیں گے۔
؂

جب میری پہنچ میں کوئی سودا ہی نہیں 
پھر کس لئے لگتا ہے یہ میلا میرے آگے


س۔زندگی کا سب سے بڑا دکھ جس نے شاعری کی شکل اختیار کر لی؟
ج۔میں نے بڑی غربت کے دن گزارے ۔وہ میرا بڑا دکھ تھا۔
؂ تو نے پوچھا ہے مجھے درد کہاں ہوتا ہے
اک جگہ ہو تو بتاؤں کہ یہاں ہوتا ہے


میں بیمار ماں کے لئے دوائی کا انتظام نہ کر سکتا تھا۔والد صاحب نے بچوں کی ذمہ داری نہ لی اورساری ذمہ داریاں میرے اوپر آگئیں۔
(انور صاحب سراپا درد بن گئے ۔دکھ الفاظ کی صورت ان کے لہجے سے رسنے لگے۔)
مجھے اس ملک کا بھی بڑا دکھ ہے کہ جس مقصد کے لئے ہم نے ملک حاصل کیا تھا وہ مقصد ابھی حاصل نہیں ہو سکا ۔جو بھی آیا اس کواس مقصد سے ہٹاتا رہا۔


ہم کو درپیش ہیں اتنے مسائل انور 
ان کو گننے بھی جو بیٹھیں تو زمانے لگ جائیں 
کوئی تدبیر اسی ایک پریشانی کی
جو بکھرے ہوئے شاپر ہیں ٹھکا نے لگ جائیں


میں جس ملک میں رہتا ہوں اس کا دکھ میرا دکھ ہے ۔میرا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہم نے جو فلاحی مملکت بنانی تھی،وہ نہ بن سکی۔جاگیر داری اس کا پیچھانہیں چھوڑتی۔


س۔آپ کی نظم ’’بنیان‘‘ سن کر سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں‘وہیں امبڑی سننے والوں کے آنسو نہیں تھمتے؟
ج۔یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔وہ میرے ہی کلاس کے لڑکے تھے،جو دیرسے آئے تھے اور میرے پوچھنے پرجو وجہ بتائی تو میں سن ہو کر رہ گیا۔ یہ واقعہ تو ہو گیا لیکن اس نے مجھ پر بہت اثر کیا۔میں اسے سوچتا رہتا اور لکھتا رہتا۔میں دس سال تک اس نظم کو لکھتا رہا مگر مطمئن نہ ہو ا ۔ان دنوں میں پنڈی گھیب میں تھاتو اس رات کی تنہائی میں اس نظم نے کہا کہ اٹھو اور مجھے لکھو اور اس طرح ''امبڑی ''تخلیق ہوئی۔


بنیان میں نے پانچ منٹ میں لکھی ۔جب میں نے پہلی مرتبہ لکھی تو احمدندیم قاسمی کہنے لگے مجھے کوئی چیز سناؤ میں نے ’’بنیان ‘‘سنائی تو تھوڑی دیر بعد کہنے لگے ’’انور میں ایک اور فرمائش کروں‘‘میں نے کہا’’حکم کریں‘‘ تو کہنے لگے ایک مرتبہ پھر سناؤ۔


س۔آپ کا انداز بیان جدا گانہ ہے،اس کی کیا وجہ ہے؟
ج۔یہ میرا فطری انداز ہے ۔ شعوری نہیں ۔پڑھنا بھی ایک فن ہے۔آواز اور لہجے میں اس وقت تک اثراور برکت پیدا نہیں ہوتی جب تک لہو کی دھار اس میں شامل نہیں ہوتی۔
’’معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود‘‘
میں بہت کم مطمئن ہوتا ہوں۔بڑے بڑے لوگ شعرپڑھتے ہیں‘ تلفظ ٹھیک‘ زیروبم ٹھیک‘ توقف ٹھیک‘ پھر بھی تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔جو میری نقل کرتے ہیں وہ بناوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔


س۔آپ نے دنیا بھر میں مشاعروں میں شرکت کی ۔کہاں کے سامعین آپ کو زیادہ پسند آئے؟
ج۔میں کسی بھی ملک میں جاتا ہوں اور داد سمیٹتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ پذیرائی ہو ہی نہیں سکتی تھی اور جب اگلے ملک میں جاتا ہوں تو پہلے ملک کی پذیرائی ہیچ لگتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ میں نے کسی شاعر کو اتنی داد ملتے ہوئے دیکھی نہیں ہے جتنی مجھے ملتی ہے۔حفیظ جالندھری نے ایک مرتبہ میرے بارے میں کہا کہ
’’انور مسعود کی شاعری میری حسرت اظہار ہے۔‘‘خاص طور پر یونیورسٹی اورکالجوں کے نو جوان بہت پسند کرتے ہیں۔میرا نظریۂ شعر یہ ہے کہ میں ایسا شعر کہوں جسے دودھ دہی بیچنے والا دکان دار بھی پسند کرے۔ریڑھی والا بھی اور اسی مصرعے کو وائس چانسلر سنے تو وہ بھی پسند کرے۔جو لوگ اپنے آپ کو مشکل بنا دیتے ہیں وہ اپنے قارئین کا حلقہ محدود کر لیتے ہیں۔میر کا شعر میرا ماٹو ہے


؂ شعر میرے ہیں گو خواص پسند 
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے


ٹالسٹائی نے کہا ہے کہ کسی ادبی فن پارے کی اہمیت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ اس نے زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کو متاثر کیا۔میں نے لوگوں کے ہونٹوں سے باتیں لے کر ان کے کانوں کو واپس کرنے کی کوشش کی ہے اور خدا نے اس میں بہت برکت ڈالی ہے۔


س۔اب تک کتنی کتابیں لکھ چکے ہیں؟
ج۔میری پنچابی نظموں کی کتاب ''میلہ اکھیاں داں ''اس کے 68 ایڈیشن آچکے ہیں۔ اردو میں سنجیدہ شاعری بھی کی۔ نعتیہ کلام بھی ’’باریاب کلام‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔اس میں اردو ‘پنچابی اور فارسی کی نعتیں ہیں۔چودہ پندرہ کتابیں چھپ چکی ہیں۔لیکن جو بڑا کام اللہ نے مجھ سے کروایاوہ میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کی سیف الملوک کا ترجمہ ہے جو پنچاب گورنمنٹ نے مجھ سے کروایا۔میں نے بچپن میں میاں صاحب پرایک نظم لکھی تھی اور کہا تھا کہ’’ اس درگاہوں میاں صاحب میں نیءں خالی جانا۔‘‘
تو یوں لگتا ہے کہ میری دعا قبول ہو گئی۔ احمد ندیم قاسمی جب بھی مجھے ملتے تو کہتے’’ مجھے وہ نظم سناؤ‘‘ وہ کہتے تھے کہ تم وہاں سے خالی نہیں آئے۔سیف الملوک کا ترجمہ کرنے میں مجھے تین سال لگے۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ان کے دس ہزار اشعار کا ترجمہ میں نے اردو میں کیا۔نثر میں میری کتاب ’’فارسی ادب کے چند گو شے’’بڑی اہم کتاب ہے۔اس کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا ‘‘ کہ گر فاصلہ کم نہ ہوتا اور میری یہ عمر نہ ہوتی تو میں انور مسعود سے جا کر فارسی سیکھتا۔‘‘


س۔علامہ اقبال کی شاعری نے قوم میں ایک امنگ پیدا کی۔آپ کا کیا خیال ہے کہ آج کے اس الیکٹرانک دور میں اب بھی شاعری اسی طرح سے لوگوں پر اثر کر سکتی ہے؟
ج۔اقبال کے پائے کا کوئی شاعر نہیں۔
’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ‘‘
یہ اقبال کا ہی دور ہے۔ایران میں ایک استاد سے میں نے اقبال کے بارے میں رائے لی تو بولے کہ ’’زود آمد‘‘ کہ جلدی آگیا یعنی آنے والا سارا زمانہ اسی کا ہے۔عبد المغنی انڈیا کے بہت بڑے نقاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقبال دنیا کا سب سے بڑا شاعر ہے۔وہ اس کتاب کا مفسر ہے جو دنیا کی سب سے بڑی کتاب ہے۔وہ قرآن کو بیان کرتا ہے۔اقبال نے محنت بھی بہت کی ہے۔جب تک آپ لفظ کی حقیقت کو نہیں جانتے آپ اس کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے۔میر تقی میر اور غالب کے درمیان ایک سو سال کا فاصلہ تھا۔غالب اور اقبال کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔بہت سے ستارے بجھتے ہیں تو سورج نکلتا ہے۔


س۔پنجابی میں بابا بلھے شاہ‘ وارث شاہ ،سلطان باہو،میاں محمد بخش اور دیگر شعراء کی روایت چلی آرہی ہے ۔آج کے دور کے پنچابی شعراء میں سے ایسے چند نام جو یاد رکھے جائیں گے یا آپ جن کے کام سے متاثر ہیں؟
ج۔ایسے لوگ موجود ہیں ’’اسیر عابد‘‘ نے پنچابی میں ترجمے کا کام کیا ہے۔انہوں نے غالب کے دیوان کا پنچابی میں ترجمہ کیا اورکمال کیاہے۔ایسا لگتا ہے کسی نے لاہورمیں بیٹھ کرپنجابی شاعری کی ہواور غالب نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہو۔اسی طرح تجمل کلیم پنچابی کے بہت اچھے شاعر ہیں۔لیکن بابا بلھے شاہ ، وارت شاہ ،سلطان باہو، بابا فرید کے پائے کا شاعر کوئی نہیں۔


س۔آپ نے محبت کی شادی کی؟مزاحیہ شاعری کرتے ہیں تو مزاجاََکیسے ہیں؟کبھی غصہ بھی آتا ہے؟
ج۔غصہ آنافطری بات ہے۔ہر انسان کی طرح مجھے اور بیگم کو بھی آتا ہے۔لیکن ہم نے کبھی اس کو دیر تک نہیں رکھا۔ ہماری شادی کی پچاسویں سالگرہ ہوئی ہے۔


س۔آپ کے سارے بچے قابل ہیں۔بچوں کی تربیت میں کس چیز کا خیال رکھا؟
ج۔بچوں کی تربیت میری بیگم نے کی۔مجھے مشاعروں اور فنکشنز سے فرصت ہی نہیں ملی ۔میرے سسر کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی ہو،اور یہی جذبہ اور شوق میری بیگم کے دل میں تھا۔میرے خاندان میں تو پڑھائی کا کوئی رواج نہیں تھا۔لڑکی تو دور کی بات ہے‘ لڑکوں کو پڑھانابھی برا سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ وہ صنعت کار تھے۔میں امتحانوں میں بچوں کی مدد کروا دیتا تھا۔بیگم نے پورے خلوص سے انہیں پڑھایا ۔بڑا بیٹا امجد اسلام امجد کا داماد ہے۔عمار کو آپ جانتے ہیں۔چھوٹا میرے ساتھ رہتا ہے۔دو بچیاں ہیں دونوں پروفیسر ہیں۔


س۔یاد گار واقعہ؟
ج۔میں طواف کر رہا تھا۔ایک لڑکا مجھے غور سے دیکھتا رہا ۔پھر میرے پاس آکر بولا ’’آپ بھی یہیں ہیں؟‘‘ تو میں نے کہا: ہاں جی! خدا نے مجھے بھی بلایا ہے۔ تو کہنے لگا مجھے پتہ نہیں تھاآپ یہاں ہیں‘ میں نے ابھی آپ کے نام کا عمرہ کیا ہے۔ یہ میری زندگی کا بہترین ایوار ڈ تھا۔لوگ گلہ کرتے ہیں کہ دنیا قدر نہیں کرتی ۔ دنیا بہت قدر کرتی ہے۔میری اتنی قدر ہوئی کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔اس طرح مجھے فیصل آباد میں ایک مشاعرے میں بلایا گیا‘ وہاں لڑکوں نے مجھے ہار پہنایا جس پر لکھا ہو ا تھا’’شادی مبارک‘‘تو بیگم صاحبہ کہنے لگیں یہ ہار پہن کر اکیلے ہی آگئے ہیں۔


س۔زندگی کا وہ لمحہ جب خود پر فخر محسوس ہو اہو؟
ج۔اس کا مجھے انتظار ہے۔کہ خدا میری کوتاہیوں کو بخش کر مجھے معاف کر دے ۔اس کو قرآن نے بھی فوزالعظیم کہا ہے۔اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔دنیاوی کامیابیاں خاصی ہیں۔


س۔کتنے ممالک کی سیر کی؟
ج۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی گجرات سے باہر بھی جا سکوں گا۔مگر میں نے شاعری کے تخت پر بیٹھ کر دنیا بھر کی سیر کی۔


س۔اب تک کتنے ایوارڈحاصل کر چکے ہیں؟
ج۔بے شمار۔مجھے تعلیمی میدان میں بھی ایوارڈ ملے ۔بی اے میں بیسٹ سٹوڈنٹ کا ایوارڈ ملا ۔ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور1999میں مجھے پرائڈ آف پر فارمنس کا ایوارڈ ملا۔رفیق تارڑ صاحب مجھے تمغہ پہناتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے آپ کی نظمیں بہت اچھی لگتیں ہیں۔صدر ممنون حسین صاحب نے مشاعرہ کروایا اور میرے ساتھ تصویر بنوانے کی فرمائش کی ۔یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔حال ہی میں امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں جشن انور مسعود منایا گیا۔کیلیفورنیا میں مجھے''لِونگ لیجینڈ ''کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے ‘وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔


س۔آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے؟
ج۔عملی سیاست سے نہیں ہے لیکن ملک کے سیاسی حالات سے بے خبر نہیں رہتا اور یہ حالات مجھ پراثر انداز ضرور ہوتے ہیں۔
ان پہ مٹی ضرور ڈالیں گے
جو مسائل بھی سر اٹھائیں گے
سوچتا ہوں کہ چوہدری صاحب 
اتنی مٹی کہاں سے لائیں گے


سب لوگ مفاد پرست ہیں الیکشن ہوں تو دھاندلی کے الزامات ۔پھر میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت اس ملک میں کیونکر آسکتی ہے جہاں لوگ پڑھے لکھے نہ ہوں ؟دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ ووٹ کا حق پڑھے لکھے باشعور لوگوں کو ملنا چاہیے دوسرا یہ کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے بھی کوئی معیار ہونا چاہئے‘امیدوار میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہونا ضروری ہے کہ وہ مسائل کا ادراک کر سکے۔ہمارے یہاں خاندا نی سیاست فروغ پا چکی ہے۔وہی لوگ بھیس بدل بدل کر آرہے ہیں۔


س۔ملکی حالات کی بہتری کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
ج۔جو قائد اعظم نے کیا تھا۔انہوں نے پاکستانی قوم کی تشکیل کی‘ اس وقت فرقہ بندی اور گروہ بندی نہیں تھی۔انہوں نے اتحاد اور تنظیم پر زور دیا۔ شہد کی مکھیاں بھی اکٹھی ہو کر شہد بنا لیتی ہیں۔اس وقت ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے۔ہمیں ایک دیانت دار بندہ چاہئے۔قوت والا اور پاور والا ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔


س۔آپ ملکی حالات سے مطمئن ہیں؟
ج۔اگر مطمئن ہو جاؤں تو میری شاعری ہی ختم ہو جائے گی۔حالات کی بہتری کے لئے ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے۔


س۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک کون سا وقت ملک کے لئے اچھا تھا؟
ج۔قائد اعظم صاحب اورعبدالرب نشتر کا دور۔ہمارے ہاں اگر کوئی ترقی ہوئی ہے تو ایوب خان کے دور میں ہوئی ہے۔


س۔پسندیدہ سیاست دان؟
ج۔قائد اعظم ۔میں چھ سات سال کا تھا تو میں نے قائد اعظم کو لاہور میں دیکھا۔والد صاحب نے مجھے اٹھایا ہوا تھا۔دبلے پتلے قائد اعظم کی آنکھوں کی بے پنا ہ چمک مجھے ابھی تک یاد ہے۔اور آنکھوں میں چمک مقصد سے آتی ہے۔سید ابو اعلیٰ مودودی کی شخصیت سے بھی میں بے حد متاثر ہوں‘وہ ایک بڑے عالمِ دین تھے۔


س۔فوجی بھائیوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ج۔ہمارا یہ ادارہ قابلِ احترام ہے۔جنگ کے دوران میں نے ترانے بھی لکھے ہیں۔
خشکی پہ سمندر میں ہواؤں میں لڑے ہیں
ہم لوگ ہیں شہباز فضاؤں میں لڑے ہیں 
یہ ہمارے محافظ ہیں۔ان کی سب سے بڑی ڈیوٹی ہے وطن کی حفاظت کرنا۔مشکل کی ہرگھڑی میں وہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں ،ہماری حفاظت کرتے ہیں اسی طرح جب بھی موقع آتا ہے عوام بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ سیاست سے احتراز فوج کے ادارے کی عزت ووقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔


انٹرویو نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی لکھتی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP