قومی و بین الاقوامی ایشوز

انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان

نیشنل ایکشن پلان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اُن تمام خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کی وجہ سے ماضی میں انسدادِ دہشت گردی کے منصوبے کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے ۔مثلاََ دہشت گردی جیسے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم میں جس قسم کے اتحاد اوریکجہتی کی ضرورت تھی، وہ ماضی میں ناپید تھی۔لیکن نیشنل پلان کو تمام سیاسی پارٹیوں اور عسکری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔اس طرح دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لئے تلف کرنے کی خاطر جو اولین اور سب سے اہم شرط یعنی مکمل قومی اتفاق رائے درکار ہے،وہ اس پلان کی بنیاد ہے۔

پاکستانی قوم گزشتہ تیرہ برس سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔اس جنگ میں قوم نے50ہزار کے قریب قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جن میں ہماری بہادر فوج کے دلیر سپاہی اور افسران،پولیس اور قانون نافذکرنے والے دیگر اداروں کے اراکین کی شہادت بھی شامل ہے۔شہریوں کی املاک اور قومی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے عفریت پر قابو نہ پایا جاسکا۔بلکہ دہشت گردی کی بہیمانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ان کارروائیوں میں فوجی قافلوں،چیک پوسٹوں اور اہم تنصیبات پر خود کُش حملے،سکولوں اور مقدس مذہبی مقامات پر بم دھماکے اور معصوم شہریوں کا قتلِ عام بھی شامل ہے۔لیکن 16دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں150پاکستانیوں کی شہادت جن میں 134معصوم طلباء شامل تھے،ایک ایسا واقعہ تھاجس نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔اس واقعے نے سیاسی اور فوجی قیادت کو یکساں طور پر دہشت گردوں کے خلاف اب تک کئے جانے والے تمام اقدامات اور حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کہاں کہاں کوتاہی ہوئی ہے۔کون سے مورچے تھے جن کو خالی پا کر دہشت گردوں نے قوم پر اپنے حملوں کے لئے استعمال کیا؟کون سے محاذ ایسے تھے جن کو مناسب طور پر کوّر نہیں کیا گیا تھا؟ اس جائزے کا نتیجہ انسدادِ دہشت گردی 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی شکل میں ہمارئے سامنے آیا ہے جسے وفاقی حکومت نے دسمبر میں منظور کیا تھا۔

نیشنل ایکشن پلان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اُن تمام خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کی وجہ سے ماضی میں انسدادِ دہشت گردی کے منصوبے کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے۔مثلاََ دہشت گردی جیسے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم میں جس قسم کے اتحاد اوریکجہتی کی ضرورت تھی، وہ ماضی میں ناپید تھی۔لیکن نیشنل پلان کو تمام سیاسی پارٹیوں اور عسکری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔اس طرح دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لئے تلف کرنے کی خاطر جو اولین اور سب سے اہم شرط یعنی مکمل قومی اتفاق رائے درکار ہے،وہ اس پلان کی بنیاد ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہماری قوم، اُس کی فوج اور پولیس کے بہادر سپوتوں نے بے مثال قربانیاں دیں لیکن جو عوامل دہشت گردی کو پروان چڑھاتے ہیں یا جن کے سہارے دہشت گرد پھلتے اور پھولتے ہیں‘اُن کی بیخ کُنی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ان میں مذہبی انتہا پسندی سرفہرست ہے، دیکھا جائے تو دہشت گردی مذہبی انتہا پسندی کی ہی پیداوار ہے۔اس کی ایک شکل فرقہ واریت ہے جو نہ صرف نفرت اور عدم برداشت کو جنم دیتی ہے بلکہ فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کا سبب بنتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے20نکاتی پروگرام میں فرقہ واریت کی روک تھام کے لئے خصوصی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے جن میں نفرت پر مبنی مواد کی اشاعت پر پابندی اور لاؤڈ سپیکرز کے غلط استعمال پر قید اور جرمانے کی سزا بھی شامل ہے۔جن ذرائع سے پاکستان میں دہشت گردی پروان چڑھتی ہے، اُن میں دہشت گرد تنظیموں کے لئے اندرون اور بیرون ملک مختلف حلقوں کی طرف سے فنڈز کی فراہمی بھی شامل ہے۔چنانچہ نیشنل ایکشن پلان میں جو سفارشات کی گئی ہیں اُن میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد کی فراہمی روکنابھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت نے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ اب تک کالعدم تنظیموں کے تقریباََ ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز منجمد کئے جاچکے ہیں اور ملک کے اندر سے یا ملک کے باہر سے دہشت گردی میں ملوث تمام تنظیموں کے لئے فنڈز کی روک تھام کے لئے حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) کے تحت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اب تک ایسے 300 کیسسز کا سراغ لگایا ہے جن میں دہشت گردی میں ملوث 34بڑی تنظیموں کو فنڈز کی فراہمی کے واقعات شامل ہیں۔حکام نے اب تک270ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو ان غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث تھے۔اس کے علاوہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے 200 سے زائد بنک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو موثر بنانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مذہبی مدرسوں کی نگرانی اور رجسٹریشن کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند مدرسوں کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ کچھ مدرسوں میں زیر تعلیم طلباء کو دہشت گردی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ملک میں جس طرح گزشتہ تین دہائیوں میں ان مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں تعلیم و تربیت کے قومی دھارے سے ہٹ کر جس طرح ایک مخصوص اور محدود نصاب کے تحت تعلیم دی جا رہی ہے،اُس کے تحت لازمی ہوگیا تھا کہ تمام مدرسوں کی رجسٹریشن ہو اور اُن کی نگرانی کی جائے تاکہ ان میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جاسکے۔یہ امر باعث اطمینان اور مجموعی قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مدرسوں کے ناظمین نے بھی اس سلسلے میں تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تاکہ دینی مدارس کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے اور یہ جس مثبت مقصد کے لئے قائم کئے گئے ہیں،اُسے حاصل کر سکیں۔

سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ)پرویز مشرف کے دور میں چند تنظیموں کو دہشت گردی کے شُبے میں اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث پائے جانے کے الزام میں خلاف قانون قرار دے کر اُن پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔لیکن ان کالعدم تنظیموں کی قیادت اور اُن کے کارکنوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تنظیموں کا نہ صرف ڈھانچہ برقرار رہا بلکہ اُنہوں نے نئے نام کے ساتھ اپنی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ ملک میں دہشت گردی،ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ ورانہ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں ان کالعدم تنظیموں کا بڑا ہاتھ ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے20نکاتی پروگرام میں اُن تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو نئے ناموں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ پرانی تنظیمیں نئے لیبل کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری نہ رکھ سکیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کی ایک شق کے تحت اس بات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تنظیموں کے سربراہان کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر آکر اپنے مذموم پروپیگنڈہ کا موقعہ نہ مل سکے۔اُن تمام جرائد اور اخبارات کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی جو نفرت اور تشدد پر اکسانے والے ان رہنماؤں کے خیالات اور تقریروں کو اپنے صفحات پر جگہ دیں گے۔دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دہشت گردوں کے باہمی رابطوں کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔یعنی اُن کے کمیونی کیشن سسٹم کا خاتمہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اس مقصد کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں سفارش کی گئی ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد حاصل نہ کرسکیں۔وفاقی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹوں کو ختم کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر ایسے اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے جن کے تحت دہشت گرد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹا اور زہریلا پروپیگنڈا نہ پھیلا سکیں۔حکومت کی ہدایات پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وفاقی وزارت نے فوری طور پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جارہا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے مراکز صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم ہیں مگر نیشنل ایکشن پلان میں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردی اور تشدد کی کارروائیوں پر قابو پانے کے لئے سفارشات شامل ہیںَمثلاََ اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی،ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی بیخ کُنی کے لئے پولیس اور رینجرز کی نگرانی میں گزشتہ سال ستمبر سے جاری آپریشن کو جاری رکھا جائے گا۔اس کے علاوہ یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ بلوچستان میں سنگین حالات پر قابو پانے اور صوبے کے کچھ حصوں میں شورش کو دبانے کے لئے صوبائی حکومت کی نہ صرف کھلے اختیارات دیے جائیں گے بلکہ اس کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

نیشنل ایکشن پلان میں فرقہ وارانہ تشدد کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں شامل کر کے اس کی روک تھام کے لئے سفارش کی گئی ہے۔جو تنظیمیں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث رہی ہیں اُن کو پہلے ہی خلاف قانون قرار دے کر اُن پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ یہ عناصر مذہبی جماعتوں کے ذریعے اپنے ناپاک مقاصد حاصل نہ کر سکیں،حکومت نے دینی رہنماؤں اور علماء سے رابطہ پیدا کیا ہے تاکہ فرقہ واریت کو روکنے میں ان کا تعاون حاصل کیا جاسکے۔وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے حال ہی میں اسلام آباد میں ملک کی اہم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور علماء سے اس مقصد کے لئے ملاقات کی ہے۔باعثِ اطمینان بات یہ ہے کہ ان علماء کی طرف سے حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔

افغانستان پر روسی قبضے اور جنگ کے دوران افغانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپناگھر بار اور وطن چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینی پڑی تھی۔جیسے جیسے جنگ کی شدت اور اس کا دائرہ بڑھتا گیا پاکستان میں پناہ لینے والے ان افغان مہاجرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ایک وقت میں ان کی تعداد تیس لاکھ سے بھی زائد تھی۔تاہم افغانستان سے روسیوں کے واپس چلے جانے اور افغانستان میں حالات نسبتاً معمول پر آنے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن واپس جاچکی ہے۔لیکن اب بھی پاکستان میں17لاکھ کے قریب رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ان کی اکثریت کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور کچھ خیبرپختونخوا کے شہروں میں اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔حکام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغان مہاجرین کے ان کیمپوں کو دہشت گرد اور دیگر جرائم میں ملوث افراد اور تنظیمیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اس بناء پر عوام کے مختلف حصوں کی طرف سے ان مہاجرین کو واپس اُن کے وطن بھیجنے کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے بھی امداد فراہم کی گئی ہے لیکن جب تک افغانستان کی طرف سے ان مہاجرین کی واپسی میں تعاون حاصل نہیں ہوتا،اس کام کو انجام دینا محال نظر آتا ہے۔دوسری طرف ان مہاجرین کی ایک لمبے عرصے سے پاکستان میں موجودگی سیاسی،سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دے رہی ہے بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک کے مختلف حصوں خصوصاََ کے۔پی۔کے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ان مہاجرین کی واپسی کو ضروری قرار دیا جارہا ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے ساتھ گزشتہ جون کے وسط سے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباََ دس لاکھ افراد کو اپنے علاقوں اور گھروں سے نکلنا پڑا۔ان افراد کو کے۔پی۔کے میں عارضی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔لیکن دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ان تارکین وطن کی واپسی کو بھی ضروری قرار دیا جارہا ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں سفارش کی گئی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے شمالی وزیرستان کے ان باشندوں کو جلد از جلد واپس بھیجا جائے ۔

انسداد دہشت گردی کی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان جرائم میں ملوث پائے جانے والے افراد کو فوری طور پر سزا دی جائے تاکہ دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوں اورعوام کا ڈر اور خوف دور ہوسکے۔بدقسمتی سے ہمارے قانونی اور عدالتی نظام میں موجود کچھ خامیوں کی وجہ سے دہشت گرد سزاؤں سے بچتے چلے آرہے تھے اس کی وجہ سے انہیں نہ صرف دہشت گردی کو مزید پھیلانے کا موقعہ ملا،بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والی ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے ارکان کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی اورعوام میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھا۔اس مسئلے کے حل کے لئے ضروری سمجھا گیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کو عدالتوں کی طرف سے جو سزائیں سنائی گئی ہیں اُن پر فوری عملدرآمد ہو اور آئندہ ان کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والے افراد کو فوری اور قرار واقعی سزائیں دینے کے لئے خصوصی عدالتیں یعنی فوجی عدالتیں قائم کی جائیں۔

فوجی عدالتوں کا قیام نیشنل ایکشن پلان کا سب سے اہم نکتہ ہے لیکن یہ ایک مشکل مرحلہ بھی تھا کیونکہ ایک سویلین او ر جمہوری حکومت کے دور میں اس قسم کی عدالتیں قائم کی جارہی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے قیام پر سیاسی جماعتوں کی رضا مندی کا حصول مشکل نظر آرہا تھا۔لیکن 16دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول کے سانحے نے ملک کے طول و عرض اور قوم کے ہر طبقے میں غم و غصے کی ایک ایسی لہر دوڑا دی کہ پارلیمنٹ میں نمائندہ تقریباًتمام سیاسی پارٹیوں نے ان عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا۔ان عدالتوں کے قیام کو قانونی اور آئینی تحفظ دینے کے لئے آئین میں21ویں ترمیم بھی کی گئی ہے۔اب بھی ایک آدھ سیاسی جماعت اور وکلا برادری کے ایک بڑے دھڑے کو فوجی عدالتوں کے قیام پر تحفظات ہیں۔لیکن اُمید ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لئے اس غیر معمولی اقدام پر پائے جانے والے اختلافات ختم ہوجائیں گے۔

اگرچہ دہشت گردوں نے پورے ملک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن صوبہ کے۔پی۔کے اور خصوصاََ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے یعنی’’فاٹا‘‘ان کی سب سے بڑی آماجگاہ ہیں۔فاٹا کے دہشت گردی کا مرکز بننے میں اس کے صدیوں پرانے سیاسی،انتظامی اور سماجی نظام کا بڑا ہاتھ ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہے مگر پاکستان کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں کو جو سیاسی ،قانونی اور سماجی حقوق حاصل ہیں وہ فاٹا کے عوام کو حاصل نہیں۔نتیجتاً فاٹا کے عوام نہ صرف زندگی کی دوڑ میں پاکستان کے دیگر حصوں کے لوگوں سے پیچھے رہ گئے،بلکہ ان علاقوں میں قانون کی گرفت اور آئین کی حکمرانی کمزور ہونے کی وجہ سے دہشت گردی او ردیگر جرائم میں ملوث افراد کو بڑھنے اور پھولنے کا موقع ملا ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں اس مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ فاٹا میں نہ صرف ترقی کا عمل تیز کیا جائے، بلکہ یہاں کے عوام کو پاکستان کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں کے برابر حقوق اور سہولیات سے مستفید ہونے کا موقع دیا جائے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اسے ماضی کے برعکس ایک جامع اور مکمل حکمتِ عملی کے تحت شروع کیا گیا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ایک ہمہ جہتی اور مکمل حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کو بچ نکلنے کا موقع نہ مل سکے۔سب سے نمایاں پہلو ایک مکمل قومی اتفاق رائے ہے۔ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کو فروغ دے کر دہشت گردی کے خلاف اس کارروائی کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ پاکستان کے20کروڑ عوام سکھ اور چین کی فضا میں سانس لے سکیں۔اُن کے بچے حفاظت سے سکول اور کالج جا سکیں اور ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہ سکے۔


پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان چےئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 76مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP