متفرقات

انسان ، حیوان اور کرونا

  آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ لاک ڈائون کے دوران انسان تو انسان، حیوان بھی پریشان ہوگئے ۔ پرندے جو سویرے سویرے  اپنی خوبصورت بولیاں بول کر فضائوں میں رس گھولتے اور قدرت کے حسن میں اضافہ کرتے وہ بھی خاموشی سے جانے کہاںچلے گئے؟ بلکہ یوں کہئے کہ پالتو جانور بھی حیران ہیں کہ انسانوں کو یہ کیا ہوگیا ہے انسان اب انسان جیسے کیوں لگنا شروع  ہو گئے ہیں؟ اب وہ سارا دن گھر میں کیوں رہتے ہیں؟ وہ اپنے بچوں اور خاص طور پہ ہم جانوروں پہ اتنا پیار کیوں جتانے لگ گئے ہیں؟اور تو اور چڑیا گھر کے جانور جو سارا دن تماش بین انسانوںکے ہاتھوں پریشان نظر آتے تھے وہ بھی اب بھی دور دور تک انسانوں کا وجود نہ دیکھ کرایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ انسان کہاں غائب ہوگئے؟ اب وہ ہمیں قید میں دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجانے کیوں نہیں آتے؟اب کیاوہ انسان نہیں رہے؟ کیا سارے انسان بندے بن گئے ہیں؟



 یہ توتھی آجکل کے حالات میں سہمے ہوئے انسان کی کہانی جو سہما ہوا بھی لگتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی انسانی روایاتجس میں قتل، ڈاکہ، چوری، بے ایمانی اورملاوٹ سر فہرست ہیں کو بھی اپنایا ہوا ہے اور ایک ہاتھ میں موت اور دوسرے میںاپنی انسان و حیوان کش روایات کو اٹھائے بھی پھرتا ہے ۔ 
 انسان کی اس کہانی کے بعداب اُن حیوانوں کی بھی سنیئے جو ایسے ہی انسانوں کے رحم و کرم پہ زندگی بسر کررہے ہیں اور پتا نہیں اب تک زندہ کیسے ہیں؟۔ ہم نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کے جانوروں کی ایک تصویر دیکھی جس میں شیرنی کسی غریب ملک کی بلی لگ رہی تھی اور اور ہاتھی سکڑ کر بھینس کے قد کا  نظرآرہا تھا۔ اسلام آباد کے چڑیا گھر کے جانوروںکے سکڑنے کی وجہ سردی یا کرونا نہیں بلکہ انسانوں کی وہ سرد مہری ہے جو سرکار سے ان جانوروں کی خوراک کے لئے لاکھوں روپے کی رقم وصول کرتے ہیں اور پھر ساراسال حیوانی بھائی چارے کے تحت مل کے کھا پی جاتے ہیں۔ انکل سرگم کا کہناہے کہ اگر ایک نظرچڑیا گھر کے افسروں کو دیکھا جائے اور ایک نظر چڑیا گھر کے جانوروں کو تو  فرق صاف نظر آنے لگتا  ہے کہ افسر شیر بنا ہوا ہے اور شیر بکری۔
 ایک زمانہ تھا جب کوئی انسان زیادہ کھاتا تو اسے حیوان سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اب کوئی زیادہ کھا جائے تو اسے حیوان نہیں بلکہ کچھ اور کہا جاتا ہے اور یہ  آپ کے تخیل پر چھوڑتاہوں۔ چنانچہ اسی بات پہ چڑیا گھر کے حیوان احتجاج بھی کرسکتے ہیں کہ پنجرے میں ہماری جگہ چڑیا گھر کے ان افسروں کو ہوناچاہئے جن کی صحت ہم سے کہیں زیادہ '' قابلِ دید'' ہے۔ جانوروں کو بولنے کی قدرت ہوتی تو وہ انسانوں کا کردار دیکھ کر اس بات پہ بھی ضرور مائنڈ کر جاتے جب ان کا کوئی ساتھی جانور ان سے یہ کہتا''اوئے، انسان بن''  ا یک غریب انسان کی حالت دیکھ کر جانور آجکل اﷲ کا  شکر بھی ادا کرتے ہوں گے کہ رب نے جو بنایا ٹھیک ہی بنایا ۔بقول انکل سرگم، آجکل کے گھر میں قید ایک انسان کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسی ہمارے ایک دوست کی ہے جو ایک دوسرے دوست سے کہہ رہا تھا کہ اس کی خواہش ہے کہ اس کی عمر لمبی ہوجائے مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ناخالص ماحول میں ایسا ہونا کیسے ممکن ہوگا؟ دوست بولا اسکے لئے تم شادی کرلو۔ وہ بولا، کیا شادی کرنے سے اس کی عمر لمبی ہوجائے گی؟ دوست نے جواب دیا، نہیں لمبی عمر کی خواہش ختم ہو جائے گی۔تو جناب ہمیں کرونا سے توبچتے پھر رہے ہیں مگراس دوران بہت سی ایسی چیزیں بھی نظر آنی شروع ہو گئی ہیں جنہیں ہم پہلے نظر انداز کرتے چلے آرہے تھے۔ ہمیں اندازہ ہوگیا کہ قید کیا ہوتی ہے اور آزادی کسے کہتے ہیں؟ ہمارا گھر اور ہمارا خاندان کیا اہمیت رکھتا ہے ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہماری زندگی میں گھر سنبھالنے والی بیوی اور بچے سنبھالنے والے اور انہیں کامیاب انسان بناکر اعتماد دینے والے ٹیچرز کی اہمیت کتنی ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر انسانی خدمت میں اپنی جانیںنثار کر دینے والے آرمی ، ڈاکٹرزپیرا میڈیکس اورپولیس کے یونیفارم میں فرشتے ہماری زندگیوں کو کتنا سہل بنا دیتے ہیں۔مگر ہم انسانوں میں جو سب سے بڑی برائی ہے اسے جھوٹ کہتے ہیں اور جو صرف انسان ہی بولتا ہے۔ اور ان میں جو سچ بولتا ہے اسے ہم بدزبان، بد کلام، بدتہذیب اور بُرا کہتے ہیں۔
ایک غریب انسان چڑیا گھر کی سیر کرتے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس جاکربولا،'' چُوری کھائو گے؟'' طوطے نے تمسخرانہ لہجے میں جواب دیا، ''کبھی خود بھی کھائی ہے؟'' جانوروں اور انسانوں کے صدیوں ساتھ ساتھ رہنے سے ان میں کئی عادات اور حرکات بھی ملنا جلنا شروع ہوگئی ہیں۔ بقول انکل سرگم، اب ایک وفادار جانور اوروفادار ماتحت انسان میں صرف دُم کا ہی فرق ہی رہ گیا ہے۔ جانور صرف انسان کے کام آتا ہے جب کہ انسان کو جانور کا کام بھی آتا ہے۔ آج کل اگر کسی انسان کو الو کہا جائے تو الو کو بُرا لگتا ہے۔ اسی طرح اگر شیر انسان کو کھا جائے تو اسے آدم خور کہہ کر مار دیا جاتا ہے اور اگر انسان شیرکو کھا جائے تو اسے حرام خور کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انسانوں کے بزنس سے جانور کو کوئی فائدہ نہیں جبکہ جانوروںکے بزنس سے انسان بڑے بڑے فائدے اُٹھاتا ہے۔ تانگے کے آگے جتا گھوڑا، تماشائیوں کو سلام کرتا بندر، تماش بینوں کا جی بہلاتا بھالو ، ٹی وی فلم کا ایکٹر ، گلوکار، گلیمر اور سرکس میں کرتب دکھاتا شیر اور ہاتھی، یہ سب وہ مخلوق ہے جو اشرف المخلوق کی کمائی اور پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔ بقول انکل  سرگم، ٹریکٹر اور بیل میں بیل انسان کے زیادہ کام آتا ہے کہ بیل خراب ہونے کے بعد پھینکا نہیں جاتا بلکہ کھا لیا جاتا ہے۔ انسان مرجائے تو انسان روتا ہے کہ مرنے والا اب کسی کام کا نہیں ،جانور مرجائے تو روتا اس لئے نہیں کہ وہ اب''سوا لاکھ''کا ہو گیا۔ جانور انسان سے بہت کچھ نہیں سیکھ سکا، مثلاً، کرپشن ، رشوت ، دھاندلی، بددیانتی وغیرہ۔ہمارے ہاں انسانوں نے مغرب کے علاوہ جانوروں سے بھی سیکھا ہے اس کی ایک مثال ہمیں اکثر سڑک کے کنارے دونوںمخلوقات کو پیشاب کرتے دیکھ کر مل جاتی ہے ۔
 جو جانور محنتی ، وفادار، آنکھیں بند کر کے تعمیل کرنے والے ہوتے ہیں کی کوالٹی کی بنا پہ انسانوں کو ان جانوروں کے ناموں کے خطاب سے نوازا جاتا ہے ، مثلاً، گدھا، طوطا، الو، کتا، بیل وغیرہ  وغیرہ..استاد نے بچے سے پوچھا'' وہ کون سا ایسا جاندار ہے جو ہمیں خوراک مہیا کرتا ہے سردی میں گرم پوشاک اور جوتے مہیا کرتا ہے اور سواری بھی کراتا ہے؟'' ایک بچے نے جواب دیا ''اباجان''۔
 انسان اور حیوان میں اخلاقی اقدار دن بدن اس قدرِ مشترک ہوتی جارہی ہیں کہ انسانوں میں بھیڑئیوں، خون آشام چمگادڑوں اور گد وں کی پہچان مشکل ہوتی جارہی ہے۔ 
 انکل سرگم کے ذاتی تجزیئے کے مطابق کرونا وائرس نے جہاں انسانوں کو بے بس بنادیا وہاں انسانوں کو بہت کچھ نیا سکھلادیا کہ میڈیا پہ بتایا جانے والا یہ نعرہ کہ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، ہمیں بہت کچھ سوچنے اور خود احتسابی پرمجبور کرتا ہے۔ انسان نے وائرس کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے کہ اس کا مقام جانوروں سے کہیں اوپر اشرف المخلوقات کے زمرے میں آتاہے۔  


   مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف Puppetٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP