قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہا کی پاکستان دشمنی

ہمارا ایک شرارتی سا کزن تھا ہم اسے پیار سے مودی کہتے تھے‘ وہ بظاہر بڑا ہو گیا تو بھی مودی کا مودی رہا۔ جب بھی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دیکھتا ہوں تو دل میں سوچتا ہوں کہ یہ کبھی بڑا بھی ہو گا۔ وہ جو کچھ وزیراعلیٰ گجرات سے پہلے تھا وہی وزیراعلیٰ بن کے بھی رہا۔ اس کے بعد وزیراعظم بھارت بن کے بھی ایسا ہی رہا۔ وہ پاکستان کو اشتعال دلانے میں تو کامیاب نہ ہوا البتہ بنگلہ دیشی حسینہ واجد کو رام کر لیا۔ اس نے بنگلہ دیش میں واجپائی جی کا پاکستان دشمنی کا ایوارڈ وصول کیا۔ حق تو یہ تھا کہ مودی کو ایوارڈ دیا جاتا۔ بڑی محنت کی مگر اس کا کریڈٹ بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو جاتا ہے اور ڈِس کریڈٹ بھی اسے ہی جاتا ہے۔ یہ قسمت اسے مودی نے ادا کئے۔ قسمت اور بدقسمتی ایک ہو گئے ہیں۔ اﷲ سے دونوں کو کوئی امید نہیں ہے۔

مجھے یقین ہے اگر واجپائی جی خود یہ ایوارڈ وصول کرتے تو ایسی تقریر نہ کرتے جو مودی نے کی ہے۔ واجپائی جی سچے بھارتی ہیں تو ان الفاظ کی تردید کر دیں جو مودی نے ادا کئے ہیں۔ واجپائی جی واہگہ کے راستے لاہور آئے تھے۔ مینار پاکستان بھی گئے تھے۔ بات مودی سے ہوئی مگر ایک سوال بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے ہے کہ اس کے والد کے قاتل پاکستانی نہ تھے۔ نہ وہ لوگ تھے جن کو بڑھاپے میں پھانسیاں دلوائی جا رہی ہیں۔ ان میں کئی ایک تو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں وہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر ایک الیکشن بھی لڑ چکی ہیں تو پھر ان لوگوں سے اس لڑائی کا جواز سمجھ میں نہیں آیا۔ کیا انہوں نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو سزائیں دلوائی ہیں؟ اور اب بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کی خدمات اور سازشوں کے لئے ایوارڈ کیوں دیئے جا رہے ہیں۔ اندرا گاندھی جو سقوط پاکستان کی اصل ذمہ دار تھیں کا ایوارڈ سونیا گاندی نے وصول کیا۔ اتنی دیر بعد ان ایوارڈ کا کوئی سبب اس کے علاوہ نہیں ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارت کی خواہشوں کا اختتام نہیں ہو رہا۔ بھارت کو اختتام کی نہیں انجام کی فکر کرنا چاہئے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔

مجھے مودی جی کے سیاسی بچپنے کی یوں سمجھ بھی نہیں آئی۔ دنیا کے سب سیاسی لوگ اور سچے پاکستانی بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام کی خواہش بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ذہن میں ہر وقت کلبلاتی رہتی تھی۔ مشرقی پاکستان کو بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اسے مغربی پاکستان سے الگ کر دیا جائے۔ یہ شکست نہ تھی سازش تھی اور قیام پاکستان سے چل رہی تھی جو عالمی سطح تک پھیلی ہوئی تھی۔ ملک کے دونوں حصوں کے درمیان دشمن ملک سے کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ملک ہو اس کے دو حصے ہوں اور ان کی سرحد بھی ایک دوسرے سے نہ ملتی ہو۔ اس میں پاکستانی فوج پر کوئی الزام تو بالکل بے معنی ہے۔ یہ دراصل پاک فوج کی شکست نہ تھی اس میں سیاستدانوں اور دوسروں کی بھی بہت سی خدمات تھیں۔ یہ قصہ میرا موضوع نہیں ہے۔ مگر میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ بھارت اور مکتی باہنی اور بعض خفیہ ایجنسیوں کی سازشتیں نہ ہوتیں تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا۔ بھارتی فوجیں بین الاقوامی اصولوں اور سارے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں اور بنگلہ دیش بن گیا۔ مودی کہتا ہے کہ میں نے بنایا وہ تو شاید تب بھارتی فوجیوں کو چاہتے ہوئے بھی ہلانے کے قابل نہ تھا۔ یہ بھارتی فوجیوں کا کمال نہیں ہے کہ اسلحے کی سپلائی کے نہ ہوتے ہوئے ملک کے دونوں حصوں میں کوئی رابطہ نہ ہونے کے سبب تقریباً نسبتاً کم فوج پر باقاعدہ فوج کشی کی اور دل کو خوش رکھنے کے لئے کہا کہ ہم نے بہت بڑی معرکہ آرائی کر لی ہے۔ چھ سات لاکھ فوج کے ساتھ پچھلے اڑسٹھ برسوں میں وہ کشمیر فتح نہیں کر سکے تو وہ کوئی دعویٰ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

مودی کو علم ہونا چاہئے کہ لڑنے والے باتیں نہیں کرتے۔ جرأت مندی کو بیان کرنے اور اظہار جرأت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ گجرات کے مسلمان مودی کے ظلم کے خلاف آج بھی خاموش ہیں اور خاموشی کسی نہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ خیمہ گرنے والا ہے اور جو کچھ بھارت کے ساتھ پیش آئے گا اس کا اندازہ تاریخ انسانی کو بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم ایک ایٹم بم بھی بھارت کو اتنا برباد نہیں کر سکتا جتنا اکیلا مودی بھارت کو برباد کر دے گا۔ نہ صرف برباد بلکہ بدنام بھی کرے گا اور بدنامی بہرحال ناکامی سے بڑی ہزیمت ہوتی ہے۔ ظالم کبھی بہادر نہیں ہو سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہبھارتی حکمرانوں اور وزیراعظموں کو کشمیر کا مسئلہ کھا گیا ہے۔ جو کچھ بچا ہے وہ پاکستان دشمنی کی نذر ہو گیا۔ اسلام دشمنی ایسی کہ اپنے ہی ملک کے مسلمان اپنے شہریوں کو بغیر کسی قصور کے قتل کیا بلکہ قتل عام کیا گیا۔ جن حکام کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے بھرے ہوئے ہوں وہ کبھی نیک نام نہیں ہو سکتے۔ بھارت کا جو وزیراعظم کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی جرأت کرے گا وہ ایک عالمی سطح کا سیاستدان ہو گا۔ یہ نصیب بھارت کے کسی وزیراعظم کے حصے میں نہ آیا۔ اُن کے ذہن میں تھا کہ کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنانے کے ظلم کی چکی میں ڈالا جائے مگر اس طرح وہ اپنے سیاسی مستقبل کو خاک میں اڑاتے رہے۔ کوئی وزیراعظم سربلند نہ ہو سکا۔ نہ پنڈت نہرو نہ لال بہادر شاستری۔ نہ اندراگاندھی نہ واجپائی نہ من موہن سنگھ اور نہ مودی۔ مودی کے نام پر غور کریں وہ بھارتی وزیراعظم کے طور پر سب سے آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ وہ اتنا زیادہ آگے نکل جائے گا کہ بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اور کچھ بھی پیچھے نہیں بچے گا۔

مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔ کتنی سادہ بات ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے جبکہ سلامتی کونسل سے منظور شدہ کشمیریوں کے لئے قراردادیں ہر وزیراعظم کی جیب میں پڑی ہوتی ہیں اور وہیں پڑی رہ جاتی ہیں اور بھارتی وزیر اعظم بھی وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ مودی بھارت کو چین کے مقابلے میں امریکہ کی خواہش کے مطابق لانا چاہتا ہے مگر وہ مقابلہ پاکستان سے بھی نہیں کر سکتا۔ میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ بھارت صرف پاکستان سے ڈرتا ہے یہ ڈر مودی کے دل میں نقش ہو کے رہ گیا ہے۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے بھارتی ہندو پریشان ہیں کہ پاکستانی معمولی سی چیزیں نہیں بنا سکتے۔ مگر ایٹم بم بنا لیا۔ اور یہ پاکستانی ایٹم بم جسے ممتاز کالم نگار شاعر سعید آسی نے نظریاتی ایٹم بم کہہ کر مرشد و محبوب مجید نظامی کی روح کو خوش کر دیا ہے۔ نظامی صاحب خوش تھے کہ ہمارا ایٹم بم بھارتی ایٹم بم سے بہت آگے ہے اور ہمارا میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے قرآن حکیم کا یہ فرمان بہت ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ بھارت تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP