قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہا پسند اسباب اور تدارک

سال1979میں جب سوویت یونین کی حمایت سے افغانستان میں سرخ انقلاب کے نام پر ایک خونریز تبدیلی لائی گئی تو اس کے علاقائی اور عالمی اثرات نے خطے کی سیاست اور علاقائی صف بندی کو بھی کافی متاثر کیا۔ عین اسی عرصے کے دوران ایران میں بھی ایک اسلامی انقلاب کا نقشہ کھینچا گیا اور ان دونوں تبدیلیوں نے عالمی قوتوں اور بعض دوسرے طاقتور کرداروں کو اپنی طرف اس تیزی کے ساتھ کھینچنا شروع کر دیاکہ اس کے براہ راست اثرات سے پاکستان کے لئے خود کو بچانا ممکن نہیں رہا۔

پاکستان ویسے ہی چند سال قبل سقوط ڈھاکہ کی صورت میں ایک بڑے صدمے سے دوچار ہو گیا تھا اور اسی تجربے کے باعث اس کے لئے دوپڑوسی ممالک کے دو بالکل متضاد انقلابات سے خود کو لاتعلق رکھنا ممکن نہیں تھا۔ پاکستان علاقائی اور عالمی قوتوں کے غیر اعلانیہ محاصرے میں بھی آ گیا۔ دونوں انقلابات امریکہ جیسے طاقتور ملک کے سیاسی اور سفارتی مفادات کے خلاف تھے اور پاکستان عرصہ دراز سے امریکہ کا اتحادی چلا آ رہا تھا۔ اس لئے اس پر دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا۔ دوسری طرف افغان انقلاب‘ ایسے لوگ لے آئے تھے جن کے نظریات پاکستان کے مفادات سے متصادم تھے۔ اس لئے پاکستان اپنی سلامتی اور دفاع کے تناظر میں بھی سوویت مخالف کیمپ کا ساتھ دینے لگا اور یوں افغان جنگ اور اس کے اثرات نے براہ راست بعد میں پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ خیال کیا گیا کہ پاکستان بعد کے حالات پر قابو پا سکے گا مگر عملاً ایسا ہوا نہیں۔

درحقیقت ملک میں موجود حالیہ شدت پسندی کا آغاز عملاً اسی کی دہائی میں ہی ہوا تھا اور اس کے مختلف اسباب ‘ کردار اور مقاصد تھے۔ یہ علاقائی بھی تھے اور عالمی بھی اور اسی تناظر میں پاکستان کو بعد میں بعض بڑے نقصانات بھی اٹھانا پڑے۔ پاکستان کی افغان پالیسی کی بنیاد کسی آمر کی بجائے ایک سیکولر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی جبکہ آئی ایس آئی کو افغان معاملات میں کھینچنے والے بھی بھٹو صاحب ہی تھے۔ بعض حلقے غیر ضروری طور پر مرحوم جنرل ضیاء الحق کو اس تمام پالیسی یا گیم کا ذمہ ٹھہراتے رہے حالانکہ اصل صورت حال تو یہ تھی کہ جنرل نصیر اﷲ بابر کے ہاتھوں بعض جہادی افغان کمانڈروں کی معاونت یا تبدیلی کے بعد اس معاملے سے ابتدا میں نہ صرف یہ کہ الگ رہے بلکہ وہ نور محمد ترکئی کی نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد خان عبدالولی خان کے مشورے سے کابل بھی گئے اور انہوں نے اس تبدیلی کو آن دی ریکارڈ افغانستان کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا۔ امریکہ کی زیرقیادت سوویت مخالف کیمپ میں چین‘ سعودی عرب‘ ترکی‘ مصر اور ایران جیسے وہ ممالک بھی شامل تھے۔ جن کے ساتھ پاکستان کے بہت قریبی مراسم تھے۔ اس لئے پاکستان ایسے تمام ٹھوس اسباب‘ دباؤ‘ حالات کی نزاکت اور اپنی سلامتی پر مشتمل فیکٹرز کی وجہ سے اس کیمپ کا فعال کھلاڑی بن گیا مگر 90ء کے بعد پاکستان خود عسکریت پسندی کی لپیٹ میں آ گیا اور جہادی اس پر حملہ آور ہونے لگے۔

90اور 2000 کی دہائیوں کے دوران انتہا پسند مزید زور پکڑنے لگے تو صورتحال گھمبیر ہونے لگی۔2000کے بعد جب عسکری قیادت اور حکومت نے ان سے نمٹنے کے لئے سخت رویہ اپنایا تو مذہبی اور بعض اہم حلقوں کی جانب سے اس کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی اور یوں عسکریت پسند قوت پکڑنے لگے۔ صوبائی حکومت غیراعلانیہ طور پر طالبان کی حامی تھی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مالاکنڈ ڈویژن پر بھی حملہ آور ہونے لگے اور دوسرے شہر اور علاقے بھی متاثر ہونا شروع ہو گئے۔ سال 2007 میں بیت اﷲ محسود نے تحریک طالبان کے نام سے تنظیم قائم کی جس نے کھلے عام پاکستانی فورسز‘ ریاست اور معاشرے کو نشانہ بنانے کا راستہ اپنایا اور ملک میں خودکش حملے بھی عروج پر پہنچ گئے۔ بدقسمتی سے متعدد اہم حلقے ان حملوں کو جواز فراہم کرتے رہے جس کا بہت منفی اثر ہوا۔ بعض دوسرے عوامل کے علاوہ اکثر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مبہم پالیسیوں اور طرز عمل نے ریاست کو سخت اقدامات سے روکے رکھا۔ جس کے باعث طالبان اور ان کے اتحادی مزید قوت پکڑنے لگے اور انہوں نے فورسز سیاسی کارکنوں اور بعض دوسرے حلقوں کے علاوہ عوام کو بھی ہزاروں کی تعداد میں نشانہ بنایا۔ 2007 میں امن معاہدہ کے بعد وہ سوات پر حملہ آور ہو گئے اور قابض ہوئے۔ 2008کے بعد مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران صرف صوبہ پختونخوا میں 1000حملے ہوئے۔جن میں 32خود کش حملے بھی شامل تھے۔ فاٹا میں بھی 385 حملے کئے گئے۔ جن میں عام لوگوں کے علاوہ فورسز کے درجنوں اہلکار بھی نشانہ بنے ۔ اس سے قبل 2007کے دوران اتنے ہی حملے کرائے گئے تھے۔ جس کے باعث تقریباً 3000سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ سال 2008میں ہلاکتوں کی تعداد

پورے پاکستان کی سطح پر 7900رہی جو بہت زیادہ تھی۔ پورے ملک میں اس برس 2577حملے کرائے گئے اور کوئی بھی علاقہ یا شہر حملوں سے محفوظ نہ رہا۔ اس لئے یہ کہنا کہ مزاحمت اور حملوں کا آغاز ہی محض ٹی ٹی پی کے قیام یا لال مسجد کے واقعے کے بعد ہوا تھا درست نہیں۔ پاکستان میں سال 2003 کے دوران ہی کارروائیاں شروع کی گئیں تھیں۔ اسی برس ملک میں پانچ خودکش حملوں سمیت درجنوں دوسری کارروائیاں بھی کی گئیں تھیں۔ البتہ ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد حملوں کی شرح اور اموات میں اضافہ ہوا اور ریاست ہل کر رہ گئی۔ سال 2003-4کے بعد ریاست اور مختلف حکومتوں نے طالبان کے ساتھ 4بڑے معاہدے کئے تاہم کوئی بھی معاہدہ طالبان کے جوازِ عمل کے باعث کامیاب نہ ہو سکا۔2009کے دوران سوات میں آپریشن کیا گیاتو بہت سے طالبان افغانستان بھاگ گئے یا مارے گئے۔ بعد میں انہوں نے افغانستان سے پاکستان پر درجنوں حملے کئے۔ اس طرح صورت حال بگڑتی رہی اور حملوں اور اموات کی شرح بڑھتی رہی۔ بعض مذہبی قوتیں اس تمام عرصے کے دوران پھر بھی یا تو طالبان کی حمایت کرتی رہی ہیں یا معذرت خواہانہ طرز عمل پر چلتی رہی۔ سیاست دانوں کی دلچسپی کا اندازہ اس ایک مثال سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ سال صدر رہنے کے باوجود اس وقت کے صدر نے ایک بار بھی فاٹا کا دورہ نہیں کیا۔ دوسرے لیڈروں کا طرز عمل بھی یہی رہا۔ یہ کہہ کر جان چھڑائی جاتی رہی کہ پاکستان اپنی نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے۔ حالانکہ اس جنگ میں 50ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ پھر حالت یہ ہو گئی کہ سال 2013کے دوران 2012کے مقابلے میں حملوں کی شدت میں 20سے 30فیصد تک کا خطرناک اضافہ ہوا۔ حالانکہ 2013کا باقی نصف عرصہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے حصے میں آیا ہوا تھا۔ 2013کے دوران پاکستان بھر میں 1715حملے کرائے گئے جس کے باعث 2450لوگ مارے گئے۔ طالبان اور ان کے اتحادیوں نے اس برس ملک کے50 اضلاع میں کارروائیاں کیں۔ نئی حکومت نے اے پی سی کے ذریعے طالبان سے مذاکرات کا راستہ اپنایا تب بھی حملے نہیں رکے۔ اے پی سی کے اعلان کے بعد بھی اب تک 472لوگوں کو مارا جا چکا ہے۔ اسی پس منظر سے یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ انتہا پسندوں نے کسی بھی پارٹی‘ فورس‘ حکومت یا طبقے کے ساتھ رعایت نہیں برتی اور اب یہ سلسلہ سال 2014کے دوران اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ اکثر دفاعی اور صحافتی حلقے پاکستان میں انتہا پسندی کے پس منظر میں درجہ ذیل نکات بنیاد و اسباب قرار دیتے ہیں۔ وہ ان اسباب کے خاتمے کے ساتھ امن کے قیام کو بھی مشروط سمجھتے ہیں۔

عالمی قوتوں کی پرا کسی وارز(Proxy Wars) بوجوہ پاکستان کی سرزمین پر لڑی گئیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان اور القاعدہ کی معاونت کی مگر وہ بعد میں افغانستان اور پاکستان کے معاملات سے الگ رہے اور انتہاپسندوں کے لئے پاکستان محفوظ ٹھکانہ بنتا گیا۔

نائن الیون کے واقعے نے عالمی صف بندی بدل ڈالی اور پاکستان بدترین دباؤ کا شکار ہوا۔ بیک وقت اتنے محاذوں پرلڑنا اس کے لئے ممکن نہیں رہا جس کے باعث ریاست کمزور ہوتی گئی۔

بعض سیاسی اور مذہبی قوتوں نے نظریاتی ہم آہنگی‘ ہمدردی یا خوف کے باعث ریاست کا ساتھ نہیں دیا۔

حکومتیں طالبان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں ناکام رہیں اور فورسز کا بھر پور ساتھ نہیں دیا۔علماء بھی خاموش رہے اور جنہوں نے مزاحمت کی ان کو نشانہ بنایا گیا۔

انتہاپسندی کے تدارک کے لئے ماہرین ان تجاویز کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔

طالبان اور ایسی دوسری قوتوں کی تشدد پسندانہ نظریات کو معتدل اسلامی نظریات اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے کم یا ختم کیا جائے اور یہ کام سیاسی اور معاشرتی سطح پر کیا جائے۔

جو عالمی اور علاقائی تنظیمیں اور قوتیں ان کی سیاسی یا مالی معاونت کر رہی ہیں ان کا ریاستی سطح پر راستہ روکا جائے اور مسلم ممالک کے مسلکی تصادم کو پاکستانی سرزمین پر اجازت نہ دی جائے۔

سیاسی قوتوں کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ یہ جنگ کسی اور کی نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی ہے اور سازشی نظریات اور پراپیگنڈے کا ریاست کی سطح پر سخت نوٹس لیا جائے۔

فاٹا کو مین سٹریم میں لایا جائے۔

نصاب میں تبدیلیاں لائی جائیں۔ مدارس کی رجسٹریشن کی جائے اور علماء کو انتہا پسندی کے خلاف متحرک کیا جائے۔ قانونی اور عدالتی نظام کے نقائص بھی ختم ہونے چاہئیں تاکہ سزائیں ملنا شروع ہوں۔

افغانستان میں انفرادی‘ گروہی‘ یا ریاستی مداخلت کا مبیّنہ سلسلہ ختم کیا جائے اور وہاں پر کسی بھی فریق یا قوت کا ساتھ دینے کی بجائے عوام کے ساتھ تعلقات استوار کئے جائیں۔ (اب ہو بھی یہی رہا ہے

فاٹا کے عوام کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ان کو اتنا تحفظ فراہم کیا جائے کہ وہ طالبان کے خوف سے نکل کر ریاست کا ساتھ دینا شروع کریں۔

قومی اتفاق رائے‘ شعور آگہی اور رائے عامہ ہموار کرنے کا کام صرف فورسز پر نہیں چھوڑنا جائے بلکہ سول سوسائٹی‘ میڈیا اور سیاسی قوتیں بھی اپنا فعال کردار ادا کریں اور اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔

مذاکرات پر زور دیا جائے تاہم اگر بات نہیں بنتی تو پوری شدت کے ساتھ آپریشن کیا جائے اور اس کے بعد حکومتی سطح پر امن اور ترقی کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں ہر اقدام میں سازش کا عنصر ڈھونڈا جاتا ہے اور الزامات درالزامات کا رویہ ہماری نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ہر سیاسی اور ریاستی فیصلے کے ڈانڈے کسی عالمی سازش سے ملانے کی ہماری عادت ملکی پالیسیوں پر بھی مسلسل اثر انداز ہوتی آئی ہے۔ حالانکہ اس تلخ حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان حالیہ دہشتگردی کے باعث اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے دوچار ہے اور اس کی سلامتی اور ترقی کو خطرات لاحق ہیں۔اس کے باوجود پاکستان میں ایسی پارٹیوں اور حلقوں کی کوئی کمی نہیں جو کہ امریکہ کی مخالفت اور عالمی جہاد کے جواز کی آڑ میں طالبان اور دوسروں کو نظریاتی مواد اور سپورٹ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ کچھ کو یہ’’ کریڈٹ ‘‘ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عسکری شعبے قائم کئے اور بعض اس مقصد کے لئے‘ متعدد اسلامی ممالک کے آپس کے اختلافات کو انہی تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں لے آئے یوں ان رویّوں کے باعث ہزاروں لوگ طالبا ن کا حصّہ بن گئے۔ ان لوگوں نے جہاد کے نام پر تربیت کی تھی اور اس تربیت میں یہ نکتہ بہت اہم تھا کہ ہر ممکن طریقے سے پاکستان میں اسلامی نظام لایا جائے گا۔ شاید ہی کوئی قابل ذکر طالبان لیڈر ایسا ہو جو کہ ماضی میں کسی مذہبی جماعت کا عہدیدار نہیں رہا۔شدت پسندی‘ فکری اور نظریاتی طور پر ان کی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے۔عسکریت پسندوں نے چند ایسی ہی جماعتوں کی کوکھ سے جنم لیا اور اب وہ نہ صرف یہ کہ دوسرے ممالک میں کارروائیاں کرنا جائزسمجھتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کو فتح کرنے کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس ملک کی متعدد سیاسی اور مذہبی قوتیں 50 ہزار ہلاکتوں کے بعد بھی اتنی بڑی جنگ کو امریکہ کی جنگ قرار دینے پر تلی ہوئی ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو انتہاپسندی کے حوالے سے تقسیم کر دیا ہے۔ پاکستان کے عوام نے کسی بھی مذہبی جماعت کو ساڑھے چھے فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں دیئے مگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے پاکستان کے تمام عوام قرونِ وسطیٰ کا دور دیکھنے یا لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں ہوئی ۔اس کے مقابلے میں پاکستان دہشت گردی میں دھنستا چلا گیا مگر نظریاتی اور عوامی سطح پر یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا رہا کہ جیسے ہی امریکہ کے اتحاد سے پاکستان نکل جائے گا یا امریکی افغانستان سے نکل جائیں گے ملک میں امن قائم ہو گا۔ یہ نظریہ ایک خوش فہمی کے علاوہ لا علمی پر بھی مبنی ہے۔پاکستان میں شدت پسندی نائن الیون سے پہلے ہی موجود تھی۔فرق صرف یہ آیا کہ نائن الیون کے بعد اس میں اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کے سابق امیر حکیم اللہ محسود اپنی ہلاکت سے قبل واضح انداز میں کہہ چکا تھا کہ امریکی انخلاء کے باوجودٹی ٹی پی کی جدوجہد جاری رہے گی کیونکہ ان کے بقول وہ شریعت کے نفاذ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک شدت پسندی کے نظریات کی نفی نہیں کی جاتی اور ان کے ہمدردوں کو یہ بات نہیں سمجھائی جاتی کہ ایک دن وہ بھی شدت پسندی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں‘ تب تک اس سنگین مئلے کا مستقل حل نہیں نکلے گا ۔ایک رپورٹ کے مطابق 2004کے بعد جہاں ایک طرف 2000سے زائد قبائلی عمائدین اور 3000کے لگ بھگ سیاسی کارکنوں کو مارا گیا‘ وہیں مسلکی اور گروہی اختلافات کی بنیاد پر اتنی ہی تعداد میں علماء اور مذہبی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گوریلااور شدت پسندتنظیموں کے لئے مخالفین کے علاوہ منحرفین کو ہٹانا بھی ’جائز اور لازمی‘ ہوتا ہے۔شدت پسند اپنے سخت گیر رویّے کے دوران کسی سے رعایت برتنے کے متحمل نہیں ہوتے‘ یہی وہ نکتہ ہے جس کے باعث مذہبی لیڈر اور علماء بھی شدت پسندوں کا نشانہ بن جاتے ہیں اور یہ عمل پاکستان میں بھی دہرایا گیا۔

مثال کے طور پر اس پس منظر کے باعث سب حلقوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ کل کو ان کی باری بھی آسکتی ہے۔سال2013کے اوائل میں مرحوم قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن کو اسی فلسفے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری طرف طالبان اس سے قبل کرنل امام‘ خالد خواجہ اور بعض دیگر کو بھی نشانہ بناتے رہے‘ اس لئے یہ توقع رکھنا کہ شدت پسند قوتیں اپنے حامیوں کو نشانہ نہیں بناتیں تاریخی پس منظر میں درست نہیں ہے۔نفسیاتی ماہرین کے مطابق شدت پسند نہ صرف یہ کہ گیم کے اختتام پر خود تشدد کا نشانہ بن جاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات وہ اپنے حامیوں کوبھی نہیں بخشتے۔ پاکستان میں جاری تشدد اب باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس سے نکلنے کے لئے ہم سب کو سیاسی،عسکری،سماجی اور نظریاتی سطح پر اپنے اپنے حصّے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان حلقوں کو ان لوگوں کی اصلاح کا بیڑا بھی اٹھانا ہو گاجو کہ بوجوہ تشدد پسندی اور حالیہ لڑائی کا حصّہ بن چکے ہیں اور ان کولاعلمی یا مجبوری کے باعث استعمال کیا جا رہا ہے۔

مگر بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت تک عملاًممکن نہیں جب تک تمام طبقوں اور رائے عامہ کو اس جنگ کے منفی اثرات اورخطرناک نتائج کا احساس اور ادراک نہیں ہو جاتا۔ بحیثیت قوم ہماری خواہش اور دعا ہے کہ امن مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں اور ملک میں امن کا دور دورہ ہو‘ امن ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئے اس کے قیام کے لئے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔ تمام عناصر کو اس کی مکمل سپورٹ کرنی ہو گی۔

تعارف

عقیل یوسف زئی قبائلی امور‘ افغانستان انتہا پسندی اور طالبان پر عرصہ 15سال سے رپورٹنگ کرنے کے علاوہ مختلف پاکستانی اور عالمی اخبارات اور رسائل کے لئے لاتعداد رپورٹیں اور کالم لکھ چکے ہیں۔ ان موضوعات پر چار کتابوں ’’طالبانائزیشن‘‘‘ ’’آپریشن ناتمام‘‘ ‘’’اسلام آباد سے کابل تک براستہ پشاور‘‘ اور ’’افغان شناخت‘‘ کے مصنف ہیں۔ وہ پاکستان کے علاوہ عالمی نشریاتی اداروں کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ وہ آج کل ایک آن لائن ویب سائٹ ’’پشتون نیوز‘‘ کے گروپ ایڈیٹر بھی ہیں جو کہ تین زبانوں اردو‘ پشتو اور انگریزی میں خطے کی صورت حال دوسروں تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 136مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP