قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہا پسندی کے انسداد میں ادب، ادیب اور فنون لطیفہ کا کردار

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ آج دنیا میں انتہا پسندی روز افزوں بڑھتی جا رہی ہے ، حالانکہ علمی و تمدنی ترقی کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی اور عدم برداشت میں کمی آنی چاہئے تھی۔ البتہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ آج انتہا پسندی کے انسداد کے لئے دنیا بھر میں کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ اخبارات و جرائد میں مقالات و مضامین چھپ رہے ہیں، کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ گویا عالم انسانیت کو اس بات کا ادراک اور احساس ہوچکا ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کی جتنی ضرورت آج ہے، اس سے پہلے انسانی تاریخ کے کسی دور میں نہ تھی۔ آج کا ہر انسان اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ ہلاکت آفریں اور تباہ کن سائنسی اسلحوں کے انبار پر بیٹھا ہوا ہے اور کسی طرف سے کوئی ایک چنگاری بھی عالم بشریت کو بھک سے اڑا سکتی ہے۔ لہٰذا ان تباہ کن خطرات کے پیش نظر ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کی روک تھام کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے۔ میرے اس مضمون کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس احساس کو عام کیا جائے کہ انتہا پسندی چاہے انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی، محلے گائوں کی سطح پر ہو یا علاقائی، ملکی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر،مذہبی نوعیت کی ہو یا انسانی و نسلی، کسی طور پر بھی عالم بشریت کے لئے زیبا نہیں ہے۔ چنانچہ اس مضمون کا مقصد و ہدف واضح ہے کہ انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے میانہ روی اختیار کرے، عفو و درگزر سے کام لے اور انتہا پسندی کا راستہ ترک کر دے تاکہ دنیا میں انسان سکون اور امن سے زندگی بسر کر سکے اور آخرت میں نجات پاسکے۔
سب سے پہلے ہم یہ جانیں گے کہ انتہا پسندی ہے کیا چیز؟ اس سے دنیا کا نظام کیسے درہم برہم ہوتا ہے؟ انسانی معاشرت کس طرح تہ و بالا ہوتی ہے؟ انتہا پسندی کے سماج پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہم انتہا پسندی کے انسداد میں ادب، ادیب اور فنون لطیفہ کے کردار پرگفتگو کریں گے۔
کسی دوسرے کی بات کی یکسر نفی کرکے اپنی بات پر اڑ جانا، اپنے نظریئے کو آنکھیں بند کرکے دوسروں پر تھوپنا، احترام آدمیت سے رو گردانی کرنا، جبرواستحصال کو زندگی کا مشن بنانا، انسانیت کی عالمگیر برادری میں روڑے اٹکانا اور اپنی انا کی تسکین کے لئے دوسرے کو مالی و جانی نقصان پہنچانا وغیرہ انتہا پسندی کہلاتے ہیں۔ آج دنیا انتہا پسندی کے جن تباہ کن حالات سے گزر رہی ہے، اُس سے کون واقف نہیں۔ آدم کے بیٹے ہابیل کے قتل سے لے کر واقعۂ کربلا تک، صلیبی جنگوں سے لے کر آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں رونما ہونے والے معرکوں تک، دنیا کی مختلف قوموں کے درمیان دشمنیاں، جنگیں، قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان اور خود کش دھماکے وغیرہ انتہا پسندی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ صورت حال دیکھ کر حکیم الامت علامہ اقبال کا دل کس طرح خون کے آنسو روتا ہوا چلّا اٹھتا ہے، ذرا ملاحظہ کیجئے:
ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہر یاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
پھر فرماتے ہیں:
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
اس بات سے کس کو انکار ہے کہ انتہا پسندی سے ہی افراد کے درمیان بھی اور قوموں و ملّتوں کے مابین بھی تصادم برپا ہوتا ہے جو بالآخر انسانیت و شرافت اور تمدنوں کی بربادی کا باعث بنتا ہے جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کا وہ کون سا خطہ ہے جہاں امن قائم ہو، جہاں اخوت و برادری کا ماحول پنپ رہا ہو۔ بلکہ ہربالادست شخص دوسرے کا گلہ دبانے کے در پَے ہے۔ ہر قوی گروہ کمزوروں کا قلع قمع کرنے میں مصروف عمل ہے۔ ہر طاقتور قوم دوسرے کی تباہی پر تلی ہوئی ہے ۔ گویا انتہا پسندی نے اتحاد انسانیت کو پارہ پارہ اور انسانی تمدّن کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ سب کچھ انتہا پسندی ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنی نوع انسان جب تک جیو اور جینے دو کے سنہرے اصول پر کاربند ہوکر زندگی کرنے کا سلیقہ نہیں اپناتا تب تک دنیا کو امن کا گہوارہ اور تمدن کا مرکز بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ 
اب آیئے ادب، ادیب اور فنون لطیفہ انتہا پسندی کو روکنے کے لئے کیونکر اور کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ادیب اور فنکار بڑے حساس اور انسان دوست ہوا کرتے ہیں۔ یہ بدلتے ہوئے حالات کا نہ صرف ادراک رکھتے ہیں بلکہ ان حالات کے تناظر میں نئے خیالات اور افکار کے ساتھ پیار و محبت کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتے ہیں۔ انتہا پسندی کا راستہ روکنے کے لئے میانہ روی کا درس دیتے ہیں۔ جہاں تک انتہا پسندی کی روک تھام میں ادب اور ادیب کے کردار کا تعلق ہے، یہ کہنا کافی ہے کہ عالمی ادب تخلیق کرنے والے اہل قلم کے پیر اپنی زمین پر رہتے ہیں جبکہ انگلیاں اور قلم آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام اور انتہا پسندی کو میانہ روی میں بدلنے میں اد ب اور ادیب کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ ادیب نے قلم کی روشنائی سے انسانی زندگی کی تاریک راہوں کو روشن کیا ہے۔ ادب محض تخیّل کی بے کار جولانی کا نام نہیں بلکہ اس کا صحیح استعمال انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح ہے۔ اخلاقی اقدار، روحانی سکون، حُسن کے جلوے اورپُرامن معاشرے کاقیام در اصل ادب اور فنون لطیفہ ہی کے کرشمے ہوتے ہیں۔ دنیا میں ایک پُر امن، متوازن، مہذّب و متمدّن اور فلاحی معاشرے کی تشکیل میں ادیبوں اور شاعروں کا کردار سب سے نمایاں اور مؤثر ہوتا ہے۔ ادیب اور شاعر معاشرے کے نباض ہوتے ہیں۔ ادیب، شاعر اور فنکار شمع کی مانند ہوتے ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی پہنچاتے ہیں۔ ادیب اپنے خون جگر سے جو ادب تخلیق کرتے ہیں اور فنکار فنون لطیفہ کے اظہار کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں، وہ محبت کا پیغام، امن کا وسیلہ اور بھائی چارے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ادب اور فنون لطیفہ سے نفرتیں ختم اور محبتیں فروغ پاتی ہیں۔ ادب معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی اقدار پروان چڑھاتا ہے۔ ادب انسانوں کو شرافت و متانت اور زندگی کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ ادیب بنی آدم کو ایک دوسرے کے اعضاء سمجھتے ہیں۔
آج پوری دنیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو وطن عزیز پاکستان کوآئے روز انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ لیکن افواج پاکستان نے جس جوانمردی اور قومی ذمّہ داری کے ساتھ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کیا وہ قابل داد ہے۔ بصورت دیگر ریاست کے اندر دہشت گردوں کی ریاست قائم ہونے جا رہی تھی۔ ابھی بھی یہ خطرات پوری طرح سے ختم نہیں ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ادیب و فنکار کو افواج پاکستان کے شانہ بشانہ بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی وی اور ریڈیو ڈراموں اور مذاکروں کے ذریعے، افسانوں، انشائیوں، مقالوں اور شعری تخلیقات کے ذریعے انسانی قدروں کو اجاگر کرنا اور انسان دوستی کے تقاضوں سے آگاہی  دینا اہل قلم اور اہل فن کا فرض ہے۔ ادیبوں اور شاعروں پر لازم ہے کہ وہ درباروں میں قصیدہ گوئی کرنے او ر مصلحتوں کا شکار ہونے کے بجائے فکری، اخلاقی، کردار سازی، تربیتی اور ظالموں کے خلاف مزاحمتی ادب تخلیق کریں۔ انسانی زندگی کے مسائل، طبقاتی کشمکش و انتہاپسندی کی روک تھام، مذہبی، علاقائی، نسلی و لسانی ہم آہنگی کے لئے نیز معاشرتی و سیاسی شعور کی ترجمانی کے لئے اس فن کو صحیح مقام و مرتبہ دلائیں۔ جس ادب میں انسانی زندگی سے مربوط ماضی و حال کا تلخ و شیریں ذائقہ اور مستقبل کے سہانے خواب نہیں تو وہ ادب کیسا ادب ہوگا؟ آج وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ کر  ہزاروں خاندانوں کی دکھ بھری کہانیاں سن کر ہماری آنکھیں خون کے آنسو روتی  ہیں۔ کیا آج کے ادیب و فنکار کا فریضہ نہیں ہے کہ وہ ان بے سہارا لوگوں کے دکھوں کا مداوا بن جائیں۔ ہم اس وقت انتہا پسندی کے گرداب میں گرفتار ہیں اور وطن عزیز کے علاوہ ہولناک دہشتگردی کے بادل عالمی افق پر بھی خوفناک منظرپیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں شگفتہ تحریریں اور دلآویز فنون لطیفہ شگفتگی کا رنگ بکھیر کر پُرامن معاشرے کے قیام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ شیخ سعدی، حافظ شیرازی، مرزا غالب، علامہ اقبال، شاہ لطیف بھٹائی، بلھے شاہ، سچل سرمست، خوشحال خان خٹک، مست توکلی، محب اور ذاکر جیسے شاعروں اور ادیبوں نے عرفان و تصوف کے سمندر سے موتی نکال نکال کر انسانیت کے دامن بھر دیئے  جس سے انسانی معاشرہ صدیوں امن و آشتی کا گہوارہ رہا۔ آج کے ادیب و شاعر کو بھی پھر سے وہی چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ بقول پروفیسر حشمت علی کمال الہامی  :
ہوتا ہے بہ ظاہر تو، وہ اک مرد عجیب
سمجھو تو، ہے، روحانی مریضوں کا طبیب
نباض ہے وہ، قوم کا، کرتا ہے علاج
اس عاقل و دانا کو ہی کہتے ہیں، ادیب


[email protected]

یہ تحریر 49مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP