متفرقات

انتہاپسندی کی ہر شکل کومسترد کرنا ہوگا

برصغیر پاک وہند میں اسلام پھیلانے کا سہرا ان صوفیاء کرام کے سر ہے جنہوں نے محبت ، اپنائیت اور رواداری سے خطے میں درجنوں خداؤں کی بجائے ایک اللہ ، ایک رسولﷺ اور ایک قرآن کے ماننے والوں کی موجودگی ثابت کرڈالی ۔ صوفیاء کرام کی انسان دوستی اور رواداری ہی کا ثمر تھا کہ خطے میں جہاں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا، وہیں اس دور میں مذہب کے نام پر تصادم کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہے۔ دراصل صوفیاء کرام کا فہمِ اسلام تشدد کی ہر شکل سے پاک رہا یہی وجہ ہے کہ خانقاگاہوں پر مذہب، نسل اور سماجی مرتبے سے بالاتر ہوکر ہر کوئی حاضری کو باعث برکت تصور کرتا۔
امن اور بھائی چارے کے اس ماحول میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں انگریزوں کی ہندوستان آمد مذہب کے نام پر باہم تفریق کو ہوا دینے کا بنیادی سبب بنی۔ فرنگی حکمرانوں نے چونکہ اقتدار مسلمانوں سے چھینا لہٰذا قدرتی طور پر انہوں نے توحید پرستوں کے لئے عرصۂ حیات تنگ کرنے کی حکمت عملی جاری رکھی ۔ ہندوؤں نے اپنے اوپرمسلط ہونے والے نئے حکمرانوں کے دل ودماغ میں مسلمانوں بارے پائی جانے والی بدگمانی کو انتہائی چالاکی سے استعمال میں لاتے ہوئے اس تاثر کو مضبوط کیا کہ مسلمان نہ صرف، ناقابل اعتبار ہیں بلکہ کسی بھی وقت وہ اپنے درخشاں ماضی کے احیاء کے لئے متحرک ہوسکتے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کو علم وآگہی سے دور رکھنے میں مسلم اکابرین کی کوتاہ نظری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمان اہل فکر ونظر نے بدلے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی تشکیل دینے کے بجائے انگریز سرکار سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمان انگریزی زبان سیکھنے سمیت ایسے جدید علوم وفنون سیکھنے سے محروم رہے جو مستقبل کے تقاضے نبھانے میں معاون ہوسکتے تھے۔


انگریزوں نے دانستہ سیاست کے آزمودہ نسخہ’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ پر عمل کرتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر ہندو اور مسلمانوں میں تفریق کو مزید گہرا کیا حتیٰ کہ معاملہ جب انگریزوں کے برصٖغیر سے رخصت ہونے تک جاپہنچا تو چانکیہ سیاست کے پیروکار متحدہ ہندوستان کو قومی ریاست بنانے کے بجائے اکھنڈ بھارت کی شکل دینے کے لئے کمربستہ ہوگئے۔


1937میں کانگریسی وزارتوں کا طرزعمل قائداعظم اور ان کے رفقاء کو مجبور کرگیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہندو اکثریت کے ظلم وستم سے آزادی پانے کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کرڈالیں۔حالات کے جبر کا ہی نتیجہ تھا کہ کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے قائد اعظم پاکستان کی شکل میں الگ ملک کی جدوجہد پر آمادہ ہوئے ۔


وطن عزیز میں کشت وخون کرنے والے گروہ بھی اسی ہندو ذہنیت کے پیروکار ہیں جو مذہب کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کئے جانے میں کسی طور پر نہیں ہچکچاتے۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اب تک کم وبیش ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور سکیورٹی فورسزکے لوگ جانوں کا نذارنہ پیش کرچکے ہیں۔ دین کے نام پر ظلم کرنے والے جتھّوں کو روایتی دشمن کی پشت پناہی اب پورے طور پر بے نقاب بھی ہوچکی ہے۔ ملک کے طول وعرض میں ضرب عضب کی شکل میں دہشت گردوں کا صفایا تو ہورہا ہے مگر اس انتہاپسند مائنڈ سیٹ کو شکست دینا ابھی باقی ہے جو مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلارہا ہے۔ قوم کو یقیناًایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے جو اس پُرتشدد نظریے کو مات دے سکے جو مذہب و انسانیت دونوں کے خلاف ثابت ہوچکا ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے ہر اس شخص کو اپنا فریضہ نبھانا ہے جو رائے عامہ کی تشکیل کے عمل سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر منسلک ہے ۔سانحۂ پشاور کے بعد متفقہ طور پر منظور ہونے والے ان بیس نکات پر پورے اخلاص سے عمل درآمد کرنے میں اب کسی طور پر تاخیر نہیں کرنی چاہئے جو اجتماعی فہم وفراست سے منظور کئے گئے ۔پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا جس کا مطلب اس سرزمین کو ایسی ریاست کی شکل دینا ہے جہاں اسلامی تعلیمات کا عکس نمایاں تو ہو مگر مملکت عصر حاضر کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کہلائے۔


پاکستان یقیناًبدل رہا ۔ بڑھتا ہوا عوامی شعور اس سچائی کا بڑا ثبوت ہے کہ عام آدمی اس سرزمین کو قائد اور اقبال کے تصورات کے مطابق بنائے جانے کا خواہشمند ہے۔ لازم ہے کہ ناامیدی کے بجائے امید کا دامن تھاما جائے۔ ارض وطن میں اصلاح احوال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا طرزِعمل کسی طور پر تعمیری نہیں ۔ بہتری اسی صورت پورے طور پر نمایاں ہوگی جب ہر کوئی خود سے یہ سوال کرے کہ میں نے پاکستان کے لئے کیا کیا ؟ یقیناًخیبر تا کراچی لسانی ، سیاسی اور مذہبی تفرقہ بندی اس دشمن کے ہاتھ مضبوط کرے گی جو ہمیں اندر سے کمزور کرکے اپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کے لئے کئی عشروں سے کوشاں ہے۔ دشمن کی چالوں میں خیر کا پہلو محض یہی ہے کہ ہم سب انتہاپسندی کی ہر شکل سے عملاً اظہارِ لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے ایک ملک‘ ایک قوم بننے کی جدوجہد جاری رکھیں۔


مضمون نگار قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور ایک نجی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP