قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہائے دہشت گردی

’میں ایک غریب کسان تھا ۔ میرے پاس تھوڑی سی زرعی زمین تھی اور میں سارا سارا دن گرمی وسردی کی پرواہ کئے بغیر کھیتوں میں کام کرتا تھا۔اس زمین سے حاصل ہونے والی روزی سے میں اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا تھا نویکلے (سوات) کا رہائشی نور خان مجھے اپنی آپ بیتی بتا رہا تھا،تب اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ ختم ہونے کو تھا۔ دہشت گردوں کی گھناؤنی سرگرمیاں ان دنوں عروج پر تھیں،نورخان اپنی بات جاری رکھتے ہوئے گویا ہوا۔

ٖ’اس دن بھی میں حسبِ معمول کھیت میں کام کررہا تھا۔دوپہر کے قریب ایک سفید رنگ کی کار سڑک کے کنارے رکی اور تین افراد کار سے اتر کر میری طرف بڑھے ۔ یہ لوگ مجھے مقامی نہیں لگ رہے تھے۔ان سب کے بال لمبے، داڑھی چھوٹی ، سر پر پگڑی اور ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی۔میں نے دہشت گردوں کے بارے میں سُن رکھا تھا۔ ان کا حلیہ بھی بالکل ایسا ہی بتایا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ لوگ مجھ سے کسی جگہ کا پتہ معلوم کرنے آئے ہوں گے،مگرقریب جانے پر پتا چلا کہ وہ تو شریعت کا نفاذ کرنے آئے تھے۔ میرے پاس پہنچتے ہی نہایت کرخت لہجے میں پوچھنے لگے کہ اس کھیت کامالک کون ہے؟، میں نے بلا جھجک بتایا کہ میں خود ہی اس کھیت کا مالک ہوں۔اس پر انہوں نے اپنے آنے کا مدعا بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اسلامی قانون شریعت کے مطابق کھڑی فصل پر لاگو زرعی ٹیکس اورعُشر وصول کرنے آئے تھے۔میں توجیسے ششدر ہی رہ گیا ،اسلام اور شریعت کے ان نام نہاد دعویداروں کی جہالت کا یہ عالم تھا کہ انہیں یہی نہیں پتہ تھاکہ کھڑی فصل پر کوئی عُشر یا زکوٰۃ وغیرہ نہیں ہوتی۔خیر میں نے جب انہیں اسلام کے اس بنیادی قانون کے بارے میں بتانا چاہا تو انہوں نے مجھے بری طرح جھڑکتے ہوئے میری بات رد کردی ۔قصہ کوتاہ، انہوں نے مجھ پر واضح کیا کہ اگر میں نے شرافت سے ’عُشر‘ ادا نہ کیا تو وہ زبردستی وصول کرنا جانتے ہیں،چنانچہ مجھے اپنی جیب میں پڑیے نقدی بلا چوں وچراں ان کے حوالے کرنے میں ہی عافیت نظر آئی۔

نور خان یہ واقعہ سناتے ہوئے چند سو روپے ادا کرنے پر پچھتا وا ہر گزنہیں کررہا تھا، وہ متفکّر تھا تو اس بھیانک سیاہ را ت کے بارے میں جو شریعت کے نام پر سوات میں چھا چکی تھی۔ اُن لوگوں نے اسلام کی ایک اپنی ہی شکل گھڑ رکھی تھی۔ سوات کا باشعور طبقہ اب فکر مند تھا کہ دینِ اسلام کے ساتھ ایسابے ہودہ مذاق کرنے پر کہیں سلطانِ افلاک کا قہر نازل نہ ہوجائے۔ مقامی انتظامیہ اور حکومت مکمل طور پر بے بس ہوچکی تھی۔ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں نے اہلِ سوات کا جینا دُوبھر کردیا تھا۔ بالخصوص ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو چکا تھا۔ بات جان ومال کے خطرے سے آگے بڑھ چکی تھی۔ بیٹیوں کو سکول جانے سے تو روکتے تھے ہی، ا ب عزّت کے درپے بھی ہونے لگے تھے۔خوازہ خیلہ کی نوبیاہتا خاتون ہُما بتاتی ہیں، دہشت گردوں نے مسجدوں میں جمعے کے خطابات میں اعلانات کرنے شروع کردےئے کہ جن جن خاندانوں میں جواں سال کنواری لڑکیاں ہیں وہ ازخود یہاں پر بتادیں تاکہ ان کی بیٹیوں کو حق دار مردوں (دہشت گردوں)کے عقد میں دے دیا جائے اور اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو اس کی بیٹی کو زبردستی رشتہء ازدواج میں باندھ دیا جائے گا۔

ہُما نے مزید بتایا کہ اگر کوئی عورت گھر سے باہر نکلتی تو اس کے پاس نکاح نامہ یا شادی کا سر ٹیفیکیٹ اور محرم کا ہمراہ ہونا بھی ضروری تھا‘ورنہ خمیازہ بہت بھیانک ہوتا، فضل اللہ نے اعلان کررکھا تھا کہ 7سال سے زائد عمر کی لڑکی اگر گھر سے با ہر نظر آگئی تو اُسے ذبح کر دیا جائے گا۔ اسی طرح جو خواتین کسی روزگار کے سلسلے میںیا کسی سماجی بہبود کے کام کے لیے گھر سے باہر قدم رکھتیں تو دہشت گرد اُسے بدچلن قرار دے یتے۔بخت زیبا ایک اُدھیڑ عمر لیڈی کونسلر تھیں۔انہیں صرف گھر سے باہر نکلنے اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بات کرنے کے جرم میں گولی سے مار دیا گیا۔بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے ایک سولہ سالہ لڑکی کو سرِ بازار لوگوں کے ہجوم میں 37کوڑے مارے جِن کی وڈیو آج بھی انٹر نیٹ پر موجود ہے۔الزام کی بنیاد صرف یہ تھی کہ دہشت گردوں کے ایک خفیہ مخبر کے مطابق اس لڑکی کے ناجائز تعلقات پولی ٹیکنیکل کالج کے ایک نوجوان سے تھے۔ یہ لڑکی کلاکلے کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور نوجوان بھی اُن کا ہمسایہ تھا۔ ایک دن لڑکی کے والد نے اس لڑکے کو اپنی بجلی ٹھیک کرانے کے لئے بُلایا تو دہشت گردوں کو اس بات کی بھنک پڑ گئی۔ انہوں نے فوری طور پردونوں کو حراست میں لے لیا اور چیختی چلاتی لڑکی کو لوگوں کے سامنے کوڑے مارے۔ کسی شخص کی جرأت نہ تھی کہ دہشت گردوں کے سامنے بات کرتا ۔ لڑکی چیختی رہی کہ بس کردو بس کر دو، مجھ سے کیا گناہ ہو گیا ہے؟مجھ سے کیا گناہ ہوگیا ہے؟ بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان کو ئی ناجائز تعلقات نہ تھے۔دہشت گردوں نے کوڑے مارنے کے بعد زبردستی اُن دونوں کی شادی بھی کرادی حالانکہ وہ لڑکااس عجیب و غریب صورتِ حال پر سخت پریشان اور شرمندہ تھا اور خود کشی کر کے جان بھی دینا چاہی۔

سوات کے ہی ایک اوررہائشی ہدایت اللہ نے زخمی حالت میں ایک نجی ٹیلیویژن کو بتایا کہ دہشت گردوں نے اُسے زبردستی اپنی بیٹیاں حوالے کرنے کو کہا تھا،اور جب اس نے کہا کہ’ خواہ میری جان چلی جائے، میں اپنی بیٹیوں کا ہاتھ نہیں دوں گا‘ تو شام کو اس کے دروازے پر کچھ نقاب پوش پہنچ گئے اورگھر کے اندر آنے کا تقاضا کرنے لگے۔ ہدایت اللہ نے انہیں روکا اور بتایا کہ گھر میں باپردہ خواتین ہیں، اس پر انہوں نے زبردستی گُھسنے کی کوشش کی، اس نے دروازہ اندر سے بند کرلیا،کچھ دیر کا وقفہ دے کر وہ انہیں پہچاننے کے لئے چھت پر چڑھا تو دہشت گردوں کی ایک سنسناتی ہوئی گولی اسے بری طرح زخمی کر گئی۔اسے زخمی کر کے انہوں نے اس کی بیٹٰی کو اپنے ہمراہ لے جانے کی کوشش کی لیکن ماں نے مداخلت کر کے بیٹی کو بچا لیا اور بھا گ کر پاک فوج کے پاس پہنچ گئیں۔ فوج نے انہیں نہ صرف جانی تحفظ دیا بلکہ اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا۔انہی دنوں فضل اللہ نے دہشت گرد کمانڈر ابو احمد کے زیرِ نگرانی شعبۂ عروسات کے نام سے ایک ادارہ کھولا جس کے بارے میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی اردو سروس پر اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس ادارے کے تحت 9دنوں میں 11شادیاں کرائی گئیں ۔مزید 300جوڑے ابھی تک انتظار میں ہیں۔ ہم نے ایک فون نمبر دے رکھا ہے جس پر فون کرکے آپ اپنی پسند کی لڑکی کا اور اپنا پتہ لکھوادیں، ہم دونوں کے اہل خانہ کو حکم دے کر شادی کرا دیں گے۔ اس انتظام کے تحت ایک 50سالہ طالبان کمانڈر نے 8 سالہ بچی سے بھی شادی کی اور مسلم خان نے اِسے عینِ اسلام قرار دیا۔سوات کے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ایسی زبردستی علاقے کے غیور لوگوں کی برداشت سے باہر تھی۔

اِن کی عدالتوں میں فرد جرم کچھ ےُوں عائدہوتا ۔ ’بچیوں کو سکول کیوں بھیجا؟ ‘’بالوں کی تراش انگریزی طریقے سے کیوں کرائی؟‘’ داڑھی کیوں منڈوائی ؟‘’ غیر شرعی باربر شاپ کیوں کھول رکھی ہے؟‘’ کالروالی قمیض اور ٹخنوں سے نیچے شلوار کیوں پہنی؟‘’سرکاری نوکری کیوں کرتے ہو؟‘’ موسیقی بجانے کا سامان کیوں بیچتے ہو؟‘’خبروں کی نشرواشاعت ہماری مرضی کے مطابق کیوں نہیں کرتے ؟‘’ ہماری جنگ کے لئے منہ مانگی رقم، ہتھیار اور نوجوان بچے حوالے کرنے سے پس وپیش کیوں کی؟ ‘وغیرہ وغیرہ ۔ اور اِن جرائم کے پاداش میں جو سزائیں دی جاتیں اُن میں سر بازار کو ڑے مارنا، اہلِ خانہ کے سامنے ذبح کر کے سر اور دھڑ الگ الگ چوراہوں میں لٹکا دینا اور بچیوں کے سکولوں ، تھانوں ، پُلوں اور دیگر سرکاری املاک کو گولہ وبارود سے اڑا دینا شامل تھا۔یہی نہیں لنڈی کس ( مینگورہ) کے ایک معمّر شخص نے مجھے بتایا،

ایک دفعہ ایک کم سن دہشت گرد کو میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ شہری کی داڑھی کو اپنی مُٹھی سے ناپ کر، بزرگ کی تضحیک کررہا تھااوراُسے کہہ رہا تھا کہ تمہیں پتا نہیں داڑھی کا صحیح سائز ایک مٹھی ہے۔ بزرگ شخص کو ا س بچے کی چھاتی پر آوایزاں دستی بموں کی مالا اور ہاتھ میں کلاشنکوف نظر آرہی تھی اس لئے اُس نے چُپ سادھنے میں ہی خیر جانی۔ اس نوجوان نے مزید بتایاکہ اکثر کسی گھر میں ایک فرد دہشت گردوں کا حصّہ بن جاتا تو وہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بات کرتے ہوئے عزت وتکریم کوبالائے تاک رکھ دیتا اور سفّاکی کی ساری حدود پھلانگ جاتا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو مار کر اس کے منہ زور لشکر وں کو شکست دی تو اس سے پہلے راجہ داہر نے سندھ میں بالکل ایسے ہی ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ ہندو ؤورخ ڈاکٹرتاراچند اپنی کتاب مختصر تاریخ اہلِ سندھ میں لکھتا ہے راجہ داہر نے اپنی رعایا کے غریب اور نچلی ذات کے طبقے کے لئے سخت جابرانہ قوانین بنارکھے تھے ۔ انہیں نہ تو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت تھی اورنہ اپنے گھوڑوں پر زین ڈال سکتے تھے۔ انہیں اپنے پاس ہتھیار رکھنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اُن کیلئے حکم تھا کہ وہ ننگے سر رہیں اور اپنے ساتھ ہمیشہ کتوں کو رکھیں۔ محمد بن قاسم نے علاقے کانظام سنبھالتے ہی سب کے لئے فیاضانہ اور مساویانہ سلوک کے احکامات دےئے۔ محمد بن قاسم نے ہندوؤں سے بھی مسلمانوں جیسا سلوک روا رکھنے کی ہدایات دیں ۔

اس نے اعلان کیا ہندوؤں کے مندر اسی طرح مقدس اور محتر م سمجھے جائیں جس طرح ہمارے لئے عیسائیوں کے گرجے اور یہودیوں کے معبد ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ تو غیر مسلموں سے بھی نرمی اور حسنِ سلوک کا درس دیتی ہے چہ جا ئیکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر جبروتشدد روارکھا جائے۔دُکھ تو اِس بات کا ہے کہ سوات کے معصوم اور نہتے شہریوں پر اسلا م کے نام پر دہشت گردی کی جنگ مسلّط کرنے والے خود کو پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شریعت کا پیروکار کہتے تھے۔ یہ جنگ اس دینِ مبین کے نام پر لڑی جا رہی تھی جِس میں آقاﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہؓ کاکلیجہ کچّا چبانے والی قیدی ہندہ کو بھی معاف کر دینے کی روایت موجود ہے۔ جنگی قیدیوں کودس لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کے عوض یا رائج الوقت فِدیہ دینے پر آزاد کردینے کی مثال قائم کی گئی اور زیرِ نگیں شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی عطا کی گئی ۔۔مگر افسوس سوات میں جنگ بپا کر نے والے ان دہشت گردوں نے تو گوانتا ناموبے اور بھارتی درندوں کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ دہشت گردوں کا یہی وطیرہ اُن کی ناکامی ونامرادی میں ایک اہم مہرہ ثابت ہوا اور سوات کے عوام اُن کا اصلی روپ دیکھتے ہی اُن سے بیزار اور نالاں ہوگئے اور دل وجان سے پاک فوج کا ساتھ دینے لگے ۔ آج پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ سوات میں امن کا سہرا پاک فوج کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے سر بھی ہے جنہوں نے دہشت گردوں کے نام نہاد اسلام کی حقیقت پہچانتے ہی دل وجان سے مستر د کردیاتھا۔ ایک نوجوان عارف رحمان نے مجھے بتایا ۔

ہم اپنی نجی محفلوں میں اکثر سوچتے، کاش آج بھی تاریخ اسلام کا کوئی ہیرو محمد بن قاسم کی طرح ہمارے پاس آجائے اور یہاں اصل دین اسلام کی تعلیمات اور اصولوں کا نفاذ کر کے دے جائے۔ عارف رحمان فرطِ جذبات سے بتا رہا تھا، 2009 ؁ ء میں شروع ہونے والا آپریشن جب اپنے عروج پر پہنچا ، تو ہم سب ساتھیوں نے ایک دوسرے کو مبارک دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ نے ہماری دعا قبول کرلی ہے ۔ سوات میں محمد بن قاسم کی فوج پہنچ چکی ہے دہشت گردی کی انتہا کرنے والے اپنی انتہا کو پہنچ چکے تھے، اب وہ دن دور نہیں جب ہم اپنی سرزمین پر اپنی مرضی جئیں گے اور طبعی موت مریں گے

ایک شہید کے نام

اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضراراحمدبن منصور کی یاد میں

جس نے10 اگست1999 کو شہادت پائی

سفرِ زندگی کی تاریکی میں

تم ایک ستارہ ہو

محبت بھرا

اے ہم قدم‘ اے ہم نفس

رہ گزر میں میرے ہم نشین

اکٹھے تھے ہم

اکٹھے رہے

اکٹھے گرے

اکٹھے اُٹھے

اکٹھے لڑے

اکٹھے ہنسے

عطا مگر تجھ کو ایسا رتبہ ہوا

آرزو جس کی کرتے پیمبر گئے

آج ظاہر کی آنکھ تجھے دیکھ پاتی نہیں

اک خلش

اک چبھن

ایک غم

ایک نمی

رگ و جاں میں پھیلتی تو ہے

مگر

شعورِ انساں‘ گماں سے پرے

حدِ سوچ‘ لامکان سے پرے

آرزو‘ تخیل کی اڑان سے پرے

ادراک‘ لفظ‘ معنی

عالمِ شعورو فغاں سے پرے

رزق پاتا ہے

راضی ہے وہ

راضی ہے تو

اور راضی ہیں ہم

یہ تحریر 92مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP