ہلال نیوز

امن کی طالب وادیٔ کُرم

ضلع کرم قبائلی علاقوں میں ایک خوبصورت وادی ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ علاقہ تین اطراف سے افغانستان سے گھِرا ہوا ہے ۔  شمال مشرق میں افغانستان کا صوبہ ننگرہار ، مغرب میں صوبہ پکتیا اور جنوب میں خوست واقع ہے۔ افغانستان کا مشہور پہاڑی سلسلہ تورا بورا اور قد آور کوہ سفید، وادی کے اطراف میں ایک قدرتی سرحد کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ پاراچنار ضلع کُرم کا ایک خوبصورت اور اہم شہر ہے۔ پاراچنار کی وجہ تسمیہ یہاں کی ایک قوم "پاڑہ"سے منسوب کی جاتی ہے جنہوں نے تقریباً 200سال پہلے پاراچنار شہر میں چنار کا پودا لگایا تھا۔ مقامی قبائل (پاڑہ قوم) اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر قبائلی مسائل حل کیا کرتے تھے۔ پاراچنار کا نام پہلی بار منظر عام پر اس وقت آیا جب انگریز فو ج اپنے  کیمپ سنگینہ /بالش خیل سے تبدیل کرکے پاراچنار لے آئے ۔ طوری قبیلے نے یہ صحرا بغیر کسی قیمت کے طوری ملیشیاء کے نام کردیا۔ بعد میں طوری ملیشیاء کا نام تبدیل کرکے کُرم ملیشیا رکھ دیا گیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ وادی کُرم کو جنت نظیر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کوہ سفید کے برف پوش پہاڑ، سدا بہار درخت، لہلہاتے کھیت، معطر ہوائیں ، پر کیف  نظارے اور دریائے کُرم کا شور اس کے حُسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ وادی انتہائی سیراب، چھوٹے دیہات، باغات، آبشار اور نالیوں سے بھری ہوئی ہے۔ وادی کی خوبصورتی، آب و ہوااور دلکشی نے دہلی کے مغل بادشاہوں کوبھی اپنی طرف متوجہ کیا۔ شاہ جہاں کے دور حکومت میں لگائے گئے باغات کی باقیات آج بھی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ 



قدرتی حُسن سے لبریز وادی کُرم اور یہاں کے غیور قبائل عرصہ دراز سے امن کے طالب تھے۔ وقت کی ستم ظریفی کہ ملک دشمن عناصر نے حسین وادی کا امن خراب کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ یہاں کی پُرفضاء ہوائوں نے بارود کو بھی اُبلتے دیکھا۔ بدامنی اور فرقہ واریت کی آگ نے یہاں کے پُرامن باسیوں کی معاشی اور سماجی زندگی کو مفلوج کردیا۔ دہشتگردی کے ناسور نے وادی کے کاروباری نظام ، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکزبُری طرح متاثر کردیئے۔ کُرم کے باسی دہشتگردی کے اس ناسور سے متاثر ہوکر صرف ایک مطالبہ کررہے تھے اور وہ تھا  "امن کی طالب وادی کُرم"۔
وادی کُرم میں امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے سکیورٹی اداروں نے 2009ء میں یہاں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا ۔ جس میں کئی دہشتگردوں کا صفایہ کرتے ہوئے اس دھرتی کے لاتعداد سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا۔ وادی کے قبائل دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے پاک فوج اور کُرم ملیشیاء کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ بالآخر پاک فوج، کُرم ملیشیاء کی قربانیوں اور مقامی قبائل کے تعاون سے وادی کُرم کی فضائوں میں ایک بار پھر پُر امن ہوائوں نے ڈیرہ جمایا۔ امن بحال ہوگیا اور زندگی معمول پر آگئی ۔ وہ علاقہ جو بدامنی ، فرقہ واریت اورجنگ کے لئے مشہور تھا اب ایک مثالی امن کا شہر بن چکا ہے۔ 
پاک فوج اور کُرم ملیشیاء نہ صرف امن کے لئے اپنا کردار نبھا رہی ہیں بلکہ تعلیم، صحت اور عوام کی حوشحالی کے لئے بھی پیش پیش ہے۔علاقے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے 116ونگ نے ضلع کُرم کی تحصیل صدہ میں قائم ایجوکیشنل کمپلیکس میں مستحق بچوں کے لئے ٹیوشن کا اہتمام کیا ۔ حال ہی میں آرمی پبلک سکول صدہ کا الحاق آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج سسٹم سے کردیا گیا ہے۔ اب ضلع کُرم کے بچوں کو بھی پاکستان کے باقی شہروں کی طرز پر معیاری تعلیم صدہ میں فراہم کی جائے گی۔  
تفریحی مواقع کو فروغ دینے اور علاقے کے باسیوں کو تفریحی مواقع میسر کرنے کے لئے کُرم ملیشیاء اور 116ونگ نے دریائے کُرم میں رافٹنگ کا انعقاد کرکے عوام کے دل جیت لئے۔ یہ کھیل یہاں کے عوام کی توجہ کا مرکز بنا ۔ 
صبح ہوتے ہی بچے ، بوڑھے اور جوان دریائے کُرم کا رُخ کرتے ہیں اور سورج کے غروب ہونے تک رافٹنگ سے خوب لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ رافٹنگ یہاں کے باسیوں کے لئے ایک نیا اور انوکھا کھیل تھا۔ دریائے کُرم میں موج مستی اور گہما گہمی دیکھ کر ایک طالب علم نے یہ کہہ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ 
" ہم نے میدان تو آباد دیکھے تھے مگر دریا کو آباد ہوتے ہوئے پہلی دفعہ دیکھا"
کُرم کے عوام نے کُرم ملیشیاء اور 116ونگ کا شکریہ ادا کیا اور استدعا کی کہ اس قسم کے تفریحی مواقع عوام کو مزید فراہم کئے جائیں تاکہ یہاں کے لوگ ان مواقع سے محظوظ ہوکر اچھے اور محب وطن شہری بنیں۔ 
 

یہ تحریر 356مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP