متفرقات

امن و خوشحالی کی طرف  جانب رواں دواں وزیرستان

کسی بھی ملک کی بقا اور امن کے لیے وہاں کی عوام اور افواج میں باہمی روابط اور ہم آہنگی انتہائی ناگزیر ہوتی ہے۔ افواج پاکستان کی صرف جنگی میدان میں مہارتیں ہی نہیں بلکہ سیر و تفریح کی سرگرمیوں کو فروغ دینا بھی اولین ذمہ داریوں میں شامل رہا ہے۔ اسی تسلسل میں پاکستان آرمی، ایف سی سائوتھ کے تعاون اور پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن اور خیبر پختونخوا ٹوور ازم ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں پہلی کمشنر ٹور ڈی وزیرستان ریس کا اہتمام کیا گیا۔ ملک بھر سے بین الااقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں سمیت بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب اور گلگت بلتستان سے 100 کے قریب سائیکلسٹ نے ریس میں حصہ لیا۔ پہلی ٹور ڈی کمشنر وزیرستان ریس کو 3 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تک 70 کلومیٹر پر محیط تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں لیفٹیننٹ عاطف شہید پارک میں رنگا رنگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے مہمان خصوصی کمشنر ڈیرہ عامر لطیف خٹک تھے۔ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے گھوڑے اور بچوں کی سٹیج پرفارمنس کے ساتھ پاکستان کے لئے ''گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ''میں کئی ریکارڈ بنانے والے عرفان اللہ محسود کے کلب نے جمانسٹکس



کے بہترین کرتب دکھا کر محفل کو چار چاندلگا دیئے۔ ڈی آئی خان سے کمشنر ڈیرہ عامر لطیف خٹک نے ریس کا فیتہ کاٹ کر تمام سائیکلسٹس کو ٹانک کی طرف روانہ کیا۔ راستے میں جگہ جگہ تمام سائیکلسٹس کا پرجوش استقبال ہوتا رہا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تک پہلے مرحلے کے فاتح پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کرنے والے بائیکستان اکیڈمی کراچی کے علی الیاس تھے جنہوں نے 70 کلومیٹر کا مجموعی فاصلہ 1گھنٹہ 44 منٹ اور 10سیکنڈ میں طے کیا۔ ٹانک فنشنگ پوائنٹ پر کیپٹن سکندر شہید  کیمپ پر سیکٹر کمانڈر سائوتھ برگیڈئیر نیک نام محمد بیگ، کمانڈنگ آفیسر 25 سندھ لیفٹیننٹ کرنل شیر عالم، ڈی سی ٹانک کبیر خان آفریدی سمیت علاقہ معززین، سکولوں کے طلبا، صحافی برادری اور سول سوسائٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور والہانہ انداز میں مہمان کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا۔ رات کو ایف سی ساؤتھ اور 25 سندھ کی طرف سے مہمان کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لئے ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی سیکٹر کمانڈر سائوتھ بریگیڈئیر نیک نام محمد بیگ، کمانڈنگ آفیسر 25 سندھ لیفٹیننٹ کرنل شیر عالم سواتی اور ڈی پی او سائوتھ وزیرستان خان زیب مہمند تھے۔ پاک آرمی کے جوانوں نے بہترین پرفارمنس سے حاضرین محفل کو خوب محضوظ کیا اور موسیقی سے لطف اندوز کیا۔ ریس کا دوسرا مرحلہ ٹانک سے جنوبی وزیرستان کے پہاڑوں میں بنائے گئے پاکستان کے اہم ترین ڈیم گومل زام ڈیم تک کا تھا۔ ٹانک سے گومل ڈیم تک کا فاصلہ 73 کلومیٹر ہے۔ مہمان نواز، جفا کش، اور غیور لوگوں کی سرزمین وزیرستان کے عوام ہر مقام پر گل پاشی کرتے رہے اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے مہمان کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا۔ دوسرے مرحلے کے انتہائی بلند و بالا پہاڑی فنشنگ پوائنٹ گومل زام ڈیم پر کمانڈنگ آفیسر 225 ونگ لیفٹیننٹ کرنل حامد مختیار نے شاندار استقبال کیا۔ دوسرے مرحلے کے فاتح بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عبد الواحد تھے جنہوں نے مقررہ فاصلہ 2 گھنٹہ 9 منٹ اور 11 سیکنڈ میں طے کیا جبکہ پہلے مرحلے کے فاتح علی الیاس صرف 29  سیکنڈ کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے اور سندھ کے حاشر 2 منٹ کے فرق سے تیسرے نمبر پر رہے۔ لیفٹیننٹ کرنل حامد مختار نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے جس کے بعد تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کو پاکستان کے سب سے بڑے بین الاقوامی منصوبے گومل زام ڈیم کا دورہ کروایا گیا۔ تیسرا مرحلہ جنوبی وزیرستان کے گومل زام ڈیم سے لے کر جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا تک تھا جس کا کل فاصلہ70 کلومیٹر تھا۔ سائیکلسٹس ٹھنڈے موسم کا مزہ لیتے ہوئے حسین مناظر میں اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ریس کے تیسرے مرحلے کی اختتامی جگہ وانا سپورٹس کمپلیکس تھا جہاں ہزاروں کی تعداد میں علاقہ عمائدین، سکول کے طلبا، سول سوسائٹی کے لوگ، مختلف تنظیموں کے عہدیداران اور صحافی برادری کی کثیر تعدادموجود تھی۔ فنشنگ پوائنٹ پر کمشنر ڈیرہ عامر لطف ، ڈی سی جنوبی وزیرستان خالد اقبال خٹک، سپورٹس آفیسر جنوبی وزیرستان تاج وزیر اور ڈی پی او سائوتھ وزیرستان خان زیب مہمند نے پہنچنے والے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا۔ تیسرے اور آخری مرحلے کے فاتح بائیکستان اکیڈمی کراچی کے علی الیاس تھے۔ جنہوں نے 70 کلومیٹر کا مجموعی فاصلہ ایک گھنٹہ 35 منٹ اور 59 سیکنڈ میں طے کیا، بلوچستان کے کھلاڑی عبد الواحد نے ایک گھنٹہ 36 منٹ اور 2 سیکنڈ میں جبکہ کے پی کے گرین کے عمر فاروق نے صرف 4 سیکنڈ کے فرق سے مجموعی فاصلہ ایک گھنٹہ 36 منٹ اور 6 سیکنڈ میں طے کیا۔ اختتامی تقریب وانا سپورٹس کمپلیکس میں منعقد کی گئی۔ گھوڑا ڈانس اور سکول کے طلبا کی پرفارمنس نے تمام مہمان کھلاڑیوں کے دل جیت لئے۔ جیتنے والے کھلاڑیوں میں پہلے نمبر پر آنے والے علی الیاس کو ایک لاکھ روپے نقد اور ٹرافی سے نوازا گیا۔ دوسرے نمبر پر آنے والے عبدالواحد کو ساٹھ ہزار روپے نقد اور ٹرافی جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے عمر فاروق نے 40 ہزار روپے نقد اور ٹرافی اپنے نام کی۔
کمشنر ڈیرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں آج بہت خوشی ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کی مرہون منت وزیرستان میں اب امن لوٹ آیا ہے اور مزید ایسے پروگرامز کے انعقاد پر دنیا کو امن کا بہترین پیغام جائے گا۔ یہ ریس اب سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جائے گی۔ ریس میں شریک کھلاڑیوں نے کہا کہ وہ وزیرستان کے لوگوں کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا۔ ||

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP