قومی و بین الاقوامی ایشوز

امن ممکن مگر نئی سوچ کے ساتھ

بھارت میں نئی حکومت کا قیام اور ممکنہ خدشات

الیکشن کسی بھی ملک میں ہوں اس کے اثرات اس کے پڑوسی ممالک پر ضرور پڑتے ہیں۔ یہ اثرات مثبت یا منفی کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ 122کروڑ نفوس پر مشتمل بھارت‘ آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ جہاں 7 مئی 2014 سے 9 مئی 2014 تک 80کروڑ 40لاکھ ووٹر نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ ’’لوک سبھا‘‘ کے 16ویں الیکشن تھے‘ جن پر تقریباً پانچ ارب ڈالر اخراجات جو امریکہ کے الیکشن سے کم ہیں۔ امریکہ میں الیکشن پر سات ارب ڈالر کا خرچہ ہوا تھا۔ اس الیکشن میں ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ یعنی ’بی جے پی‘ نے توقع سے بڑھ کر اکثریت حاصل کی۔ انڈین الیکشن کمیشن کے مطابق ’بی جے پی لو ک سبھا‘ کی 543میں سے 283 نشستیں حاصل کیں، یوں بھارتی عوام نے اُسے بغیر کسی اتحاد کے حکومت بنانے کا مینڈیٹ دے دیا۔ لیکن نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کی وجہ سے حکومت کے پاس 337نشستیں ہو گئیں۔

الیکشن سے قبل ہی نئے وزیر اعظم نریندر مودی کو’’مین آف ڈیویلپنگ انڈیا‘‘کے طور پر پیش کیا گیا۔ حالانکہ 67برس میں پہلی مرتبہ نریندر مودی نے بھارتی سیکولر ازم کو چیلنج کیا ہے بلکہ انہوں نے الیکشن مہم کے دوران ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس جھوٹے سیکولرازم کو ختم کر دیں گے۔جس سے چند چھوٹی اقلیتوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اُن کا واضح اشارہ مسلمانوں کی طرف تھا اور اس سیکولرازم کی بجائے ہندومذہب کو بھارت کے لئے اہم ترین قرار دیا تھا۔نریندر مودی نے نوجوانی میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ جب انہوں نے انتہا پسند تنظیم ’راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس‘ میں شمولیت اختیار کی ۔جس کی بنیاد مسلم نفرت پر رکھی گئی تھی۔نریندر مودی نے اس پلیٹ فارم سے ایسی نفرت انگیز تقریریں کیں جن کا ہدف بھارت کے مسلمان تھے‘ ان زہریلی تقریر وں نے ہمیشہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جس سے مسلمان تنہائی کا شکار ہوئے۔ 1990میں مودی کی وجہ سے ایودھیا میں فسادات ہوئے اور ایک ہزار مسلمان موت کے گھات اتار دیئے گئے ۔2002میں احمد آباد میں تقریباً ایک ہزار سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے ۔ یہ اس ٹرین کے حادثے کے انتقام کے طور پر تھا جس میں 59ہندو ہلاک ہوئے تھے اور الزام مسلمانوں کے سر تھوپ دیا گیا تھا۔2013میں بھی سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ ان کی پروردہ تنظیم ’آر ایس ایس‘ نے 1927میں ناگپور میں اولین فساد کیا تھا۔1969میں احمد آباد، 1971تلشیری فساد، 1979 میں بہار کے جمشید پور میں فساد، 6دسمبر 1992میں اسی تنظیم نے بابری مسجد کو بھی شہید کر دیا۔حکومتی کمشنوں نے ’آر ایس ایس‘ کو ان فسادات سمیت 1982کے کیتا کماری فساد میں بھی با قاعدہ ملوث قرار دیا تھا مگر بھارتی سپریم کورٹ نے ثبوت ناکافی ہونے پر مسلم کش فسادات کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ’ اسی آر ایس ایس‘ کے ایک سرگرم رکن نتھور ام گوڈ سے نے موہن داس گاندھی کو قتل کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے قیام پاکستان کو تسلیم کر لیا تھا اور پاکستان کے حصے کے مالی وسائل روکنے پر احتجاج کیا تھا۔

نریندر مودی اب وزیر اعظم بن چکے ہیں جس قسم کے جارحانہ خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا ہے اس سے بی جے پی کی خارجہ پالیسی کے متعلق بھی بہت سے سوال جنم لے رہے ہیں۔بھارت کے دو ایسے پڑوسی ہیں جن کے ساتھ اس کی طویل سرحدیں اور پرانے تنازعات بھی ہیں۔ پاکستان اور چین آپس میں بہترین حلیف ہونے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی طور پر ایک دوسرے کی پالیسیوں کے امین بھی ہیں۔ جبکہ بھارت اور پاکستان کا معاملہ مختلف ہے۔ بھارت براہِ راست پاکستان کے ساتھ فوجی تصادم میں بار بار ملوث رہا ہے۔ صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ کارگل ، سیاچن ، پانی کے معاملات اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی بھی اعتماد کی فضا کو قائم نہیں ہونے دیتی۔ بی جے پی الیکشن جیت چکی۔ مودی سرکار انے اپنی کابینہ تشکیل دے دی ہے لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ بی جے پی کو ہندو ازم سے اتنی محبت نہیں جتنی اسلام سے نفرت ہے۔ اس کے نزدیک گائے کا ذبیحہ غلط ہے لیکن مسلمانوں کا قتل عام سب سے اچھا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھر نریندر مودی نے حلف اُٹھایا اور ادھر ملک کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ برقع پوش خواتین کے ساتھ سٹرکوں پر زیادتیاں کی گئیں اور بھارت میں اذان فجر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔مودی سرکار کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت دونوں ممالک کے حالات کو بہتر بنانے کی طرف مثبت پیش رفت ہے لیکن عین اس روز جب وزیراعظم میاں نواز شریف بھارت سرکار کے مہمان تھے بال ٹھاکرے کا بیٹا ادھو ٹھاکرے مودی سرکار کو پاکستان پر ایٹم بم چلا دینے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس طرح ایک مدت کے بعد کشمیر پر لاگو آرٹیکل 370ختم کرنے کی باز گشت بھی بھارتی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ ابھی تو مودی سرکار کے اولین دن ہیں آنے والے دنوں کا اندازہ لگانا قبل ازوقت ہو گا۔ لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات ہونے کے موقع پر نریندر مودی نے من موہن سنگھ کو طعنہ دیا تھا کہ ’’ہمیں شک ہے من موہن سنگھ پاکستانی وزیر اعظم سے ملیں گے تو آپ ان سے یہ نہیں پوچھ پائیں گے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ہمیں کب واپس ملے گا اور یہ کہ آپ کچھ اور لائیں یا نہ لائیں ان جوانوں کے سر ضرور لے آئیے گا جو پاکستانی فوجی کاٹ کر لے گئے تھے‘‘اس طرح کی بیان بازی پڑھنے کے بعد خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی مگر اُمید ضرور رکھنی چاہیے کہ حکومتیں جذبات کی بنیاد پر نہیں چلتیں بلکہ ان کے لئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضرور ی ہو تا ہے۔

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP