اداریہ

امن اور خوشحالی کا سفر

بین الاقوامی امن دنیا بھر کی مختلف اقوام کی مسلسل کاوشوں اور جدوجہد کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ کہیں کوئی بھی ملک یاقوم اس میں کوتاہی برتے تو اس کے منفی اثرات نہ صرف اس خطے بلکہ عالمی سطح پرپڑتے ہیں۔ ہمارا خطہ اس حوالے سے بہت اہم رہا ہے کہ اَسّی کی دہائی میں جب روس کی افواج نے افغانستان میں جارحیت کی تو اس جنگ کے اثرات پورے خطے پر پڑے۔ اسی طرح نائن الیون واقعے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو امریکی فوج نے دیگر اتحادی افواج کے ہمراہ  جب افغانستان میں جنگ کا آغاز کیا تو اس کے اثرات پاکستان پر یوں پڑے کہ اس کی مغربی سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں اور مغربی سرحد کے آس پاس موجود ان کے حواریوں نے پاکستان کے علاقوں میں بھی بھاگ کر پناہ لے لی۔ یوںریاستِ پاکستان اور پاکستانی افواج کو دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہوا جنہیں روکنے کے لئے افواج اور قوم نے جانوں کی قربانیاں پیش کرکے ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر محفوظ بنانے کے لئے کردار ادا کیا۔
 بلاشبہ دودہائیوں تک پاکستان کو شدید مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دہشت گردی کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی افواج اور قوم نے مغربی بارڈر جو کہ غیرمحفوظ( پورس بارڈر) تھا ، کو محفوظ بنانے کے لئے افغانستان کے ساتھ بارڈر کوایک مضبوط آئینی باڑ کے ساتھ ساتھ اپنی چیک پوسٹیں بنانے کے لئے ایک بڑے پراجیکٹ، پاک افغان بارڈر مینجمنٹ پر کام شروع کیا جو 90 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے۔ اب افغانستان کی طرف سے آمد و رفت باقاعدہ  پاسپورٹ اور دیگرضروری امور نمٹائے جانے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ ان تمام کاوشوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ کراس بارڈر موومنٹ کو ختم کیا جائے  اور امن کو یقینی بنایاجائے۔ 
ہمارے یہ اقدامات پاکستان مخالف عناصر کے اُن الزامات کی نفی کرتے ہیں جوپاکستان پر کراس بارڈر ٹیررازم کا الزام عائد کرتے ہیں۔ حقائق یقینا اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے کے امن کو ترجیح دی ہے۔ مغربی بارڈرز کو مکمل سیل کرکے بین الاقوامی قوانین کے مطابق آمد و رفت یقینی بنانا پاکستان کی امن کے لئے کوششوں کی تائید کرتا ہے۔ بے شک اس سے پہلے پاکستانی افواج نے لاتعداد آپریشنز کرکے دہشت گردوںکا خاتمہ کیا۔ پاکستان نے اپنے حصے کا کام بخوبی انجام دیا ہے۔ اب افغانستان اور دیگر پڑوسی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جانب  کے بارڈرز کو محفوظ بنائیں تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہوسکے۔
پاکستان نے بطورِ ریاست  امن کے لئے یقینا بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے میں امن ، برداشت، بردباری، باہمی اخوت و یگانگت کو یقینی بنائیں تاکہ پاکستان صحیح معنوں میں امن و خوشحالی کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکے۔    پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔ ||
 

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP