قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکی انخلاء افغانستان اور مستقبل کی حکمتِ عملی

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسفزئی کی تحریر

سال2021کے دوران عالمی سطح پر توقع کی جارہی تھی کہ افغانستان سے دوحا معاہدہ کے مطابق امریکی، نیٹو فورسز کے انخلاء کے اعلان یا اقدامات کے نتیجے میں خطے بالخصوص افغانستان میں امن قائم ہونے کا راستہ ہموار ہو جائے گا تاہم افغان حکومت اور طالبان کے دوطرفہ عدمِ تعاون ، مسلسل حملوں اور بداعتمادی کے باعث یہ ممکن نظر نہیں آرہا بلکہ جنگ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ فروری 2020 کا دوحا معاہدہ عملی طور پر محض امریکی انخلاء کے اقدامات تک محدود رہا حالانکہ دوسرے مرحلے کے لئے یہ طے پایا کہ انٹر ا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا اور سیز فائر سمیت ایک ایسی حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا جس میں طالبان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔



طالبان اور امریکیوں نے مارچ2020کے بعد جون 2021 تک ایک دوسرے پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا تاہم افغان فورسز اور طالبان نے اس عرصہ کے دوران ریکارڈ دو طرفہ حملے کئے اور اس سلسلے میں اس وقت بھی کوئی کمی نہیں آئی جب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ اس ضمن میں جون 2020 کے بعد فریقین کے درمیان پاکستان، امریکہ، چین اور یو اے ای کی کوششوں سے مذاکرات کی تقریباً10 نشستیں ہوئیں مگر اس کے باوجود سیز فائر کا کوئی فارمولہ طے پایا جاسکا اور نہ ہی فریقین کسی مثبت نتیجے پر پہنچ سکے۔ افغان طالبان کو دوحا معاہدے سے عالمی سطح پر جو اہمیت حاصل ہوئی انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جبکہ امریکہ کے ہاتھوں افغان حکومت کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھنے اور نظرانداز کرنے کی روش نے حکومت کی ساکھ، قوت اور مستقبل کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان حکومت تنہا اور کمزور ہو کر رہ گئی تو دوسری طرف اس کی فورسز پوری شدت کے ساتھ طالبان پر حملہ آور ہوگئیں اور یوں تلخی، بداعتمادی اور کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔
ایک امریکی رپورٹ کے مطابق افغان فورسز اور طالبان نے دوحا معاہدے کے بعد ایک دوسرے پر تقریباً1100 حملے کئے جن میں 190 فضائی حملے بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں300 سے زائد سویلین بھی جاں بحق ہوئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق افغان فورسز نے عیدالفطر کے دوران طالبان لیڈر شپ کے جنگ بندی کے اس اعلان کے بعد بھی تقریباً 14 حملے کئے جو کہ عید کے احترام میں کی گئی تھی۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ عید کے فوراً بعد جہاں ایک طرف طالبان پوری شدت کے ساتھ فورسز اور حکومت پر حملہ آور ہوئے وہاں اس کشیدگی سے داعش نے بھی فائدہ اٹھایا۔ جس نے گزشتہ آٹھ مہینوں کے دوران کابل میں سات جبکہ باقی علاقوں میں گیارہ حملے کرائے۔ زیادہ تر حملوں میں شیعہ برادری ، بچوں، خواتین ، سکولز اور ہسپتالوں کو داعش نے نشانہ بنایا۔ اس ضمن میں ایک اور رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ داعش کے ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 700 افراد جاں بحق ہوئے۔
دوسری طرف افغان حکومت کا رویہ یہ رہا کہ داعش کے حملوں کو بھی حکومت طالبان کے کھاتے میں ڈالتی رہی۔ حالانکہ ان حملوں کی نہ صرف یہ کہ داعش ذمہ داریاں لیتی رہی بلکہ عالمی انٹیلی جنس ادارے بھی اپنی رپورٹس میں داعش کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیتی رہے۔ طالبان ان حملوں سے جہاں مسلسل لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے وہاں وہ یہ الزام بھی لگاتے رہے کہ داعش کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے اور ان کے کارندوں کو بعض علاقوں بشمول کابل میں سرکاری معاونت سے ٹھہرایاجارہاہے۔
اس دوران جب امریکی الیکشن کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو شکست اور جوبائیڈن کو کامیابی ملی تو امریکہ کی نئی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اگر طالبان تشدد میں کمی نہیں لاتے تو انخلاء کے اعلان پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اس اعلان کو ایک طرف طالبان نے مسترد کیا تو دوسری طرف اشرف غنی حکومت کو پھر سے اُمید پیدا ہوئی کہ شاید نئی امریکی حکومت ان کا ساتھ دے گی تاہم کچھ ہفتے بعد جوبائیڈن حکومت نے نہ صرف یہ کہ طالبان سے رابطے کرکے وضاحتیں پیش کیں بلکہ انخلاء کے جاری عمل کو اور بھی تیز کردیا اور حالت یہ بنی کہ امریکہ نے بگرام ایئر بیس سمیت ان اہم مراکز کو بھی خالی کرنا شروع کردیا جن کے بارے یہی کہا جارہا تھا کہ وہ امریکہ کی تحویل یا استعمال میں رہیں گے۔ امریکہ نے مئی2021میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہاگیا کہ اس کے تقریباً 700 ٹریلین ڈالرز  سے زائد افغانستان میں خرچ ہو چکے ہیں اور یہ کہ وہ مزید اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا تاہم ایک اور اعلان میں کہاگیا کہ امریکہ ایک معاہدے کے تحت افغان فورسز کی مالی مدد جاری رکھے گا اور اس کے بعض اتحادی بھی افغان حکومت کی مدد کریں گے۔
امریکہ کے اس مشکوک کردار اور صورت حال میں ڈاکٹر اشرف غنی کو شدید دبائو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ نہ صرف امریکہ پر تنقید کرنے لگے بلکہ انہوں نے اپنے نائب صدر امراﷲ صالح اور مشیر محب اﷲ محب کے ذریعے پاکستان کو بھی حسب سابق صورت حال کا ذمہ دار قرار دینا شروع کیا اور ایک مضمون کے علاوہ ایک انٹر ویو میں انہوں نے پھر سے پاکستان پر سنگین قسم کے الزامات لگا دیئے جس کے باعث جہاں پاکستان کا شدید ردِعمل سامنے آیا ،وہاں افغان حکومت اور پاکستان کے مثبت رابطے بھی متاثر ہوئے اور جون کے اوائل میں پاکستان نے یہ کہنا شروع کیا کہ طالبان اورافغان حکومت اس مسئلے کا خود ہی حل نکالیں۔اس کشیدگی کا امریکہ اور اتحادیوں نے سخت نوٹس لیا اور ان کی رابطہ کاری کے باعث پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ  جنرل فیض حمیدہنگامی طور پر افغان حکمرانوں سے بات کرنے اور تجاویز کے تبادلے کے لئے کابل گئے۔ اسی روز برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بھی دوسرے اعلیٰ حکام کے ساتھ کابل پہنچے۔ فریقین کے درمیان امن پراسس اور مستقبل کی مجوزہ منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیاگیا اور بعض اقدامات کی اطلاعات مغربی میڈیا نے شائع بھی کیں تاہم افغان حکومت کے رویے میں کوئی خاص فرق نہیں آیا اور شاید اسی کا ردِ عمل تھا کہ پاکستان افغان حکومت اور کسی حد تک طالبان کے ساتھ ہونے والی رابطہ کاری کے عمل سے لاتعلق ہوگیا مگر ساتھ میں یہ کوشش بھی کرتا رہا کہ عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے عمل میں تعاون فراہم کرے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ طالبان ترکی کانفرنس میں مشروط شرکت پر آمادہ نظر آتے ہیںاور اس دوران عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ سی آئی اے کے سربراہ اسی سلسلے میں پاکستان سے مشاورت کرنے پاکستان کے خفیہ دورے پر آئے ہیں۔
پاکستان کے واضح موقف اور نئی صف بندی کے بعد اس قسم کی اطلاعات پھیلائی گئیں کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین پر بعض ہوائی اڈوں سمیت بعض سہولتیں فراہم کرے گا تاکہ افغانستان پر نظر رکھی جاسکے۔ پاکستان کے متعلقہ اعلیٰ حکام نے پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر اڈے دینے کی اطلاعات کو غلط قرار دے کر کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایسی کوئی ڈیلنگ کی نہ تو بات ہوئی ہے اور نہ ہی امریکہ کو ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی مگر اس کے باوجود تبصرے جاری رہے۔ ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ امریکی میڈیا نے جان بوجھ کر اس نوعیت کی اطلاعات یا رپورٹس شائع کیں تاکہ پاکستان اور طالبان کے علاوہ چین اور روس کے ساتھ پاکستان کے آگے بڑھنے والے بہتر تعلقات میں شکوک و شبہات پیدا کرکے بدگمانیوں کا راستہ ہموار کیاجائے۔
اس سے قبل مئی2021کے اوائل میں جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق سپیکر اسد قیصر کی قیادت میں کابل پہنچا تو وفد کے خصوصی طیارے کو سکیورٹی پرابلمز کے نام پر ایئر پورٹ پر اترنے نہیں دیاگیا جس نے اس کے باوجود فاصلے بڑھا دیئے کہ پاکستان نے اس پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ جب بھی افغان حکومت بلائے گی وفد پھر جائے گا۔ اس تمام صورت حال نے جہاں ایک طرف انٹر ا افغان ڈائیلاگ سمیت دوسری ان کوششوں کو نقصان پہنچایا جو کہ بعد از امریکی انخلاء کے لئے پاکستان کررہا تھا، وہاں طالبان کے حملوں میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 10جون کو ایک امریکی رپورٹ میں کہاگیا کہ طالبان نے صرف دو ہفتوں کے دوران تقریباً 8 اضلاع پر قبضہ کیا اور ان کی پیش قدمی جاری ہے۔14جون کو امریکی سینٹکام(US CENTCOM) کے سربراہ جنرل فرانک نے اعلان کیا کہ امریکہ ستمبرمیں اپنی فورسز کے انخلاء کے بعد افغانستان کی ایئر فورس یا دوسری فورسز کی اس طرح سے سپورٹ نہیں کرے گا جیسا وہ کرتا آیا ہے۔ اس اعلان نے مزید تشویش کو جنم دیا اور غالباً اس کے بعد اطلاعات کی  اصلیت بھی واضح کردی جن میں کہاجارہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اڈے فراہم کررہا ہے۔ کیونکہ یہ ایک اہم ترین امریکی عہدیدار کا واضح اعلان تھا۔
اب اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کا مستقبل اور پاکستان کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟
ماہرین، تجزیہ کار اور سفارتکار اس ضمن میں جن اہم نکات ، امکانات اور خدشات پر متفق نظر آتے ہیں وہ یہ ہیں:
1۔    افغانستان جاری کشیدگی کے باعث پھر سے خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے اور اگر طالبان کی پیش قدمی اسی طرح جاری رہی تو افغان حکومت کے لئے ماضی کی طرح کابل سمیت دوسرے شہروں کو بچانا بھی مشکل ہوجائے گا۔
2۔    امریکہ کی لاتعلقی اور محدود ترین مدد کے اعلانات نے اشرف غنی کی حکومت کو سیاسی، اقتصادی مشکلات اور تنہائی کی صورت حال سے دوچار کردیا ہے اور عوام  پھر سے طالبان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
3۔    اس بات کا یقینی خطرہ موجود ہے کہ اس بار افغانستان مختلف لسانی گروپوں کے تصادم کا مرکز بن جائے کیونکہ 20برسوں کے دوران نظام حکومت میں پشتون اکثریت پر دوسری اقلیتوں کا غلبہ رہا جس کے باعث پشتون آبادی موجودہ نظام سے نہ صرف غیرمطمئن ہے بلکہ مزاحمت پر بھی اُتر آئی ہے جس کا طالبان فائدہ اٹھائیں گے۔
4۔    افغانستان پھر سے عالمی اور علاقائی پراکسیز کا مرکز بنے گا کیونکہ صلح کی تمام کوششیں ناکام دکھائی دے رہی ہیں اور جاری صورت حال سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ چین اور روس بھی لاتعلق نہیں رہیں گے۔
5۔    اگر خانہ جنگی کا ستمبرکے بعد آغاز ہوتا ہے تو اس کے پاکستان پر ماضی کی طرح براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کی سرحدوں پر دبائو بڑھے گا۔ سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگا اور مہاجرین کی تعداد میں پھر اضافہ ہوگا۔
6۔    پاکستان نے اگرچہ ماضی کے مقابلے میں سرحدوں کی سکیورٹی اور مانیٹرنگ کو مؤثر بنایا ہے اور قبائلی علاقوںمیں صورت حال پہلے سے بہت بہتر ہے تاہم کشیدگی کی صورت میں اس کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کی پھر بھی کوشش ہوگی کہ مسئلے کا سیاسی حل نکل آئے کیونکہ سی پیک وغیرہ کے لئے بھی افغان امن لازمی ہے۔
7۔    پاکستان کی کوشش ہوگی کہ ٹی ٹی پی اور دیگر کو جہاں پھر سے فعال نہ ہونے دے وہاں افغان طالبان کو دوحا معاہدے کے تحت اس بات کا پابند بنائے کہ وہ ٹی ٹی پی یا دوسروں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے دیں۔ یہ مطالبہ امریکہ اور افغان حکومت سے بھی کیا جائے گا۔ ||


 

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP