قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکہ میں صدارتی انتخابات

دنیا بھر کی نظریں اس وقت امریکہ کے صدارتی انتخابات پر لگی ہیں جو امریکی قانون کے مطابق ہر چار سال بعد نومبر کے دوسرے منگل کو منعقد ہوتے ہیں۔ امریکی تاریخ کے یہ58 ویں صدارتی انتخابات ہیں جو رواں سال2016میں منعقد ہو ر ہے ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور کا الیکشن ہے جس کے کم یا زیادہ اثرات بالواسطہ یا بلاواسطہ دنیا کے ہر ملک پر پڑتے ہیں۔ اسی عالمگیر اہمیت کی وجہ سے یہ انتخابات دنیا بھر کے لوگوں اور حکومتوں کے لئے توجہ کا باعث ہیں۔ دنیا بھر کی معیشت‘ معاشرت اور سیاست پر امریکہ کے صدارتی الیکشن کے اثرات مرتب ہوتے ہیں یہاں تک کہ دنیا کے200 ممالک میں رہنے والے 7 ارب سے زائد انسان کسی نہ کسی طرح سپر پاور کے صدارتی انتخابات سے متاثر ہوتے ہیں۔ نومبر کے دوسرے منگل کو فتح یاب ہونے والا صدارتی امیدوار اگلے سال کے پہلے مہینے (جنوری) کی 20 تاریخ کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھاتا ہے۔ اگر20 جنوری کو اتوار آجائے تو بھی حلف برداری کی تقریب اسی روز ہی منعقد ہوگی تاہم قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے اگلے روز دوبارہ حلف اٹھایا جائے گا۔

 

امریکہ کے صدارتی انتخابات کا طریقہ کار باقی دنیا کے انتخابی طریقہ کار سے بہت مختلف ہے۔ جمہوریت کے عالمی چیمپئن ہونے کے دعویدار اس ملک میں دو جماعتی نظام رائج ہے یعنی ہر امریکی شہری کو دو میں سے ایک کا انتخاب ضرور کرنا ہے اس کے پاس کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔ امریکہ کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی ہیں۔ امریکہ کے موجودہ صدر بارک حسین اوبامہ کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو دوسری بار صدارتی مدت پوری کرنے کا اعزاز حاصل کررہے ہیں جبکہ ان کے پیشرو جارج بُش مسلسل دومرتبہ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد امریکہ کے صدر رہے۔ مجموعی طور پر ریپبلکن پارٹی کے18 نمائندے امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں جن میں سب سے پہلے ابراہم لنکن اور اب تک کے آخری صدر جارج بش ہیں۔ ان تمام صدور کا مجموعی دورِ حکومت 88سال بنتا ہے۔ ان میں سے چار افراد کو دوبار صدارتی مدت مکمل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس پارٹی کے پانچ صدور ایک دورانیہ صدارت مکمل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ باقی صدور یا تو دورانِ صدارت قتل ہوئے یا پھر انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ دورانِ صدارت قتل ہونے والوں میں ابراہم لنکن اور مستعفی ہونے والوں میں رچرڈ نکسن نمایاں ہیں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے 15 صدور تقریباً 85 سال تک امریکہ پر برسرِاقتدار رہے جن میں سے پانچ صدور نے دومرتبہ امریکی صدارت کی مدت مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے ممبر فرینکلن روزویلٹ چار مرتبہ امریکہ کا صدارتی الیکشن جیتے۔ تین مرتبہ صدارتی انتخاب کا دورانیہ مکمل کیا جبکہ چوتھی مدت صدارت کے دوران خرابی صحت کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ نیویارک کا ایئرپورٹ انہی کے نام سے موسوم ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ امریکی صدر بارک اوبامہ دوسری بار اپنی مدتِ صدارت پوری کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق اب کوئی شخص تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں۔

 

 

امریکہ کا صدارتی انتخاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ الیکشن کا سال شروع ہوتے ہی ملک بھر کی پچاس ریاستوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلا مرحلہ پرائمری الیکشن کہلاتا ہے جس میں باری بار تمام امریکی ریاستوں میں امریکی شہریوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کا صدارتی امیدوار منتخب کریں۔ امریکی قانون کے مطابق ہر ووٹر اپنی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اندراج کراتا ہے لہٰذا پرائمری انتخاب کے مرحلے پر وہ صرف اپنی اعلان کردہ پارٹی کے بہت سے صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کو ووٹ دیتا ہے۔ کوئی بھی امریکی شہری اس مرحلے پر دوسری پارٹی کے اُمیدوار کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ پرائمری انتخاب کا مرحلہ مکمل ہونے پر دونوں پارٹیوں کے منتخب کردہ نمائندے سامنے آجاتے ہیں اور جولائی میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے کنونشن میں باضابطہ طور ان کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں پارٹیوں کے صدارتی امیدوار اپنے نائب صدور کا اعلان کرتے ہیں جس کے بعد صدارتی الیکشن کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔

 

2016کے امریکی صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کو ہے جس میں بڑی حد تک صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ سابق صدربل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آچکی ہیں جبکہ پرائمری الیکشن کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بن چکے ہیں۔ انتہانی متنازعہ شخصیت کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ کی بطورِ صدارتی امیدوار نامزدگی امریکی معاشرے کے لئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مدِ مقابل امیدوار ٹیڈ کروز پرائمری انتخاب کامرحلہ بری طرح ہار گئے۔

 

مجھے ذاتی طور پر امریکہ کے گزشتہ صدارتی انتخابات براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ 2012 کے وسط میں جب میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں امریکہ کی انڈیانہ یورسٹی پہنچا تو صدارتی انتخاب کی مہم زور و شور سے شروع ہو چکی تھی۔ میرا قیام امریکی ریاست انڈیانہ کے سرسبزو شاداب قصبے پومنگٹن میں تھا جہاں دنیا کی قدیم ترین جامعات میں سے ایک یعنی انڈیانہ یونیورسٹی کا مین کیمپس واقع ہے جو گزشتہ 200 سال سے علومِ جدید کی شمع جلائے ہوئے ہے۔ ان دنوں نجی محفلوں کا سب سے بڑا موضوع صدارتی انتخاب تھا۔ جبکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے نمائندے اپنی اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف تھے۔ امریکہ کی صدارتی الیکشن کی مہم کا بڑا مرحلہ ٹیلی ویژن سکرین کے ذریعے طے پاتا ہے جب صدارتی اور نائب صدارتی امیدواروں کے براہِ راست مباحثے منعقد ہوتے ہیں۔ عام طور پر مباحثے کی یہ تقریب کسی یونیورسٹی یا کالج میں منعقد کی جاتی ہے جہاں دونوں صدارتی امیدوار اپنا اپنا لائحہ عمل پیش کرتے ہیں اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ یہ مباحثہ پورے امریکہ میں ٹیلی ویژن پر براہِ راست دیکھا جاتا ہے جس میں دونوں امیدوار اپنی انتخابی مہم کا منشور پیش کرتے ہیں۔ ٹیلی ویژن مباحثوں کا یہ سلسلہ امریکی عوام کی رائے بنانے اور تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک مباحثہ دونوں پارٹیوں کے نائب صدور کے درمیان منعقد ہوتا ہے جبکہ باقی تین یا چار مباحثے صدارتی امیدواروں کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ امریکہ کے شہری یہ مباحثے بہت اہتمام سے سنتے ہیں۔ بالعموم ان مباحثوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا صدارتی امیدوار انتخاب جیت جاتا ہے۔ ان مباحثوں میں دو یا تین مباحثے امریکہ کے اندرونی مسائل اور معاملات کے حوالے سے منعقد ہوتے ہیں جبکہ آخری مباحثہ غیر ملکی مسائل اور معاملات کے حوالے سے منعقد ہوتا ہے۔2012 کے صدارتی انتخاب کا آخری ٹیلی ویژن مباحثہ دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں بارک اوبامہ اور مٹ رومنی نے بین الاقوامی معاملات پر گفتگو کی۔120 منٹ کے اس صدارتی مباحثے میں70 منٹ تک صرف مسلم ممالک زیرِ بحث رہے جن میں پاکستان‘ ایران‘ سعودی عرب‘ لیبیا‘ عراق اور افغانستان جیسے ممالک کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بحث ہوتی رہی۔ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی سے جب یہ پوچھا گیا

"Is this not a time to divorce Pakistan

تو اس نے جواب دیا

"No we cannot divorce a nation with 200 nuclear weapons."

نائب صدارت کے ریپبلکن امیدوار پال ریان سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکی فوجیوں نے افغانستان میں قرآن کے اوراق جلائے۔ کیا ہمیں مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے؟ تو اس نے جواب دیا :

"No, we should not appologize to any one because we are the greatest nation on earth."

اس طرح کے بیانات رائے عامہ پر اثرانداز ہوتے ہیں ویسے بھی عمومی رجحان یہی ہے کہ امریکہ میں مقیم غیر ملکی باشندوں‘ مسلمانوں اور افریقی ممالک کے شہریوں کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتی ہے۔ اسی بات کا فائدہ بارک اوبامہ کو ہوا کہ وہ آسانی سے دوسری بار امریکی صدارت کا الیکشن جیت گئے۔ ریپبلکن پارٹی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ سفید فام امریکیوں کی متعصب جماعت ہے جو مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتی ہے۔ یہ جماعت سیاہ فام باشندوں سے بھی تعصب کا سلوک روا رکھتی ہے جس کی وجہ سے سیاہ فام باشندے اور مسلمانوں کی اکثریت اس پارٹی کو ووٹ نہیں دیتی۔ امریکہ کے اندرونی مسائل بھی صدارتی الیکشن کی مہم کا مرکز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر صحت کے حوالے سے ہیلتھ انشورنس پالیسی‘ بے روز گاری‘ ملازمت کے مواقع‘ ملکی معیشت کے نشیب و فراز‘ مہنگائی‘ افراطِ زر ‘ صنعتی بحران‘ قتل و غارت کے واقعات اور مذہبی رواداری جیسے معاملات خاص طور پر صدارتی مباحثوں میں زیرِ بحث آتے ہیں۔ سفید فام امریکی باشندوں کی نسل پرستی کا یہ عالم ہے کہ مرکزی اور وسطی امریکہ کی تمام تر ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری اکثریت میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں جبکہ نیویارک اور کیلیفورنیا سمیت ساحلی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ زیادہ ملتے ہیں۔

 

2012 الیکشن میں بارک اوبامہ دوسری بار امریکہ کے صدر بنے تو مجھے ان کی پارٹی کی طرف سے واشنگٹن میں ہونے والی تقریبحلف برداری میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ میں نے اس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے واشنگٹن جانے کا ارادہ کیا۔ میری امریکی میزبان کیتھلین برنٹ مجھے اپنی گاڑی میں لے کر واشنگٹن کی طرف رواں دواں تھی۔14 گھنٹے کا سفر میرے لئے یادگار تھا کیونکہ راستے میں بہت سی امریکی ریاستوں سے گزرنے کا موقع ملا۔ واشنگٹن پہنچے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے پورا مریکہ اپنے دارالحکومت میں امڈ آیا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ افراد اپنے صدر کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے واشنگٹن آئے تھے۔ صدر اوبامہ اپنی گاڑی میں سے ہاتھ ہلاتے ہوئے وائٹ ہاؤس سے نمودار ہوئے اور کانگریس کی عمارت کی طرف چل دیئے جہاں بعض سابق امریکی صدور اپنی بیگمات کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔ ہزاروں نوجوانوں اور بچوں نے اوبامہ کی تصویر والی شرٹیں زیبِ تن کر رکھی تھیں جو اپنے صدرکے ساتھ ان کی محبت کا ثبوت تھا۔ دنیا کی منظم ترین قوم کے لوگ تقریب کے بعد بڑے منظم انداز سے منتشر ہوگئے اور اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے ۔

 

2016کا امریکی صدارتی انتخاب بھی دنیا بھر کے لئے اہمیت رکھتا ہے اس لئے پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ اس حوالے سے خبریں اور رپورٹیں نشر کررہے ہیں۔ ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا عام خیال یہی ہے کہ دونلڈ ٹرمپ کے متعصبانہ رویے اور متنازعہ بیانات کی وجہ سے ہلیری کلنٹن کے لئے صدارتی انتخاب جیتنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ لیکن دوسری طرف اوبامہ حکومت کی قومی اور بین الاقوامی معاملات میں ناکامیاں بھی ہلیری کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ تاہم ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینے میں ٹیلی ویژن مباحثوں میں ہونے والی تقاریر اور سوالوں کے جوابات سے یہ تعین کیا جاسکے گا کہ واشنگٹن ڈی سی میں قائم وائٹ ہاؤس کا اگلا باشندہ کون ہوگا۔ امریکی عوام کے لئے بھی سخت آزمائش اور امتحان مرحلہ ہوگا کہ وہ اپنے ملک کی قیادت کس کے سپرد کرتے ہیں۔ دنیا کے باقی ممالک بھی اپنے بارے میں امریکی پالیسی کا اندازہ ان براہِ راست ٹی وی مباحثوں سے کرسکتے ہیں جو الیکشن سے دوماہ پہلے شروع ہو جائیں گے۔ ہلیری کلنٹن کی کامیابی کی صورت میں انہیں پہلی امریکی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہوجائے گا ۔


مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP