قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکہ ،بھارت فوجی معاہدے

امریکہ، بھارت کے درمیان
Logistic Exchange Momorandum of Agreement 
کے تحت فوجی تعاون کے معاہدے پر واشنگٹن میں دستخط ہوئے۔
LEMOA
معاہدے کے مطابق امریکہ اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے بلکہ ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو مشترکہ دشمن اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف بھی استعمال کریں گے۔ بھارتی حکومت نے فوجی اور سیاسی تجزیہنگاروں سے گزارش کی کہ اس معاہدے کو مستقل بنیادوں پر فوجی معاہدہ نہ سمجھا جائے۔ بلکہ یہ صرف ایک لاجسٹک سہولت ہے جو امریکی، بری، بحری اور فضائی جہازوں کو دی جائے گی۔ جس سے دونوں ممالک کی خودمختاری کم نہ ہو گی۔ امریکہ بھارت میں نہ ہی کوئی فوج اور نہ ہی کوئی فوجی جہاز مستقل طور پر کھڑا کرے گا۔ یعنی جو بھی سہولت ہو گی وہ وقتی یا وقت پڑنے پر استعمال کی جائے گی۔ آج کے سائنسی دور میں کوئی بھی زمین کا ٹکڑا جو صرف لاجسٹک سہولت دے وہ وقت پڑنے پر فوجی اڈے کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس پوری لاجسٹک سہولت میں ایندھن کی فراہمی کے علاوہ اور بھی لاتعداد اشیاء جو باہمی آپریشن‘ انسانی ہمدردی کے طور پر مددیا ریلیف آپریشن میں چاہئیں ہوں‘ موجود ہوتی ہیں۔ یعنی لاجسٹک سہولت کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر کیا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ لاجسٹک سہولت دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے کسی بھی فوجی تعاون کے معاہدے کا پہلا قدم ہے۔ 
1950کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدے میں شامل ہوا تھا تو بھارت نے ایک سفارتی مہم کے ذریعے پاکستان کا غیرجانبدار تحریک 
(NAM)
میں راستہ روکا تھا اور آج بھارتی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ وقتی سہولیات ہیں۔ امریکہ نے 20ویں صدی کے دوسرے حصے میں دنیا کے معاشی اور 
Strategic
اُفق پر اسی طرح کے تقریباً 800فوجی اڈوں سے حکمرانی کی تھی۔ مستقل فوجی اڈے امریکہ کے لئے زیادہ سودمند نہ ثابت ہوئے۔ اس لئے امریکہ نے لاجسٹک سہولیات کاطریقہ استعمال کیا۔ بھارت میں
LEMOA 
پر اس لئے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ اس سے امریکہ کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ رسائی دونوں ممالک کو حاصل ہو گی۔ لہٰذا اس سہولت کے ذریعے اپنی مرضی کی طاقت کا توازن اس خطے میں قائم کیا جا سکتا ہے۔


اس معاہدے سے جنوبی ایشیا پرہونے والے اثرات جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ ماضی میں کی گئی تمام کوششیں اب کامیاب ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ایک ملک جو پہلے ہی اپنے آپ کو سکیورٹی مہیا کرنے والا سمجھتا ہو اورجس کی خطے کے باقی چھوٹے ممالک سے تعلقات برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک پولیس مین جیسے ہوں تو آنے والے وقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایک عالمی طاقت سے معاہدے کے بعد بھارت نے اپنے اس رول کی تصدیق بھی کر دی۔
صورتحال مزید تشویشناک اس لئے بھی ہے کہ امریکہ اور بھارت نے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرحدی دراندازی کا الزام لگایا ہے۔ ان سب کے بعد امریکہ یا دنیا یہ کیسے امید کر سکتی ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات میں لچک دکھائے گا۔ بلکہ اس کی پالیسی میں زیادہ خود سری اور سختی آ جائے گی۔ پہلے بھی تمام رابطے اور کوششیں پاکستان ہی کی طرف سے کی جاتی رہی ہیں اور وہ بھارت کی غیرلچکدار پالیسی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یعنی جنوبی ایشیا میں آج تک کی جانے والی کوششیں ضائع ہوتی نظرآرہی ہیں۔
اس غیرمتوازن طاقت میں افغانستان، بھارت اور امریکہ کا ساتھی ہے۔ پاکستان سے ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ دراصل امریکہ بھارت ہم آہنگی اور پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے کی طرف ایک قدم ہے اور اس میں افغانستان کی موجودہ حکومت ان کے ساتھ ہے۔ سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان کو شامل نہ کرنا افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کو خراب کرے گا۔ افغانستان میں برسرپیکار افغان گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں پاکستان کی جگہ بھارت کو دینا ایک بہت سنگین غلطی ہونے جا رہی ہے۔ بھارت، امریکہ اور افغانستان حکومت کو یہ ماننا چاہئے کہ افغانستان مزید خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے یہ چار بلکہ پانچ فریقی مذاکرت ہونے چاہئیں۔ خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثر افغانستان ہو گا اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو گے۔ تو کیا یہ تجزیہ بالکل ٹھیک نہیں ہو گاکہ امریکہ دراصل افغانستان میں چین اور روس پر نظر رکھنے کے ارادے سے آیا تھا ۔ نہ ہی امریکہ کو کبھی افغانستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے میں دلچسپی رہی ہے اور نہ ہی اس وجہ سے پھیلنے والی دہشت گردی سے امریکہ براہ راست متاثر ہوا۔ امریکہ کی پالیسی چین فوکسڈ ہے اور یہی ایک مشترکہ مفاد ہے جو بھارت اور امریکہ کو اتنا قریب لے آیا ہے۔


کشمیر میں بھارت کی ظالمانہ پالیسی کو مزید تقویت ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ دنیا کا الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کی رپورٹنگ کر رہی ہیں جبکہ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھاچکا ہے۔ ایسے میں بھارت امریکہ کے دفاعی معاہدے کا سیاسی فائدہ اٹھائے گا۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ نہ بنائیں تو پاکستان کی کوششوں کو آسانی سے پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ یہیں بھارت کو مزید موقع مل جائے گا کہ وہ سفاکیت سے کشمیریوں کی تحریک کو دبائے۔ یعنی بھارت نے ایک دفاعی معاہدے سے کتنی بڑی سیاسی چال چلی ہے امریکہ اس نئے تعلق کے بعد بھارت کی کسی بھی پالیسی پر اعتراض نہیں اٹھائے گا چاہے وہ انسانی حقوق کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ کر رہا ہو۔ جیسا کہ اب بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ لیکن بڑی طاقتوں خاص کر امریکہ کو اپنا سیاسی مفاد زیادہ اہم نظر آتا ہے۔ اس لئے نہ پہلے اور نہ اب مسئلہ کشمیر یا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکہ اور اس کے اتحادی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ مفادات کی سیاست ہے نہ کہ اصولوں کی۔ بھارت اس معاہدے کے ذریعے امریکہ کو جانبدار کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس طرح اسے اپنی دوسری پالیسیوں میں بھی گرین سگنل مل جائے گا۔ چاہے وہ کشمیری ہوں یا خطے کے دوسرے چھوٹے ممالک ۔ چین اور بھارت دونوں عالمی طاقت بننے کے خواہش مند ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے دونوں کی جانب سے یہ دوڑ جاری ہے۔ چنانچہ آنے والے سالوں میں دونوں کے مفادات کا ٹکراؤ لازم ہے۔ خاص کر اس وقت جب چین ون بیلٹ‘ ون روڈ پالیسی کے تحت سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگا رہا ہے۔ امریکہ سی پیک پر نظر رکھنے کے لئے بھارت کے ان فوجی اڈوں کی سہولت کو بآسانی استعمال کر سکے گا اور چین کی گوادر اور 
South China Sea
میں بحری آمدورفت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔
امریکہ
Pacific
خطے کی طرف ایک ایسے عظیم اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں جاپان، فلپائن اور آسٹریلیا پہلے ہی موجود ہیں۔ امریکہ بھارت اتحاد ایک دو طرفہ معاہدہ ہے۔ لیکن یہ معاہدہ اس اتحادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔ جبکہ پاکستان چین روس اور جنوبی کوریا اس اتحاد سے باہر ہیں۔ یہ اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ اس سے ملتی جلتی صورت حال جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔ جب یورپ کے ممالک دو بڑے عظیم اتحادوں میں بٹ گئے تھے۔ امریکہ کو چین اور روس کی بڑھتی ہوئی دوستی اور دونوں ممالک کا دنیا میں ابھرتا ہوا کردار دراصل عظیم اتحاد کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن اس سے جنوبی ایشیا کے ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک کیا بھگتنے جا رہے ہیں کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔


فوجی اڈے کسی بھی قسم کی فوری پیش قدمی خاص کر دشمن تک آسانی اور برق رفتاری سے پہنچنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ دشمن کو دباؤ میں رکھنے کا یہ ایک کارآمد حربہ ہے۔ بھارت میں اس طرح کی سہولت امریکہ کو بین الاقوامی
Strategic System 
پر حاوی کر دے گی او رکسی بھی مدمقابل خاص کر چین اور روس کو ابھرنے سے روکنے میں اہم ہو گی۔ امریکہ کے لئے مستقل اڈے زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئے اس لئے امریکہ نے لاجسٹک سہولت کا حل تلاش کیا۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ
LEMOA
سے امریکہ کو زیادہ فائدہ ہو گا ایسا نہیں ہے یہ
Operational Excess 
دونوں ممالک کو ہو گی۔ اس کے ذریعے خطے میں اپنی مرضی کا طاقت کا توازن بنایا جا سکتا ہے۔ اور بھارت مستقبل میں اس سہولت کا خطے میں استعمال کر سکتا ہے۔
اس معاہدے کی مزید مضبوطی اور اس تعاون میں پیش رفت آنے والے ردعمل سے بھی تقویت پائے گی۔ ردعمل روس اور ممکن ہے شمالی کوریا کی جانب سے کسی قسم کے اتحاد کی صورت میں آئے۔ ایسے ردعمل میں حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں امریکہ کو دی گئی سہولیات صرف
Operational
حد تک ہی محدود رہیں گی یا ان میں مزید گہرائی بھی آ سکتی ہے۔


مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔


شہداء کے نام

 

تمہارے لہو کی خوشبو مہک رہی ہے چار سُو
میرے من کی آرزُو چہک رہی ہے چار سُو
*
اس وطن کی آن کو تم نے جو شان دی
اے میرے مجاہدو! تم نے اپنی جان دی
*
تم نے ملک کے نام کو سر بلند کر دیا
ہم کو اس بات کا پھر پابند کر دیا
*
ہم نے اس ملک کو اِک نکھار دینا ہے
چار سُو محبت کا یہ پیغام دینا ہے
*
حوالدار قاضی محمد اخلاق 

**

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP