قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکہ۔ بھارت اور جنوبی ایشیا

سرد جنگ کے خاتمے سے جہاں عالمی سیاست میں اور بہت سی بنیادی تبدیلیاں رُونما ہوئی ہیں۔ وہاں امریکہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ تقریباََ تمام اہم شعبوں مثلاً تجارت،سرمایہ کاری،سیکورٹی،دہشت گردی کی روک تھام، تعلیم، ماحولیات، توانائی، دفاع اور سول نیوکلےئر تعاون میں قریبی تعلقات کے لئے کوششوں کا آغاز بھی شامل ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کا آغاز صدر بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں ہی ہوگیا تھا، تاہم اُن کے جانشین صدر بُش کے دور میں ان کوششوں نے ٹھوس شکل اختیار کی۔ 2005 میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورۂ امریکہ اور صدر بُش کے ساتھ اُن کی سربراہی کانفرنس کے نتیجے میں قائم ہونے والی امریکہ۔ بھارت سٹریٹجک پارٹنرشپ اور 2006 میں صدربُش کے دورۂ بھارت کے دوران ان دونوں ملکوں کے درمیان سول نیوکلےئر تعاون پر اتفاق اس کی دو اہم مثالیں ہیں۔ اسی سال ستمبر میں نئے منتخب اور بی۔ جے۔ پی حکومت کے سربراہ نریندرامودی نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ سرکاری اور غیرسرکاری دونوں سطحوں پر بھارتی وزیراعظم کا زبردست استقبال کیاگیا۔ صدر اوبامہ نے اُن کے اعزاز میں وائٹ ہاوس میں شاندار عشائیے کا اہتمام کیا۔ میڈیسن سکوائر میں نریندرامودی ایک خوبصورت ثقافتی تقریب میں مہمان خصوصی تھے جس میں امریکی کانگرس کے ممبران کے علاوہ اوبامہ سرکار کے متعدد افسران بھی شریک ہوئے۔ صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی نے دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی نوعیت،اغراض ومقاصد اور آئندہ سمت پر ایک مضمون بھی تحریر کیاجو امریکہ اور بھارت کے اخبارات میں شائع بھی ہوا۔ ملاقات کے بعد ایک طویل مشترکہ بیان جاری کیا گیا‘ جس میں دوطرفہ بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان مختلف مسائل پر مکمل فکری ہم آہنگی،مفاہمت اور قریبی تعاون پراتفاق کا اظہار کیا گیا ہے۔ مشترکہ مضمون میں صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ’’ہماری پارٹنرشپ نہ صرف بھر پور‘ قابل اعتماد اور مضبوط ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ ہورہا ہے‘‘اور وزیراعظم مودی کے مطابق بی۔ جے۔ پی کی حکومت کے قیام سے ان تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ دس برسوں میں تقریباََ تمام اہم شعبوں میں پہلے سے موجود قریبی تعاون کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لئے ایک متفقہ پروگرام جاری کیا ہے جسے ویژن سٹیٹمنٹ فار دی سٹریٹجک پارٹنرشپ (Vision Statement for the Strategic Partnership)کا نام دیا گیا ہے۔
جن شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوچکا ہے اور اس مقصدکے لئے جن معاہدات پر دستخط ہوچکے ہیں،اُن پر عمل درآمد کے لئے مختلف ادارے قائم کئے جارہے ہیں۔ مثلاََ بھارت میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لئے بھارتی وزارت خزانہ اور امریکی ڈیپارٹمنٹ ٹریثری کی قیادت میں انڈو۔ یو۔ ایس انوسٹمنٹ انیشییٹو (Indo-US Investment Initiative)قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزیدبرآں بھارت میں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں امریکی کمپنیوں کی شرکت کی راہ ہموار کرنے کے لئے بھارتی وزارت خزانہ اور امریکی ڈیپارٹمنٹ آف کامرس کی سربراہی میں ایک انفراسٹرکچرکولیبوریشن پلیٹ فارم (Infrastructure Collaboration Platform) کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے اسی طرح اجمیر،وساکھاپٹنم اور الہ آباد میں ’’سمارٹ سٹی‘‘قائم کرنے میں امریکی صنعتوں اور پورے بھارت میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور صفائی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں یو۔ ایس۔ ایڈ(US-AID)کی مدد سے منصوبوں کی تکمیل پر اتفاق بھی ہوا ہے۔ وزیراعظم نریندرامودی کی حکومت بھارت میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو فعال بنانے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لئے بھی امریکہ نے مدد اور تعاون کی پیش کش کی ہے۔ مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں نے اس پر عمل درآمد کے لئے ایک ’’ٹریڈ پالیسی فورم‘‘کے قیام پر بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان آٹھ سال قبل سول نیوکلئیر تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس شعبے سے متعلقہ چند مسائل پر اختلافات کی وجہ سے اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی نے مشترکہ بیان میں اس معاہدے پر عمل درآمد کے راستے میں حائل تمام انتظامی اور فنی رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلئیر تعاون میں تیزی آئے گی کیونکہ امریکہ اربوں ڈالرمالیت کے اپنے ایٹمی پلانٹ بھارت کو فروخت کرنا چاہتا ہے اور بھارت نیوکلئیر شعبے کو ترقی دے کر توانائی کے بحران میں کمی لانے کا خواہش مند ہے۔ اسی طرح انرجی سیکورٹی (Energy Security)کلین انرجی(Clean Energy) اور کلائمیٹ چینج(Climate Change) کے شعبوں میں بھارت اور امریکہ نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لئے یو۔ ایس۔ انڈیا انرجی ڈائیلاگ (US-India Energy Dialogue)کو فعال بنانے کا اعلان کیا ہے۔
بھارت اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ایک اہم پہلو دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون ہے۔ اب یہ تعاون محض دوطرفہ بنیادوں تک محدود نہیں رہا۔ امریکہ اور بھارت اس کے دائرے کو نہ صرف پورے جنوبی ایشیا، بلکہ وسطی ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقہ جات تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس لئے دونوں ملک اپنے موجودہ تعلقات کو ’’گلوبل پارٹنرشپ‘‘ (Global Partnership)کا نام دے رہے ہیں۔ دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لئے مشترکہ بیان میں2005 میں طے ہونے والے فریم ورک فار دی یو۔ ایس انڈیا ڈیفنس ریلیشن شپ(Framework for the US-India Defence Relationship) کو مزید دس سال کے لئے توسیع دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہتھیاروں کی خریداری اور بھارت میں امریکی لائسنس کے تحت ایک ڈیفنس ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی انیشیٹو (Defence Trade and Technology Initiative) قائم کی گئی ہے۔ جس کا پہلا اجلاس ستمبر 2014میں ہواتھا۔ امریکہ اور بھارت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک عرصے سے باہمی تعاون کرتے چلے آرہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں اس تعاون کو مزید وسیع کرنے کے عزم کا اعلان کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے داعش، القائدہ، لشکرِ طیبہ، جیش محمد، ڈی۔ کمپنی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ اقدام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کے لئے دونوں ملکوں نے ویزے کے اجراء کے عمل کو سہل بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت نے امریکی شہریوں کو بھارتی ہوائی اڈوں پر پہنچتے ہی ویزہ جاری کرنے کااعلان کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں امریکہ نے جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ بعید، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور رابطوں کو فروغ دینے کی پالیسی کی نہ صرف تعریف کی ہے بلکہ اس کی مددکرنے کابھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ خصوصاََ جنوبی، جنوب مشرقی اور وسطی ایشیائی خطوں کے درمیان اقتصادی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے،مواصلاتی رابطوں کے قیام میں بھارت کے مرکزی کردار پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں نیو سلک روڈ (New Silk Road)اور انڈیا۔ پیسیفک اکنامک کو ریڈور (India-Pacific Economic Corridor)کے ذریعے بھارت اور اُس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع سطح پر تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بہتر بنانے میں امریکہ نے بھارت کوایک کلیدی کردار ادا کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے اب تک بھارت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی رُونما ہوئی ہے۔ دوطرفہ تجارت کو ہی لے لیجئے۔ 2001سے اب تک اس کا حجم 5گنا اضافہ کے ساتھ100بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دونوں ممالک آئندہ پانچ برسوں یعنی2020تک اسے 500بلین ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ وزیراعظم نریندرامودی اور صدر اوبامہ نے اپنے مشترکہ مضمون میں تحریر کیا ہے اس وقت بھارت اور امریکی طالب علم تحقیقی منصوبوں میں اکٹھے کام کرتے ہیں، دونوں ملکوں کے سائنسدان مل کر نئی ایجادات ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ بھارت اور امریکہ کی بحری،فضائی اور زمینی افواج مشترکہ مشقوں میں حصہ لیتی ہیں اور خلائی پروگرام میں عدیم المثال تعاون جاری ہے جس کا مظاہرہ بھارت کی جانب سے مریخ کے مدار میں خلائی جہاز داخل کرنے کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے لیکن اس کے باوجود بھارت اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں حالیہ اضافہ جتنا اہم اور نمایاں ہیں،اُتنے ہی اہم وہ سوالات ہیں جو مختلف حلقوں میں اور مختلف سطحوں پر اس کے بارے میں اُٹھائے جارہے ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات اور تعاون کا یہ سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ یا رنجش کے جاری رہے گا؟۔ دوسرے ان تعلقات اور قریبی تعاون کے اصل محرکات کیا ہیں؟ اور تیسرے یہ کہ ان کا جنوبی ایشیائی خطے پر کیا اثر پڑے گا؟ان سوالات کا جواب دینے سے قبل یہاں اس امر کا ذکر کرنا مفید ہوگا کہ سردجنگ کے زمانے میں بھی امریکہ بھارت کو اپنا حلیف بنانے کا خواہش مند تھا۔ لیکن پنڈت نہرو کی ’’غیرجانبدارانہ‘‘خارجہ پالیسی اور سابق سوویت یونین کی طرف سے اُن کا رجحان آڑے آیا۔ 1949میں چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی اور 1950-51میں کوریا کی جنگ کے باعث جب سرد جنگ کا فوکس یورپ سے ایشیا میں شفٹ ہوا،تو امریکہ نے یورپ کی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں بھی چین کے گرد حصار باندھنے کے لئے اجتمائی دفاعی معاہدے یعنی ’’سیٹو‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے سب سے پہلے بھارت کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ لیکن پنڈت نہرو نے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ نے پاکستان کو اس معاہدے میں شامل کر لیا۔ سیٹو میں پاکستان کی شمولیت کے اور پاک۔ امریکہ دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی سپلائی پر پنڈت نہرو کی برہمی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان دوریاں پیدا کردیں اور جب1950اور 1960کی دہائیوں میں سابق سوویت یونین بھارت کو اسلحہ اور ہتھیار سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا،تو یہ دوریاں طویل فاصلوں میں تبدیل ہوگئیں۔ اندراگاندھی کا دور، بھارت۔ امریکہ تعلقات کے لئے سب سے بْرا دور تھا۔ اس زمانے یعنی 1971کی پاک۔ بھارت جنگ کے دوران میں اندرا گاندھی کی حکومت نے امریکہ پر پاکستان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی دوران امریکی سراغ رساں ادارے سی۔ آئی۔ اے پر بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اندراگاندھی کی حکومت کے خلاف اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی مدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ لیکن1990کی دہائی کے بعد بین الاقوامی سیاست اور خود بھارت کے اندر تبدیلیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں امریکہ نے جنوبی ایشیا اور خود بھارت کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کا آغاز کر دیا۔ سب سے پہلے سرد جنگ کا خاتمہ تھا۔ اس کے نتیجے میں بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کی تنزلی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ ماضی کے برعکس بھارت کے لئے اب ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے روس پر کلیتاََ انحصار کرنا ممکن نہ رہااور بھارت نے اسلحہ کی خریداری کے لئے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دئیے جن میں امریکہ سرفہرست تھا۔ پنڈت نہرو کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور سابق سوویت یونین کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے امریکہ۔ بھارت تعلقات سیاسی اور دفاعی شعبے میں آگے نہ بڑھ سکے۔ اسی طرح اندرون ملک پنڈت نہرو کے سوشلسٹ نظریات اور کمانڈاکانومی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت،کاروبار اور سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ لیکن 1990کی دہائی میں وزیراعظم نرسیما راؤ کے اُس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی معاشی اصلاحات نے بھارتی اکانومی کو بہت سی پابندیوں سے آزاد کر دیا۔ اس سے امریکہ کے ساتھ تجارت اور کاروباری تعلقات کی راہیں کھل گئیں۔ 2000میں صدر کلنٹن کا بھارت کا دورہ جس میں اُن کے ساتھ امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی ایک بہت بڑی تعداد شامل تھی اسی مقصد کے لئے تھا۔ 9/11اور افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کی وجہ سے امریکہ کو ایک دفعہ پھرجنوبی ایشیا کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ القائدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں اگرچہ کلیدی کردار پاکستان ادا کر رہا تھا لیکن امریکہ افغانستان میں بھارت کے کردار کا بھی خواہش مند تھا۔ بدلے ہوئے حالات نے امریکہ کو بھارت کے ایٹمی تجربات کے ساتھ بھی سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیااور وہی ملک جس کے خلاف 1998میں اٹیمی تجربات کرنے کی بنا پر امریکہ نے اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اُس کے ساتھ 2006میں سول نیوکلئیر تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنا پڑے۔ جنوبی ایشیا میں امریکی دلچسپی اور بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کی شدید خواہش کی دو وجوہات ہیں۔ ایک ان میں چین کا ایک بڑی معاشی طاقت کی حیثیت سے اُبھرنا اور دوسری جنوبی ایشیا میں ایک وسیع کنزیومر مارکیٹ (Consumer Market)کی موجودگی‘ جس سے نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک جن کی معیشتیں کساد بازاری کا شکار ہیں،فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔
جہاں تک امریکہ۔ بھارت کے موجودہ بڑھتے ہوئے تعلقات کے مستقبل کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ لگانے کے لئے ہمیں دوباتوں کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ پہلی یہ کہ کچھ شعبے ایسے ہیں جن میں امریکہ اور بھارت کے باہمی مفادات منتبق ہیں۔ مثلاََ جنوبی ایشیاء اور بحر ہند کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے آگے بند باندھنا۔ اس کے علاوہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس لئے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے میں اضافہ ہوگا۔ دہشت گردی کے مسئلے پر اور اُس سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی امریکہ اور بھارت کی سوچ ایک جیسی ہے۔ اس لئے مستقبل میں امریکی اور بھارتی افواج کے درمیان تعاون اور رابطوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن چند شعبے ایسے بھی ہیں جہاں امریکہ اور بھارت کے نقطۂ نظر میں اختلاف موجود ہے۔ اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے جس کے مفادات کی نوعیت بھی عالمی ہے۔ اور وہ مسائل کو بھی عالمی سطح پر نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کا نقطۂ نظر علاقائی ہے اور نہرسویز سے لے کر آبنائے ملا کا تک کے تمام خطے میں اپنے آپ کو پرانی سلطنت برطانیہ کا جانشین سمجھتا ہے۔ جنوبی ایشیاء اور بحر ہند کا خطہ بھارت کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ اس کی وجہ تاریخی بھی ہے اور جغرافیائی بھی اور اس کی بناء پر بھارت اس پورے خطے کو اپنا حلقہء اثر (Sphere of Influence)سمجھتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت بھارت جنوبی ایشیاء کے چھوٹے ممالک خواہ وہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش، نیپال ہو یا سری لنکا کو آزادی اور اپنی مرضی سے خطے سے باہر طاقتوں خواہ وہ چین ہو یا امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔ بھارت کا اصرار ہے کہ بڑی طاقتیں جنوبی ایشیاء کو بھارت کی نظر سے دیکھیں اور جنوبی ایشیاء کے چھوٹے ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خطے سے باہر بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتے وقت بھارتی سلامتی کے خدشات کو پیش نظر رکھیں۔ سابق سوویت یونین کے ساتھ بھارت کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سوویت لیڈروں نے جنوبی ایشیاء کو ہمیشہ بھارت کی نظر سے دیکھا اور چین کے ساتھ بھارت کی ناراضگی کی بھی یہی وجہ تھی کہ چین نے جنوبی ایشیاء کے چھوٹے ممالک مثلاََ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان کے ساتھ خالصتاََ دوطرفہ بنیادوں پر تعلقات قائم کئے۔ جنوبی ایشیاء کے بارے میں امریکہ کی موجودہ اور سابقہ پالیسی میں فرق یہ ہے کہ امریکہ صرف بھارت کے ساتھ ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی دوطرفہ اور آزادانہ بنیادوں پر معاشی اور سیاسی تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اپنی پالیسی کو بھارت کی مرضی کے تابع نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی نمایاں مثال پاک۔ امریکہ تعلقات ہیں۔ جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کے درمیان تجارتی اور توانائی کے رابطوں کو پروان چڑھانے کے لئے جس منصوبے میں امریکہ گہری دلچسپی رکھتا ہے، وہ پاکستان کے تعاون کے بغیر تکمیل کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ،پاک۔ بھارت امن مذاکرات اور باہمی تنازعات جن میں کشمیر بھی شامل ہے،کو پُرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ لیکن بھارت کو امریکہ کا یہ موقف ناگوار گزرتا ہے اور اُس کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے نام پر امریکہ بھارت کے ایماء پر پاکستان پر نہ صرف دباؤ ڈالے بلکہ تجارت، اقتصادی ترقی اور دفاع کے شعبوں میں بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اگر مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا تو کم از کم انہیں ڈاؤن گریڈ کردے۔ لیکن امریکہ ایسا کر کے پاکستان کو مکمل طور پر چین کی جھولی میں نہیں دھکیلنا چاہتا۔ تاہم بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کے تحت پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے، دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور بھارت کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لئے افغانستان کے راستے راہداری کی اجازت دینے اور کشمیر میں لائن آف کنڑول کو پُرامن رکھنے کے لئے امریکی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بھارت اور امریکہ جتنے مرضی قریب آجائیں،امریکہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ جہاں تک جنوبی ایشیا کے دیگر چھوٹے ممالک کا تعلق ہے اُن میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ بھارت کے تعلقات مکمل طور پر خوشگوار نہیں بلکہ وہ بھارت کے رقبے ، فوجی طاقت،معاشی قوت اور ترقی یافتہ صنعتی صلاحیت سے ہمیشہ خائف رہے ہیں۔ اگر امریکہ۔ بھارت تعلقات میں اضافہ ہونے سے بھارت کی عسکری قوت میں مزید اضافہ ہوتا ہے، تو یہ ممالک یقیناًمتوشش ہوں گے۔ لیکن اگر ان تعلقات کے نتیجے میں بھارت کی معیشت مضبوط ہوتی ہے،تو ان ممالک کے لئے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ بھارت کو اپنی برآمدات میں اضافہ کر کے تو ازن تجارت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کا تمام تر انحصار بھارت کے رویّے پر ہوگا۔ اگر بھارت چین سے سبق سیکھ کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے تنازعات کو حل کرکے اور خطے میں پُر امن ماحول پیدا کر کے نہ صرف اپنی بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا سامان پیدا کرسکتا ہے‘ تو بڑھتے ہوئے امریکہ۔ بھارت تعلقات جنوبی ایشیا جیسے پسماندہ اور غربت کے مارے خطے کے لئے نعمت ثابت ہوں گے ورنہ دوطرفہ تنازعات کی وجہ سے یہ خطہ امریکی موجودگی کے باوجود عدم استحکام اور غیر یقینی صورت حال کا بدستور شکار رہے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان چےئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا۔ [email protected]

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP