متفرقات

اماں

ہماری اماں جو مہارانیوں کی طرح بھی رہیں اور بعد میں خاک نشینوں کی طرح بھی خاموشی سے زندگی گزار دی، پتا نہیں کیوں ان کے کمرے میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے ان کی تصویر پر نظر پڑی تو بڑی طمانیت ہوئی۔ رمضان کے دن ہیں۔ رمضان کا اہتمام وہ خصوصیت سے کرواتی تھیں بلکہ ہمارے گھر میں ہر چیز کا اہتمام زورشور سے ہوا کرتا تھا۔
اچانک آج مجھے وہ رمضان یاد آ گیا جب میں نے ضد کر کے اور شور مچا کر پہلا روزہ رکھا تھا۔ محض اس لئے کہ میری بڑی بہن ملکہ کی اگلے دن روزہ کشائی تھی۔ اس کی بہتر خاطر مدارات ہو رہی تھیں۔ چمکدار کپڑے پہنے تھے۔ اس کی پسند کی کھانے کی چیزیں بن رہی تھیں۔ بھلا میں پیچھے کیسے رہتی۔ ویسے بھی میری یہ بہن بہت معصوم سی سیدھی سادی تھی۔ خاموشی سے اپنی گڑیوں سے کھیلتی رہتی تھی اور مجھے سب آفت کی پڑیا کہتے تھے۔ میں نے فوراً ضد شروع کر دی کہ میں بھی روزہ کشائی کروں گی۔ اماں نے صاف منع کر دیا اور اماں کا حکم، شاہی حکم ہوتا تھا جو وہ ان دنوں اپنے کمرے کے چھپرکھٹ سے، جس کے پاؤں پر چاندی کے خول چڑھے تھے، یہ احکامات جاری کرتی تھیں۔ اماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے میں نے فوراً دوسرا راستہ اختیار کیا۔ ابا کے پاس گئی اور بہت ہی دکھی ہو کر اپنا مقدمہ پیش کیا کہ ابا مجھے بھی روزہ کشائی کرنا ہے۔ (میری تینوں بڑی بہنیں امی جان اور ابا جان کہتی تھیں۔ میں نے شروع سے ہی اماں اور ابا کہنا شروع کر دیا تھا۔ اب اماں ابا سے کون اتنا تکلف کرتا ہے) ابا میری بات سن کر ہنس پڑے۔ بیٹا تم ابھی بہت چھوٹی ہو دو سال بعد تمہاری روزہ کشائی کریں گے۔ مگر میں کہاں ماننے والی تھی۔ مچل گئی، رونا شروع کر دیا۔ مجھے کل کرنا ہے روزہ کشائی۔ ہمارے ابا کبھی اپنی بیٹیوں کو روتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ پریشان ہو گئے۔ بہت سمجھایا کہ گرمی بہت ہے تم کیسے برداشت کرو گی۔ میں نے اکڑ کر کہا میں کروں گی، مجھے گرمی نہیں لگتی۔ اس کے بعد پتا نہیں ابا نے کیسے اماں کی عدالت میں میرا مقدمہ پیش کیا مگر یہ طے ہو گیا کہ کل میری بھی روزہ کشائی ہو گی۔ خوشی کے مارے میرا برا حال تھا۔ حالانکہ اماں نے خفیہ طور پر یہ طے کیا تھا کہ میں سحری کروں گی اور اس کے بعد سو جاؤں گی۔ جب سو کر اٹھوں گی تو ناشتہ کروایا جائے گا۔ اور یہ یقین دلوایا جائے گا کہ چھوٹے بچوں کا روزہ اس طرح ہوتا ہے۔


صبح سحری پر بڑی رونق تھی۔ کچھ رشتے دار خواتین اور بچے بھی آ گئے تھے۔ خالہ، چچی، ممانی اور کچھ پڑوسی خواتین بھی۔ مزے مزے کی چیزیں رکھی جا رہی تھیں۔ بزرگ خواتین ملکہ کی خاطریں کر رہی تھیں۔ یہ کھاؤ، وہ کھاؤ،میں جھپٹ جھپٹ کر خود ہی کھا رہی تھی۔ سحری کا وقت ختم ہو نے لگا تو ملکہ کے اوپر چمکدار دوپٹہ ڈال کر اماں نے دعا پڑھوائی۔ میں نے شور مچایا مجھے بھی پڑھائیں۔ میں بھی دعا پڑھوں گی۔ پتا نہیں کس کا دوپٹہ کھینچ کر سر پر ڈال لیا۔ بہت موؤب ہو کر بیٹھ گئی۔ اماں نے آہستہ آہستہ مجھے بھی پڑھنے کا کہا میں نے صحیح یا غلط مگر دعا پڑھ لی۔ سب نے مبارکباد دی ہم دونوں کو پیار کیا۔ جب اذان ہو گئی تو سب لوگ نماز پڑھنے چلے گئے اور ہم بچوں کو کمرے میں بھیج دیا گیا۔ اس وقت جوش کا عالم تھا۔ نیند کس کو آتی۔ بجائے سونے کے برآمدے میں آنکھ مچھولی کھیلنے لگے۔ بعد میں بڑوں نے آ کر ڈانٹ ڈپٹ کر سلا دیا۔ باقی لوگ کب سو کے اٹھے، یہ تو پتا نہیں۔ میں کافی دیر سے اٹھی۔ اماں نے کہا چلو اب ناشتہ کر لو۔ میں نے بہت ہی اکڑ سے کہا اماں آپ بھول گئیں میرا تو روزہ ہے۔ اماں ہنس دیں۔ ہاں وہ تو ہے مگر بچے ناشتہ کر یں تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ملکہ بھی ناشتہ کرے گی؟ میں نے فوراً پوچھا۔ اماں نے بتایا نہیں وہ تو تم سے بڑی ہے۔ وہ شام کو روزہ کھولے گی۔ ’’توپھر میں بھی شام کو کھولوں گی۔‘‘ بار بار پوچھا گیا کہ پیاس تو نہیں لگ، بھوک تو نہیں لگ رہی، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ تب اماں نے باقاعدہ میری بھی روزہ کشائی کا خود ہی انتظام کروایا۔ جلدی سے خوبصورت سی فراک نکالی گئی اور نہلا دھلا کر مجھے تیار کر دیا۔ میں اتراہٹ میں اندر باہر ہر طرف گھوم پھر رہی تھی۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ سڑک پر آواز دے کر سب کو بلا لوں کہ آ جاؤ آج میری روزہ کشائی ہے۔ یہاں تک تو خیر تھی۔ مگر پھر تو جانے کیا ہوا کہ مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ اماں نے کہا بھی میرے کمرے میں آ کر دونوں لیٹ جاؤ ملکہ تو شرافت سے چلی گئی ویسے بھی اماں کے کمرے میں خس کے پردے لگے تھے جن پر چھڑکاؤ ہوتا تھا پنکھے کی ہوا سے کمرے میں ٹھنڈک پھیل جاتی تھی۔ میں کچن کی سیر کرنے نکل گئی جہاں بڑی تیاری ہو رہی تھی۔ پھر گرمی لگنے لگی۔ پیاس لگنے لگی۔ تھک بھی گئی تھی۔ اس لئے بسورنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے بہلایا تھوڑی دیر لیٹ کر سو جاؤ۔ مگر نیند کیسے آتی۔ پنکھے کی ہوا سے پیاس کیسے کم ہوتی ۔ بڑی بہنوں نے اماں سے ٹافیاں اور چاکلیٹ نکال کر دیئے کہ یہ سب تمھارے ہیں۔تم افطار کے بعد کھانا۔ ابھی نہیں۔ دونوں ہاتھوں سے ٹافیاں اور چاکلیٹ فراک کی جیب میں ڈالیں مگر کھا نہیں سکتی تھی۔ میرے چہرے پر طوفان کے آثار دیکھ کر سب لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ارے ابھی تھوڑی دیر میں روزہ کشائی ہو گی۔ اتنی ساری مزیدار چیزیں تیار ہو رہی ہیں۔ کتنے بہت سے لوگ آ رہے ہیں وہ سب تحفے دیں گے، روپے دیں گے۔ تم اپنے پرس میں جمع کرنا۔ چھوٹی آپا نے ایک چھوٹا سا پرس بھی نکال کر دے دیا۔ مگر اب حالات خراب سے خراب تر ہونا شروع ہو گئے۔ مجھے پارک میں بھیجا گیا۔ جھولے پر بٹھایا گیا۔ سہیلیاں اور رشتے دار لڑکیاں ساتھ تھیں۔ کوئی کچھ کہہ رہا تھا کوئی کچھ۔ مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ مٹھیوں میں مضبوطی سے ٹافیاں اور چاکلیٹ تھامے میں نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔ سب لوگ گھبرا کر گھر واپس لے آئے۔ جہاں زبردست انتظامات ہو رہے تھے۔ مگر میں ایک ایک سے فریاد کے لہجے میں پوچھ رہی تھی کہ کشائی کب ہو گی۔ ابا اماں پریشان۔ وعدوں پر وعدے کر رہے تھے کہ تمہیں سائیکل دلا دیں گے مگر میرا اصرار تھا مجھے پانی چاہئے۔ اماں سمجھا رہی تھیں بیٹا تم تو بہت بہادر ہو۔ تھوڑی دیر اور انتظار کر لو شاباش۔ مگر کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ میں نے زورزور سے رونا شروع کر دیا۔ رشتہ دار بدحواس ہو رہے تھے کہ بچی کہیں بے ہوش نہ ہو جائے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مجھے کس طرح بہلایا جائے۔ رشتے دار ہار پھول لائے تھے ملکہ کو ہار پھول پہنا کر درمیان میں بٹھا دیا گیا تھا مگر میرا تو حال ہی بد تر تھا۔ اماں پانی ، ابا پانی۔ کبھی کسی کی گود میں کبھی کسی کی گود میں، رونے کی وجہ سے گلا اور خشک ہو رہا تھا۔ مجھے آج تک اپنی مٹھیوں میں دبی ہوئی وہ چاکلیٹ اور ٹافیاں یاد ہیں جو رونے پیٹنے میں بھی مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔ کیسے یہ وقت گزرا ہو گا۔ یہ تو میرے اماں، ابا، یا گھر والے ہی جانتے ہوں گے لیکن میں نے ان کی تقریب غارت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کھانے پینے کی چیزیں سجائی جا رہی تھیں۔ ہر ایک مجھے دکھا رہا تھا دیکھو یہ ہے وہ ہے مگر میری ایک ہی صدا تھی۔ مجھے روزہ کشائی چاہئے۔ ابھی ابھی۔ پتا نہیں چلا کیسے روزہ کھلایا ہو گا۔ کچھ اور لوگوں نے ہار پہنانا چاہا تو میں نے سب نوچ کر پھینک دیئے۔ ملکہ بہت سارے ہار پہنے دوپٹہ اوڑھے خاموش بیٹھی تھی۔ ملکہ کو دعا پڑھائی گئی مجھے بھی۔ میں نے پڑھی لپک کر شربت کا گلاس پکڑ لیا۔ ماموں نے سنبھالا۔ بیٹا پانی زیادہ نہیں پینا، یہ کھاؤ۔ کوئی کہہ رہا تھا آہستہ آہستہ مگر اس وقت مجھے کون روک سکتا تھا۔ مضبوطی سے گلاس پکڑ کر منہ سے لگایا۔ آنسو بھی بہہ رہے تھے اور شربت بھی کچھ حلق میں جا رہا تھا۔ پانی فراک پر تیر رہا تھا۔ جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ میں زندہ بچ گئی ہوں تو باقاعدہ افطار شروع ہوا۔


یہ میرا پہلا روزہ تھا۔ آج اماں کی تصویر پر نظر پڑی تو نہ جانے کیسے یہ ساری کہانی سامنے آ کھڑی ہوئی۔ شائد یہی وجہ تھی کہ میں ہمیشہ روزوں کی چور رہی ہوں۔ جب پڑھتی تھی تو ابا کہتے بیٹا تمہارا چہرہ بہت اترا ہوا ہے کل روزہ مت رکھنا۔ کبھی اماں کہتی روزہ رکھنا ہے تو کالج جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اب وہ دونوں تو نہیں ہیں مگر بھائی بہن کہنے لگتے ہیں۔ طبیعت خراب ہے روزہ نہیں رکھیں گی آپ۔


اس لئے آج جی چاہا کہ اماں کی بات کروں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ اماں کی یا ابا کی بات میں کہہ نہیں سکتی۔ آواز ٹوٹنے لگتی ہے۔ سانس رکنے لگتی ہے مگر آج میرا قلم ان کے لئے ہے۔ ماں کو اگر کوئی نام دیا جاتا ہے تو وہ نام دعا ہوتا ہے۔ کیونکہ ماں مجسم دعا ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کے لئے بلکہ آس پاس پڑوس محلے شہر ملک کے سارے بچوں کے لئے۔ 
میری اماں روز رات کو ہم سب کی حفاظت کے لئے دعائیں پڑھ کر دستک دیا کرتی تھیں۔ وہ ہم سب کو حصار میں لے کر دعائیں پڑھ کر پھونکتی تھیں چاہے بچے قریب ہوں یا ہزاروں میل دور۔ ایک دفعہ ہم لوگ کہیں گھومنے گئے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ رات کو اماں نے دستک دی۔ صبح کو ایک صاحب بڑے پریشانی سے آئے کہ یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ رات کو تالیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پتہ نہیں کتنی دیر تک ہم سب اندر کمروں میں جا کر منہ پر ہاتھ رکھ کے بے اختیار ہنستے رہے بعد میں بھائی نے ان کو سمجھایا کہ میری والدہ دعا پڑھتی ہیں۔ انگلی اٹھا کر گول گول گھماتے ہوئے سب کو حصار میں لیتی ہیں، پھونکتی ہیں اور تین دفعہ تالی بجاتی ہیں۔


مجھے وہ منظر کبھی نہیں بھولے گا جب اماں اپنی زندگی کی آخری رات میں جبکہ وہ بول نہیں سکتی تھیں، آنکھیں بھی بند تھیں لیکن ساری رات ان کے ہونٹ ہلتے رہے۔ وہ دعائیں پڑھتی رہیں۔ حصار باندھتی رہیں۔ دستک دیتی رہیں ہم سب انہیں گھیرے بیٹھے تھے۔ اور وہ ہم سب کی زندگی بھر کی حفاظت کا انتظام صرف ایک رات میں کر کے چلی گئیں۔
اس شام کو میں ذرا دیر کو کھانے کے لئے ان کے کمرے سے اٹھی تھی، تو انہوں نے اشارے سے میری کزن سے پوچھا کہ حسینہ کہاں ہے زرینہ مجھے بلانے آئی میں بھاگ کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ اماں کیا بات ہے۔ مگر کہا کچھ بھی نہیں۔ انہیں اطمینان تھاکہ بچے قریب ہیں سوائے میرے اس بھائی کے جو اماں کا بے حد چہیتا بیٹا ہے۔ وہ ڈاکٹر ہیں اور اپنے بیٹے کے پاس گئے ہوئے تھے۔ دو دن بعد واپس آنے والے تھے مگر دو دن تو بہت ہوتے ہیں اتنا انتظار کون کرتا ہے۔ میری اماں اس معاملے میں بڑی خوش نصیب تھیں کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ان کے سارے بچے، بچوں کے بچے بلکہ آدھا خاندان ان کے کمرے میں جمع تھا۔ ماموں بھی صبح سے آئے ہوئے تھے اور ہمیشہ کی طرح ان کی مسہری کے ساتھ کرسی پر ان کا ہاتھ پکڑے بیٹھے تھے۔ دعائیں پڑھ رہے تھے۔ پھر اچانک انہوں نے شائد آپا سے پوچھا کہ بیٹا میں یٰسین شریف پڑھ لوں۔ ہم سب چونک گئے۔ ماموں نے باآواز بلند یٰسین پڑھی۔ اماں اس طرح ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے بیٹھی رہیں۔ اس وقت ظہر کی اذان ہوئی۔ ماموں نے کہا بیٹا میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔ وہ اٹھ کر گئے تو اس وقت ڈاکٹر قدیر اﷲ قریشی (بھائی صاحب) آگئے۔ انہیں صبح میں نے فون کیا تھا۔ انہوں نے معائنہ کیا پھر بتایا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ تم لوگوں نے ڈرپ کیوں بند کر دی۔ اٹھ کر ڈرپ چلائی۔ پھر جیسے چونک گئے۔ مڑ کر آئے اور آہستہ سے کہنے لگے۔

I am sorry

وہ اب نہیں ہیں، جا چکی ہیں۔ ہم نے دہل کر ان کی طرف دیکھا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، بھائی صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ مڑ کر دوسری طرف چلے گئے۔ ایک لمحے کو ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آیا، وہ اتنی خاموشی سے کیسے چلی گئیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوا۔ میں تو بیڈ پر ان کے بالکل قریب بیٹھی تھی۔ میری چھوٹی بہن غزالہ دوسری طرف بیٹھی تھی۔ ہم دونوں ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ باقی سب لوگ پائنتی یا سرہانے کھڑے تھے۔ وہ کب ہمارے ہاتھ چھوڑ کر گئیں، ہمیں پتا بھی نہیں چلا۔ کچھ تو کہا ہوتا۔ ایک بار آنکھیں کھول کر ہم سب کو دیکھا تو ہو تا مگر وہ تو سکون سے سو رہی تھیں۔


اب ایسا لگتا ہے کہ جس دیوار کے سہارے ٹکی ہوئی میں کھڑی تھی، وہ نہیں رہی، اب باقی زندگی مجھے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا ہو گا۔ اب مجھ سے کوئی سوال کرنے والا نہیں کہ تم کہاں جا رہی ہو، کب آؤ گی؟ اب میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی سوال کرے۔ ہاں اگر دیر ہو جائے تو بھائی انہی کی طرح بار بار فون کرتا ہے۔ آپ کہاں ہیں، کب تک آئیں گی، کس جگہ پر ہیں۔ اماں کو بھی یہی فکر رہتی تھی۔ ٹی وی سٹیشن پر ڈراموں کے ڈسکشن پر دیر ہو جاتی تھی۔ بہت خفا ہوتی تھیں کہ بھلا اتنی دیر کیوں ڈسکشن کرتی ہو۔ بس لکھ کر دے دیا کرو۔ ان کا جی چاہتا تھا کہ سارے بچے ہر وقت آس پاس رہیں۔ ہلا گلا رہے۔ بہنیں کبھی ملنے دو چار دن بعد آتیں تو ڈانٹ پڑتی دس دن بعد آ رہی ہو اتنی دیر کیوں کی۔ سب خوب ہنستے اماں دس دن کہاں ہوئے ہیں؟ خاص کر غزالہ کی شامت زیادہ آتی کیونکہ وہ دور رہتی تھی اور اکثر باہر جایا کرتی تھیں۔ لیکن اسے منانا بھی آتا تھا۔ کہیں جانا ہو اور میں تیار ہو کر اماں کے پاس آؤں تو وہ فوراً کہتی تھیں ارے یہ کیسے فضول کپڑے پہن لئے جاؤ کوئی اچھا سا سوٹ پہن کر آؤ۔ ان کا حسن ذوق کمال کا تھا اور وہ چاہتی تھیں ان کے بچوں میں بھی یہ رچ بس جائے۔


ویسے اماں نظم و ضبط کی بڑی پابند تھیں۔ ینگ تھے تو ہم سب بہت خفا ہوتے ہمیں کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں ملتی تھی نہ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے جا سکتے تھے، نہ پکنک پر نہ پارٹیز میں۔ ہم لاکھ سر پٹختے اماں پلیز سب سہیلیاں جا رہی ہیں۔ اماں کا جواب ہوتا تو جانے دو۔ ہمیشہ ایسے وقتوں میں ابا کا سہارا لینا پڑتا تھا اور کبھی کبھار وہ اجازت دلوا دیتے تھے۔ ورنہ بھائیوں کو بھی اور ہم بہنوں کو بھی مغرب سے پہلے گھر لوٹنے کا آرڈر تھا۔ آج بھی اس عمر میں بھی اگر مجھے رات کو کبھی بہت دیر ہونے لگے تو گو کہ مجھے معلوم ہے کہ اماں نہیں ہیں مگر مجھے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے میں دیر تک رات کو باہر نہیں رک سکتی۔ ٹی وی پر تو یہ اچھا بھلا مذاق تھا۔ کہ ارے بھئی حسینہ کو جلدی گھر بھجواؤ شام ہو گئی ہے۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ اس لئے اب بھی کوئی کہے نہ کہے مگر مجھے رات کو جلدی گھر پہنچ جانا چاہئے۔ اگر اماں کو پتا چلے گا تو انہیں ا چھا نہیں لگے گا۔ ہمارے گھر کے اصول بڑے سخت تھے۔ اس طرح بیٹھو، اس طرح چلو پِھرو، کھانا تمیز سے کھاؤ، اگر کوئی ذرا خراب طریقے سے کھا رہا ہو تو اسے کہا جاتا اپنے کمرے میں جاؤ۔ جب تمیز سے کھانا آ جائے تب کھا لینا۔ اکثر کم عمری میں میری ہی شامت آتی۔ کمرے میں بیٹھ کر میں ابا کا انتظار کرتی رہتی۔ مجھے معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد وہ آئیں گے اور مجھے کھانا کھلانے لے جائیں گے۔ پھر اماں کے احکامات کہ ننگے پاؤں مت پھرو۔ زور سے مت بولو۔ آہستہ دھیمی آواز میں بات کرو۔ آہستہ چلو۔ پتا نہیں اماں ہمیں کون سا نمونہ بنانا چاہتی تھیں اور ہم لوگ کیا بن گئے۔


دوسری مائیں بچوں کو گلے لگاتی تھیں، پیار کرتی تھیں، میری چندا، میری گڑیا اور نہ جانے کیاکیا کہتی تھیں۔ ہماری اماں نے نہ کبھی چندا کہا نہ کبھی گڑیا، ہمیشہ فرسٹ آتے تھے۔ رپورٹ دکھاتے تو مسکرا کر انعام دے دیتی تھیں۔ مگر اوروں کی طرح کبھی ہماری تعریف نہیں کی۔ جب بڑے ہوئے تو ہم کبھی کبھی شکوہ کر دیتے تھے کہ اماں یہ کیا بات ہے ہمیں اتنے بڑے بڑے انعام ملتے ہیں۔ پرائڈ آف پرمارمنس ملا۔ امریکن یونیورسٹی سے انعام ملا۔ یہ ملا وہ ملا ۔ آپ نے کبھی تعریف نہیں کی، میری بیٹی بڑی قابل ہے۔ اماں ہمیشہ جواب دیتی تھیں بیٹا تعریف وہ ہے جو دوسرے کرتے ہیں اپنے بچوں کی تعریف بھلا کون کرتا ہے دوسرے کر رہے ہیں کیا یہ کافی نہیں۔ لو جی چھٹی ہوئی۔
لیکن آج سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ انہوں نے میری تصویر میں ایک ایک رنگ خود بھرا تھا۔ خود داری کا سبق ، کم بولنے کا سبق، ایمانداری کا سبق، عزت نفس کا سبق اور محبت کا سبق۔ یہ سارے سبق چپکے چپکے نہ جانے کب انہوں نے ہم سب کو سکھا دیئے تھے۔ بغیر بولے بغیر کہے۔


آج جب میں محبت کی کہانی لکھتی ہوں۔ رشتوں کی کہانیاں لکھتی ہوں تو اکثر لوگ سوال کرتے ہیں یہ حقیقت تو نہیں ہے کہ آپ کے ڈراموں میں کوئی برا کردار ہی نہیں ہوتا۔ ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ ذرا معاشرے پر نظر ڈالئے۔ میں کہنا چاہتی ہوں اس حقیقت کو میری نظروں سے دیکھئے۔ یہ نظریں ، یہ احساس جو مجھے میری ماں نے دیا ہے۔ میرے گھر میں آئیے آپ کو صرف محبت نظر آئے گی۔ بھائیوں کی، بہنوں کی، بھاوجوں کی، ان کے بچوں کی، بہنوں کے بچوں کی، ہمارے یہاں کوئی کسی سے نفرت نہیں کرتا نہ حسد کرتا ہے۔ مجھے انعامات ملتے ہیں تو میرے بھائیوں اور بہنوں کی خوشی مجھ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کوئی بیمار پڑ جائے تو پورا کنبہ جمع ہو جاتا ہے۔ ایک بار اماں کی آنکھ کا آپریشن ہونا تھا ہم سب بچے خالہ ماموں سب کے سب جمع تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے باہر آ کر مجھے دیکھا تو سخت طنزیہ لہجے میں بولے ’’گھر میں کوئی بچا ہے۔ یا سب ہی آ گئے ہیں، میں نے معصومیت سے کہا۔ نہیں ابھی کچھ لوگ ہیں باقی۔ ہمیں جو پیار کا سبق اپنے ماں باپ سے ملا تھا وہ ہم نے اپنے لفظوں سے پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ آج ہمارے ملک اور ہماری قوم کو اس پیار اس اپنائیت کی ضرورت ہے۔ کیا آج کی مائیں ایسے سبق نہیں دیتی۔ کیوں نہیں دیتیں؟؟؟
حسینہ معین ملک کی ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔

یہ تحریر 108مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP