قومی و بین الاقوامی ایشوز

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن فارمولا

اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم محمدنوازشریف نے جو تقریر کی وہ اپنے تمام پہلوؤں میں ایک اہم اور جرأت مندانہ خطاب تھا۔وزیراعظم نے نہ صرف علاقائی مسائل پر اظہارِخیال کیا بلکہ اہم عالمی مسائل مثلاََ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،موسمی تغیرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبر ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجاویز پر پاکستان کے موقف کو بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر بیان کیا۔اسی طرح بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کو عالمی فورم پر صاف اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔لیکن وزیراعظم کی تقریر کا جو حصہ علاقائی اور عالمی حلقوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا،اُس کا تعلق بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے اور پُرامن بنانے کے لئے چار نکات پر مشتمل ایک فارمولا ہے۔موجودہ تناظر میں اس چار نکاتی تجویز کو تمام حلقوں میں اس لئے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے کشمیر میں

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے آرپارپاکستانی اور بھارتی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

 

فائرنگ کے اس تبادلے میں نہ صرف دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ درجنوں قیمتی انسانی جانیں بھی جن میں عام شہریوں کے علاوہ سرحدی افواج سے تعلق رکھنے والے جوان اور افسر بھی شامل ہیں،ضائع ہوچکی ہیں۔بھارت میں گزشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی کامیابی اور گجرات کے سابق وزیراعلیٰ نریندرامودی کے وزیراعظم مقرر ہونے کے بعد ان جھڑپوں میں اور بھی اضافہ ہوگیاہے۔اس صورتِ حال سے نہ صرف سرحد کے دونوں طرف رہنے والے پاکستانی اور بھارتی شہری پریشان ہیں بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور خدشہ ہے کہ سرحدی جھڑپیں بڑھتے بڑھتے کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار نہ کرجائیں جو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اس لئے دنیا بھر سے پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا جارہا تھا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور اپنی سرحدوں‘ خصوصاً کشمیر میں لائن آف کنٹرول‘ پر امن بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ یادرہے کہ پاکستان اور بھارت نے 2003 میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آرپار رہنے والے لوگ سکون سے زندگی گزارنے لگے تھے، بلکہ پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کے اقدامات میں اسے سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔لیکن بی جے پی کی موجودہ حکومت نے بلاجواز اور بغیر کسی اشتعال انگیزی کے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف مقامی سطح پر تصادم کی فضا قائم کر دی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرکے دونوں ملکوں میں جاری دوطرفہ مذاکرات کے سلسلے یعنی کمپوزٹ ڈائیلاگ کو بھی تعطل سے دوچار کردیا ہے۔ چونکہ اس صورت حال پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہاتھا اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کاخدشہ ظاہر کیاجارہا تھا اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور آئندہ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل امن اور تعاون کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل چار تجاویز پیش کیں۔

 

 2003 (1)میں لائن آف کنڑول پر فائربندی کے لئے دونوں ملکوں نے جس معاہدے پر اتفاق کیا تھا‘ اُس کا نہ صرف احترام کیا جائے،بلکہ اسے مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لئے اسے دونوں ملکوں کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جائے تاکہ لائن آف کنڑول پر مکمل اور مستقل فائر بندی قائم رہے۔

(2)پاکستان اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے گریز کریں بلکہ اس بات کا علانیہ عہد کریں کہ دونوں ملک کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

(3)کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے لئے اقدامات شروع کئے جائیں۔

(4)سیاچن گلیشئرسے دونوں ملک اپنی فوجیں واپس بلا لیں ۔

 

لائن آف کنڑول پر آئے دن کی جھڑپوں سے چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس پر بجا طور پر متعلقہ حلقوں میں تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے،اس لئے

وزیراعظم کی طرف سے لائن آف کنڑول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ایک واضح اور ٹھوس تجویز نہ صرف بروقت بلکہ انتہائی ضروری تھی۔وزیراعظم کے چار نکاتی فارمولا میں پہلے نکتے کا تعلق کشمیر میں لائن آف کنڑول کے آرپار فائرنگ اور مستقل امن کے قیام سے ہے۔اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں نے نومبر 2003میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے۔ اس معاہدے کی وجہ سے لائن آف کنڑول پر دس برس تک امن اور سکون رہا۔لیکن جنوری2013سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سلسلے کے اچانک شروع ہونے سے دونوں ملکوں میں نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ ایک بڑے تصادم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ وزیراعظم محمدنواز شریف کی طرف سے لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے2003کے معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی تجویز ایک نہایت مناسب اور کارآمد تجویز ہے۔اس لئے اس کا نہ صرف پاکستان اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کی یہ تجویز کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے احتراز کریں،ایک ایسی تجویز ہے جس کا اُن تمام اندرونی اور بیرونی حلقوں میں خیر مقدم کیا جائے گا جو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو اچھے اور پُرامن ہمسایوں کے درمیان تعلقات کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس تجویز سے دونوں ملکوں کے درمیان غیر یقینی اور مستقل کشیدگی کی فضا ختم کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا جس سے باہمی تنازعات کو حل کرنے او رمستقل امن کے قیام کی طرف راہ ہموار ہوگی۔ بھارت کو اس تجویز پر اپنے تحفظات ظاہر کرنے کی بجائے اسے فوری طور پر قبول کرلینا چاہئے کیونکہ طاقت کے استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی سے گریز نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلکہ مروجہ بین الا قوامی قانون کے ضابطوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کے عین مطابق ہے۔

 

اسی طرح کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز ایک ایسی تجویز ہے جس سے ماضی میں پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت نہ صرف اتفاق کر چکے ہیں بلکہ اس کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جتنی بھی کوششیں کی گئی ، اُن میں کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال 2004میں سابق صدر مشرف کی جانب سے پیش کردہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار نکات پر مشتمل مجوزہ سمجھوتہ ہے جسے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے مطابق دونوں ملکوں نے قریب قریب قبول کرلیا تھا۔اس میں بھی کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل تھی۔اس کے علاوہ کشمیر سے بھارتی فوج کی بھاری نفری کے انخلاء کا مطالبہ کشمیر میں عوام کا ایک دیرینہ اور تواتر کے ساتھ اُٹھائے جانے والا مطالبہ ہے۔کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی آرہی ہے۔ اس پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک سپیشل قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جنہیں استعمال کرکے بھارتی سکیورٹی افواج کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بے چینی اور احتجاجی تحریک ان ہی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔خود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا سبب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی اس بھاری نفری کی موجودگی ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل احتجاجی تحریک جاری ہے۔اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے کشمیر کو ایک غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز نہ صرف پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ ماضی میں کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے مطابق ہے بلکہ ایک پُرامن فضا پیدا کرکے کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مستقل طور پر حل کرنے کی طرف قدم اُٹھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 

کشمیر کے بعد سیاچن پر پاک بھارت تنازعہ نہایت خطر ناک مضمرات کا حامل ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں اور اگرچہ اس وقت فریقین میں جنگ بندی ہے لیکن جنگ کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے دونوں ممالک بھاری انسانی جانی نقصان کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ نقصان زیادہ تر انتہائی سخت موسمی حالات اور برف کے تودے گرنے کے نتیجے میں ہوا ہے اس لئے بیشتر حلقوں کی رائے ہے کہ سیاچین کے لئے پاکستان اور بھارت ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا دونوں ملکوں کو عسکری لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ 1989میں اُس وقت کی پاکستانی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے درمیان اس تنازعے کے حل پر تقریباً اتفاق ہوگیا تھا لیکن بھارتی فوج کے دباؤ کے تحت راجیو گاندھی بے نظیر بھٹو سے کئے گئے وعدے سے مکر گئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کے حل کے تقریباََ تمام خدوخال پر اتفاق ہوچکا تھا جن میں گلیشیئر سے فوجوں کی واپسی بھی شامل تھی۔یہ خبر کافی عرصہ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گردش کرتی رہی کہ 2012 میں وزیراعظم من موہن پاکستان کا دورہ کریں گے اور اس دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان دواہم تنازعات یعنی سیاچن اور سرکریک کے معاہدات پر دستخط کئے جائیں گے۔لیکن لائن آف کنٹرول پر اچانک صورت حال بگڑنے سے یہ موقع نہ آسکا اور سیاچن میں دونوں ملکوں کی فوجیں بدستور آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورت حال کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں۔ لیکن بھارت نے کسی پیش کش کا مثبت جواب نہیں دیا۔اب ایک دفعہ پھر وزیراعظم محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے وہی تجویز پیش کرکے پاکستان کی امن کے لئے خواہش کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

 

وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے چار نکات پر مشتمل جو فارمولا پیش کیا گیا، بھارت کی طرف سے اُس پر منفی ردِعمل کسی بھی لحاظ سے باعث حیرت اور غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاک بھارت مذاکرات کی گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کی طرف ٹھوس اقدامات سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔لیکن اس سے وزیراعظم محمدنوازشریف کی تجاویز کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہوتی کیونکہ کشمیری عوام نے ان کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی ان تجاویز کو سراہا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا کے چیئرمین ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP