معیشت

اقتصادی ترقی۔۔۔ اب نہیں تو پھر کب

جن چند فقروں کو سنتے سنتے ہم جوان ہوئے، حیرت اور افسوس ہے کہ بڑھاپے کی دہلیز پر بھی وہی فقرے بار بار سننے کو مل رہے ہیں۔۔۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، ہم ایک دو راہے پر کھڑے ہیں، اگر اب بھی نہ جاگے تو کب جاگیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اپنے آپ کو دیکھنے کے علاوہ کبھی اگر دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا تو اس مصرعے کا صحیح مطلب سمجھ میں آیا ؂ دوڑ و ، زمانہ چال قیامت کی چل گیا

 

چند ہفتے قبل ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس 2015کی رپورٹ جاری ہوئی۔ پاکستان 189ممالک میں138 ویں نمبر پر جگہ پا سکا۔ گذشتہ سال کی نسبت ایک سال میں دس پوائنٹ کی کمی ہوئی۔ یہ رینکنگ پسند نہ ہو تو سرے سے اس انڈکس کو ڈھکوسلا قرار دے کر دل ناداں کا بھرم رکھا جا سکتا ہے یا پھر بُرا ہو دنیا کے ان ممالک کا جو گزشتہ سال بھر اپنے حالات بہتر بنانے میں جتے رہے۔ نہ یہ ممالک اپنے ہاں بہتری لاتے، نہ ہماری گزشتہ سال کی رینکنگ میں تبدیلی آتی۔ ہمارے دوست مرزا اخلاق احمد یونہی، بے سبب، دنیا کی بے مروتی کا گلہ نہیں کرتے!

ہم اپنے دوست سے اتفاق کرتے ہیں مگر یہ امر مانع ہے کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسے آپ اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ اپنی اولاد کسے خوبصورت نہیں لگتی! اپنا ملک کسے اچھا نہیں لگتا؟ لیکن حقیقی خوب صورتی اور حسن وہ ہے جس کی گواہی دنیا دے۔ اپنے حالات اور معاملات میں بہتری کا پہلا قدم ہی یہ ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنے اور دامن کو جھاڑنے میں عار نہ ہو۔ ہیومن انڈیکس کے علاوہ طرح طرح کے کئی مزید انڈیکس ایسے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنا تقابل دنیا سے کر سکتے ہیں اور یوں اس

Gap Analysis

کی بنیاد پر اپنی بہتری کا روڈ میپ بنا سکتے ہیں اور عمل درآمد کے لئے کمر کس سکتے ہیں۔ جس مقام پر ہم بیشتر انڈیکسوں میں پائے جاتے ہیں اسی طرح کئی ممالک ان نچلی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے ترقی کا زینہ چڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ دُور کیا جانا، نوے کی دہائی میں برازیل شدید معاشی مشکلات کا شکار رہا اور کرنسی آئے روز بے قدر ہوتی گئی۔ مگر گزشتہ دس بارہ سالوں میں بہت کچھ بدل گیا اور اب برازیل ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ چلی بھی ان ممالک میں ہے جس نے حیرت انگیز انداز میں اپنی معیشت کو سنبھالا دیا۔ چین کی ترقی کی رفتار اپنی جگہ ، اسی دوران زیادہ تر آسیان ممالک میں ترقی کے اشاریے تیزی سے بہتر ہوئے۔ ۔۔ سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے!!! ورلڈ بنک ہر سال ایک انڈیکس ترتیب دیتا ہے جس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش ہوتی ہے کہ کاروبار کی آسانی کے لئے عالمی ممالک کی رینکنگ کیا ہے۔ اس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن سالہا سال سے نیچے کھسک رہی ہے۔ گزشتہ سال کے انڈیکس کے مطابق 189 ممالک میں پاکستان کا نمبر 138 واں تھا۔ کاروبار سے متعلق ایک اور انڈیکس ہے جس کا نام عالمی مسابقتی انڈیکس ہے یعنی

Global Competitiveness Index

۔ اس انڈیکس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ عالمی ممالک کے ما بین کاروباری مسابقت کی ترتیب کیا ہے۔ 140 ممالک کے اس انڈیکس میں گزشتہ سال پاکستان 126ویں نمبر پر تھا۔ یہ دونوں انڈیکس براہِ راست کاروبار کی ترویج اور اس کے لئے دستیاب ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس جائزے سے یہ سادہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کے ہم پلہ کھڑے ہونے اور مربوط اقتصادی ترقی کے لئے ہمیں ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی اور ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے جن کی مدد سے پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد فراہم کی جا سکے ورنہ ۔۔۔ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک دو راہے۔۔۔ پر کھڑا ہے جیسے فقرے آنے والے سالوں میں بھی ہماری جان نہ چھوڑیں گے۔

معاشی ترقی کے لئے یوں تو کئی ایک مربوط پایسیوں اور اقدامات کی ضرورت ہے لیکن چند بنیادی مسائل حل کئے بغیر یہ مرحلہ مشکل سے ہی طے ہو سکے گا۔ گزشتہ سات آٹھ سالوں سے پاکستان کی معاشی نمو بمشکل تین سے چار فی صد کے درمیان رہی۔ جبکہ اس دوران میں کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح پانچ فی صد یا اس بھی زائد رہی۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس

Slow Growth Syndrom

سے پیچھا چھڑانے کے لئے ایسی پالیسیوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جن سے معاشی ترقی کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔ حسنِ اتفاق کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایسا موافق ماحول بنتے ہوئے نظر آرہا ہے جو کاروبار اور معاشی ترقی کے لئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ امن و امان کے حالات میں بہتری آئی ہے۔ بیرونی مالیاتی اشارئیے مستحکم دکھائی دے رہے ہیں۔ مثلاً زرمبادلہ کے ذخائر، کنٹرولڈ افراط زر، کم شرح پر مارک اپ ریٹس وغیرہ۔ اس اعتبار سے یہ انتہائی غنیمت موقع ہے۔

 

ملک چلانے کے لئے حکومت کو محصولات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کا ٹیکس نظام بنیادی طور پر صرف محصولات جمع کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے قابل اعتماد ماحول مہیا کیا جاتا ہے۔ موثر ٹیکس نظام میں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ حکومت سے توقع کی جاتی ہے کی ٹیکس گزاروں سے حاصل کردہ محصولات شفاف، مناسب ترجیحات کے مطابق اور منصفانہ انداز میں خرچ کرے۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کی موجودگی میں ٹیکس گزارشاکی رہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس محصولات مناسب طریقے سے ملک کے بہترین مفاد میں استعمال نہیں ہو رہے اور یوں ٹیکس گزاری سے پہلو تہی کا رجحان فروغ پاتا ہے۔

 

دوسری طرف معیشت میں ٹیکس کلچر اس طرح کا ہو نا ضروری ہے کہ ٹیکس چوروں کو قرار واقعی سزا ملے اور ٹیکس چھپانے کی سیاسی اور قانونی سطح پر حوصلہ شکنی ہو۔ نئی سرمایہ کاری کے لئے جائز دولت گردش میں ہو اور کالے دھن سے کاروبار کرنا ناممکن اور قانون شکنی کے خوف سے اٹا ہوا ہو۔ اس کے ساتھ ہی ملکی بجٹ میں آمدن اور اخراجات میں توازن بھی ضروری ہے ۔ معاشی بے اعتدالی ملک کی مالی حیثیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے جس کا لازمی نتیجہ بار بار کی مالی بد حالی کی صورت میں نکلتا ہے، ایسے میں آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری بن جاتا ہے جس کی شرائط میں مقروض ملک کے لئے مزید مشکلات کا سامان پنہاں ہوتا ہے۔ لہٰذا ٹھوس ، مناسب معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کے بغیر دیر پا معاشی ترقی کا سفر ممکن نہیں۔

 

کسی بھی ملک کی معیشت میں دستاویزی کاروبار ایک مستحکم مالیاتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود بلیک اکانومی کا حجم بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے محتاط اندازے کے مطابق یہ حجم روایتی معیشت کے برابر بلکہ کچھ ماہرین کے مطابق ساٹھ فی صد سے بھی زائد ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ٹیکس گزاری کا کلچر فروغ نہیں پا رہا، دوسری طرف کالے دھن پر گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے بلیک اکانومی میں محاورتاً ہی نہیں بلکہ حقیقتاً دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ نئے صنعتی اور کاروباری پروجیکٹس کی بجائے آئے روز اخبارات نت نئے رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس سے بھرے ہوتے ہیں۔ ملک سے باہر پراپرٹی کے لئے بھی پرکشش اشتہارات کی بھر مار ہے۔ پراپرٹی کے علاوہ دیگر بے شمار شعبوں میں کیش ٹرانزیکشنز ہی کا چلن رائج ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ پاکستان میں تمام کوششوں کے باوجود ٹیکس جی ڈی پی شرح خطے میں سب سے کم کیوں ہے یعنی نو فیصد کے لگ بھگ۔ کل ٹیکس گزاروں کی تعداد بمشکل ایک ملین کے لگ بھگ ہے۔ بلیک اکانومی کو لگام ڈالے بغیر معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہونے کا امکان بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔

 

مالیاتی اشارئیے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے چین پاک اکنامک کوریڈور کا منصوبہ ملکی معیشت کے لئے ایک نادر موقع ہے۔ گزشتہ کئی سالوں کے دوران امن وامان اور سکیورٹی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستانّ آنے سے گریزاں رہے۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم بمشکل ایک ارب ڈالر سالانہ سے بھی کم رہا۔ ایسے میں چین کی طویل المدت سٹریٹیجک ضرورت نے پاکستان کو اس اکنامک کوریڈور کی صورت میں نایاب موقع فراہم کیا ہے جس کے ذریعے اگلے دس سالوں میں چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہے۔ بیشتر سرمایہ کاری توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے مخصوص ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرمایہ کاری کے ان منصوبوں میں شفافیت ، درست علاقائی ترجیحات اور مناسب کاروباری چھان پھٹک کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہ منصوبے سیاسی تنازعات کی زد میں نہ آئیں اور ان منصوبوں سے ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو ۔ یہ اہتمام اس لئے بھی ضروری ہے کہ آنے والے سالوں میں منافع اور اصل زر کی واپسی خزانے پر بوجھ نہ ہو بلکہ اضافی پیداواری صلاحیتوں سے ادائیگیاں ممکن ہو سکیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے دولت کا ارتکاز تیزی سے ہو رہا ہے۔ معاشی عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی ترقی کا میدان سکڑ کر صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہو رہا ہے ، جس کا لازمی نتیجہ شہروں میں انتقال آبادی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ معاشی عدم مساوات اور علاقائی اقتصادی نا ہمواری اپنے ہمراہ کئی دیگر معاشرتی اور سماجی مسائل لے آتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی عدم مساوات اور متوازن علاقائی ترقی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقتصادی پالیسیاں بنائی جائیں ورنہ معاشی عدم مساوات اور نا ہموار علاقائی ترقی آنے والے وقتوں میں کئی پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

 

ماضی میں ضائع ہونے والے معاشی امکانات کا بار بار کیا رونا! کم از کم آج کے امکانات سے بھر پور فائدہ اٹھانے میں کوتاہی تو نہیں ہو نی چاہئے۔ معاشی بڑھوتری کے لئے معاون پالیسیوں اور ملکی مفاد میں تلخ فیصلوں پر بھر پور عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ وقت بار بارکامیابی کی دستک نہیں دیتا۔ ملک نے اگر آج کے معاشی امکانات کا فائدہ اٹھا لیا تو شاید آنے والے وقتوں میں ہمیں وہ گھسے پٹے فقرے بار بار سننے نہ پڑیں کہ۔۔۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک ایک دوراہے پر ہے۔ ۔۔ وقت کی باگ ایک بار پھر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اقتصادی ترقی اگر اب نہیں ہو گی تو پھر کب ہو گی؟


مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 79مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP