بیاد اقبال

اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد پر سامراجی ردِّعمل

ایک درویشِ خدا مست کے خطبۂ الٰہ آباد نے برصغیر کے خود مست سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ برطانوی سامراج کے ایوانِ اقتدار کے بلند ترین کنگروں میں بھی لرزشیں پیدا کر دی تھیں۔ پہلی گول میز کانفرنس کی امیدیں خاک میں مِل کر رہ گئی تھیں۔پروفیسر ایڈورڈ تھامسن جیسے سامراج نواز دانشوروں کو ساری کی ساری دنیامشرق مغرب کے پنجۂ استبداد سے آزاد اور خودمختار نظر آنے لگی تھی۔ برطانوی وزیراعظم سرریمزے میکڈانلڈ نے بصد یاس و حرماں اعتراف کیا تھا کہ اقبال کے اس خطبۂ الٰہ آباد نے پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ہماری کامیابی کو ناکامی میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ آکسفورڈ کے پروفیسر ڈاکٹر ایڈورڈ تھامسن نے اپنے اندیشہ ہائے دور و دراز پر مشتمل ایک طویل خط12 اکتوبر1931ء کولندن کے روزنامہ ٹائمز (Times) میں شائع کردیا تھا جس میں خطبۂ الٰہ آباد کو ساری کی ساری دنیائے مشرق میں برطانوی مفادات کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ ''پان اسلامک سازش'' کے عنوان سے شائع ہونے والے اس خط کے جواب میں علامہ اقبال نے تھامسن کے خط کے جواب میں اپنانقطۂ نظر شائع کر دیا تھا۔ 
 یہ وہ زمانہ تھا جب علامہ اقبال دوسری گول میز کانفرنس کے ایک رکن کی حیثیت سے لندن میں مقیم تھے۔ اقبال گول میز کانفرنس میں جاری مذاکرات سے ناخوش تھے۔ برطانوی حکومت مصر تھی کہ وہ اپنے پیچھے ایک متحدہ ہندوستان چھوڑ کر جائے گی۔ چنانچہ حکومت ایک آل انڈیا فیڈریشن کاآئینی خاکہ تیار کرنے پر اُدھار کھائے بیٹھی تھی۔ اقبال متحدہ ہندوستان کے اس تصور کو مسلمانوں کے مفادات کے منافی سمجھتے تھے۔ تقریباً ایک برس پیشتر وہ اپنے خطبہ الٰہ آباد میں ہندوستانی مسلمانوں کو جدید معنوں میں ایک الگ قوم ثابت کرچکے تھے۔ اس جداگانہ مسلمان قوم کی اسلامی شناخت کی گہری فلسفیانہ بنیادیں اُجاگر کر چکے تھے۔ وہ بڑی قطعیت کے ساتھ یہ ثابت کر چکے تھے کہ:
    اوّل:        اسلام اپنا مقدر آپ ہے۔ نتیجہ یہ کہ اسلام کو متحدہ ہندوستانی قومیت کے مقاصد کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ 
    دوم:        اسلامی نظامِ حیات ایک اکائی ہے۔ اسلام کے اخلاقی مسلک کو اُس کے سیاسی مسلک سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
    سوم:        اسلامیانِ ہند متحدہ ہندوستانی سیاسی نظام کی خاطر اسلام کے سیاسی نظام کو ترک نہیں کر سکتے۔
    چہارم:    اگر آج اسلام کے سیاسی نظام کو ترک کر دیا گیا تو رفتہ رفتہ اسلام کا اخلاقی نظام بھی ختم ہو جائے گا۔
    پنجم:        اسلامیانِ ہند متحدہ ہندوستان کی خاطر ترکِ اسلام کی یہ راہ ہر گز نہ اپنائیں گے۔
    ششم:    مسلمانوں کی تاریخ کے انتہائی نازک لمحات میں ہمیشہ اسلام ہی نے مسلمانوں کوبچایا۔
    ہفتم:        اسلامیانِ ہند اسلام کے ساتھ غیر مشروط اور اٹوٹ وابستگی ہی سے اپنے موجودہ سیاسی اور تمدنی مصائب سے نجات پا سکتے ہیں۔
    ہشتم:        جنوبی ایشیا میںاسلام کی بقا کا راز جداگانہ، آزاد اور خود مختار مسلمان مملکتوں کے قیام میں پوشیدہ ہے۔
رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے اغراض و مقاصد ایک متحدہ اور مخلوط ہندوستانی قوم کے تصورسے ماخوذ اور اقبال کی جداگانہ مسلمان قومیت کی آئیڈیالوجی سے متصادم تھے۔ اقبال کے زیر اثر کانفرنس کے مسلمان مندوبین نے فیڈرل سب کمیٹی میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ وجہ یہ کہ یہ کمیٹی کل ہند فیڈریشن کا آئینی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اور مسلمان مندوبین اس مجوزہ آئینی ڈھانچے کو مسلمانوں کے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے۔ بعد ازاں حکومت برطانیہ کے دبائو میں آ کر بیشتر مسلمان مندوبین سب کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو گئے۔ اس طرزِ عمل پر احتجاج کرتے ہوئے اقبال نے کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اقبال نے اپنے اس فیصلے سے سرآغا خان کو درج ذیل خط کے ذریعے آگاہ کیا۔ اس خط کے پورے متن کا اُردو ترجمہ درج ذیل ہے:
''میں آپ کو یہ خط انتہائی گہرے غم و اندوہ کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ میں آغازِ کار ہی سے اپنے مسلمان مندوبین کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتا چلا آ رہا ہوں۔ اُن کی درپردہ رقابتیں، سازشیں اور اُن میں سے چند ایک کی قوم فروشی نے مجھے بہت صدمہ پہنچایا ہے۔ مجھے بے حد افسوس ہے کہ اُن کے اس طرزِعمل سے تنگ آ کر میں رائونڈ ٹیبل کانفرنس سے کنارہ کشی اختیارکر رہا ہوں۔ آج سے مجھے مسلم مندوبین کی نام نہاد شیڈو کیبنٹ سے کوئی سروکار نہیں''۔
 یوں اقبال نے حکومت برطانیہ کا دبائو قبول نہ کرتے ہوئے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور برطانیہ کے عوامی نمائندوں ، تہذیبی زعماء اور ہندوستانی طلباء سے ہم کلام ہو کر جداگانہ مسلمان قومیت کی آئیڈیالوجی کو اُجاگر کرنے لگے۔ ایسے میں ڈاکٹر ایڈورڈ تھامسن کا خط شائع ہوا جس میںاقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کو بغاوت اور سازش کا مفہوم پہنانے کی کوشش کی گئی۔ اقبال اس دبائو میں بھی نہ آئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔
    ڈاکٹر تھامسن نے اپنے خط میں اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کو پان اسلامک سازشوں کا سرچشمہ قرار دیتے وقت اُس پیراگراف کو بطور خاص نمایاں کیا جس میں شمال مغربی ہندوستان میں مسلمان اکثریت پر مشتمل صوبوں کا آخری مقدر ایک متحدہ مسلمان ریاست کا قیام بتایا گیا تھا۔ اس خط میں ایک جملۂ معترضہ کے طورپر سرآغا خان کی اُس تقریر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں انہوں نے ہندو مت کے مقابلے میں اسلام کو زیادہ جمہوریت پسندمذہب قرار دیا تھا۔ انہوں نے قارئین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی تھی کہ سرآغا خان ہندو مت کے ساتھ ساتھ عیسائیت پر بھی اسلام کی برتری کے قائل ہیں۔ خط کے اسی حصے میں مسلمانوں پر یہ تنقید کی گئی ہے کہ وہ خواہ مخواہ ہندوئوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خیر یہ توجملۂ معترضہ تھا ۔ اصل زہر تو درج ذیل فقروں میں بھرا پڑا ہے:

I am not arguing against the establishment of Moslem "communal provinces" in North-West India. But what Sir Muhammad Iqbal demands is a confederation "within or without" the Indian Federation. Look at the map and see what sort of defensible frontier would be left to the rest of India.

Dr. Thompson


ڈاکٹر تھامسن کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ سوویت یونین کی سرحد پر اقبال کی مجوزہ مسلم فیڈریشن سے برٹش انڈیا کا دفاع خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس کے جواب میں اقبال نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اس سرحد پر مسلمان صوبوں کا اطمینان بخش اور خوش انتظام وجود برٹش ایمپائر کا بہترین دفاع ثابت ہوگا۔

 یہ جداگانہ اور خود مختار مسلمان مملکت کے تصور سے انکار نہیں بلکہ اُس کا اثبات ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ مطالبہ نہیں پیش بینی ہے۔یہ وہ حقیقت ہے جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے مگر اس کا عکس میرے آئینۂ ادراک میں جلوہ گر ہے۔ پاکستان ان صوبوں کا آخری مقدر ہے۔ وقت کی گردش اور تاریخ کا بہائو رفتہ رفتہ اس ناقابلِ تسخیر حقیقت کے چہرے سے نقاب سرکاتا چلا جائے گا اور پھر برطانوی سامراج کی رخصتی کے ساتھ ہی پاکستان کا طلوع اس پیش گوئی کو سچ ثابت کر دکھائے گا۔ تاریخی بہائو کے رواں مرحلے میں برطانوی کامن ویلتھ آف نیشنز سے باہر پاکستان کے قیام کی بات قبل از وقت ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اقبال نے برٹش انڈیا کی جغرافیائی اصطلاح کی بجائے برطانوی دولت مشترکہ کی سیاسی اصطلاح استعمال کی ہے۔ عملی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ اس مرحلے پر اُتنی ہی بات کی جائے جتنی ضروری ہے۔ یہ مرحلہ بین السطور بات کرنے کا ہے ببانگِ دہل شور مچانے کا نہیں۔ مقدر طے پا چکا ہے۔ پورا ہو کر رہے گا۔
اقبال اس خط میں تصورِ پاکستان کی تردید نہیں کرتے بلکہ تائیدِمزید کرتے ہیں۔ سیاسی تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ بات بھرپور اور معنی خیز اشاروں میں کی جائے۔ یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جب مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا برکت اللہ بھوپالی کے سے پان اسلامسٹ علماء بالترتیب سوویت یونین اور جرمنی میں بیٹھے اسلا م اور اشتراکیت کے درمیان نکتہ ہائے اشتراک و افتراق سمجھنے سمجھانے میں مصروف ہیں اور اقبال سرفرانسس ینگ ہسبینڈ(Sir Francis Younghusband) کو یہ سمجھانے میں مصروف ہیں کہ اگر برطانوی حکومت نے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہ کیا تو پھر سوویت یونین اور اسلامیانِ ہند کا سامراج دشمن اتحاد دائرۂ امکان میں ہے۔ اقبال کا یہ خط اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اقبال نہ تو کبھی حکومتِ برطانیہ کے دبائو میں آئے اور نہ ہی کبھی زمینی حقائق سے مغلوب ہوئے۔ بس ایک درویشانہ بے نیازی اور مجاہدانہ بے خوفی کے ساتھ حق کے راستے پر چلتے رہے۔ اسلامیانِ ہند نے اپنے لیے اقبال کی اسی راہ کو اختیار کیا اور بالآخر پاکستان کی منزل پر آپہنچے! ||


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی  کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP