متفرقات

اقبال او ر نوجوان

کسی پھوٹتی کونپل سے شجر بننے ، کسی قطرے سے دریا بننے ، ہوا کے کسی جھونکے سے طوفان بننے اور کسی کرن سے سورج بننے کی طرح نوجوانوں سے قوم اور اس کے مستقبل بننے کا سفر ایک ایسی مسافت کی کہانی ہے جسے لکھاریوں نے اپنی تحریروں اور شاعروں نے اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے۔ اقبال مسلمانوں کے زوال کے اس دور میں کہیں امید کی کوئی کرن دیکھتے ہیں تو وہ نوجوان ہی ہیں ۔ مسلمانوں کو ان کے ماضی سے روشناس کروانے اور انہیں شاندار عہد رفتہ کی یاد دہانی کروانے والے اقبال نے توانائی سے بھر پور لیکن اپنے مستقبل سے مایوس اور صلاحیتوں سے لاعلم نوجوانوں کو نشان منزل دکھانے کے لئے شعر کے اسلوب کو ایسا اپنایا کہ مثال کہلایا ۔ اقبال نے نوجوانوںکو خواب دکھلا کر قوم وملت کی تعمیر کا خواب دیکھا ۔ علامہ کیسا نوجوان چاہتے تھے ۔اس کے لئے یوں تو ان کا کلام ایک انمول خزانہ ہے لیکن ''ضربِ کلیم ''میں'' اسرار پیدا ''کے ذریعے ایک ایسے باہمت نوجوان کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
اس قوم کو شمشیرکی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد 
یوں تو اقبال کی شاعری عالمگیر ہے لیکن مسلم نوجوان اس کا ہدف خاص ہے۔ اسی لئے اقبال مسلم نوجوان کو اپنے ارادے اور خود ی پر بھروسے کا مشورہ دیتے ہیں جس سے ایک مضبوط قوم کی تعمیر ممکن ہوتی ہے ۔اقبال کہتے ہیں کہ خودداری کے حوالے سے حساس نوجوان ہی قوم کا سرمایہ ہوتا ہے ، ایسا نوجوان جو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے ، جو پر اعتماد ہو ، جس میں قوت ارادی کا جذبہ ہو ، جو ہر طوفان میں کھڑا رہے ، جو حالات کا شکار ہونے کے بجائے حالات کو اپنے طریقے سے ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ 
بالِ جبریل میںاقبال کہتے ہیں 
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں 
 آج کا نوجوان تساہل پسندی کا شکار ہے ، قناعت کے نام پر وہ سست رو ہو چکا اسی لئے وہ شاہین کی مثال دیتے ہیں کیونکہ شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جو خودداری، مہارت میں اپنی مثال آپ ہے ۔ اسی لئے اقبال نوجوانوں کو اس کی مثال دیتے ہوئے  ہمت دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم ( نوجوانو) اس شاہین کی طرح ہو جس کا کام صرف پرواز کرنا ہے یعنی بلندی سے مزید بلندی پر جانا اور یوں آگے سے آگے بڑھنا ہے ۔ وہ نوجوانوں کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں ان کی منزل ابھی نہیں آئی کیونکہ ان کے اندر اتنی صلاحیت ہے کہ صرف ترقی ہی ان کا مقدر ہے ۔کسی پڑائو کو منزل نہ سمجھنا کیونکہ ان کی صلاحیتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں ۔  
بانگ درا میں ''طلو ع اسلام ''میں اقبال مسلم نوجوانوں سے کچھ یوں مخاطب ہوتے ہیں :
سبق  پھرپڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا 
صدیوں کی غلامی نے مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں ایساد ھکیلا کہ اس سے نکلنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ا س نے چالاکی اور مکاری کو کامیابی کی ضمانت سمجھ رکھا ہے ۔ لالچ نے اس کے دل میں گھر کر لیا ہے  لیکن یہاں اقبال مسلم نوجوانوں کو ان کے شانددار ماضی سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں ایک بار پھر قائدانہ کردار ادا کرنا ہے ، اس کے لئے انہیں ( نوجوانوں کو) سچ پر قائم رہنا ہے ، بہادری کا مظاہر ہ کر نا ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک مسلم نوجوان کو ویسے ہی اس دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر نا ہے جیسے اس کے آباء نے کیا تھا ۔ وہ ماضی جس میں آدھی دنیا ان کے سامنے مسخر تھی ، ایسی دنیا جو اس کی شجاعت کی گواہ تھی ۔
بالِ جبریل میں اقبال کی ایک نظم '' ایک نوجوان کے نام '' میں وہ کچھ یوں گویا ہو تے ہیں 
ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 
صدیوں کی غلامی مسلمانوں کو صرف ذہنی ہی نہیں بلکہ معاشی پستی میں بھی لے گئی تھی ،وہ تن آسان ہو گئے تھے ، دوسروں کی ایجادات پر اکتفا کرتے کرتے وہ معاشی غلامی کے گڑھے میں بھی گر چکے تھے ۔ اقبال یہا ں ایک طرف مسلم نوجوانوں کی ہمت بڑھا تے ہیں تو دوسری جانب انہیں جھنجھوڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ وہ انہیں ( نوجوانوں کو ) کہتے ہیں کہ تم دنیا میں تخلیق کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گئے ہو ، دوسروں کی بنائی ہو ئی دنیا میں ''خوش'' ہو ، یہ صورت حال اقبال کو متفکر کرتی ہے کیونکہ دنیا میںسبقت کا معیار تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ وہ صلاحیتیں جن کے بل بوتے پر ترقی یافتہ ممالک ہر میدان میں آگے بڑھتے جارہے ہیں ۔ایسی مایوس کن صورتحال کے باوجود آگے چل کر اقبال کہتے ہیں ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں 
دور جدید میں قوموں کے درمیان مسابقت کی بنیاد بلند ہمتی اورزندگی کے ہر میدان میں مقابلے کی صلاحیت ہے لیکن بد قسمتی سے مسلم نوجوان ان اوصاف سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ یہاں اقبا ل ان خوددار نوجوانوں کی بات کرتے نظر آتے ہیں جو کسی ایک کامیابی کو اپنی منزل نہیں سمجھتے بلکہ آگے سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ یہاں ایک بار پھر اقبال عقاب اور شاہین کو نوجوانوں کی ہمت دلانے کے لئے استعارے کے طور پر استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ جب شاہین جیسا جذبہ نوجوانوں میں پھوٹتاہے تو وہ معمولی کامیابیوں پر صبر شکر کر کے نہیں بیٹھ جاتے بلکہ آگے سے آگے بڑھنے کی لَو ان میں جاگ جاتی ہے ۔ اس کے بعد اقبال کہتے ہیں 
نہیںتیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر 
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں 
مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ اقتدارکا لالچ بھی تھا جس نے بستیاں تباہ کر دیں ، اتحاد پارہ پارہ کر دیا اور بالآخر انہیں غلامی کا طوق بھی پہننا پڑا ۔  یہ وہی اقتدار ہے جس کی چکاچوند لیکن مصنوعی دنیا نے نوجوانوں کو اپنے اصل راستے سے ہٹا دیا ہے ۔یہاں اقبال نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ اقتدار بظاہر بڑی کامیابی ہے لیکن تمہارے لئے اصل میںیہ معمولی حیثیت رکھتاہے ، اے نوجوانو تمھاری منزل ابھی نہیں آئی ، ابھی تو تمھیں بہت بلند ی پر جانا ہے ، تمھیں وقتی فائدوںپر اکتفا نہیں کرنا ، بادشاہ کے محل کا گنبد نہیں بلکہ فلک بوس پہاڑوں کو تمہاری منزل ہونا چاہئے ۔اقتدار تو کانٹوں کی سیج ہے ، ایسا راستہ جو لالچ سے پر ہے لیکن اس سے بڑھ کر نوجوانوں کے لئے وہ راستہ اہم ہے جو انہیں اس سے بڑھ کر اس اصل منزل کی جانب لے جائے جواس کا مقدر ہونا چاہئے۔ 
ضرب کلیم ہی میں اقبال '' شعاع امید'' میں کہتے ہیں ۔
مشرق سے ہو بیزار ، نہ مغرب سے حذر کر 
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر 
 آج کا نوجوان مغرب کی مادی ترقی کا اسیر بن چکا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ مغرب میں سب کچھ ٹھیک نہیں بلکہ بہت کچھ عجیب اور بہت کچھ انتہائی ناقابل قبول ہے ۔ وہ ترقی کے نام پر مغربیت کو گلے لگا رہا ہے ۔یہاں اقبال نوجوانوں کو اعتدال کا راستہ اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں کیونکہ انتہائیں انسان کو مسائل کا شکارکر دیتی ہیں ۔ اقبال فرماتے ہیں کہ نوجوانو تمہیں مشرق ( ترقی پذیر ممالک ) سے متنفر ہونے کی ضرورت ہے نہ مغرب ( ترقی یافتہ ممالک )سے مرغوب ہونے کی بلکہ قدرت کا سبق یہی ہے کہ تاریکی میں اجالا کر نے کی کوششیں خود سے کرو ۔ اپنے حالات بدلنے کے لئے کسی دوسرے پر نہیں بلکہ اپنے زور بازو پر بھروسہ کرو ۔جو دوسروںپر تکیہ کرتے ہیں وہ بلاآخر منہ کی کھاتے ہیں ، غلامی ہی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے ۔  
بالِ جبریل میں اقبال '' روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے '' میںکہتے ہیں 
کھول آنکھ ، زمین دیکھ ، فلک دیکھ ، فضادیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
یہاں اقبال نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ اپنے شعور کی آنکھ کھول کر قدرت کی فیاضیوں کو دیکھو کیسے وہ باہیں پھیلائے تمھارے لئے حاضر ہے ، تم نے خدا کی وسیع دنیا کو اپنے محدود ذہن میں قید کر رکھا ہے ۔ اس سے باہر جھانک کے دیکھو، اس دنیا کی جانب جو تمھیں پکار رہی ہے ۔ یہا ں وہ مشرق کے مایوس نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کرہ ارض کو  منور کر نے والاسورج مشرق (ترقی پزیر دنیا ) سے ہی طلوع ہوتا ہے ۔ اس لئے مشرق سے تمہارے تعلق سے تمہیں کوئی شرمندگی نہیں ہو نی چاہئے ۔ اس کے بعد اقبال مزید کہتے ہیں ۔ 
ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں 
یہ گنبد افلاک، یہ خاموش فضائیں
آج کے مسلم نوجوان کی نظر محدود ہے ، دوسرے الفاظ میں ہ ہ کولھو کا بیل بن چکا ہے ۔ لیکن ایک بار پھر اقبال نو جوانوں کوان کی صلاحیتوں سے روشناس کروانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی نوجوان اگر چاہیں تو دنیا اِن کے قابو میں ہے۔  وہ چاہیں تواپنی سبقت زمین ، آسمان اور فضائوں میں ہر جگہ ثابت کر سکتے ہیں ۔ اس کے لئے انہیں خود کو پہچاننا ہوگا ۔ خود پر بھروسہ کرنا ہوگا ۔
آگے چل کر اقبال کہتے ہیں 
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں 
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں 
 مسلم نوجوانوں نے خود تک یہ بات طے کر لی ہے کہ وہ دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتے ، وہ ترقی کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یعنی اے نوجوانوں تمھارے اندر روشن جذبہ منور ہوتے سورج کی طرح ہے ، تمہارے اندر صلاحیتوں کی ایک نئی دنیا آباد ہے ۔ ضرورت صرف اسے تلاش کرنے کی ہے ، اس کی قدر کر نے کی ہے ۔ 
ضرب کلیم میں ''گلہ '' میں اقبال نوجوانوں سے یوں مخاطب ہوتے ہیں 
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے 
آج کا نوجوان مغرب سے اس قدر مرعوب ہے کہ اسے یہی منزل نظر آتی ہے ۔ یہ تو سچ ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ قابل رشک کار کر دگی نہیں دکھا سکے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنی روایت کو بھی تقلید میں بھو ل جائیں یہا ں وہ اس حوالے سے یورپ کو نہیں مسلم نوجوانوں کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں یعنی یورپ کی ترقی ، اس کی ماد ی ترقی اوراس کے جاہ وجلال کی وجہ سے اس کی غلامی میں جانے والے نوجوانو! میں یورپ سے کیا شکوہ کروں ، مجھے تو تم سے شکایت ہے ۔ 
''خطاب بہ جوانان اسلام '' میں اقبال کہتے ہیں 
کبھی اے نوجواںمسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا 
اس میں علامہ مسلمان نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ کبھی تم نے اس بات پر غور کیا کہ وہ کیسی ملت تھی جس کا تو ایک بچھڑا ہوا رکن ہے یعنی کبھی تم نے اس شاندار ماضی پر نظر ڈالی جس کے آگے نصف دنیا سر نگوں تھی ، کبھی تم نے اپنے اسلاف کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ؟
اقبال کی شاعری نوجوانوں میں ایک ایسی امید پیدا کرتی ہے جس سے وہ محروم ہو چکا ہے، مایوسی نے اس کو گھیر رکھا ہے ۔ ایک ایسی امید جو اسے اندھیروں سے نکال کر اُجالوں میں لاسکتی ہے ، جو اسے اس کی اصل کی طرف لوٹنے کے لئے دعوت فکردیتی ہے ۔ ||


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP