متفرقات

اقبال اور نظریۂ پاکستان 

 نظریہ عربی زبان کا لفظ ہے۔بعض دانشوراسے تصور کے متبادل کے طورپراستعمال کرتے ہیں حالانکہ ایسا درست نہیں ہے۔ لغت میںتصورکامفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کوخیال میں لانایاکوئی خالی نقشہ بنانا جبکہ نظریہ کسی خیالی نقشے کی وضاحت کوکہتے ہیں۔ یعنی جب ایک تصورواضح ہوکرایک تصویرکی شکل اختیارکر لیتاہے تو نظریہ کہلاتا ہے گویا تصورپہلے جنم لیتاہے اورنظریہ بعدمیں۔ علامہ محمداقبال کے حوالے سے جب یہ کہاجاتا ہے کہ وہ تصورِ پاکستان کے خالق ہیں تواس کامطلب یہ ہوتاہے کہ ایک نئی اسلامی ریاست کاخیال سب سے پہلے ان کے دل ودماغ میں آیااورجب انھیںنظریۂ پاکستان کاخالق قرار دیاجاتا ہے تواس کامطلب یہ ہوتاہے کہ وہ تصور جوعلامہ اقبال کے ذہن ودل میں موجودتھا، اُسے پوری وضاحت اورقابلِ عمل نقشے کے ساتھ بھی انھوں نے ہی پیش کیالہٰذا وہ بیک وقت تصوراورنظریے کے خالق ہیں کیونکہ یہ تصورہی بعد میں نظریۂ پاکستان کہلایا۔ اس حوالے سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کاتصورکب اور کہاں پیش کیا۔ عموماًیہ کہاجاتاہے کہ انھوںنے پہلی مرتبہ 29دسمبر 1930ء کو الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا۔ گویا یہ ان کاصدارتی خطبہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خطبۂ الٰہ آباد اسی تصور کی تصویر دکھارہا تھا مگرایسا بھی نہیں کہ اقبال کے ذہن میں اس سے پہلے ایساخیال نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کوبچپن سے ہندوئوں اورمسلمانوں کاایک ساتھ رہناعجیب لگتاتھا۔ دونوں کے رسوم ورواج، عبادات، ثقافت وتہذیب ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ وہ کسی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے قریب نہیں تھے۔ اقبال کوجب ان میں مشترکات دکھائی نہیں دیتے تھے توانھیںایک ساتھ رہنے کا جبربھی گوارانہیں تھا۔ ان کے دل میں اکثریہ خیال آتاتھا کہ دونوں قوموں کوالگ الگ رہناچاہئے۔ مسلمان اسی صورت میں اپنی ثقافت ،معاشرت اوردین کی حفاظت کرسکتے ہیں جب ان کے لئے الگ زندگی گزارنے کاانتظام ہو۔ انھوںنے پہلی مرتبہ باقاعدہ طورپر ان خیالات کا اظہار1901ء میں مدارس کی ایک نجی تقریب میں کیا۔ جہاں انھیں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اوران کے خیالات کواسلامیانِ ہند کے لئے بہت زیادہ مفید قرار دیاگیا۔ اس کے بعد یہ خیالات واقعی اسلامیانِ ہند میں سرایت کرنے لگے اور وہ اقبال سے اس حوالے سے سوالات بھی کرتے رہے۔ اقبال کوبھی پتاتھا کہ اس وقت تک ان کے اس تخیل کوآگے بڑھا نے  اورعملی جامہ پہنانے کے لئے موزوں قیادت موجود نہیںہے ۔کانگریس 1885ء میں قائم ہوئی تھی۔ بظاہر اس کے مقاصدمیں ہندوستان کے تمام باشندوں کی ترقی اور بھلائی کے پروگرام تھے مگر اصلاً وہ صرف ہندوئوں کے لئے کام کررہی تھی۔ کانگریس انگریزحکومت کی مخالفت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس لئے اس کاکوئی لیڈرآزادی کاخواب بھی نہیں دیکھ سکتاتھا۔ اس صورتِ حال میں اقبال نام کا مفکر پیدا ہوا جوبعد میں مفکرِ پاکستان اور مفکرِ اعظم کہلایا۔ 1901ء میں جس خیال کااظہار کیاگیا، یہی وہ خواب تھا جسے تصورِ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کانام ملا۔ اس خیال اور خواب کی بازگشت اس کے بعد 1903 میں سنائی دی۔ جب علامہ اقبال سے ملاقات کے لئے طلبہ کاایک وفد حاضر ہوا، اس وفدنے اقبال کے افکارآزادی کودل میں بٹھالیا۔ اب نوجوانانِ ملت میںایک نئی بحث چھڑ چکی تھی۔ایک ایسی بحث جس کاتصوربھی گناہ سمجھاجاتاتھا۔ اس بحث کادائرہ پھیل رہاتھالیکن علانیہ طورپربات کرنے کاکسی کوحوصلہ نہیںتھامگراقبال کے کلامِ بلاغت نظام میں ایک نئی اسلامی ریاست کے باقاعدہ اشارے ملناشروع ہوگئے تھے۔ 1907ء میں منظرپرآنے والی ان کی نظم جوبانگِ درا میں موجود ہے، نے نئی منزل کی نشان دہی ان الفاظ میں کی۔ 
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو 
شرر فشاں ہو گی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہو گا 
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشا کش مگر یہ دریا سے پار ہو گا 
علامہ اقبال کاتصورِ ریاست اسلامی عصری تقاضوں کے مطابق قرآنی تصورِریاست ہے جواقبال کی اُردو اور فارسی شاعری میں پوری آن بان کے ساتھ موجود ہے۔اس حوالے سے ان کے مضامین اورعلمی خطبے بھی قابلِ ذکر ہیں۔1908ء میں علامہ اقبال نے اس حوالے سے لندن میں بھی خطاب فرمایا۔ یہ خطاب انگلستان کے سہ ماہی مجلے سوشیولوجیکل ریویو کے جولائی 1908ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ریاستِ اسلامی کی تعریف وتشریح کے لئے انھوںنے متعددمضامین تحریر فرمائے۔ ان کاایک بہت اہم مضمون ہندوستان ریویوکی دواشاعتوں کی زینت بنا جس کاعنوان تھا ''اسلام بطور ایک اخلاقی  اور سیاسی تصورِ حیات'' جس میں اسلامی معاشرے کی اہم ترخصوصیات بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کے اخلاقی وسیاسی نظامِ زندگی کوموضوع بنایاگیاتھا۔ اسی طرح1910ء میں علی گڑھ یونیورسٹی میں ''امتِ مسلمہ، ایک عمرانی مطالعہ'' کے عنوان سے بہت اہم خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی ترجمانی کی گئی۔ جس کا نمایاںپہلوایک اسلامی ریاست کاقیام ہے۔ علامہ اقبال کے اس نوعیت کے مضامین ،خطبات اور مکاتیب کاسلسلہ جاری رہا اورپھر الٰہ آباد میں اپنی زیرصدارت مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں واضح طورپرمسلمانوں کے لئے ایک نئی اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ پیش کردیا۔ آپ نے اسلامی ریاست کاتصور ان الفاظ میں پیش کیا۔ 
''برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کاقیام اس خطے اوراسلام دونوںکے مفاد میں ہوگا۔میںیہ مطالبہ کرتاہوں کہ مسلمانوں کی ایک مربوط ریاست قائم کی جائے۔ ''
آگے چل کر انھوںنے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ ''فلاں فلاں علاقوں پرمشتمل ایک نئی اسلامی ریاست کوابھرتے ہوئے میری آنکھیںدیکھ رہی ہیں۔''
گویااقبال کوپختہ یقین تھا کہ ان کاپیش کیاہوانظریہ ہرحال میں عمل آشنا ہوگا۔ اقبال نے اپنے اس نظریے کی وضاحت کے لئے بعدمیںمزیدخطبے مختلف مقامات پر دیئے اور کئی اہل الرَّائے معززین کو خطوط بھی تحریر کئے۔ خصوصاً 1936اور 1937 میںقائداعظم محمدعلی جناح کے  نام اپنے خطوط میں نظریۂ پاکستان بہت وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ اس کے علاوہ مارچ 1938ء میں مسلمان اورجغرافیائی حدود کے عنوان سے ان کامضمون اس حوالے سے مکمل رہنمائی کرتادکھائی دیتا ہے۔ علامہ اقبال کے اس نظریے کی وضاحت میں دیگربے شمار دانشوروں  نے بھی  متعدد مقالے تحریر کئے۔ جن کوجمع کرکے کئی کتابیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ خطبہ الٰہ آباد کے بعد علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے بھی ملتِ اسلامیہ میں بیداری کی ایک لہر پیدا کردی تھی۔ ان کی فارسی شاعری کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیںیہ آزاد ترجمہ ہے: 
''مردِ مومن مقام ومرتبہ کی قید سے آزاد ہوتاہے۔ نہ کسی کو غلام وتابع بنائے اور نہ کسی غیرکااقتدار تسلیم کرے۔ مردِ مومن دراصل آزاد زندگی گزارتا ہے۔اس کاملک بھی خدادادہوتاہے اور اس کاآئین بھی خداداد۔ اس کادین وآئین،طورطریقے ،تلخ وشیریں اورخوب وناخوب کے پیمانے سب خدائی ہوتے ہیں۔ ہوس وخودغرضی کی حامل انسانی عقل دوسروں کی بہتری سے غافل رہتی ہے۔ یہ وحی خداوندی ہی ہے جوسب کافائدہ دیکھتی ہے اور ہرکہ ومہ کابھلاچاہتی ہے۔ امن کی حالت ہویا جنگ کازمانہ، وحی الٰہی عدل وانصاف کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ نہ کسی سے بے جارعایت برتے اور نہ کسی سے ڈرے۔ آئینِ خدائی کوترک کرکے جونظامِ حکمرانی وجود میں آتا ہے، اس میںطاقتورکمزور کو تہس نہس کرکے رکھ دیتاہے۔ آسمان کے نیچے حکم تو طاقتور ہی کاہوتا ہے مگر نظام خدائی سے بے بہرہ حکمرانی کفر اورظلم کامنظر دکھاتی ہے۔''                                                                                         اقبال نے مسلم اُمّہ کو ہندوئوں سے الگ قوم ہونے کی وجہ سے اپناالگ تشخص قائم رکھنے کادرس دیا۔ انھوںنے واضح کردیا کہ مسلمان آزادی کے لئے پیدا ہوا ہے، غلامی کے لئے نہیں۔ اقبال نے اپنے مندرجہ بالا اشعار میں پوری وضاحت سے نظریۂ پاکستان بیان کردیا ہے۔ 
علامہ اقبال نے جس انداز سے اپناصدارتی خطبہ پیش کیاتھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ آپ کے اندازِ بیان کی عمدگی ،خیالات کاتسلسل اور بلندیٔ افکار کے اعتبارسے سیاسی جلسوں کی تاریخ میں ایسے خطبے شاذونادر ہی ملتے ہیں۔ اس فکر انگیز خطبے میںاقبال نے اپنے عہد کے تمام اہم ترین سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل کے بارے میں اپنانقطۂ نظر وضاحت سے پیش کیا۔ جو قوم سیاسی جدوجہد میں ناکامیوں کی بناء پر شکستہ دل ہوچکی تھی، اقبال نے دنیائے انسانیت میں اس کی اہمیت کوواضح کیا اور اس پرزوردیا کہ وہ متحدہوکر آزادی کے لئے ہمہ تن کوشاں ہوجائے۔ ان کے الفاظ میں یہ تلقین دیکھیے: 
''مسلمانانِ ہند اس وقت اپنی زندگی کے جس نازک دور سے گزررہے ہیں، اس کے لئے کامل تنظیم،اتحاد،پختہ عزائم اور بلند مقاصدکی ضرورت ہے۔ نازک حالات کے تدارک کے لئے ہماری ملت کومستقبل قریب ہی میں آزادانہ جدوجہد کرنا پڑے گی لیکن کسی سیاسی طرزِعمل کے لئے آزادانہ جدوجہد کرنا اس وقت ممکن ہے جب پوری قوم اس پرآمادہ ہواور اس کے تمام عزائم اورارادے ایک ہی مقصد پر مرتکز ہوں۔اور یہ مقصد کیاہوناچاہئے، صرف اورصرف اسلام ۔اسلام آج بھی ایک زندہ قوت ہے جس کی فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ''
اقبال نے ہندومتحدہ قومیت کے نعرے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انھوںنے واضح کیا کہ ہندوخوداس یک رنگی سے محروم ہیں جوایک قوم بننے کے لئے ضروری ہے ۔ذات پات کی تقسیم اور دیگر مادی امتیازات کوترجیح دینے کی وجہ سے وہ خودایک قوم کہلانے کے مستحق نہیں۔ جبکہ مسلمان صحیح معنوں میں ایک قوم ہیں اور ہندوستان میں اگر کوئی قوم بستی ہے تووہ صرف مسلمان ہی ہے۔ اسی طرح اقبال نے ہرمقام پرنظریۂ پاکستان کی تشریح فرمائی۔ 1930ء سے 1938ء تک اقبال کاخطبہ ایک حقیقت بن کرسارے ہندوستان پرچھاچکاتھا۔ اقبال کی وفات کے بعد یہ نظریہ ایک اسلامی مملکت کی جدوجہد کے لئے عظیم قوت کے طورپر سامنے آگیا۔ قائداعظم محمدعلی جناح نے آزادی کے حوالے سے قوم کی جس طرح قیادت کی، اس کے پس منظر میں بھی یہی نظریہ تھا جس نے نہ صرف قائداعظم بلکہ تحریکِ پاکستان کے باقی تمام زعما کوبھی دلی تقویت عطا کی۔ گویا یہ نظریہ تحریکِ پاکستان کے جسم میں روح بن کررواں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 1930ء کے دس سال بعد 1940ء میں نظریۂ پاکستان قراردادِپاکستان کی شکل میںمسلمانانِ برصغیر کی آواز بن گیا۔اقبال پارک لاہور میں 23مارچ 1940 میں قرارداد کے حق میں جتنی تقاریر ہوئیں، اس میں اس نظریۂ پاکستان کاعلامہ اقبال کے حوالے سے انتہائی پُرجوش طریقے سے اظہار ہوا۔ قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح نے بہادریارجنگ کومخاطب کرکے فرمایا: 
''آج ہم نے وہ کچھ کردکھایا ہے جوعلامہ اقبال کی تمنا تھی۔'' 
یہ کہتے ہوئے قائداعظم کی آنکھیں پُرنم تھیں۔ بعدازاں 1942 میں جب قائداعظم کے نام اقبال کے خطوط نامی کتاب شائع ہوئی تواس کے دیباچے میں قائداعظم نے تحریر فرمایا: 
''اقبال کے نظریات میرے نظریات سے ہم آہنگ تھے۔ہندوستان کودرپیش آئینی ودستوری مسائل کے محتاط جائزے اور مطالعے سے میں اسی نتیجے پرپہنچاہوں جس پر علامہ اقبال بہت پہلے پہنچ چکے تھے۔ یہی وہ نظریات تھے جو مسلمانانِ برصغیر کی متحدہ خواہش کی صورت میںآل انڈیامسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور کی اس قرارداد کے روپ میں منصہ شہود پرآئے جسے عرفِ عام میں قراردادِپاکستان کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔''
قائداعظم کے فرمان کی روشنی میں اگر دیکھاجائے تواس سے واضح ہوتا ہے کہ پوری تحریک پاکستان علامہ اقبال کے پیش کئے ہوئے نظریے کاعکس تھی۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح پاکستان کاایک لہراتا ہوا سبزپرچم ہے، اسی طرح تحریکِ پاکستان کابھی ایک پرچم تھا جسے نظریۂ پاکستان کہتے ہیں۔ یہ نظریہ آج بھی زندہ ہے اورہماری قوت وعظمت کانشان ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس نظریے کی حفاظت کے لئے اپناکردار ادا کریں۔ عظیم مفکر علامہ اقبال کادیاہوا نظریۂ پاکستان اور قائداعظم کادیا ہوانظریاتی پاکستان ہمیں اپنی ذمہ داریاں یاددلاتا ہے۔  ||


[email protected]
    
 

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP