متفرقات

اقبال اور میں

کچھ عرصہ پہلے میں ابوجا نائیجیریا میں وزارت خارجہ گیا تو وہاں جناب حسین عبدالہٰی (جو وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں) سے ملاقات ہو گئی۔ بڑے سمارٹ لمبے قد کے خوبصورت انسان ہیں۔ انہوں نے بغیر تکلف کے مجھ سے علامہ اقبال کا ذکر چھیڑ دیا۔ میں علا مہ کے متعلق ان کی معلومات جان کر حیران رہ گیا۔ میں نے ان سے اگلا سوال کیا کہ آپ اردو یا فارسی زبان جانتے ہیں تو بولے نہیں۔ میں نے علامہ کے متعلق سب انگریزی میں پڑھا ہے۔ خیر میں ان سے اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوا کہ میں انہیں علامہ سے متعلق کچھ ویب سائٹس بھیجوں گا جو کہ میں نے انہیں دو دن کے اندر اندر ارسال کر دیں۔ مگر میں دل ہی دل میں سوچتا رہ گیا کہ علامہ اقبال کے پڑھنے والے افریقہ کے اس حصے میں بھی موجود ہیں جو علامہ کے فلسفہ خودی اور مرد مومن اور ان کے نظریہ پاکستان کے خالق ہونے کا ادراک رکھتے ہیں۔ پھر میں مزید گہرے خیالات میں اپنے ماضی و حال کے علامہ سے تعلق پر سوچنے لگا۔ علامہ نے ہماری بہت ساری نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ جس نسل سے میرا تعلق ہے وہ تو خاص طور پر علامہ اقبال کے خیالات و افکار سے نہ صرف متاثر ہوئی ہے بلکہ ہماری زندگیاں بہت حد تک علامہ کے نظریات سے shape

ہوئیں۔ اقبال سے میرا پہلا تعارف 1957میں ہوا جب میں پہلی بار اپنے قصبے کے سکول میں پہلی جماعت میں داخل ہوا۔ پہلے ہی دن صبح کی اسمبلی میں علامہ کی نظم

(دعا)

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

اقبال مسلمانوں کے زوال کی وجوہات میں سرفہرست تین کا بیان کرتے ہیں۔

(۱)ملوکیت (۲)ملائیت (۳)خانقاہیت

ملوکیت: خاندانی بادشاہتیں اور جمہور کی جملہ معاملاتِ حکومت سے لاتعلقی

ملائیت: یعنی تقلید یا Creativityاور اجتہاد کا انکار جبکہ اﷲ نے انسان کو Creative بنایا اور اجتہاد یا قیاس کا بھی اختیار دیا۔ ملائیت دراصل فلسفہ جمہوریت کی نفی ہے۔

خانقاہیت: یعنی موجودہ دور میں رواں دواں پیری اور مریدی جس نے مسلمانوں میں‘ خاص طور پر پاک و ہند میں‘ نہ صرف جمہور کی سوچ کو مقید کر رکھا ہے بلکہ آج کے مسلمان معاشرے کی ترقی میں سب سے نمایاں رکاوٹ بھی ہے۔

سننے کا اتفاق یہ ایک نہایت ہی دلچسپ اور پسندیدہ تجربہ تھا۔ نظم اتنی اچھی لگی کہ چند ہی روز میں زبانی یاد ہو گئی۔ نظم کیا ہے گویا دعا اور عہد ہے جو ہر بچہ اپنے سکول کے شروع کے دنوں میں ہی نہ صرف ازبر کر لیتا ہے بلکہ اسے اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ اب بھی کہیں ریڈیو یا ٹی وی پر یہ نظم سننے کا اتفاق ہوتا ہے تو نہ صرف ماضی لپک آتا ہے بلکہ احساس خدمت و محبت اور اجاگر ہوتا ہے۔ علامہ کے انسانیت کے درس سے بہتر اور کوئی سبق بچوں کو نہیں پڑھایا جا سکتا۔ کاش آج بھی پاکستان کے ہر سکول میں کم از کم پہلی چار جماعتوں میں یہ دعا ہر صبح باقاعدگی سے پڑھی جائے۔ جیسے جیسے سکول میں دن گزرتے گئے‘ علامہ اقبال کی دوسری نظمیں مکڑا اور مکھی‘ جگنو اور ہمالیہ وغیرہ پڑھیں۔ ہمارے سکول کے اردو کے استاد عبدالحمید عباسی(مرحوم) ان نظموں کا ایسا سرائیکی سلیس ہمیں پڑھاتے کہ آج تک ان کا مفہوم ذہن نشین ہے۔ ہمارے سکول میں ایک بڑے ہال میں دیواروں پر علامہ اقبال کے چند اشعار لکھے ہوئے تھے۔ اس بار میں سکول دیکھنے گیا تو وہ مٹ گئے تھے۔ مگر میرے لوح ذہن پر ابھی تک محفوظ ہیں۔

خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے

مسلمان کو ہے ننگ وہ پادشاہی

آگ ہے اولادِ ابراہیمؑ ہے نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

اقبال کے ہاں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا قوت عمل کو فنا کر دیتا ہے اور جب قوت عمل ختم ہو جاتی ہے تو آدمی جیتے جی موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ حاجت اور ناداری بھی انسان میں رُوباہ( لومڑی) مزاجی پیدا کرتی ہے۔ ان سے بلندئ افکار اور آزادی فکر بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمت و حوصلہ جواب دے جاتا ہے اور انسان خوشامد‘ جھوٹ‘ فریب اور غیبت جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ علامہ کے نزدیک خودی کی موت ان سارے امراض کا منبع ہے۔

زمانہ گزرتا رہا۔ اقبال کی تمام اردو قدرے کم فارسی شاعری کا مطالعہ کیاتو روح کی تسکین ہوئی۔ کالج میں آئے تو علامہ اقبال کو ذرا نزدیک سے جاننے کا موقع ملا۔ علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی اور جاوید منزل بھی دیکھ لی۔21اپریل کو ہر سال پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کے ہال میں مجلس اقبال کے جلسے بھی دیکھے اور سنے۔ یہ جلسے نہایت روح پرور اور پُر جوش ہوتے تھے۔ ان جلسوں میں بڑے اچھے اچھے اقبال شناسوں سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔ ان میں نمایاں شخصیات ڈاکٹر جاوید اقبال اور شورش کاشمیری کی تھیں۔ شورش کاشمیری مرحوم و مغفور تو جب بولتے تو بولتے ہی چلے جاتے۔ ان کے رسالے چٹان کا تو سرورق ہی علامہ کے اس شعر سے سجا تھا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں لاالہ الا اﷲ

ان کی تحریر و تقریر میں بہت روانی تھی۔ موچی گیٹ کے بعض سیاسی جلسوں میں بھی ان کو سنا‘ بہت اچھے مقرر تھے۔ صرف نوابزادہ نصراﷲ خان (مرحوم) تقریر میں ان سے کچھ مقابلہ کر سکتے تھے۔ کالج میں پروفیسر مرزا منور (مرحوم)‘ گو میں ان کی اردو کی کلاس میں تو نہ تھا مگر انہیں اکثر کالج کی محفلوں میں سننے کا موقع ملا‘ بہت ہی شائستہ علم والے اور بلند پایہ اقبال شناس تھے اﷲ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے‘جتنا اقبال کے بارے میں ان سے سنا اور سیکھا شاید ہی کسی اور سے یا خود سے سیکھ سکے۔ کالج کے اقبال ہاسٹل میں دو سال قیام کیا۔ دوسرے سال میں اس کمرے کے بہت نزدیک ٹھہرے جو علامہ اقبال کی رہائش گاہ رہی۔ علامہ اقبال جوانی میں ہم سے بہتر جوان تھے۔ وہ جوان ہی کیاجو ایسے اشعار نہ کہے۔

چلتے ہوئے کسی کا جو آنچل سرک گیا

بولی حیا حضور دوپٹہ سنبھال کر

تصویر میں نے مانگی تو ہنس کے دیا جواب

عاشق ہوتے تھے تم تو کسی بے مثال کے

اور پھر عشق مجازی فوراً عشق حقیقی کا روپ دھار لیتا ہے۔

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چُن لئے

قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے

اقبال کے ہاں بہت ہی تنوع اور بلندیِ خیالی تھی۔ موضوعات کی کمی انہیں ہرگز نہ تھی۔ فکرِ حال سے بخوبی واقف بلکہ ان کا تنقیدی جائزہ اشعار میں ایسا لیتے کہ ایک شعر میں ساری بات کہہ دیتے۔ اشتراکیت کا سورج ان کے دور میں نہ صرف طلوع ہوا بلکہ عروج کی طرف رواں تھا۔ ایک طرف کہتے ہیں۔ جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہِ گندم کو جلا دو

گیا دور سرمایہ داری گیا

تماشہ دکھا کر مداری گیا

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے

ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

مگر دوسری طرف کہتے ہیں

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال مسلمانوں کی حالت زار پر بہت گریہ کناں رہے۔ انہوں نے غلامی کے طوق سے مسلمانوں کو فکری آزادی دلا کر ذہنی بیداری کا احساس دلایا۔ غلامی خواہ سرمایہ داروں کی تھی یا اپنوں کی‘ دونوں ہی نے مسلمانوں کو خواب خرگوش میں مبتلا کیا۔ پیرانِ کلیسا و حرم اُن کے ہاں ایک اہم موضوع رہا۔

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

اور پھر

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

اقبال اپنے دور کی سیاست اور اس کے ابھرتے ہوئے نقوش پر بہت عمیق سوچ اور نظر رکھتے تھے۔

نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی

کہ روحِ شرق‘ بدن کی تلاش میں ہے ابھی

اور

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری

اے گشتہ سلطانی و ملائی و پیری

اقبال مسلمانوں کے زوال کی وجوہات میں سرفہرست تین کا بیان کرتے ہیں۔

(۱)ملوکیت (۲)ملائیت (۳)خانقاہیت

ملوکیت: خاندانی بادشاہتیں اور جمہور کی جملہ معاملاتِ حکومت سے لاتعلقی ملائیت: یعنی تقلید یا

Creativity

اور اجتہاد کا انکار جبکہ اﷲ نے انسان کو

Creative

بنایا اور اجتہاد یا قیاس کا بھی اختیار دیا۔ ملائیت دراصل فلسفہ جمہوریت کی نفی ہے۔ خانقاہیت: یعنی موجودہ دور میں رواں دواں پیری اور مریدی جس نے مسلمانوں میں‘ خاص طور پر پاک و ہند میں‘ نہ صرف جمہور کی سوچ کو مقید کر رکھا ہے بلکہ آج کے مسلمان معاشرے کی ترقی میں سب سے نمایاں رکاوٹ بھی ہے۔ علامہ اقبال کے اشعار و افکار میں ایک چیز جو مسلمانوں کے زوال کے بارے میں نمایاں تھی‘ وہ ان کا ادراک تھا جو انہیں

geostrategy

اور

geo-politics

پر حاصل تھا۔

آسیایک پیکر آب و گِل است

ملت افغاں درآں پیکر دل است

از فساد او فسادِ آسیا

درکشادِ او کشادِ آسیا

ان اشعار کا آساں اردو ترجمہ و مفہوم یہ ہے۔

ایشیاء پانی اور مٹی کا ایک پیکر یا جسم ہے

افغان قوم اس پیکر کا دل ہے

اس کے فساد سے ایشیا میں فساد ہے

اس کی راحت سے ایشیا میں راحت

یہ وہی حقیقت ہے جو

Mackinder

نے اپنی

Heartland

تھیوری میں بیان کی ہے۔ اس نے اپنے ایک مضمون‘ جس کا عنوان

The Geographical Pivot

تھا‘ میں وسطی ایشیا افغانستان تک اور مشرقی یورپ بشمول روس کو

Pivot Area

قرار دیا تھا۔ اسی طرح افغانستان بشمول وسط ایشیا اور مشرقی یورپ کو

Hinterland

بھی کہتے ہیں۔ علامہ اقبال نہ صرف اپنے دور اور اپنے آنے والے دور کا مکمل اور شفاف ادراک رکھتے تھے بلکہ ان کے تجربات اور اقوام عالم کے مسائل کے حل کے لئے اپنے نظریات تھے۔ ان میں سے بعض کا ظہور ابھی تک شاید نہیں ہوا۔ ان کا یہ شعر قابل غور ہے۔

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

علامہ اقبال اس عالم رنگ و بو کو ہمیشہ ایک تسلسل کے طور پر دیکھتے تھے۔ تحقیق و تسخیر ان کے لئے ایک عمل پیہم تھا۔

انہیں روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اور

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

جیسے جیسے علامہ کے کلام کا مطالعہ کرتا گیا ان کی فکر مجھ پر مزید واضح ہوتی گئی۔ اقوام مغرب کی سوداگری اور عالم اسلام کی بے حسی دونوں ان کے لئے بے حد تکلیف دہ مظاہر تھے۔

گریز کشمکش زندگی سے مردوں کا

اگر شکست نہیں تو اور کیا ہے شکست

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ ضمیر مشرق ہے راہبانہ

وہاں دگردوں سے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں زمانہ

فوج میں آئے تو علامہ کے وہ اشعار جو عموماً جہاد اور شہادت کی آرزو میں پیش کئے جاتے ہیں‘ ان کی حقیقت بھی واضح ہو گئی مثلاً

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!!

ہمارے ہاں شہادت کا مطلب صرف جان دینا لیا جاتا ہے۔ جبکہ مشن کی تکمیل کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ میں نے اپنی کمانڈ میں ہمیشہ مشن کی تکمیل پر زور دیا ہے۔ شہادت ایک امر واقعہ ہے۔ ایک اور خیالِ اقبال جس نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ وہ وہی تھا جس کا درس خاتم الانبیاء رسول خداﷺ نے دیا تھا وہ دولت کی بے جا ہوس سے بچاؤ ہے۔ علامہ نے اس کو نہایت خوبصورت پیرائے میں اس طرح بیان کیا۔

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

میں نے بسا اوقات فوج میں بھی دیکھا اور یہی بات بیورو کریسی‘ سیاست دانوں اور دولت مند طبقوں پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ چند لوگ اپنے فرائض چھوڑ کر دولت کی بے جا ہوس میں مبتلا ہو گئے۔ اس طرح نہ صرف انہوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتی بلکہ لالچ و ہوس سے حقوق العباد کو بھی غصب کیا۔ اﷲپاک نے ہر کسی کے لئے اس کے حصے کا رزق مقرر کر دیا ہے اور وہ اسے جائز طریقے سے جدوجہد کرنے سے مل کر ہی رہتا ہے اور ایک باعزت زندگی گزارنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اسی طرح اقبال کے ہاں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا قوت عمل کو فنا کر دیتا ہے اور جب قوت عمل ختم ہو جاتی ہے تو آدمی جیتے جی موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ حاجت اور ناداری بھی انسان میں رُوباہ( لومڑی) مزاجی پیدا کرتی ہے۔ ان سے بلندئ افکار اور آزادی فکر بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمت و حوصلہ جواب دے جاتا ہے اور انسان خوشامد‘ جھوٹ‘ فریب اور غیبت جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ علامہ کے نزدیک خودی کی موت ان سارے امراض کا منبع ہے۔

خودی کی موت سے مشرق کی سرزمینوں میں

ہوا نہ کوئی خدائی کا رازداں پیدا

علامہ تو باپ دادا سے ملنے والی میراث کے بارے میں بھی کہتے ہیں۔

پشیماں شُو اگر لعلے زمیراث پدر خواہی

کُجا عیش بروں آوردن لعلے کہ در سنگ است

اور پھر

غیرت و فکر مگر کر نہ سکی اس کو قبول

جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات

وہ تو خود جذبہ امید و یقین اور مشن والے ہیں

ہمہ سوز ناتمامم‘ ہمہ دردِ آرزویم

بگماں وہم یقیں را کہ شہیدِجستجویم

I am all concerned with passion, all imbued with ambition. I turn my fears into faith, strangthenged by a sense of mission.

علامہ کی دعا میں بھی غضب کا ملال ہے۔

بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر

شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر

مکن رسوا حضور خواجہ مارا

حساب من زچشم او نہاں گیر

یعنی مجھے حضورﷺ کے سامنے رسوا نہ کرنا اور میرا نامہ اعمال ان کی آنکھوں سے اوجھل رکھنا کیونکہ اس میں اُن کے دکھانے کے لائق میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ علامہ مرحوم و مغفور کی سب سے زیادہ متاثر کن تحریر ان کے خطبات ہیں جو بعد میں

Reconstruction of Relegious Thought in Islam

یا ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ اُن خطبات یا لیکچروں کا مخاطب زیادہ تر وہ مسلمان ہیں جو مغربی فلسفے سے زیادہ متاثر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ فلسفہ اسلام کو فلسفہ جدید کے طرز و تحریر میں بیان کیاجائے اور اگر پرانے خیالات میں خامیاں ہیں تو ان کو دور کیا جائے۔ علامہ فرماتے ہیں۔

A false reverence of past histroy and its artificial resurrection constitute no remedy for a peopl's decay

اگر قوم کے زوال و انحطاط کو روکنا ہے تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم اپنی گزشتہ تاریخ کو بے جا احترام کی نظر سے دیکھنے لگیں یا اس کا احیاء خود ساختہ ذرائع سے کریں۔

علامہ نے فرمایا کہ:

The only effective power, therfore, that couneracts the forces of decay in a people is the rearing of self-concentrated individuals. Such individuals alone reveal the depth of life. They disclose new standards in the light of which we begin to see that our environment is not wholly invoilable and requires revision.

یعنی انحطاط کے سدِّ باب کا اگر فی الواقعہ کوئی مؤثر ذریعہ ہے تو یہ ہے کہ معاشرے میں اس قسم کے افراد کی پرورش ہو رہی ہو جو اپنی ذات اور خودی میں ڈوب جائیں کیونکہ ایسے ہی افراد ہیں جن کو زندگی کی گہرائیوں کا انکشاف ہوتا ہے جن کی بدولت اس امر کا اندازہ ہونے لگتا ہے کہ ہمارا ماحول سرے سے ناقابل تغیر و تبدل نہیں بلکہ اس میں اصلاح اور نظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔ علامہ اقبال کے افکار و خیالات کا جتنا گہرائی سے مطالعہ کیا مجھے اتنی ہی شدت سے احساس ہوا کہ اقوام مشرق اور خاص طور پر مسلمان جب تک اپنے اندر علوم اور سائنس کا احیاء نہیں کرتے ان کی مادی و ذہنی ترقی ناممکن ہے۔ جدید چین ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا‘ سنگاپور اور ملائشیا یہ سب ممالک جہاں مادی ترقی میں آگے ہیں وہیں انہوں نے فکری ترقی میں بھی بہت سے معاملات طے کئے ہیں۔

جب میں اپنے وطن پاکستان کی طرف دیکھتا ہوں تو علامہ کے بہت سے اشعار ذہن میں دوڑنے لگتے ہیں۔ اگرچہ ذاتی طور پر میں اپنے ملک و معاشرے کے انحطاط کا ذمہ دار اس کی لیڈر شپ کو قرار دیتا ہوں‘ لیڈر شپ سے میری مراد صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ ہر سطح کی سیاسی‘ معاشی اور فکری لیڈر شپ ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

امید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے

یہ خاک باز ہیں رکھتے ہیں خاک سے پیوند

آج کل ہمارے ہاں شمال مغربی قبائلی علاقوں کا بہت چرچا ہے۔

عزیز ہے انہیں نام وزیری و محسود

ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری

ایک عجیب مذہبی جنونیت نے معاشرے کو گھیر رکھا ہے۔ جنسِ عقل و خرد ناپید ہے۔ پس اپنے آپ کوبلامقصد مرنے اور مارنے کی تمنا ہے۔ غیروں کے اشارے اور سہارے پر۔

اے لاالہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتار دلبرانہ‘ کردار قاہرانہ

پھر بھی اقبال ناامید نہیں ہے اس جہانِ حاضر سے

دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا

قریب آ گئی شاید جہان پیر کی موت

اقبال کے خیالات و تخیلات سے بہت کچھ سیکھا۔ اپنی تعلیمی‘ فوجی اور بعدازاں عسکری پروفیسری اور سفارتی زندگی میں ہمیشہ ان سے استفادہ کیا۔ بقول اقبال

اقبال تیرے عشق نے سب بل دیئے نکال

مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی

بہرحال

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

نذرِ اقبال

اﷲ! قیامت اگر آتی ہے تو ٹل جائے

پُھولی ہے جو برسوں میں وہ اِک شاخ تو پھل جائے

مُرجھائے کوئی گُل نہ ستارہ کوئی ٹوٹے

انسان سنبھل جائے تو کیا کچھ نہ سنبھل جائے

کیوں عشق کی اس آنچ سے دل موم نہ ہو پائیں

پتھر کو بھی جس آنچ پہ رکھو تو پگھل جائے

غنچوں کو تو درکار ہے آئینہ سحر کا

شبنم کو یہ ڈر ہے کہ کہیں رات نہ ڈھل جائے

ہر موڑ پہ بیٹھا ہے یہ خونخوار درندہ

جو لمحہ گُزر جائے اسے وقت نِگل جائے

انسان ہے اک جسم کی‘ اِک جاں کی شراکت

اور اِک جھلس جائے تو وجدان بھی جل جائے

شاعر کو یہ ضد‘ چاند سے کم کچھ نہیں لے گا

پُھولوں پہ مگر اوس کو دیکھے تو بہل جائے

احمد ندیم قاسمی

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP