متفرقات

اقبال اور مستقبل

دنیا میں ادیان اور مذاہب کے رائج تصورات پوری انسانیت کی فلاح و بقا کے نظریۂ تحفظ کا احاطہ نہیں کرتے کیونکہ دنیا میں لادین اور دہریہ افکار کے حامل افراد کی تعداد لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے۔ اس دنیا میں رہنے اور آزاد رہنے کا حق صرف اللہ کو ماننے والوں کا ہی نہیں کیونکہ اللہ رب العالمین ہے،رب المسلمین نہیں۔اقبال کی فکر ہر اسلامی فکر کا عنوان لگا کر اسے محدود کرنے والوں کو خبر ہو کہ اسلام توحید الٰہی اور رسالت محمدیؐ پر ایمان لانے سے مشروط ہے اور ایمان لانے کا مطلب ہے احکام الٰہی اور سنت نبویؐ پر منشائے الٰہی کے مطابق عمل پیرا ہونا۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا کہ رب العالمین نے پیغمبر اسلامﷺ کو رحمت اللعالمین قرار دیا ہے چنانچہ اسلام کا عطا کردہ منشورِ حیات صرف نظام معاشرت اور فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتا ہے جس میں اوامرو نواہی کا تعلق قوتِ نافذہ کی پسند و ناپسند کے بجائے احکام الٰہی سے ہے کیونکہ اسلام کی فلاحی سیاست کی تشکیل کردہ فلاحی ریاست کا امیر مالک نہیں بلکہ امین ہے۔ مقتدرِ اعلیٰ اللہ کی ذات ہے جو نہ جاگیر دار ہے نہ سرمایہ دار ہے اور جس کا تعلق نہ پرولتاریہ سے ہے اور نہ ہی بورژوا طبقے سے‘ چنانچہ اس کی پالیسیاں کسی مخصوص طبقے کے تحفظ کو پیش نظر رکھ کر نہیں بنائی گئیں بلکہ انسانی فلاح اور بقاء کے لئے ہیں اور ان میں عدل و انصاف ہر شعبے کا خاصہ ہے۔ ہر فرد آزاد ہے مگر اجتماعی سطح پر وہ حفظ مراتب اور مفاد عامہ کا پابند ہے۔ وہ فرد جسے دنیا کی امامت کا فریضہ ادا کرنا ہے‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ۔۔۔ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ترجمہ :’’ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اﷲ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔‘‘(سورۃ الانعام ۔ آیت :163)کی تعمیل و تجسیم ہو۔


چودہ صدیوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا مگر ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ سچ کیا ہے اور کس سچ کے سفر پر روانہ ہو کر ہمیں وہ طاقت حاصل کرنی ہے اور کب اور کیسے ایسی شجاعت اور صداقت و دیانت کا سبق پڑھنا ہے اور کب اسے دنیا کی امامت کا فریضہ انجام دینا ہے جو غایت الٰہی کا عارف ہو‘ جو جان پرسوز ہو‘ جس کی نگہ بلند ہو‘ جس کا سخن دلنواز ہو‘ جس کی باتوں سے علاقائی‘ لسانی اور مذہبی تعصب کی بدبو نہ آئے‘ جس کی باتوں سے محبت اور اخوت کی خوشبو آئے‘ جس کی آنکھ میں خاک مدینہ و نجف کا سرمہ ہو‘ جسے جلوہ دانش فرنگ خیرہ نہ کر سکے جس کا
source of inspiration
یورپی حکماء اور حکمران نہ ہوں۔
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لند ن میں بھی آدابِ سحر خیزی
وہ اسم محمدﷺسے قوت عشقِ انسانیت کی طاقت حاصل کرنے کی خو رکھتاہو۔ جوایک عالمگیر پیغام کا نقیب ہو‘ کسی ایک طبقہء فکر کا نمائندہ نہ ہو۔ 
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر 
اقبال کا خیال ہے کہ وہی بہترین نظام حیات ہے جس سے روگردانی اور انحراف نے انسان کو پھر سے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے امراض کہن میں مبتلا کر دیا ہے اور ان میں سب سے زیادہ متاثر (بدقسمتی سے ) انسانوں کاوہ طبقہ ہوا ہے جو خود کو مسلمان سمجھتا ہے۔ اس کا خیال ہے اس پر عصرِ حاضر میں عرصہ حیات تنگ ہونے کی وجہ اس کی اسلام کی فکر کہن سے وابستگی ہے۔ اس کے پیش نظر خلیفہ سوم کے بعد سے آغاز ہونے والی باہمی خوں ریزی اور سیاسی انتشار ہے اور ملوکیت کے تحت ان اقدار کا فروغ ہے جنہوں نے عامتہ الناس کو شتر بے مہار کی طرح خود پرستی اور خود نگہداری کا خوگر بنا کر یکسوئی اور یکجہتی سے محروم کر دیا۔ وہ قوم جس کی بنیاد رنگ و نسل اور جغرافیائی وابستگی سے ماورا ایک قول سدید لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر تھی‘ وہ پھر سے انہی چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ عصائے الٰہی چھن جانے کے باعث وہ اس جرمِ ضعیفی کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی سزا کے طور پر وہ محکومی و مقہوری کا شکار ہیں کیونکہ 
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد۔۔۔۔


چنانچہ اقبالؔ نے آکر اس امر واقعی کی نشاندہی کی کہ اسلام اور قرآن سے بیزار ہونے والوں کو دراصل ان طبقوں اور اس نظام فکر سے متنفر اور مبرا ہونا چاہئے جس کے تحت مسلمانوں کی شوکت و سطوت خاک میں ملی۔ مسلمان حکمرانوں یا مسلمان ریاستوں کی شکست و ریخت اسلام کے نظام فکر پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اسلام کے حقیقی پیغام سے روگردانی کا نتیجہ ہے 
چنانچہ نشاۃ الثانیہ کے حصول کے لئے پھر قوتِ عشق محمدی کی ضرورت ہے جو ہر پست کو بالا اور ہر طرف اجالا کرنے کا منبع و مصدرہے۔ اقبال ؔ نے بتایا کہ یکجائی سے پھر صرف ایک آقا کی غلامی کر کے دنیا کی امامت کا منصب حاصل کر لو کیونکہ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ وہ مسلمان جنہوں نے ولایت اسلامی کی محکم روایت قائم کی‘ ہر طرف اپنی حکومت بنائی‘ وہ ہندی و سندھی یا تاتار و بربر یا تازی ہونے کے باعث مستحکم نہیں تھے بلکہ ان کا استحکام توحید و رسالت اور نیابت الٰہی سے مشرف تھا۔ اقبال ؔ نے اس عہد کے دنیا بھر کے نوجواں مسلم کو عہد رفتہ کی عظمت کی یاد دلا کر اسے بتایا کہ مغرب کی پروردہ جس تہذیب کو وہ عافیت کا ذریعہ سمجھ کر اس کی طرف کھنچ رہا ہے‘اپنی تیرہ بختی اور ناگفتہ بہ حالت کا علاج جس فلسفہ حیات سے اکتساب کرنا چاہ رہا ہے ‘اسی تنقیص و تحقیر کے حامل نام نہاد فلاسفۂ نے اسے صدیوں مسلمانوں کا محکوم رکھا۔چنانچہ مغرب کی طاقت کا مصدر وہ فلسفہ نہیں ہے‘ وہ تو مغرب کی بے راہ روی ہے ۔اسے تو مغربی نظام فکر خود پر دھبہ سمجھتا ہے‘ وہ تو خود اپنی سوسائٹی کی اس قباحت سے بیزار ہے۔ مغرب کی وہ یلغار جس کے نتیجے میں اقوام عالم اس کے زیر نگیں آئیں‘ وہ حکمت اور فراست ہے جس کی اصل اور اس کے اساسی اصول اسلام کے فلسفے سے اخذ کئے گئے ہیں اور یہی اقوام مغرب کا وہ اثاثہ ہے جس کے اصل وارث مسلمان تھے۔ اقوام مغرب نے فکری سطح پر اسی فلاسفی کو اپنی زندگیوں کا آئین بنا کر وہ اہلیت اور صلاحیت پائی جو فاطر ہستی کے دستور عدل کی رو سے وقار اور اقتدار پانے کے لئے ضروری ہے۔


قدرت کے وسائل پر قابض فرد کے لئے ان سے حاصل ہونے والے ثمرات کو قدرت کے احکامات کے مطابق محکوم و مجبور اور معذور لوگوں (اقوام) تک کماحقہ منتقل کرنے کیلئے امین ہونا فرض ہے۔ امین عدالت سے کام لے کر وسائل کی تقسیم کو افراد کی ضرورتوں اور احتیاج کے مطابق تقسیم کرنے پرقادر ہو گا ۔کیونکہ اس کا مفاد اور دلچسپی یا غایت ان وسائل پر تسلط ا ور تحصیل نہیں بلکہ ان وسائل کی عادلانہ تقسیم سے وابستہ ہو گا۔ اسلامی تاریخ سے اس کا عملی مظاہرہ ہمیں رسالت مآبﷺ کی زندگی سے ملتا ہے کہ آپ ﷺجب تک مال تقسیم نہیں کر دیتے تھے گھر نہیں جاتے تھے۔ کیونکہ آپﷺ کی زندگی کا مقصد وسائل کی تحصیل نہیں بلکہ منصفانہ و عادلانہ تقسیم تھا۔ اسی ہستی کی زندگی کو ہمارے لئے عملی نمونہ اور رشد و ہدایت قرار دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے مسلمان ہی آپ ﷺکی زندگی کو اپنے لئے رول ماڈل بنانے پر آمادہ ہو گا اور جب وہ آپﷺ کی زندگی کو رول ماڈل بنا لے گا تو اس کے فوائد اور فیوض و برکات اور اس کی امانت و عدالت سے فائدہ اٹھانے والے صرف اس کے رشتہ دار نہیں بلکہ وہ تمام لوگ ہوں گے جو اس کے حلقہ اثر یااختیار میں ہیں۔ اسی مثال کو جب ہم اقوام عالم پر محیط کر لیں تو اقبال کے خواب کی تعبیر اوراقبال کے کلام کی تفہیم بن جاتی ہے۔ اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت کی مثالیں ہمیں احکام نبوی اور احکام شرعی سے متعدد جگہوں پر ملتی ہیں۔ نبوی دور کے علاوہ خلفائے راشدین اور بعض سلوک کے ادوار سے بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے ’’اسلام سب کے لئے‘‘ کا تاثر محکم ہوتا ہے۔


اسلام کا پیغام کسی فرد کا پیغام نہیں بلکہ آفاقہائے کائنات کے رب کا پیغام ہے۔ ظاہر ہے اس پر عمل کرنے والا یا کم از کم اس پر ایمان لانے والا ہی مسلمان کہلائے گا (ہر چند وہ کسی بھی ذاتی مفاد کی وجہ سے‘ اس پر عمل کرنے سے قاصر رہا ہو) مگر اسلام کے اس پیغام پر جو بذریعہ پیغمبر اسلام اس تک پہنچا ہے‘ وہ اس پر ایمان رکھتا اورسچ سمجھتا ہے۔ صرف ترجیحات کے تعین میں وہ اس کلام، اس پیغام، پر عمل پیرا ہونے میں پس و پیش کرتا ہے۔چنانچہ اقبال کا مخاطب وہی طبقہ‘ قوم یا لوگ ہونے چاہئیں جو اس پیغام کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں۔ انہی کو عمل کے لئے ابھارنا ہے مگر یہ بات اظہر من الشمس ہے جب اسلام عملی طور پر نفوذ کر جائے گا تو اس کے ثمرات سے دنیا اسی طرح فیض یاب ہو گی جس طرح سورج کی روشنی اور حرارت‘ بارش کی خوشحالی اور دیگر مظاہر قدرت سے ہوتی ہے کیونکہ اسلام رب العالمین کا پیغام ہے اورمسلمان اسلام کے پیغام کا امین ہے اور اس امانت کو کام میں لا کر اس نے عالم اسلام کی نہیں بلکہ دنیا کی امامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔اقبالی فکر (اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی) معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف کے حصول کی خواہش کی صورت میں جلوہ گر ہے ’’الخلق عیال اللہ ‘‘کی رو سے غایت الٰہی اور رحمت الٰہی صرف ایک مخصوص طبقے کے لئے نہیں‘ اسلام کی ہر بات صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ رب المسلمین اور جناب رسالت مآبﷺ‘رحمت اللعالمین نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رحمت اللعالمین ﷺاور خود کو رب العالمین بتایا ہے۔ مہندر سنگھ بیدی نے کہا تھا ۔


صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارا تو نہیں۔۔۔ 
اسلام کی منشا اور مشیت کو امین ہی سمجھ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فیوض و برکات کو افراد اور سوسائٹیوں تک منتقل کرنا امین ہی کا کام ہے۔کلام اقبال میں ریاستِ اسلامی کے نامیاتی تسلسل سے جو خاکہ ابھرتا ہے اس کو اقبال ہی کے ایک شعر میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ ؂
یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی


[email protected]

مضمون نگار‘ معروف ماہرِ تعلیم ‘ ادیب اور ناول نگار ہیں

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP