انٹرویو

اقبال اور جناح دونوںکا نظریہ ایک ہی تھا(پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد

پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد National Institute Of Historical And Cultural Research کے ڈائریکٹر اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تاریخ کے ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر رہے ہیں۔ اب تک 50 سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 28 کتابیں قائداعظم کے بارے میں ہیںاور یہ کتابیں تحریکِ پاکستان اور قائدِاعظم کے حوالے سے ایک مستند حوالہ ہیں۔ اسی حوالے سے ہلال نے ان سے  گفتگو کی جو پیشِ خدمت ہے۔

س :         آپ نے تقریباً 28کتابیں قائداعظم پر لکھی ہیں۔ قائداعظم میں ایسی کون سی خصوصیات تھیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھیں۔؟
ج :        قائداعظم کی شخصیت تمام پہلوئوں سے ہمارے لئے ایک مثال ہے۔ قائداعظم کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہیں رہا۔ انہوںنے ہمیشہ وہی کیا جو کہا۔ سچ، ایمانداری، ثابت قدمی اور کام سے محبت اُن کے امتیازی اوصاف تھے۔وقت نے ثابت کیا کہ قائداعظم نے ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ جو کام انہوں نے کرنا ہوتا تھا اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے تھے، وہ ایک بہادر اور سچے لیڈر تھے۔ اپنی قوم کے دُکھ دَرد کو سمجھنے اور اُس کا ازالہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے رہنما تھے۔ جبھی وہ قلیل عرصے میں پاکستان جیسی نعمت حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرے۔
س :        شروع میں قائداعظم ہندومسلمان اتحاد کے داعی تھے۔ انہیں یہ احساس کب ہوا کہ اب مسلمانوں اور ہندوئوں کے راستے الگ الگ ہیں اور یہ مزید ساتھ نہیں چل سکتے۔؟
ج :        1928 میں نہرو رپورٹ آئی جس میںمسلمانوں کے الگ انتخابات کی مخالفت کی گئی اور انہیں مخصوص نشستیں دینے سے بھی انکار کیاگیا۔ اس وقت قائداعظم کو احساس ہوا کہ ہندو برِ صغیر میں مسلمانوں کو کوئی جگہ نہیں دینا چاہتے۔ لہٰذا1929ء میں قائداعظم نے اپنے چودہ نکات پیش کئے جس میں واضح طور پر کہاگیا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں جو ایک ساتھ کبھی نہیں رہ سکتیں۔
س :        پاکستان بننے کی وجوہات سیاسی تھیںیا مذہبی؟
ج :    وجوہات سیاسی بھی تھیں اور مذہبی بھی۔ میرے خیال میں مذہب نہیں بلکہ اسلام کہنا چاہئے۔ ہمارے لئے اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہے یہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ اسلام کے بیک گرائونڈ میں کلچرلSense ہے Institutions ہیں، اسلام وہ نہیںجو ہمارے روایتی ملّاکے پاس ہے اس کے علاوہ سیاسی وجوہات بھی تھیں۔ اسلام کی پروڈکٹ مسلمان ہے قائد اعظم بھی مسلمان تھے۔ اتنے ہی اچھے جتنے باقی مسلمان تھے۔ قائداعظم کہتے تھے کہ ہم تھیوکریسی کے خلاف ہیں جو پاکستان میں نہیں ہوگی۔ لیکن اسلام ضرور ہوگا۔ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور پاکستان میں یہی ضابطۂ حیات رائج  ہوگا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کی وجوہات میں اسلام بھی ہے اور سیاست بھی۔ جب برصغیر میںجنگِ آزادی ختم ہوئی اور برٹش راج کا آغاز ہواتو برصغیر کے مسلمان اور ہندو دونوںبرٹش راج کے خلاف تھے۔ لیکن اس میںزیادہ سزا مسلمانوں کو ملی۔ بہادر شاہ ظفر جو آخری مغل باشاہ تھا اسے گرفتار کرلیاگیا اس کے بیٹوںکو اس کے سامنے ماردیاگیا۔ وہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدارختم ہوا۔ ہندوئوں نے انگریزوں کے ساتھ اتحاد کرلیا اور سارا الزام مسلمانوں پر لگا دیاکہ جو کچھ بھی کیا وہ مسلمانوں نے کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کیاگیا۔ وہاں کے سکولوں میں سے اُردو زبان کو ختم کیاگیا۔ 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس بنی۔ اس پارٹی میں ہندو اکثریت میں تھے اور مسلمان کم تھے۔ سرسید احمد خان کو لگا کہ اس پارٹی میں مسلمانوں کی  نہیںسنی جائے گی پھر اس طرح مسلمانوں کے حقوق کے لئے مسلم لیگ بنی۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان بننے کی وجوہات اسلام اور سیاسی تھیں۔ 
س:    1937 کے الیکشن کے بعد کانگریس نے برصغیر میں کیا اقدامات کئے تھے؟ آپ اس وقت کے اقدامات کا موازنہ آج کل انڈیا میںRSS کے اقدامات کے ساتھ کیسے کرتے ہیں؟
ج :        1937کے الیکشن کے بعدسب سے پہلے کانگریس نے اُردو زبان کو ختم کیاکہ اُردو زبان کو کہیں بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔ قانونی آرڈر اس وقت اُردو میں آتے تھے۔ ہندو اتنے تنگ نظر تھے کہ انہوںنے اُسے بھی ختم کروایا (ابھی انڈیا میں 11 فیصد مسلمان ہیں لیکن ملازمت میں صرف 2 فیصد ہیں جبکہ ہم یہاں غیر مسلم کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کررہے ہیں۔ ابھی ہم نے کرتار پورراہداری بھی کھولی)۔
 مسلم کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اس وقت مسلمانوں کی پراپرٹی کو ضبط کیاگیا اور پھر انہوں ایسے اقدامات کئے کہ مسلمانوںکے ادارے کم سے کم ہوں۔ مسلمان اساتذہ کے بجائے ہندو اساتذہ رکھے جاتے۔ ان کی کوشش تھی کہ ایسے مسلمان پیدا کئے جائیں جنہیں کانگریس زیادہ پسند آئے اور مذہب سے بھی زیادہ دلچسپی نہ ہو۔ 1925 سےRSS کی فلاسفی جو چلی آرہی ہے یہ دراصل اُس وقت کی ایک پولیٹیکل پارٹی تھی 'ہندومہاسبھا' اور جواہرلعل نہرو20 سال اس کا ممبر رہا۔ موجودہ آر ایس ایس کے زیادہ تر لوگ اسی کے ممبر تھے۔
س:    برصغیر کی سیاست میں قائداعظم، گاندھی اور نہرو ہم عصر سیاست دان تھے آپ کی تحقیق کے مطابق قائداعظم کی ان کے بارے میں کیا رائے تھی؟ 
ج :    قائداعظم انتہائی زیرک لیڈر تھے جن کا وقت کی نبض پر ہاتھ تھا۔ ابتداء میں وہ بھی ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے لیکن کانگریس میں رہتے ہوئے انہیں جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ گاندھی سیاست میںمذہب یعنی ہندوازم کا پرچار کررہا ہے۔ وہ ہر جگہ ہندو کلچر، عبادات اور ہندو ہیروز کی پیروی کرتاجو کہ مسلمانوں کے لئے نہ صرف سیاسی طور پر خطرناک تھا بلکہ مذہبی طور پر بھی مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔ قائداعظم نے اسی چیز کو پہچان کر مسلمانوں کے الگ تشخص کے لئے عملی جدوجہد کی۔ نہرو رپورٹ بھی ہندو راج کی ایک کوشش تھی۔ اس وقت شوکت علی نے کہا تھا کہ نہرو رپورٹ ایک طرح سے ہندوئوں کا Magna Carta ہے ہندو راج ہی ان کامقصد تھا۔ مسلمانوں کو یہاں سے آہستہ آہستہ ختم کیا جائے یا پھر اُنہیں ہندوازم کی طرف لایاجائے یا جو اپنے مذہب میںبہت سخت ہیں انہیں نکال دیا جائے۔ RSS اور کانگریس سب کی یہی پالیسی تھی اور ہے۔ گاندھی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ گاندھی اور نہرو نے اپنے اوپر ایک لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ اندر سے وہ بھی ہندو ازم کا پرچار ہی کرتے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہمیںختم کرنا چاہتے تھے۔ 1928 میں نہرو رپورٹ آئی۔ 1929 میں Non-cooperation Movement چلائی گئی۔ جس میں ہندوئوں نے کہا کہ ہم نے آئین بنا لیا ہے۔ اب ہمیں Power منتقل کی جائے۔ یعنی صرف ہندوئوں کو۔ مسلمانوں کو چھوڑ دیں۔ پھر جو گول میز کانفرنس1930 میں ہوئی اس کا ہندوئوں نے بائیکاٹ کیا۔ اس کے بعد گاندھی کے پاس مسلمانوں کے ساتھ ساتھ باقی اقلیتوں کے نمائندے گئے اور اس سے کہا کہ اقتدار میں سب کو نمائندگی دی جائے لیکن گاندھی اس پر راضی نہ ہوا۔ کانگریس اور گاندھی کی یہی کوشش تھی کہ انگریز برصغیر سے نکلیں اور حکومت ان کے حوالے کردیں۔ مسلم لیگ کوچھوڑ دیں۔ یہ تو قائداعظم کا کمال تھا کہ وہ ہندوئوں کے ساتھ اس طرح چلے کہ مسلمانوں کے لئے الگ وطن حاصل کرلیا۔ ہندوئوں کوکبھی بھی مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہ رہی۔
س:    کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال، قائداعظم کی سیاسی بصیرت سے بہت متاثر تھے اور انہیں برصغیر کے مسلمانوں کا نجات دہندہ کہتے تھے۔ آپ کی تحقیق اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
ج :    علامہ اقبال اور قائداعظم دونوں ہی ایک دوسرے کے مداح تھے۔ تیسری گول میز کانفرنس کے بعد جب قائداعظم نے برصغیر واپس آنے سے انکار کردیاتھا تو اس وقت علامہ اقبال نے ہی انہیں خطوط لکھ کر واپس آنے پر آمادہ کیا۔ ان دونوں کے مابین خطوط کاسلسلہ اقبال کے آخری وقت تک چلتا رہا جو بعد میں قائداعظم نے پبلش بھی کروائے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جس نے پاکستان کا خواب دیکھا اور جس نے تعبیر پیش کی دونوں کا نظریہ ایک ہی تھا۔ اقبال ہمیشہ کہتے تھے کہ قائداعظم ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو مسلمانوں کو اس صورت حال سے نکال سکتے ہیں۔


مجھے یقین ہے کہ آج کی نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے۔ انہیں شعوری کوشش کرنی ہوگی کہ آنے والے وقتوں میں وہ اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے جڑے رہیں۔ ہماری نظریاتی سرحدیں مضبوط ہیں اب ہمیں قائد کے قول کے مطابق ''کام ، کام اور صرف کام'' کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنانا ہے ۔


س :        قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد سے پاکستان میں قیادت کا فقدان رہا۔ بار بار حکومتیں بنتی رہیں اور ختم ہوتی رہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟
ج :    میرے خیال سے خواجہ ناظم الدین کو بھی اس میںشامل کرنا چاہئے جو ہمارے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیرِاعظم رہے ۔ جب تک خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل رہے ملکی حالات ٹھیک چلتے رہے۔ انہوں نے جمہوریت کو تقویت دینے کے لئے گورنر جنرل کے عہدے کو چھوڑا اور پاکستان کے دوسرے وزیراعظم کے طو رپر حلف اٹھایا۔ غلام محمد اس وقت گورنر جنرل بنے جنہوں نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو زبردستی ختم کیا۔ اس کے بعد کوئی بھی حکومت ملک کی ترقی کے لئے خاطر خواہ کام نہ کرسکی۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری حکومت آنے میں وقت نہ لگتا جس سے ملک کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
س :         قائداعظم کا افواج کے بارے میں کیا نظریہ تھا ان کے نزدیک فوج ایک ملک کے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے؟
ج :        جون 1925 میں گورنمنٹ آف انڈیا نے Indian Sandhurst Committee  بنائی جس کا مقصد برصغیر کے نوجوانوں کو فوج میں کمیشن آفیسر بنانے کے لئے آرمی کی اکیڈمی بنانا تھا۔ کیونکہ اس وقت برصغیر کے رہنے والوں کو صرف سپاہی بھرتی کیا جاتا تھا۔ اس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی جس کا چیئرمین قائداعظم کو بنایاگیا۔ قائداعظم نے اس سلسلے میں انگلینڈ، فرانس، امریکہ اور کینیڈا کی ملٹری اکیڈیمیز کے دورے کئے اور بہترین اکیڈمی بنانے کی تجاویز دیں۔قائدِاعظم کہتے تھے کہ State کی حفاظت فوج نے ہی کرنی ہے۔ ہماری آزادی اسی صورت میںمحفوظ رہ سکتی ہے جب ہمارے پاس ایک مضبوط فوج ہوگی۔اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فوج کو منظم کیا۔ ضیاء الدین بلوی نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے بتایا کہ ایک سلطان کس طرح اپنی ریاست کو اچھے طریقے سے چلا سکتا ہے۔ اس میں اس نے کہا کہ سب سے پہلے سلطان کے پاس فوج بہترین ہونی چاہئے اور پھر قائداعظم بھی اسی بات پر زوردیتے رہے ہیں کہ جب تک ہمارے پاس مضبوط فوج نہیں ہوگی تب تک ہم اپنی آزادی کی حفاظت نہیں کرسکتے اور آج تک یہ بات صحیح ثابت ہورہی ہے۔ فوج نے بطورِ ادارہ اپنے آپ کو بہت Establish کیا ہے اورہر موقع پر ملک کی خدمت کی ہے۔ 9/11 کے بعد ملک کو تباہ کرنے کی بہت کوشش کی گئی ۔ امریکہ نے پہلے انڈیا کی آرمی کو آگے لانے کی کوشش کی لیکن وہ افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہ بات ہم سب کے لئے باعث فخر ہے کہ پاکستان آرمی نے انتہائی کامیابی کے ساتھ اس دہشت گردی کی جنگ کو جیتا۔ 
س  :    قائداعظم کے نزدیک اُردو زبان کی کیا اہمیت تھی؟
ج  :      قائداعظم کے لئے اُردو زبان بہت اہمیت رکھتی تھی اور وہ اسے قومی زبان بنانا چاہتے تھے۔ قائداعظم نے اپریل میں ڈھاکہ میں جو تقریر کی تھی اس میں انہوںنے کہا تھا کہ اُردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔ اس پرکچھ بنگالی طلباء نے کچھ شور بھی کیا لیکن قائداعظم  Old Legacy کو ہی آگے لانا چاہتے تھے، وہ کہتے تھے کہ اُردو ہمارا ورثہ ہے اور  Continuation of Past ہے کیونکہ سرسید نے جدید معلومات کو اُردو میں ہی ترجمہ کیا تھا اس کے علاوہ اُن کی ایک اہم کتاب آثار السنادید ہے جو کہ دہلی کی پرانی عمارات سے متعلق ہے وہ بھی انہوں نے اُردو میں ہی لکھی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے ورثے کو محفوظ کررہے تھے اور اس کے لئے انہوںنے اُردو زبان کا انتخاب کیا تھا۔ 
س :        آپ نے کالج اور یونیورسٹیز میں پڑھایا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہمارا آج کا نوجوان اپنے نظریئے کے ساتھ کس حد تک جڑا ہوا ہے۔؟
ج :    میرے خیال میں بہت کم نوجوان ہیں جنہیں اپنے نظریئے سے واقفیت نہیں ہے ۔ زیادہ تر نوجوان بہت اچھی طرح اپنے نظریئے سے جُڑے ہوئے ہیں۔
س  :    پاکستان کے قیام کی جدو جہد اور تاریخ کے پس منظر میں آپ نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
ج  :      قیامِ پاکستان کی جدوجہد نہ صرف شاندار ماضی کا حصہ ہے بلکہ حال اور مستقبل کے لئے مشعلِ راہ بھی ہے۔ ہمیں اپنی آزادی کی جدوجہد سے بے لوث خدمت، مقصد سے لگائو، یکجہتی اور قربانی کے جذبے جیسے بڑے سبق ملتے ہیں۔ جس طرح مسلمانوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود برطانوی سامراج اور ہندو اکثریت کو شکست دی اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو وسائل کی کمی اور اسباب کی عدم دستیابی کے باوجود منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال دونوں کی نوجوان نسل سے بہت توقعات وابستہ تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے۔ انہیں شعوری کوشش کرنی ہوگی کہ آنے والے وقتوں میں وہ اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے جڑے رہیں۔ ہماری نظریاتی سرحدیں مضبوط ہیں اب ہمیں قائد کے قول کے مطابق ''کام ، کام اور صرف کام'' کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنانا ہے ۔ جب ہماری معیشت مضبوط ہوگی تو ہی ہم دیگر شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرکے دنیا کے لئے مثال قائم کرسکیں گے۔

یہ تحریر 1مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP