بیاد اقبال

اقبال اور جدید ریاست کا تصور 

 شہنشاۂ اقلیمِ فراست، ترجمانِ حقیقت، تابناکِ اَدب، خورشیدِ شاعری، شاعرِ مشرق، حکیم الامت، راہوارِ قلم، خوگرِ دردو سوز ِ آرزومندی، مفکرِ اُمت مسلمہ، مفسرِ اسلام ، دانائے راز، میرِ کارواں، پیامِ زندگی، حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (1877-1938) ایک مفکر کی طرح سوچتے اور مجاہد کی طرح عمل کرتے تھے۔ وہ ہر دور کے شاعر ہیں۔ ملّی ، قومی اور معاشرتی زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اُن کی نظم و نثر ہمارے لئے رہنمائی کا باعث ہیں۔ اُن کے افکار اہلِ خرد کو خزینۂ توانائی عطا کر رہے ہیں۔اقبال کی وجہ سے جبینِ اَدب پر ذوقِ تبسم فراواں ہے۔اُن کی شاعری اور نثرنے قاری کو قنوطیت سے نکال کر رجائیت کا راستہ دکھایا ہے ۔ اَدب کی صبحِ درخشاں اقبال کے دم سے ہے۔
ایک مثالی ریاست کے نمایاں خدوخال بھی اُن کے افکار کا حصہ ہیں۔ جب ہم ''جدید'' لفظ پڑھتے ہیں تو اس بات کا احساس دامن گیر ہوتا ہے کہ اس کی واضح تشریح ممکن نہیں ۔ ہر آنے والا دور جدید کہلاتاہے ۔ خیالات کا متنوع بہائو ایک نکتہ پر مرکوز نہیں ہوتا۔ وقت سیلِ رواں ہے اور یمِ حیات میں کشتیٔ خیال و فکر کابہائوتیز کرنے کا موقع فراہم کرتاہے۔ ماضی کے دریچوں سے جدید ریاستوں پر نظر دوڑائیں تو آج سے مدتوں پہلے آنے والی ہر حکومت کو جدید کہا جانے لگا۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں: 
کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد 
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
ـــ
تلاش اس کی فضائوں میں کر نصیب اپنا
جہانِ تازہ مری آہِ صبح گاہ میں ہے!
جدید ریاست کے بارے میں اقبال کا تصور بھی دو حصوں میں منقسم نظر آتاہے ۔ جدید ریاست اورجدید اسلامی ریاست۔ اِن کے مشترکہ پہلو عصرِ حاضر کی جدید ریاست کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یورپ کا دورِ تاریک ہمارے شعور پر دستک دیتا ہے کہ اُس وقت سپین میں ایک شاندار تہذیب رواں دواں تھی۔ بریٹنڈ رسل نے Reflection on the Re-awakening East میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ اسلامی تہذیب نے یورپ پر جو اثرات مرتب کیے وہ تاریخِ عالم کا ایک بڑا باب ہیں۔ سولہویں صدی میں یورپ تاریک دور سے باہر آیا ۔ ترقی کی رفتار تیز ہوئی ۔ اُس سبک رفتاری پر اسلامی تہذیب کے اثرات بھی شامل تھے۔ اس جدید تہذیب اور ریاست کے ارتقاء میں تعلیم ، تحقیق ، انسانی مساوات، بنیادی حقوق کے معاملات ، رواداری اور معاشرتی بہبود کا تصور سامنے آیا۔ اس وقت کی جدید ریاستوں میں پارلیمانی جمہوریت اور صدارتی طرز کی جمہوریت دونوں ہی رائج تھیں۔ صدر کا انتخاب براہ راست ہوتاتھا۔ اسلامی ریاست میں خلیفہ کا براہ راست انتخاب کیا جاتا تھا۔ اہلِ رائے کی اکثریت خلیفہ کو منتخب کرتی تھی۔ اگر غور کیا جائے تو صدارتی نظام اور اسلامی ریاست کے نظامِ خلافت ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
انیسویں صدی تک تو دنیا میں سیاسی اور حکومتی نظام کی تدوین طاقت کے بل بوتے پر جاری رہی ۔ بڑی طاقتوں نے چھوٹی طاقتوں کو نگلنے کا مظاہرہ کیا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طاقت کے زور پرچند قبائل نے بادشاہت کا نظام سنبھالا ۔ یہ سلسلہ موروثی بھی ہو گیا۔ آہستہ آہستہ شہنشاہیت جڑ پکڑتی گئی ۔ سترہویں صدی میں صنعتی انقلاب برپا ہوگئے ۔ یورپی ممالک ایک نئے معاشی استعمار میں داخل ہوئے۔  نوآبادیاتی امپیریل اِزم مقبول عام ہوا ۔ اٹھارہویں صد ی کے آغاز میں مذکورہ علاقہ جات میں آزادی کا شعور بیدار ہوا ۔1775ء میں امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی ۔ عالمی سیاست کا نظام طاقت کے ہاتھ چلا گیا ۔ جدید ریاست پر طاقت کا غلبہ بدستور قائم رہا ۔ برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ سلطنت بھی اپنا اثر و رسوخ قائم نہ رکھ سکی ۔ مغرب نے صنعتی انقلاب کی وجہ سے مشرق کے بہت سے علاقے ہڑپ کر لئے۔ 1857ء کی جنگ آزاد ی کے بعد جدید ریاست کی ضرورت محسوس ہونے لگی ۔ انگریزی  استعمار کے خلاف اعلانِ بغاوت بلند ہوا ۔ آزادی ٔ افکار کی لہر بھی چلنے لگی ۔ اسلامی شعور رکھنے والوں نے جدید فکری راستے تلاش کرنے شروع کیے۔ دوسری طرف مغربیت بھی جدیدیت کے نئے راستوں پر گامزن ہوگئی ۔ قدامت پسندی اور جدیدیت کے تصادم کو بھی نظر انداز نہ کیا جا سکا ۔ سرسید احمد خان کی تحریک نے تعلیم کو ایک جدید ریاست کے لئے ضروری تصور کیا ۔ کانگریس (1885ء) نے برطانوی حکومت سے در پردہ رابطے رکھے لیکن اپنی ریشہ دوانیوں میں کامیاب نہ ہو سکی ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے مسلمانوں کی ذہنی ، معاشی اور سیاسی آزادی کے لئے اپنے حُسنِ تخیل کا دَر وا کیا ۔ 
اے پیر حرم رسم و راہِ خانقہی چھوڑ 
مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا 
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت 
دے ان کو سبق خود شکنی، خود نگری کا 
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی 
دارو کوئی سوچ ان کی پریشان نظری کا
 پہلی جنگ عظیم اور تحریک خلافت نے بھی ایک نئی ریاست کی سوچ اُجاگر کی۔ سیاسی اور عسکری کشمکش نے ثابت کر دیا کہ دارالحرب کا انداز کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے قیامِ یورپ (ستمبر1905ء ۔جولائی 1908ء ) میں محسوس کیا کہ یورپی قومیں علم و فن کی وجہ سے تجارتی منڈیوں پر قابض ہو رہی ہیں ۔ سائنس ٹیکنالوجی ، ادب ، فلسفہ ، ریاضی اور فنونِ لطیفہ میں یورپی قوتیں سبک رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں ۔ مسلمان اِن علوم میں بہت پیچھے ہیں ۔ انھیں اپنی پہچان بنانے کے لئے الگ راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے مغرب و مشرق کے اخلاقی اور معاشی حالات کا تقابل بھی کیا ۔ اسلامی نظامِ خلافت کے لئے اقبال  نے اسلامی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ خلافت کے حوالے سے اقبال کہتے ہیں: 
چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ
………
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری
کوکبِ قسمتِ امکاں ہے خلافت تیری
………
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری
یورپ نے جدید ریاست کے لئے نیشنل ازم ، سیکولر ازم ، کیپٹل ازم، سوشل ازم، لبرل ازم، اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کا انتخاب کیا۔ اقبال اِن سب ازموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست میں جمہوریت ہے لیکن سرمایہ دارانہ جمہوریت نہیں ۔ اس ریاست میں نیشنل ازم کی جگہ ، اسلامی نیشنل ازم ہے ۔ وطنی قومیت کی جگہ، اسلامی قومیت کا تصور ہے ۔ اگر ہم غور کریں تو تصورِ پاکستان کے پس منظر میں یہی جمہوریت کار فرما ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں فیکٹریوں کو فروغ ملتا ہے ، لوگوں کی بہت بڑی تعداد مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ جدید ریاست کے تصور میں اقبال مزدور کو محنت کی دعوت دیتے ہیںلیکن مساوات کا دامن چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسلام کا اپنا ایک معاشی نظام ہے ۔ اقبال اِسی اسلامی نظامِ معیشت کو اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر سرمایہ دارانہ جمہوریت کو فروغ دیا جائے تو انسانی حقوق ملک کی سرحدیں پار کرجاتے ہیں۔ 
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا جدید ریاست کے حوالے سے تصور اُن کی کتاب ''علم الاقتصاد (1904 ء) '' اور ''خطبۂ الٰہ آباد (1930ء)''میں مضمر ہے ۔ جدید ریاست کا فروغ معاشی ترقی کا رہینِ منت ہے ۔ اس کا دارومدار تعلیم اور ملکی پیداوار پر منحصر ہے ۔ اگر جدید ریاست میں تعلیم عام نہ ہو تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اقبال نے جدید ریاست کے لئے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے اہم مسئلے پر بھی توجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ برصغیر پاک و ہند میں بہبودِ آبادی اور نسلِ نو کی بہترین تربیت کا تصور اقبال ہی نے پیش کیا جو آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے ۔ محنت ، زمین ، آبادی ، منصوبہ بندی ، افراط زر ، بچت اور ٹیکس کا نفاذ اور اس کی بروقت ادائیگی سے جدید ریاست فعال ہو سکتی ہے ۔ ڈاکٹر علامہ محمدا قبال جدید ریاست کے استحکام کے لئے مزدور کی اہمیت کو اوّلین سمجھتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ مزدور جدید ریاست کے استحکام کی پیشانی کا جھومر ہے ۔ 
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ہے یہ پیامِ کائنات
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات!
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
حکمِ حق ہے لَیْسَ لِلْاِنسَانِ اِلّا مَاسَعٰی 
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار
اقبال کے افکار ہر دور میں تروتازہ اور رہنمائی کا باعث ہیں۔ جدید ریاست کے قیام کا مرکزی پہلو مزدور کی فلاح و بہبود ہے ۔ اُن کے مذکورہ اشعار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست میں محنت کرنے والوں کو اُن کا اجر ضرور ملنا چاہیے۔ محنت کش ہی ریاستی ترقی کے ضامن ہیں۔ فرض کی ادائیگی اور قانون کی پاسداری ریاستی استحکام کا طرۂ امتیاز ہیں۔ اظہارِ رائے کا حق ہر شہری کو ملنا چاہیے لیکن وہ جدید ریاست کے قوانین سے متصادم نہ ہو۔ اقبال کہتے ہیں: 
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے
انھیں پابندیوں میں حاصل آزادی کو تو کر لے!
ڈاکٹر علامہ محمدا قبال1933ء میں مسولینی کی دعوت پر اٹلی تشریف لے گئے ۔ دورانِ گفتگو ایک فعال ریاست کا تذکرہ ہوا تو مسولینی نے اقبال کی ایک بات سن کر خوشی کا اظہار کیا :'' شہری آبادی میں غیر ضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں۔'' شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر کوئی حل نہیں ہے ۔''
 تاجدارِ کائنات محمد مصطفی ۖ نے ریاستِ مدینہ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا۔ '' مدینہ کی گلیاں کشادہ رکھو۔ گلیوں کو گھروں کی وجہ سے تنگ نہ کرو۔ ہر گلی اتنی کشادہ ہو کہ دو لدے ہوئے اُونٹ آسانی سے گزرسکیں۔مدینہ کے بالکل درمیان میں مرکزی مارکیٹ قائم کی جائے۔'' اسے ''سوقِ مدینہ'' (مدینہ کا بازار)کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تمہاری مارکیٹ ہے۔ اس میں ٹیکس نہ لگاؤ۔ آج دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارکیٹ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں ڈیوٹی فری مارکیٹ کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کا عمیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تو جدید ریاست کے بارے میں اُن کے افکار اظہر من الشمس ہوجاتے ہیں۔ 
سوتے ہیں اس خاک میں خیر الامم کے تاجدار
نظمِ عالم کا رہا جن کی حکومت پر مدار
بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے مثالی ریاست کے بارے میں 31دسمبر 1916ء کو فرمایا: ''اسلامی ریاست کی درخشندہ روایات و ادبیات کس امر پر شاہد ہیں؟ دنیا کی کوئی قوم جمہوریت میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو اپنے مذہب میں بھی جمہوری نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ ''
 اقبال محسوس کر رہے تھے کہ مشرق کی نمائندگی کا حق مسلمانوں کو حاصل ہوگا ۔ وہ مسلمانانِ برصغیر کے لئے ایک نئی ریاست کے خواب چن رہے تھے ۔ وہ مادی ترقی اور وجدان و عرفان دونوں کو مسلمانوں کے لئے لازمی تصور کرتے تھے ۔ اقبال کے نزدیک شعوریت اور خودی کی تجدید ہی ترقی کا راستہ ہے ۔ اقبال نے یورپی ریاستوں کے متحارب گروپوں کی کش مکش سے اندازہ کر لیا تھا کہ ایک کامیاب اور جدید ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہاں اخلاقی تربیت کو اوّلیت حاصل ہو ۔ وطنیت کے تصور نے ہندوؤں کو ہندوستان کا مالک بنایا ۔ اقبال کا خیال تھا کہ قومیت کا تصور ہی ایک جدید ریاست کو مستحکم کر سکتا ہے ۔ اقبال نے واضح کر دیا کہ وطن کی بنیاد پر قومیت کی تشکیل نہ ملک کے لئے مفید ہے اور نہ عام انسانیت کے لئے فائدہ بخش ۔ تحریک پاکستان میں اقبال نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کا جو تصور دیا وہ ہر دور میں مسلمانوں کے لئے جادہ ٔ منزل ہے ۔ اقبال نے اپنی نظم '' خضرِ راہ '' میں لکھا ہے :
زندگی کا راز کیا ہے ؟ سلطنت کیا چیز ہے؟
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش؟
ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک 
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش!
اقبال غلامی میں گھرے مسلمانوں کی بقا کے لئے اک ریاست کے قیام کا خواب دیکھ رہے تھے ان کے نزدیک جدید ریاست کا نظام کیسے کامیاب ہو ،ایک سوالیہ نشان تھا ۔ انھوں نے'' خطبات الہٰیات اسلامیہ '' اور '' خطبہ الہٰ آباد '' میں اسلام کی نشاة ثانیہ پر زور دیا ۔ اسلامی ثقافت و سیاست سے ایک نئی ریاست کی تعمیر کا خاکہ پیش کیا ۔ اقبال کے ہاں جدید ریاست کا قیام اچھی سوچ اور تعمیری انداز فکر تھا ۔ 
 اقبال کے نزدیک جدید ریاست کے لئے اجتہادی فکر بہت ضروری ہے ۔ اجتہاد کے بغیر ارتقائی سفر ناممکن ہے ۔ جدید ریاست کا اجتماعی مستقبل اجتہادی جدوجہد کا مرہونِ منت ہے ۔ زندگی کے سفر میں فکری وسعت اور قوت کا دائرہ کبھی تنگ نہیں ہوتا ۔ فعال ریاست بصارت اور قوت دونو ں ضروری ہیں ۔ تاریخ کے کسی دور میں بھی کم شعور رکھنے والوں نے ترقی نہیں کی ۔ مذہبی ، ثقافتی اور سیاسی راستے منور کرنے کے لئے اجتہاد بہت ضروری ہے ۔ اقبال کے نزدیک انسان آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار فرد ہے ۔ اپنی تقدیر کا خود مالک ہے اور اپنی نجات اس کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ ریاست کے لئے پہلا اصول یہ ہے کہ خدا کا قانون اعلیٰ ترین ہے ۔ اسلام کی معاشرتی تنظیم میں تفصیل یا وضاحت کے علاوہ کسی فر د کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ۔ انسان خدا کے قانون کی وضاحت کر سکتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ علم و عقل ، فہم و فراست کی خوبیوں کا مالک ہو ۔ تخلیق جوہر کی تلاش او رپرورش نیز اس جوہر سے پھوٹنے والی قوت اجتہاد کی اہمیت کو پہچانتا ہو۔ اقبال اسی تصور پر ایک جدید ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ اقبال جدید ریاست کے لئے سنٹرل ازم اور فیڈرل ازم کے حامی تھے ۔ انھوں نے اپنے خطبے میں کہا : 
'' ایک وفاقی ریاست کے مرکز کے پاس صرف وہی پاور زہونی چاہئیں جو وفاق میں شامل ریاستیں اپنی رضا مندی سے مرکز کو دیں ۔ میں مسلمانوں کو یہ کبھی مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ کسی ایسے سسٹم پر رضا مند ہوں چاہے اس کی ابتداء برطانیہ کرے یا انڈیا۔  جو ایک حقیقی وفاق کے اصول کی نفی کر تی ہو یا ان کی منفرد سیاسی اکائیوں کو تسلیم نہ کرتی ہو ۔''
اقبال کے حسنِ تخیل کے مطابق جدید ریاست کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ تسخیرِ کائنات کی لگن رکھنے والے لوگ ہی اس شعبے کو پروان چڑھا سکتے ہیں ۔ ٹیکنالوجی درحقیقت انسان کی جسمانی ، مادی اور روحانی قوتوں سے پیدا ہوتی ہے ۔ ٹیکنالوجی سے ہی میڈیکل سائنس منصہ شہود پر ہے ۔ جدید ریاست کی کامیابی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا مرکزی کردار ہے ۔ اقبال کے نزدیک قوتِ ادراک کا ہونا لازمی امر ہے ۔ معاشی ترقی اور سیاسی فیصلے یکجا ہونے چاہئیں ۔ صنعت کاری ،زراعت، شمسی توانائی ، پانی ، بجلی اور قوت کے ذخائر پر خصوصی توجہ سے جدید ریاست کا نظام بہتر انداز میں فروغ پا سکتا ہے ۔ اقبال بین الاقوامی منڈیوں پر غیروں کے تسلط کے بارے میں لکھتے ہیں :
ہوائیں اُن کی، فضائیں اُن کی، سمندر اُن کے، جہاز اُن کے 
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر؟ بھنور ہے تقدیر کا بہانہ 
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے 
جسے فرنگی مقامروں نے، بنا دیا ہے قمار خانہ
المختصر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے جدید ریاست کے لئے جو اشارات دیے ہیں اُنھیں عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو جدید ریاست بنانے کے لئے افکارِ اقبال سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے عمیق نظری اور تخیل کی ضرورت ہے ۔ ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 110مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP