متفرقات

افکارِ اقبال اور خواتین کا کردار

مقصد تخلیق کی آگہی د راصل ’’خودشناسی‘‘کا ہی ایک پہلو ہے۔ اقبال خودی اور خود شناسی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانوں کی تربیت اور خود شناسی کا اہتمام کیا۔ جیسا کہ عورت کے کردار پر ان کی خوب صورت شاعری ان کے اردو اور فارسی کلام کی زینت ہے۔ اقبال اپنی شاعری میں خواتین کے ہر کردار کی اہمیت کو سراہتے ہیں۔ علامہ کے نزدیک دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق عورت ہر حیثیت ۔۔۔۔۔ یعنی بیٹی، بہن ، بیوی اور ماں کے روپ میں قابلِ تکریم ہے۔ عورت اپنی زندگی میں بتدریج مختلف کردار نبھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں تاریخ سے عمدہ مثالوں کی مدد سے عورت کے بہترین کردار کے راہنما اصولوں کا تعین کیا ہے۔

 

عورت کی تربیت کاعمل بیٹی کی حیثیت میں ماں باپ کے گھر سے شروع ہو جاتا ہے جو آئندہ زندگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس تربیت کا اہم ترین حصہ دینی و دنیاوی تعلیم کا حصول ہے۔ علامہ اقبال خواتین کی تعلیم کے حامی دکھائی دیتے ہیں لیکن اس تنبیہ کے ساتھ کہ جدید تعلیم عورت کو اس کے مقصد حقیقی سے دور نہ کردے۔ وہ عورت کے لئے دینی تعلیم کو لازم تر قرار دیتے ہیں۔ ’’ضرب کلیم‘‘ میں اقبال کچھ اس طرح سے مخاطب ہیں:

 

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت

ہے حضرت انساں کے لئے اس کا ثمر موت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن

ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

 

اقبال ’’جاوید نامہ‘‘ میں ایک مثالی بیٹی شرف النسا بیگم کا ذکر کرتے ہیں جو نواب خان بہادر خان کی بیٹی اور بہادر شاہ ظفر کے عہد میں پنجاب کے گورنر نواب عبدالصمد خان کی پوتی تھیں۔ شرف النسا بیگم اپنا بیشتر وقت تلاوت قرآن پاک میں صرف کرتیں اور اس دوران ایک مرصع تلوار ہمیشہ اپنے ہمراہ رکھتی تھیں۔ شرف النسا کم سنی میں انتقال کرگئی اور دم مرگ اس کی یہ نصیحت تھی کہ اس کی قبر اسی مقامِ تلاوتِ قرآن پر بنائی جائے اور قرآن اور ان کی تلوار کو ان کی قبر کے تعویز پر رکھا جائے۔ علامہ اقبال نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں اپنے آفاقی سفر کے دوران جنت الفردوس میں شرف النسا بیگم کا محل دیکھنے کا ذکر کیا ہے ۔ اس عظیم بیٹی کی زبانی اقبال نے قوم کو یہ باور کروایا کہ مسلمانوں کے تحفظ کے دو اہم عوامل قرآن اور شمشیر ہیں۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل اور منظم دفاعی قوت ہی جہانگیری کے راہنما اصول ہیں:

 

ترجمہ: کسی ماں نے ایسی بیٹی پیدا نہیں کی، ہمارے قلزم سے ایسے گوہر پیدا نہیں ہوتے۔

وہ عبدالصمد کی اولاد میں سے ہے، جس کے فقر نے ابد ی نقوش چھوڑے ہیں‘

وہ ایک لمحہ بھی تلاوت قرآن کے بغیر نہیں رہتی تھی جب تک کہ قرآن پاک سے اس کے وجود میں سوز نہ آجائے ،

وہ ذکر خدا میں سرتاپا مست تھی اس کی کمر پر تلوار اور ہاتھ میں قرآن پاک ہوتا تھا۔

 

کیا خوب وہ عمر ہے جو عبادت ،خلوت و شمشیر و قرآن اور نماز میں بسر ہوئی! اس کے ہونٹوں پر جب آخری سانسیں تھیں، اس نے اپنی ماں کی جانب بڑی محبت سے دیکھا!

کہا کہ(اے ماں) اگر تجھ کو میرے راز کی کچھ خبر ہے،(تو) اس تلوار اور قرآن کی جانب دیکھ۔

اس دنیا میں جہاں ہر ذی نفس نے مرنا ہے، تیری بیٹی کے بس یہ دو محرم تھے۔

وقت رخصت میں تجھ سے یہ بات کہتی ہوں کہ، اس تلوار اور قرآن کو مجھ سے جدا مت کرنا۔

میں جو بات تجھ سے کہہ رہی ہوں اس کو دل میں رکھ لے‘ (کہ) میری قبر گنبد اور قندیل کے بغیر ہی بہتر ہے۔

مومنوں کے لئے قرآن کے ساتھ تلوار کافی ہے، ہماری تربت کے لئے یہی سامان کافی ہے۔

 

اقبال کے نزدیک بیٹی کے ساتھ ساتھ ، بہن کی حیثیت میں خاندان کے لئے عورت کا وجود بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔ علامہ اقبال نے تاریخ اسلامی سے ایک اہم اور تاریخ ساز واقعے کا ذکر فرما کر ایک بہن کے مضبوط کردار کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ واقعہ ہے خلیفہ دوم حضرت عمرؓکے قبول اسلام کا واقعہ‘ فاطمہ بنت خطابؓ، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓکی بہن تھیں، جنہوں نے اپنے بھائی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ فاطمہ بنت خطابؓہی کی تلاوت قرآن کی تاثیر تھی جس کو سن کر حضرت عمرؓ نے حضرت محمدﷺکے قتل کا ارادہ ترک کیا اور اسلام قبول کیا۔ حضرت عمرؓکے قبول اسلام سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ بیت اللہ میں علیٰ الاعلان نماز ادا کرنے لگے۔ اگر فاطمہ بنت خطابؓ اپنے بھائی کے سامنے حق گوئی اور جرأت مندی کا مظاہرہ نہ کرتیں تو شاید تاریخِ اسلام حضرت عمرؓجیسے بہادر مسلمان سے محروم رہ جاتی۔ اقبال خواہران ملت سے اسی سوز قرأت کے خواہاں ہیں جس سے قوموں کی تقدیر سنور جاتی ہے۔’’ارمغان حجاز‘‘ میں اقبال اس واقعے کو سراہتے ہوئے فرماتے ہیں:

 

ترجمہ:ہماری شام کو سحر کردے، اہل نظر کو قرآن کی طرف پھر سے بلا

 

تو جانتی ہے کہ تیری قرأت کے سوز نے، عمرؓ کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ یہی بیٹی اور بہن جب کسی کی بیوی بنتی ہے تو اس کا کردار مزید اہمیت حاصل کر جاتا ہے۔ شوہراور بیوی کا مقدس رشتہ معاشرتی اکائی یعنی ’’گھر اور خاندان‘‘کی مضبوطی کا ضامن ہوتا ہے جو آئندہ نسل کی پرورش گاہ ہے۔ ایک اچھی عورت گھر کو جنت بنا سکتی ہے ۔ اچھی بیوی شوہر کے عیوب کی پردہ دار ہوتی ہے اور شوہر کے لئے تسکین اور دلجوئی کا باعث ہوتی ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلق کی مثال اقبال نے لباس سے دی ہے۔

 

پوشش عریانی مردان زن است حسن دلجو عشق را پیراہن است

جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ:

ترجمہ: وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔

(سورہ البقرہ:187)

 

علامہ اقبال بیوی کی حیثیت سے عورت کے بلند مقام کی عظمت کے بیان کے لئے بھی حضرت فاطمہؓکی مثال پیش کرتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓنے زندگی نہایت سادگی اور مشقت میں بسر کی ۔ دوجہانوں کے بادشاہﷺکی بیٹی اپنے شوہر کے گھر میں ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی ہیں۔ وہ تسلیم و رضا کا پیکر تھیں۔ جنہوں نے کبھی اپنے شوہر پر اپنی بے جا خواہشات کا بوجھ نہ ڈالا اور ہرحال میں خدا کی شکر گزار رہیں۔ ترجمہ: نوری اور آتشی اس کے فرمانبردار ہیں، شوہر کی مرضی میں اس کی مرضی ہے۔وہ جس کی پرورش صبر و رضا میں ہوئی ہے، چکی پیستے ہوئے بھی اس کے لبوں پر قرآن جاری ہے۔

 

ایک نیک عورت کو اپنے شوہر سے تعلق کو اپنے لئے پابندی یا قید تصور نہیں کرنا چاہئے، بلکہ یہ اس کی اصلی آزادی ہے کہ اس کے ساتھ اس کی زندگی کا ساتھی ہے اور وہ زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ علامہ اقبال کے نزدیک جو عورتیں شوہروں کے بغیر زندگی کو نام نہاد’’آزادی نسواں‘‘ کے مترادف جانتی ہیں وہ در اصل طاغوتی تعلیمات کی پیرو ہیں۔ ’’جاوید نامہ‘‘ میں علامہ اقبال نے ایک ایسی ہی’’نبیہ مریخ‘‘ کا ذکر کیا جو عورتوں کو شوہروں سے آزاد رہنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ اس کو ماں بننے کی صعوبتیں برداشت نہ کرنا پڑیں۔ ’’نبیہ مریخ‘‘ میاں بیوی کے ایسے ربط سے دوری کا پرچار کرتی ہے تاکہ عورت کو شوہر کا محتاج نہ ہونا پڑے:

 

ترجمہ: امومت سے ماں کے چہرے زرد ہو جاتے ہیں، شوہروں کے بغیر آزادی کا کیا کہنا!

دو جسموں کے ربط سے آزاد ہونا عورت کی توحید ہے، اپنی محافظ خود بنو اور مردوں پر انحصار مت کرو۔

در اصل یہ امر ہمارے جدید معاشرتی رویوں کی عکاسی ہے جو اقبال کے نزدیک جدید معاشرتی تعلیم کا ثمر ہے کہ عورتیں مامتا کو بوجھ تصورکرنے لگی ہیں۔

اقبال ’’ضرب کلیم‘‘ میں جدید معاشرتی زندگی پر طنز فرماتے ہیں کہ:

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال مرد بیکار زن تہی آغوش!

 

بحیثیت ماں عورت کا کردار اہم ترین ہے۔ مامتا، عورت کی معراج ہے۔ علامہ اقبال نے مثنوی ’’رمو زبے خودی‘‘ میں ایک حدیث مبارکہ کو اس طرح بیان کیا ہے: گفت آن مقصود حرف کن فکان زیر پای امہات آمد جنان

ترجمہ: اس مقصود حرف کن فکان(حضرت محمدﷺ)نے فرمایا کہ ماں کے پیروں تلے جنت ہے۔

 

لیکن عورت کوبحیثیت ماں اتنا بلند درجہ یونہی حاصل نہیں ہو تا۔ کچھ ذمہ داریاں ہیں جو اس کو بطور احسن ادا کرنی ہیں اور ان میں سر فہرست اولادکی تعلیم اور تربیت ہے۔ نیک سیرت فرزند ہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں جو کسی بھی قوم کی ترقی کے ضامن ہیں۔ رموزبے خودی میں علامہ اقبال صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ:

 

’’سیرت فرزندہا از امہات‘‘

ترجمہ: اولاد کی اچھی سیرت ماں کی(تربیت)کی وجہ سے ہی ہے۔

دنیا میں ماں سے بڑھ کر کوئی بھی اتنی شیفتگی اور عشق سے اولاد کی جسمانی اور روحانی ضروریا ت کو پورا نہیں کرسکتا۔ ماں بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں‘ بالخصوص دینی تعلیم سے آراستہ‘ ماں ہی اولاد کی تعلیم میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ خود اقبال اپنی کامیابی کی وجہ اپنی ماں کی تربیت بتاتے ہیں، جو ان کے خاندان کی سربلندی کی وجہ بنی۔ علامہ اقبال کی والدہ ، امام بی بی نے دین اور دنیا دونوں اعتبار سے ان کی تربیت کا اہتمام کیا اورماں کی ہمت افزائی نے زندگی کے مراحل میں مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت بخشتی ہے۔ وہ اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

 

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا

گھر میرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا

دفتر ہستی میں تھی زرین ورق تیری حیات

تھی سراپا دین و دنیاکا سبق تیری حیات

قطع تیری ہمت افزائی سے یہ منزل ہوئی

میری کشتی بوس گستاخ لب ساحل ہوئی

 

اگر عورت بیٹی ، بہن، بیوی، اور ماں کے فرائض بخوبی انجام دیتے ہوئے معاشرتی ترقی کے دیگر کاموں میں شریک ہوتی ہے تو بھی اس پر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ایک اچھی عورت ہر کردار کو اچھی طرح سے نبھاتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے کلام میں جا بجا ایسی تاریخ ساز خواتین کی مثالیں بیان کی ہیں جن کو وہ ملت آفرین سمجھتے ہیں ۔

 

اسلامی تاریخ میں عورتوں کی جہاد میں شمولیت کی مثالیں ملتی ہیں۔ فاطمہ بنت عبداللہ کی جو عرب کے قبیلہ البراعصہ کے سردار شیخ عبداللہ کی گیارہ سالہ بیٹی تھی جو 1912 میں جنگ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتی شہید ہوگئی تھی۔ ’’بانگ درا‘‘ اقبال نے اس مجاہدہ کو قوم کی آبرو قرار دیا ہے:

 

فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے

ذرّہ ذرّہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے

یہ سعادت حور صحرائی! تری قسمت میں تھی

غازیان دیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی

یہ جہاد اللہ کے راستے میں بے تیغ و سپرہے

جسارت آفرین شوق شہادت کس قدر

 

علامہ اقبال نے برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کا ذکر بھی نہایت درد مندی اور عقیدت کے ساتھ اپنے کلام میں کیا ہے اور اس کو ایک نیک اور غم گسار فرمانروا کے طور پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اقبال نے ملکہ وکٹوریہ کے مرثیے کی شکل میں ایک اچھے فرمانروا کی خوبیاں گنوائی ہیں :

 

شاہی یہ ہے کہ اور کا غم چشم تر میں ہو

شاہنشہی پہ شان غریبی نظر میں ہو

شاہی یہ ہے کہ آنکھ میں آنسو ہوں اور کے

چلائے کوئی، درد کسی کے جگر میں ہو

غم دل میں اور کا ہوخوشی دل میں اور کی

کوئی گرے ، شکست کسی کی کمر میں ہو

بے تابیاں جو اور کی ہوں اپنے دل میں ہوں

جو درد اور کا ہو وہ اپنے جگر میں ہو

 

پس علامہ اقبال عورت کو بیٹی کے روپ میں معصوم، با حیا ، تعلیم یافتہ،کافرانہ ادا سے عاری، ایک بہن کے روپ میں جرأت مند، بیوی کے روپ میں صبر اور تسلیم و رضا کا پیکر، شوہر کی دلجو، ماں کے روپ میں اولاد کی تربیت گاہ اور تقدیر امم،ایک مجاہدہ کے روپ میں، نڈر انسان، آبروئے امت،اور ایک فرمانروا کی حیثیت میں نیک نام، غمگسار، عادل اور فرض شناس انسان پاتے ہیں۔ ان خصوصیا ت کی حامل مثالی عورت ایک مثالی خاندان اور اس کے نتیجے میں ایک مثالی معاشرہ اور مثالی ملت تشکیل دیتی ہے اور ایسی ہی خواتین کے لئے اقبال نے فرمایا کہ:

’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘


حمیرا شہباز:ایم فل فارسی، ڈھاکہ یونیورسٹی ، بنگلہ دیش، لیکچرر شعبہ فارسی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجیز اسلام آباد۔

 [email protected]

یہ تحریر 190مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP