قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغان مہاجرین کی واپسی

یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان سے جو مہاجرین 80 کی دہائی میں ایران چلے گئے تھے‘ ان میں سے اکثر گزشتہ سات آٹھ برسوں کے دوران باعزت طریقے سے واپس آ چکے ہیں جبکہ سنٹرل ایشیا میں کئی ممالک کے مہاجرین بھی لوٹ آئے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ بعض مغربی ممالک سے بھی افغان بڑی تعداد میں واپس آ گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کے حالات ان لوگوں کے لئے کافی بہتر ہیں جو مختلف اوقات میں جنگ اور بدامنی کے باعث باہر چلے گئے تھے۔ پاکستان کو چونکہ مہاجرین کے علاوہ جاری صورت حال کے باعث اپنے آئی ڈی پیز کے دباؤ اور مشکلات کا بھی سامنا ہے اس لئے عالمی اداروں اور افغانستان کو چاہئے کہ وہ افغانیوں کی فوری واپسی کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان پر پڑا بوجھ کم ہو سکے۔

پاکستان کے مختلف سیاسی اور عوامی حلقے کافی عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک میں موجود لاکھوں افغان مہاجرین کو اب واپس افغانستان بھیج دیا جائے تاکہ پاکستانی سیاست اور معاشرت پر ان کے منفی اثرات کو ختم یا کم کیا جا سکے۔ دوسری طرف ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ مہاجرین اقوام متحدہ کے قوانین اور حکومت پاکستان کی رضامندی سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ اس لئے ان کو اس وقت تک واپس نہیں بھیجنا چاہئے جب تک افغانستان میں مکمل امن نہیں آتا یا درکار عالمی تقاضے پورے نہیں کئے جاتے۔

دوطرفہ بحث یا دلائل سے قطع نظر اکثریت کی رائے یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے ٹھوس اقدامات اور فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ موجودہ افغانستان میں 80 اور 90 کی دہائیوں کے مقابلے میں حالات اب کافی بہتر ہیں۔ افغانستان میں بھی ایسے حلقوں کی کوئی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ مہاجرین کو بدلتے حالات کے تناظر میں اب اپنے ملک آنا ہی چاہئے۔

پاکستان میں ایک عام تصور یہ ہے کہ امن و امان کی خرابی میں مہاجرین کا بڑا ہاتھ ہے۔ جبکہ بعض شواہد بھی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ مختلف اوقات میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں افغان مہاجرین اور ان کے کیمپ استعمال ہو تے رہے ہیں۔ یہ رائے بھی بہت عام ہے کہ ان مہاجرین کے باعث پاکستان کی معیشت اور معاشرت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ملکی سیاست پر ان کی موجودگی کے اثرات مرتب ہوتے آئے ہیں۔

پاکستان میں مہاجرین کا پہلا بڑا ریلا سال 1979-80 کے دوران اس وقت داخل ہوا تھا جب افغانستان میں سوشلسٹ انقلاب کے نام پر مزاحمت اور جنگ کا آغاز ہوا اور لاکھوں سادہ لوح افغان اس تصور اور خوف کی بنیاد پر وہاں سے نکل آئے تھے کہ ان کے مذہبی عقائد اور سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹس کے مطابق سال 1981 تک پاکستان میں 33 لاکھ افغان مہاجرین پہنچ چکے تھے۔ جبکہ ایران پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد تقریباً 20 لاکھ تھی۔ 1981-82تک پاکستان کے اندر ان مہاجرین کے لئے تقریباً 300 چھوٹے بڑے کیمپ قائم کئے گئے تھے۔ ابتدا میں یہ لوگ کیمپوں ہی تک محدود رہے تاہم بعد میں حکومتوں کی سُستی اور ناقص پلاننگ کے باعث یہ شہروں اور دیگر علاقوں میں پھیلنا شروع ہو گئے اور یوں یہ لاکھوں لوگ عملاً پاکستانی معاشرے کا حصہ بن بیٹھے۔ اس کے برعکس ایران نے ان کو کیمپوں تک محدود اور شہروں سے دور رکھا جس کے باعث وہاں کی سیاست اور معاشرت کو مہاجرین کے منفی اثرات سے بچا کر رکھا گیا اور یہ پالیسی پاکستان کے مقابلے میں بہت بہتر اور سود مند ثابت ہوئی۔ پاکستان کے اندر حالات یہ ہیں کہ ان کو کاروبار کرنے اور کھلے عام گھومنے پھرنے کی ایسی ہی اجازت دی گئی جیسے کہ عام پاکستانیوں کو تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 1988 کے دوران صرف پشاور شہر کی 48 فیصد ٹرانسپورٹ پر افغانیوں کا قبضہ تھا۔ نومبر 1988میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ صرف پشاور اور اس کے مضافات میں تقریباً 10 لاکھ افغانی رہائش پذیر ہیں۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ جو 33 لاکھ مہاجرین پاکستان آئے ہوئے تھے ان میں 81 فیصد نسلی اعتبار سے پشتون تھے۔ باقی میں 7 فیصد تاجک‘ 3فیصد ازبک‘ 2 فیصد ہزارہ اور 3فیصد ترکمان رہے۔ مجموعی طور پرمہاجرین کے تقریباً 75فیصد کو صوبہ خیبر پختونخوا خصوصاً وادی پشاور میں بسایا گیا۔ جبکہ 18 فیصد کو بلوچستان کے پشتون علاقوں میں بسایا گیا۔ یوں پاکستان کے دو اہم صوبوں کی پشتون آبادی مہاجرین کے منفی اثرات کی زد میں آ گئی اور اس صورت حال نے ان علاقوں کی معاشرت‘ ثقافت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ سال 1990 تک پشاور‘ افغانستان کے کسی شہر کا نقشہ پیش کرتا رہا۔ شاید ہی کوئی ایسی گلی یا بازار ہو جہاں افغانی موجود نہ ہوں۔ اب بھی تقریباً ایسی ہی صورت حال ہے۔

اس تمام تر بحث سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان کے لئے واقعتا مشکلات پیدا کرتے آئے ہیں اور ان کی واپسی کو اب یقینی بنانا نئے منظر نامے میں اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ مثلاً ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2007 کے دوران 352 افغان مہاجرین کو جعلی پاکستانی پاسپورٹوں پر سعودی عرب کا سفر کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ 2012 میں گرفتاریوں کی یہ تعداد 250 جبکہ 2013 میں یہ تعداد 218 رہی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارے اداروں کی کرپشن اور نااہلی کے باعث ان کی بڑی تعداد باہر کے ممالک میں پاکستانی پاسپورٹوں پر ملازمتیں اور کاروبار بھی کرتی آ رہی ہیں۔

پاکستان آنے والوں میں 80 فیصد عام افغانی تھے۔ یہ لوگ اگر کیمپوں تک محدود رہتے تو صورت حال قابو میں رہتی۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔ کیمپوں میں اگرچہ ان کی دیکھ بھال اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی تاہم یہ لوگ عملاً افغان جہادی تنظیموں اور بالخصوص گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے زیراثر رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے افغان جہاد کے لئے اپنی سرگرمیوں اور باقاعدہ ریکروٹنگ کے علاوہ پاکستان کی سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور پاکستان کی جمہوری قوتوں کے لئے یہ لوگ ایک بڑا خطرہ بننے لگے۔ 1980 سے لے کر 1988 تک صوبہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں ایک مذہبی جماعت کی طلبأ تنظیم نے مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لئے کچھ اس انداز سے استعمال کیا کہ مقامی طلباء اور ان کی تنظیمیں ان کے ہاتھوں یرغمال بن گئیں اور فریقین کے درمیان بے شمار جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پشاور یونیورسٹی جہادی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن گئی۔ تشدد اور خوف نے پورے علاقے کو اس عرصے کے دوران اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ اس عرصے کے دوران یہ لوگ مقامی مذہبی گروپوں کی آشیر باد سے کھلے عام اسلحہ لئے گھومتے رہے اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔ ان لوگوں نے اتنی قوت پکڑی کہ 1988 کے عام انتخابات میں صوبہ پختونخوا میں یہ لوگ مقامی سیاسی پارٹیوں کے خلاف ایک پریشر گروپ کی شکل اختیار کر گئے۔ حزب اسلامی کے کارکن 1988 کے الیکشن کے دوران ایسی مہم چلاتے رہے جیسے کہ یہ الیکشن پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہو رہے ہوں اور یہ شاید یہی وجہ تھی کہ ایک سینئر قوم پرست رہنما نے انتخابات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہاں تک کہا کہ ان کا مقابلہ کسی پاکستانی پارٹی سے نہیں بلکہ حزب اسلامی سے تھا۔

یہی وہ دور تھا جب پاکستان کے اندر مہاجرین پاکستانی سیاست پر شدت کے ساتھ اثر انداز ہو گئے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے قوم پرست پارٹیوں نے افغانستان کے کمیونسٹ حکمرانوں سے مدد لینی شروع کی اور یوں طلباء تنظیموں کے اندر افغان سیاست کچھ اس انداز سے سرایت کر گئی کہ تعلیمی ادارے تصادم اور نفرت کے مراکز میں تبدیل ہو گئے اور یہ سلسلہ عام معاشرے تک بھی پھیلتا گیا۔ یہ حالت صرف پشاور یا پختونخوا تک محدود نہیں رہی بلکہ کوئٹہ‘ کراچی اور فاٹا کے مختلف علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ یو این ایچ سی آر

(UNHCR) کے مطابق افغانستان سے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ سال 1979 سے سال 2000 تک جاری رہا۔ اس دوران پاکستان کے اندر تقریباً 10 لاکھ افغان بچے یا بچیاں پیدا ہوئیں جن میں سے صرف 12فیصد کو بنیادی تعلیم اور

20 فیصد کو صحت کی سہولیات میسر آئیں۔ بعد ازاں کیمپوں کی تعداد کم ہوتی گئی اور اس وقت حالت یہ ہے کہ پاکستان کے اندر صرف 26کیمپ باقی رہ گئے ہیں۔ (1980 میںیہ تعداد 300 کے لگ بھگ تھی)

UNHCR

کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2012 کے دوران کرائے گئے سروے کے مطابق پاکستان میں مہاجرین کی تعداد سترہ لاکھ 50ہزار تھی۔ رپورٹ کے مطابق 2005اور 2006 کے دوران ان کی تعداد تقریباً 21 لاکھ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2002 کے بعد مہاجرین نے واپس جانا شروع تو کیا‘ تاہم ان کی واپسی کی رفتار سست اور غیرمنظم رہی۔

اقوام متحدہ‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2013-14 کے دوران طے یہ پایا تھا کہ مہاجرین کو 2015تک قیام کی اجازت دی جائے گی اس لئے اب لازمی ہو چکا ہے کہ رواں سال کے دوران ان کی باعزت واپسی کے لئے تینوں قوتیں ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کریں تاکہ تلخی کی نوعیت نہ آنے پائے اور مہاجرین ایک اچھی یاد لے کر اپنے وطن واپس جا سکیں۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ اور افغان حکومت ہی بنیادی طور پر ان کی واپسی کی ذمہ دار ہیں اس لئے حکومت پاکستان کو پہلی فرصت میں ان سے بات کرنی چاہئے۔

اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 2002 کے بعد تقریباً 4لاکھ مہاجرین واپس جا چکے ہیں۔ صرف سال 2010اور 2012 کے درمیان تقریباً 2 لاکھ مہاجرین واپس گئے۔ سال 2013 میں حکومتی سطح پر ان کو بتایا گیا کہ وہ اب واپس چلے جائیں۔ اس مقصد کے لئے پشاور اور دیگر علاقوں میں ان کے خلاف پولیس نے بے شمار کارروائیاں کیں جن کے خلاف دوسروں کے علاوہ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی احتجاج کیا اور یہ معاملہ باقاعدہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھایا بھی گیا۔ باہمی رابطوں کے باعث طے یہ پایا کہ مہاجرین کو سال 2015 تک رہنے کی اجازت دی جائے۔ اس مقصد کے لئے ان کو (POR)پروف آف رجسٹریشنکارڈز جاری کئے گئے۔ جولائی 2012 میں افغانستان نے اعلان کیا کہ حکومت افغانستان کے 20صوبوں میں مہاجرین کے لئے 48 بستیاں قائم کرے گی تاکہ مہاجرین کی آباد کاری کو ممکن بنایا جا سکے تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا اور معاملہ تاحال کسی موثر روڈ میپ سے محروم ہی ہے۔ اقوام متحدہ ہر سال مہاجرین کی دیکھ بھال کے لئے حکومت پاکستان کو مخصوص رقم دیتی آئی ہے تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ اکثر یہ رقم کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے۔

سال 2015 کے لئے اقوام متحدہ نے جو رقم مختص کی ہے ایک رپورٹ کے مطابق وہ 28.4 ملین ڈالرز ہے۔ یہ رقم کہاں اور کیسے خرچ ہوتی ہے‘ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ رہیں۔ حکومت پاکستان نے مہاجرین کے معاملات دیکھنے کے لئے سال 1979 میں افغان کمشنریٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو ہر دور میں بدانتظامی کا گڑھ رہا۔ اس کے حکام کتنے فعال ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تادم تحریر اس ادارے کی سرکاری ویب سائیٹ پر جو تفصیلات موجود ہیں ان کے مطابق گزشتہ حکومت کے وزیر سیفرون

(SAFRON)

شوکت اﷲ خان تاحال اس ادارے کے متعلقہ وزیر ہیں حالانکہ موصوف اس دوران صوبے کے گورنر بھی رہ چکے ہیں اور اس وقت نواز لیگ کے ایک وزیر اس ادارے کے سربراہ ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے اداروں کی کیا کارکردگی رہی ہو گی۔ اس تمام تر بحث سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان کے لئے واقعتا مشکلات پیدا کرتے آئے ہیں اور ان کی واپسی کو اب یقینی بنانا نئے منظر نامے میں اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ مثلاً ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2007 کے دوران 352 افغان مہاجرین کو جعلی پاکستانی پاسپورٹوں پر سعودی عرب کا سفر کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ 2012 میں گرفتاریوں کی یہ تعداد 250 جبکہ 2013 میں یہ تعداد 218 رہی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارے اداروں کی کرپشن اور نااہلی کے باعث ان کی بڑی تعداد باہر کے ممالک میں پاکستانی پاسپورٹوں پر ملازمتیں اور کاروبار بھی کرتی آ رہی ہیں۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق 3 لاکھ افغانی ایسے ہیں جنہوں نے رشوت دے کر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایف آئی اے اور دیگر ادارے متعدد کارروائیاں بھی کر چکے ہیں۔ رپورٹس اور ماہرین کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع میں ایسے کیمپ موجود ہیں جہاں افغان مہاجرین کی آڑ میں عسکریت پسند بھی رہائش پذیر رہے بلکہ وہاں سے باقاعدہ ریکروٹنگ کی بھی اطلاعات ہیں اور ان کیمپوں سے بے شمار گرفتاریاں بھی کی جا چکی ہیں۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ ان میں متعدد جاری دہشت گردی کا حصہ بھی بنتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2013 -14 کے دوران طے یہ پایا تھا کہ مہاجرین کو 2015 تک قیام کی اجازت دی جائے گی اس لئے اب لازمی ہو چکا ہے کہ رواں سال کے دوران ان کی باعزت واپسی کے لئے تینوں قوتیں ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کریں تاکہ تلخی کی نوعیت نہ آنے پائے اور مہاجرین ایک اچھی یاد لے کر اپنے وطن واپس جا سکیں۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ اور افغان حکومت ہی بنیادی طور پر ان کی واپسی کی ذمہ دار ہیں اس لئے حکومت پاکستان کو پہلی فرصت میں ان سے بات کرنی چاہئے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان سے جو مہاجرین 80 کی دہائی میں ایران چلے گئے تھے‘ ان میں سے اکثر گزشتہ سات آٹھ برسوں کے دوران باعزت طریقے سے واپس آ چکے ہیں جبکہ سنٹرل ایشیا میں کئی ممالک کے مہاجرین بھی لوٹ آئے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ بعض مغربی ممالک سے بھی افغان بڑی تعداد میں واپس آ گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کے حالات ان لوگوں کے لئے کافی بہتر ہیں جو مختلف اوقات میں جنگ اور بدامنی کے باعث باہر چلے گئے تھے۔ پاکستان کو چونکہ مہاجرین کے علاوہ جاری صورت حال کے باعث اپنے آئی ڈی پیز کے دباؤ اور مشکلات کا بھی سامنا ہے اس لئے عالمی اداروں اور افغانستان کو چاہئے کہ وہ افغانیوں کی فوری واپسی کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان پر پڑا بوجھ کم ہو سکے۔


[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP