قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغان مذاکراتی عمل اور قیام امن میں پاکستان کا کردار

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک دوسرے کے لئے بہت اہم ہونے کے علاوہ کافی پیچیدہ بھی رہے ہیں اوردونوں ممالک بوجوہ لمبے عرصے تک کبھی بھی مثالی تعلقات کے کسی دور سے نہیں گزرے اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے اور یہی وجہ ہے کہ شکایات اور خواہشات کا سلسلہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک چلا آرہا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان کئی مسائل اور تنازعات موجود ہیں تاہم ایک دوسرے پر انحصار اور ان کے درمیان موجود سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کی نوعیت فطری طور پر اتنی مضبوط اور تاریخی ہے کہ یہ ایک دوسرے سے ہمیشہ جڑے رہے اور اب بھی جڑے ہوئے ہیں۔ افغان جہاد کے دوران دونوں ممالک کے بعض حلقے ایک دوسرے کے قریب آئے اور لمبے عرصے تک ان کا رشتہ قائم رہا جہاد میں پاکستان کا کیا کردار رہا اور اس کے کیا نتائج نکلے اس پر دو سے زیادہ آراء موجود ہیں۔ تاہم فیصلہ کن حالات کے دوران جب ایک لمبی خانہ جنگی کے بعد 1995-96 کے دوران طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر کے وہاں حکومت قائم کی تو پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب نے طالبان کا ساتھ دیا اس معاملے پر پاکستان کا مئوقف یہ رہا کہ ایساکرنااس کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ افغانستان کے امن کے لئے ضروری تھا جبکہ بعض افغان حلقے اس عمل کو اپنے ملک میں مداخلت قرار دیتے رہے اور طالبان کو یہ لوگ پاکستان کے زیر اثر کہتے رہے۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کی قربت میں مزید اضافہ ہوگا۔پاکستان کی مذاکراتی عمل کے دوران تمام مثبت کوششیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں دیرپا امن کا داعی رہا ہے۔


نائن الیون کے واقعے کے بعد جب پاکستان عالمی اتحاد کا حصہ بنا تو طالبان کے خلاف کارروائیوں میں اس کی معاونت سامنے آئی اور اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان 2002اور اس کے بعد 2007سے لے کر 2014تک مختلف طالبان گروپوں کے بدترین حملوں کا نشانہ بنا اور اس کے نتیجے میں فورسز کے تقریباً 30,000افسران بشمول 80ہزار اہلکار پاکستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ 2001-2بون کانفرنس کے دوران پاکستان کا اہم اور مثبت کردار رہا اور صدر حامد کرزئی لمبے عرصے تک اس کردار کا آن دی ریکارڈ اعتراف کرتے پائے گئے۔ 2004 کے بعد جب افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آگئی تو تعلقات پھر سے خراب ہونے لگے۔
اس کے باوجود حامد کرزئی نے امریکہ کے بعد سب سے زیادہ دورے پاکستان کے کئے۔ نائن الیون کے بعد طالبان اور پاکستان کے پہلے والے تعلقات نہیں رہے کیونکہ طالبان اس کو امریکہ کا اتحادی سمجھتا رہے اس کے باوجود بوجوہ افغان طالبان اور پاکستان کے روابط قائم رہے اور پاکستان نے اِن روابط کو افغانستان میں قیامِ امن کے لئے حتی المقدور کوششیں بھی کیں۔
 اشرف غنی 2014میں جب افغانستان کے صدر بنے تو انہوں نے پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا اور ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس دورے کے دوران کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے بعض اہم نکات پر بہت کام اور اتفاق ہوا اور  کوآرڈی نیشن کا نظام بھی قائم ہوا تاہم سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد تعلقات پھر خراب ہوئے کیونکہ پاکستان کا مؤقف تھا کہ افغانستان ان حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا جنہوں نے وہاں بعض علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے اور یہ پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں۔ دوسری طرف یہی شکایت افغانستان کو بھی رہی مگر اس کے باوجود ماضی کے مقابلے میں سال2014سے 2019 تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی بہتر رہے سال2019 کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اعلان کے نتیجے میں جب افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلاء کا عمل شروع ہوا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پھر سے پاکستان کی ضرورت آن پڑی ۔ پاکستان کے آرمی چیف نے 3بار امریکہ کے خصوصی دورے کئے تو دوسری طرف مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے 10بار جبکہ نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کے ریکارڈ 3دورے کئے۔وزیراعظم عمران خان کی بھی 2بار صدر ٹرمپ سے اس معاملے پر ملاقاتیں ہوئیں جبکہ 7بار ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے۔دونوں ممالک کی کشیدگی بھی بہت کم ہوئی۔ پاکستان نے مری میں طالبان اور دوسرے فریقین کے درمیان اہم ملاقات کا اہتمام کیا تاکہ وہ مجوزہ امن معاہدے کو ممکن بناسکیں۔
طالبان کی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بلایا گیا جبکہ اس سے قبل مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر کو پاکستان نے جبکہ ٹیم کے 30دوسرے ارکان کو امریکہ نے رہا کر دیا۔ ساتھ میں طالبان نے پاکستان کی درخواست پر ان غیر ملکی قیدیوں کو بھی رہا کرنا شروع کیا جن کی رہائی امریکہ کے لئے بہت اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ یوں فریقین کے درمیان اتحاد اور رابطے کا بہتر ماحول بنتا گیا اور اپریل 2019 میں دوحہ پراسس کے نتیجہ خیز مگر طویل ترین مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا۔ اس عرصے کے دوران پاکستان نے چین اور روس کو بھی اس عمل کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی اور رابطہ کاری اور سہولت کاری کو یقینی بنایا۔ جب بھی دوحہ مذاکرات میں رکاوٹ آئی پاکستان نے اس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وجہ تھی کہ اس کے نتیجے میں دوسروں کے علاوہ صدر ٹرمپ، صدر ڈاکٹر اشرف غنی، زلمے خلیل زاد، مائیک پومپیو، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور نیٹو کے سربراہ نے پاکستان کے کردار کو نہ صرف اہم قراردیا بلکہ اس کی آن دی ریکارڈ تعریف بھی کی جبکہ عالمی میڈیا نے بھی ستائش کی۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں 29 فروری2020 کو متعدد رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے دوحہ معاہدے کا راستہ ہموار ہوا جس کے دوران طالبان اور امریکہ نے غیر ملکی فورسزکے انخلائ، قیدیوں کی مشروط رہائی، انٹرا افغان ڈائیلاگ اور طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے جیسے اہم نکات پر دستخط کئے گئے۔ قیدیوں کی رہائی پر افغان حکومت کے اعتراضات طالبان کے حملوں میں اضافے اور افغان الیکشن کے اندرونی اختلافات کے باعث انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ممکن نہ ہو سکا تاہم اس دوران جب بھی کوئی بڑا حملہ ہوا پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی جبکہ پاکستان نے افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں کے بارے میں افغان حکومت کے ساتھ انٹیلی جینس شیئرنگ بھی کی۔ پاکستان نے ماضی کی طرح صرف طالبان پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے فریقین کے ساتھ بھی روابط بڑھائے جن میں اشرف غنی کے علاوہ عبد اللہ عبداللہ اور شمال کے دوسرے لیڈر سرفہرست تھے۔ اشرف غنی اور عبد اللہ عبداللہ نے جب الگ الگ حلف اٹھائے تو اس سے کافی بدمزگی اور تلخی پیدا ہوئی تاہم 13مئی کو پاکستان کے سفیر زاہد نصر اللہ نے کابل میں عبد اللہ عبداللہ سے اہم ملاقات کی جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے لکھا کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کو قریب لانے میں اس ملاقات کا اہم کردار رہا اور یہ کہا گیا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی شروعات اور کامیابی میں پاکستان کا انتہائی قلیدی کردار ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کی قربت میں مزید اضافہ ہوگا۔پاکستان کی مذاکراتی عمل کے دوران تمام مثبت کوششیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں دیرپا امن کا داعی رہا ہے۔ چونکہ دونوں برادر اسلامی ملکوں کے آپس میں تعلقات بہت سے حوالوں سے گہرے اور جُڑے ہوئے ہیں اس لئے بسا اوقات بدگمانیوں کا پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ جس کا ازالہ وقتاً فوقتاً میل ملاقاتوں اور باہمی رابطوں سے ہوتا رہنا چاہئے تاکہ کوئی اور ملک یا گروہ اِس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ خصوصاً ہندوستان کے خطے میں لانگ ٹرم مقاصد سے دونوں برادر ملکوں کو باخبر بھی رہنا چاہئے اور باہمی اعتماد اور تعاون سے ناکام بھی بنانا چاہئے۔


 [email protected]
 

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP