قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغان سرحدی باڑ- دراندازی اور پاکستان

سرحدوں پر باڑ،دیوار،رکاوٹ، یا بارودی سرنگیں بچھانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا کی ستر سے زیادہ عالمی سرحدوں پر ایسی باڑیں نصب ہیں۔ ان سرحدی رکاوٹوں کے مقاصد مختلف ہو سکتے ہیں۔کہیں تو مخالفین کی دراندازی روکنا مقصود ہوتا ہے اور کسی جگہ دہشت گردوں کے لئے رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔ بسا اوقات ہمسایہ ملک سے انسانی سمگلنگ کا خطرہ درپیش ہوتا ہے تو کبھی دشمن کی طرف سے ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لئے یہ رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ 
سرحد، باؤنڈری، باڑ، دیوار کبھی دیوار برلن ثابت ہوتی ہے جو دو خاندانوں اور گھروں کے افراد کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے، کہیں یہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین قبضے کو برقرار رکھنے اور مالکان کو اپنی املاک سے دُور رکھنے کے لئے بھی بنائی جاتی ہیں۔




سرحدی باڑوں پر بعض اوقات جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ دوسرا ملک اپنی ملحقہ زمین پر مخالف کے قبضے کا دعویٰ کرتا ہے اور کہیں اس باڑ کی آڑ میں مخالف کے مذموم عزائم کے استعمال کا شاکی ہوتا ہے۔ 
دنیا میں ایسی باڑ لگانے کا چرچا ہمیشہ میڈیا کی خبروں کا حصہ رہتا ہے۔  حالیہ دور میں امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ایسی ہی ایک سرحدی دیوار کی تعمیر کی بحث عروج پر ہے۔امریکہ اس دیوار کی تعمیر کے لئے بہت متحرک ہے جبکہ خارجی اور داخلی محاذوں پر اسے بہت کڑی تنقید کا سامنا ہے۔انسانی المیے اور تفریق کی بات ہوتی ہے۔ وسائل کے ضیاع کا رونا رویا جاتا ہے۔موجودہ باڑ کی موزوں نگرانی کا کہا جاتا ہے مگرموجودہ  امریکی حکومت کے لئے یہ دیوار تعمیر کرنا اشد ضروری ٹھہرا ہے۔امریکہ کے نقطۂ نظر سے اس کے بغیر منشیات،اسلحہ اور انسانی سمگلنگ کو روکنا ناممکن ہے۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ٢٥٠٠ کلومیٹر فاصلہ ہے اور اس میں سے ١٧٠٠ کلو میٹر تک لمبی سرحدی باڑ موجود ہے۔ 
بھارت اور پاکستان کے مابین بھی ایک سرحدی باڑ موجود ہے ۔ کارگل میں بھارتی ہزیمت کے بعد انہیں لگا کہ لائن آف کنٹرول پر اپنے علاقے میں سرحدی باڑ ہونی چاہیے. اس سے دہشت گردی اور سرحدوں سے دراندازی  پر قابو پایا جا سکتا ہے. اس بات کو جواز بنا کر لائن آف کنٹرول پر٤٥٠ میل باڑ کو ہنگامی بنیادوں پر ٢٠٠٤ میں مکمل کیا گیا۔
داعش کی ممکنہ در اندازی کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب نے عراق اور سعودی عرب کے مابین ایک آہنی لکیر کھینچی۔اس آہنی باڑ کی لمبائی٥٥٠ میل ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین بہت سے رشتے اور اقدار مشترک ہیں۔ مستحکم افغانستان ،پاکستان میں امن کے لئے بہت ضروری ہے۔روسی جنگ کے دوران پاکستان نے افغان مہاجرین کو گلے لگایا،ان کے لئے کاروبار اور تعلیمی دروازے وا کئے،ہر ممکنہ مدد فراہم کی۔ بعدازاں بہت سے گلے شکوے بھی پیدا ہوئے۔تلخیوں نے جنم لیا۔اور پھر افغانستان امریکی جنگ کی لپیٹ میں چلا گیا۔بھارت اور امریکہ نے جہاں تک ممکن ہوا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کی۔بھارت کو سرمایہ کاری،ملٹری ٹریننگ،سفارتی آزادی، کاروبار اور خارجہ پالیسی جیسے امور میں شامل کیا۔اسے اپنا بہترین دوست سمجھا۔ پاکستان پر نفرت اور تعصب کے وار کئے۔عوام کے دل میں نفرت پر مبنی مہمات کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کئے اور پھر پاکستان ایک افغانی کے لئے نفرت کی علامت ٹھہرا۔ انہیں لگا کہ شاید پاکستان افغانستان پر قابض ہونا چاہتا ہے، انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ پاکستان افغانستان پر اپنا تسلط چاہتا ہے، اسے ہمیشہ غریب رکھنا چاہتا ہے، اس کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے، اس سوچ نے افغانستان سے دہشت گردی اور دہشتگردوں کو امپورٹ و ایکسپورٹ کیا، یہاں کے بھٹکے ہوئے وہاں بہت امن اور سکون سے رہتے،جبکہ پاکستانی بارڈر پر بلا روک ٹوک ان کا داخلہ ممکن تھا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے امریکہ اور ہر لمحہ اُجڑتے افغانستان کو بہت سی آفرز کیں۔ بارڈر پر ممکنہ دراندازی کے لئے جوائنٹ فورس، چیک پوسٹیں،قلعے اور پٹرولنگ کی تجاویز پیش کیں۔دونوں کی طرف سے اس پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔یہ صورتحال بالآخر سانحۂ پشاور تک آن پہنچی۔لہو کے چھینٹے گھر گھر گرنے لگے۔آنسوں نے ہر چہرے کو بھگویا تو پاکستان نے تن تنہا اس بارڈر پر باڑ لگانے کا بیڑا اٹھایا۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے چند روز قبل بتایا کہ پاک افغان بارڈر پر آہنی حفاظتی باڑ لگانے کا تعمیراتی کام کامیابی کے ساتھ جاری ہے، ٨٤٣ قلعوں میں سے ٢٣٣ مکمل ہوگئے ہیں،
جبکہ١٢٠٠کلومیٹر میں سے ٨٠٢ کلومیٹر پر کام مکمل ہوگیا ہے۔اس باڑ سے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل وحرکت رک جائے گی اور پُرامن لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ باڑ کیسے بنی؟
تاریخ جب اپنے صفحات پر رقم کرے گی کہ یہ دنیا کے مشکل ترین فیصلے،  تعمیر اور سٹریٹیجک حکمت عملی تھی تو یقینا یہ ہمارے لئے باعث فخر ہوگا۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی تھی۔سخت موسم،سرحد پار سے فائرنگ،حملے اور طنز و تضحیک۔ مگر افواج پاکستان نے یہ کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔مختصر سا حصہ باقی ہے جو اِن شاء اللہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ 
اس باڑ کی تنصیب کے دوران بہت سے جوانوں نے اپنا لہو اور پسینہ بہایا۔ مخالف سمت سے گولیاں اور اپنے ملک سے مختلف حلقوں کی مخالفت سہنی پڑی۔ کہا گیا کہ کلچر،اقدار اور تعلقات مٹ جائیں گے۔ پاکستان نے یہ کڑوا گھونٹ بھرا۔اپنے عوام کی حفاظت اور دفاع پاکستان کو مقدم سمجھا لہٰذا یہ منصوبہ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس باڑ کی اونچائی ٩فٹ ہے اور یہ دہری باڑ ہے۔ ان دو باڑوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا گیا ہے اور ان کے اوپر کانٹے دار تاروں کے گچھے لگا دیئے گئے ہیں۔ اس کی تکمیل اگلے سال کے اواخر تک ہو جائے گی۔اس منصوبے پر لاگت کا ٹوٹل تخمینہ ٦٠کروڑ ڈالر لگایا گیاہے۔
آخر میں یہی کہ باڑیں، دیواریں موجودہ قومی مفاد اور سکیورٹی کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔سعودی عرب کو یمن کی طرف سے ممکنہ دراندازی پر تحفظات ہیں۔ کوریا کے درمیاں سرحد پر باڑیں اور بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں ۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک سات سرحدی باڑیں اور دیواریں تھیں جو اب ٧٧ہو چکی ہیں۔ ہر ریاست کو اپنا دفاع اور تحفظ مقدم ہوتا ہے۔چند خاندانوں کی رشتہ داریاں قربان کی جاسکتی ہیں مگر پوری قوم کا امن اور سکون نہیں۔ہم ان گمنام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھوں پر چھالے،اپنی چھاتیوں پر گولیاں اور اپنوں کی گالیاں برداشت کیں۔ مقامی آبادیوں،قبائل اور گردونواح میں بسے وہ تمام اہلِ پاکستان بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کی۔یہ پاکستان کے ہر فرد کے وقار،دفاع اور سالمیت کا منصوبہ ہے۔ امید ہے اس کے نتائج بھی توقعات کے مطابق ہوں گے۔افغانستان پاکستان کے عوام سے مذہبی،ثقافتی اور سفارتی تعلق رکھتا ہے،یہ تعلق ہمیشہ مثبت اور مضبوط رہے گا۔



[email protected]
 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP