قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان کی صورتحال -------پاکستان پر اثرات و امکانات 

افغانستان کا سیاسی ، سماجی ، انتظامی او رمعاشی بحران ایک پیچیدہ نوعیت کا سوال ہے کیونکہ افغانستان کے بحران کا حل کوئی سادہ اور آسان نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کے طور پر افغانستان سمیت خطے کے تمام ممالک اور دنیا کی توجہ چاہتا ہے ۔ افغان بحران کا حل کسی بھی صورت سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اور اگر اس مسئلے نے حل ہونا ہے تو عالمی اور خطے کی سیاست کے بڑے طاقت ور مراکز کی مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے افغان بحران کے تناظر میں جو کردار عالمی طاقتوں کا ہونا چاہیے تھا اس پر بھی ہمیں ہر سطح پر اعتماد کا بڑا فقدان یا بداعتمادی کے سائے زیادہ گہرے نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جو سیاسی امکانات افغان بحران کے حل کی صورت میں سامنے آئے تھے یا امید کے پہلو پیدا ہوئے تھے ان میں کافی سیاسی اندھیرا پایا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ حساسیت یا فکر مندی افغان بحران کے حل کے لیے پاکستان میں پائی جاتی ہے کیونکہ پاکستان کی داخلی سلامتی ، خود مختاری او رامن وامان کی صورتحال کا براہ راست تعلق افغان بحران کے حل سے ہی جڑا ہوا ہے ۔
جو لوگ تواتر کے ساتھ پاکستان کی حد سے زیادہ سنجیدگی ، جذباتیت یا فکر مندی پر سوالات اٹھاتے ہیں یا وہ عملًا افغان بحران کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ افغان بحران کے حل اور عالمی طاقتوں کے ذمہ دار انہ کردار کے تناظر میں افغانستان کے لیے زیادہ سے زیادہ معاونت کا کردار ادا کرے۔ یہی براہ راست پاکستان کے مفاد میں بھی ہے کیونکہ پاکستان کوخدشہ ہے کہ اگر افغان بحران میں بگاڑپیداہوا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
اس وقت افغان بحران کے حل کے تناظر میں افغانستان یا طالبان حکومت سمیت خطے کے ممالک کوپانچ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اول، دنیا او ربالخصوص بڑے ممالک میں افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا ہے تاکہ وہ دنیا یا طاقت کے مراکز میں اپنی حکومت کی ساکھ کو قائم کرسکے ۔ دوئم افغان طالبان حکومت نے یہ عندیہ دیا تھا اور عالمی دباؤ بھی ان پر تھا او رہے کہ وہ مشترکہ حکومت کا راستہ اختیار کریں تاکہ ان کی عالمی قبولیت کے امکانات بڑھ سکیں ۔سوئم افغان معاشی بحران اور امریکہ میں جو ان کے معاشی اثاثے منجمد ہیں ان کو ہر صورت فوری بحال کیا جائے ۔چہارم افغانستان میں ماضی کی طالبان حکومت کے مقابلے میں عام شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ، عورتوں او ربچیوں سمیت ہر فرد کے انسانی حقوق کی پاسداری ، بچیوں یا لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی نقل و حمل ، اسلامی سزاؤ ں کے نام پر خوف کی فضا کو ختم کرنا ،سیاسی مخالفین کے بارے میں معافی یا نرم رویہ اختیار کرنا او ران کو کام کرنے کی آزادی دینا جیسے امو ر کو ہر صورت یقینی بنانا تاکہ ان کی قبولیت کا پہلو نمایاں ہو۔پنجم افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی فرد یا گروہ کے لیے دہشت گردی یا کسی بھی ریاست کے اندر مداخلت کی اجازت کا نہ دینا مثلاً داعش کا راستہ روکنا جیسے امور اہم ہیں ۔
 بعض عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ مل کر مستقبل کے پرامن افغانستان کے لیے وہ کردار ادا نہیں کرنا چاہتیں جو عملی طور پر اس وقت افغانستان او رپاکستان کی ضرورت بنتا ہے ۔ اصولی طور پر تو افغان بحران کے حل میں پاکستان کی کوششوں کو ہر سطح پر تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان پر الزامات کی سیاست کا فائدہ نہ تو امریکہ کو ہوگا او رنہ ہی افغانستان سمیت خطہ کی مجموعی صورتحال پر اس کے مثبت اثرات ہوسکیں گے ۔ایک بنیادی نقطہ اس وقت پاکستان میں یہی زیر بحث ہے کہ کیا واقعی موجودہ صورتحال میں امریکہ افغانستان کے بحران کو حل کرنا چاہتا ہے یا اس کا اب مفاد پرامن افغانستان کے مقابلے میں عدم استحکام پر مبنی افغانستان ہے ۔ اسی سوال کے تناظر میں ہم افغانستان اور خطے کی صورتحال میں بھارت کے کردار کو بھی سمجھ سکتے ہیں ۔
دوسری جانب بھارت نہ صرف پاکستان سے بہتر تعلقات کا خواہاں نہیں بلکہ کشمیر اور افغانستان میں بھی وہ ہمیں انتشار کی صورت میں رکھنا چاہتا ہے ۔ ہم بھارت کی جنگی جنون پر مبنی حکمت عملی کو کیسے ناکام بنائیں کیونکہ محض پاکستان ہی نہیں پورے خطہ کے ممالک بھارت کے منفی ایجنڈے سے خائف ہیں کہ وہ اس خطے میں پرامن سیاست کے مخالف کے طو رپر اپنا کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی عالمی قوتوں او رامریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے افغان طالبان کی سیاسی ، انتظامی ، مالی اور سفارتی مدد نہ کی تو اس کا فائدہ داعش کو ہی ہوگا ۔اس لیے امریکہ کے سامنے بھی ایک بڑا چیلنج داعش سے نمٹنے کا ہونا چاہیے او روہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب امریکہ افغان طالبان ، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے ۔ داعش کا مقابلہ انفرادی سطح پر نہیں بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے جڑا ہوا ہے جس میں پاکستان کا کردار بھی اہم ہوگا۔افغانستان میں ابھی داعش کی ابتدا ہے او ر حالیہ دنوں میں افغانستان میں جودہشت گردی یا دھماکوں کے واقعات ہوئے ہیں ان میں براہ راست داعش نے ذمہ داری بھی قبول کی ہے ابتدا ہی میں اس سے نمٹنے کی حکمت عملی بن سکے تو یہ سب کے مفاد میں ہی ہوگا۔
پاکستان تواتر کے ساتھ اب افغانستان کے تناظر میں اپنا یہ بیانیہ پیش کررہا ہے  کہ افغانستان میں کوئی اس کا لاڈلا نہیں بلکہ ہم سب کے ساتھ تعاون کی مدد سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہم یہ بھی باور کرواچکے ہیں کہ ہم اب عالمی یا علاقائی سیاست کے معاملات میں ٹکراؤ یا جنگ کے نہیں بلکہ امن اور مفاہمت کے کردار کے طور اپنے کردار کو جاری رکھیں گے ۔اس کے علاوہ ہم جیواسٹرٹیجک کے مقابلے میں جیو اکانومی کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں جس میں ماضی کے تضادات اور ٹکراو کی پالیسی شامل نہیں ہوگی ۔
 ایک اچھی بات پاکستان کے لیے بہرحال یہ ہے کہ اب کابل میں بھارت نواز حکومت نہیں جو مسلسل پاکستان پر دبائو بھی ڈالتی تھی اور دہشت گردوں کو تقویت بھی دیتی تھی ۔ اب کابل میں کیونکہ طالبان کی اپنی حکومت ہے تو کم ازکم وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی توقع کم ہے او ریہی بھارت کا بھی غم ہے کہ اب وہ کیسے وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیاں کرسکے گا۔ اسی طرح اگر افغانستان اقتصادی مسائل سے نہیں نمٹ پاتا اور اسے دنیا میں قبولیت نہیں ملتی تو وہاں ایک مستحکم حکومت کا قائم ہونا مشکل ہوگا۔یہی خطرہ پاکستان کی فکر مندی کو بڑھاتا ہے اور اگر افغانستان میں داخلی انتشار بڑھتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ مزید افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوگا ۔
پاکستان کو اس وقت جو سب سے اہم سوالات درپیش ہیں ان میں افغانستان کا داخلی امن ،دہشتگردوں بالخصوص داعش سے نمٹنا اور عالمی برادری کا طالبان کے ساتھ  رویہ شامل ہے ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے افغان بحران کے حل میں اپنی سیاسی ، سفارتی یا ڈپلومیسی پر مبنی سرگرمیوں کو زیادہ شدت سے جاری رکھنا چاہیے ۔ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اعتدال او ررواداری پر مبنی افغان حکومت کی پالیسی میں جتنی طالبان کی مدد کرسکتے ہیں وہ کریں اور دنیا کو یہ باو رکروائیں کہ اگر اس موقع پر عالمی طاقتوں نے کسی بھی تضاد یا ٹکراؤ میں افغانستان او رطالبان کو تنہا چھوڑا تو اس کا نقصان محض افغانستان، پاکستان یا خطے کی سیاست کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست پر بھی اس کے منفی اثرات نمایاں ہوںگے ۔اسی طرح پاکستان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ علاقائی یا عالمی سیاست کے بنتے ہوئے نئے بلاکس میں ایسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی جہت بھی دے جو پرامن افغانستان کو اپنی سیاسی ترجیح سمجھتے ہیں۔ان ممالک میں چین، روس، ایران ، ترکی ، وسطی ایشیاکی ریاستوں ازبکستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور قطر جیسے ممالک اہم ہیں۔ اگر امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں کوئی ایسی پالیسی اختیار کرتا ہے جو پاکستان او رافغانستان کے مفاد میں نہیں تو ہمیں بھی متبادل کے طور پر مختلف اہم ممالک کی مدد کے ساتھ متبادل پالیسی پر کام کرنا ہوگا جو محض ردعمل یا ٹکراؤ کی پالیسی نہ ہو بلکہ اس کا مقصد علاقائی سیاست کا استحکا م،معاشی استحکام اور تمام ممالک میں دو طرفہ تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوکیونکہ افغانستان میں جہاں مختلف چیلنج ہیں وہیں اس وقت پاکستان سمیت علاقائی ممالک کے لیے سی پیک جیسے اہم معاشی ترقی کے مواقع بھی ہیں اور انہی مواقعوں کی بنیاد پر ہماری حکمت عملی واضح او رشفاف ہونی چاہیے جو پرامن افغانستان او رمستحکم پاکستان کی طرف بڑھ سکے۔ ||


مضمون نگار معروف دانشور، صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں او رکئی اہم ملکی تھنک ٹینک کا حصہ ہیں ۔ جمہوریت، حکمرانی سے جڑے مسائل ، دہشت گردی اور علاقائی سیاست پر ان کی گہری نظر ہے ۔
[email protected]


 

یہ تحریر 152مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP