قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان میں قیام امن اور پاکستان کامثبت اور ذمہ دارانہ کردار

 افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

سابق افغان صدر حامد کرزئی کے مطابق افغان طالبان اور پاکستان نے سال 2003 کے دوران افغان حکومت کے ساتھ سیز فائر اور سیاسی معاہدے کی پیش کش اور کوشش کی تھی مگر امریکیوں نے یہ کہہ کر موقع ضائع کیا کہ طالبان عملاً ختم  ہوچکے ہیں اس لئے ان کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ جناب کرزئی کے مطابق یہی وہ مرحلہ تھاجب طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنا کر جنگ کم یا ختم کی جاسکتی تھی مگر امریکی اپنے غرور کی وجہ سے مارکھاگئے۔



مسلسل رکاوٹوں، مشکلات اور حملوں کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ماہ ستمبر کے اوائل میں انٹرا افغان ڈائیلاگ کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کے لئے دوحہ قطر میں خصوصی انتظامات کئے گئے۔ پاکستان، بھارت، چین،   یو اے ای اور امریکہ سمیت تقریباً ایک درجن ممالک کے نمائندوں نے اس ایونٹ میں شرکت اور تقاریر کیں جبکہ 19 رکنی طالبان مذکراتی ٹیم کی قیادت مولوی عبدالحکیم اور حکومتی ٹیم کی سربراہی معصوم شانزئی نے کی۔


سال2018 کے دوران امریکہ نے اچانک افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لئے اس کے باوجود پاکستان کی ضرورت پڑ گئی کہ بعض امریکی حلقے افغانستان میں امریکہ کی ناکامی اور جاری بدامنی کو پاکستان کی مداخلت کا نتیجہ قرار دے رہے تھے اور بعض افغان اور پاکستانی عناصر بھی زمینی حقائق کے برخلاف پاکستان کے خلاف اسی بیانیے پر عمل پیرا تھے۔ پاکستان خصوصاً وزیراعظم عمران خان کا پہلے دن سے بالکل واضح مؤقف تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے بلکہ یہ صرف مذاکرات سے حل ہوگا۔ امریکی رابطے کا پاکستان نے نہ صرف خیرمقدم کیا بلکہ عملی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے  طالبان سے اپنے امریکی رابطے بھی بحال کئے اور اس مقصد کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد چند مہینوں کے دوران تقریباً گیارہ بار پاکستان کے دورے پر آئے۔ تین بار افغان طالبان کو پاکستان بھی بلایا گیا جہاں ان کو مذاکرات پر قائل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں اور افغان حکومت کو اعتماد میں لینے کی رضامندی بھی پاکستان کی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔ جس کا دوسروں کے علاوہ زلمے خلیل زاد، عبداﷲ عبداﷲ،اشرف غنی اور خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کئی بار آن دی ریکارڈ اعتراف کیا۔ 
دوحہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا تو تقریباً چھ بار مختلف مواقع پر بعض اُمور پر فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہوئی جبکہ دوبار افغان حکومت خصوصاً صدر اشرف غنی کے بیانات اور طرزِ عمل نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔ مگر ان تمام مواقع پر پاکستان کا مصالحتی کردار بہت اہم اور مثبت رہا۔یہ انہی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ فروری2020 میں قطرمیں طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ معاہدہے پر دستخط ہوگئے اور اعلان کیاگیا کہ مارچ2020 سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغازہوگا مگر قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کئی ماہ تک بین الافغان مذاکرات کا آغاز نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس طالبان نے حملوں کی تعداد اتنی بڑھا ئی کہ چند ماہ کے دوران سابقہ برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ افغان وزارت داخلہ کی ایک بریفنگ کے مطابق ماہِ اگست کے آخری 10 روز کے دوران طالبان نے ملک کے28 صوبوں میں422 حملے کئے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ دوسری طرف افغان فورسز کی کارروائیاں بھی جاری رہیں اور حالات بدترین ہوتے گئے۔
اگست 2020 کے آخری 10روز کے دوران دوحہ مذاکرتی ٹیم کے سربراہ عبدالغنی برادر کی قیادت میں ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا جہاں وفد نے اعلیٰ  پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ فریقین نے قیدیوں کے معاملے پر پیدا شدہ ڈیڈلاک، متوقع مذاکراتی عمل کے دیگر نکات، عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کار، اور مستقبل کے علاقائی منظر نامے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیاجبکہ پاکستان نے وفد کو اپنی ترجیحات اور خواہشات سے آگاہ کرتے ہوئے ان پر واضح کیا کہ وہ  تشدد میں کمی اور شرائط میں نرمی لاکر افغان انٹرا افغان ڈائیلاگ کے آغاز کا راستہ ہموار کریں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے وفد کو یہ بھی بتایا کہ طالبان ان عناصر کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی کرے جو کہ بداعتمادی کا سبب بن رہے ہیں۔
پاکستان کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان صادق خان اس تمام عرصے کے دوران افغان حکومت اور سیاستدانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے جس کے نہایت مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان نے افغانستان کی سہولت کے لئے نہ صرف طُور خم اور چمن کے کراسنگ پوائنٹس کو کھول دیا بلکہ تجارت کے لئے غلام خان، انگوراڈہ اور خرلاچی کے راستے بھی کھول دیئے۔ یہاں تک کہ افغانستان کی خصوصی درخواست پر اس پڑوسی ملک کے فائدے کی خاطر اسے واہگہ بارڈر پر بھی بعض اہم سہولتیں فراہم کردیں جس کا اعلیٰ افغان حکام نے زبردست خیر مقدم کیا۔ 
اگست ہی کے مہینے میں تیسری بڑی پیشرفت یہ ہوئی کہ وزیرِاعظم عمران خان نے افغان مذاکراتی کمیشن یا شوریٰ کے سربراہ عبداﷲ عبداﷲ سے ٹیلی فونک بات چیت کرکے ان کو نہ صرف پاکستان کے عملی اقدامات اور تعاون سے آگاہ کیا بلکہ ان کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت بھی دی جو کہ انہوں نے قبول کرلی۔ اس رابطے کے دوران وزیراعظم نے عبداﷲ عبداﷲ کو انٹرا افغان ڈائیلاگ کو ممکن بنانے کی پاکستانی کوششوں کی تفصیلات بتائیں جس کوعبداﷲ عبداﷲ نے ایک تفصیلی خیرمقدمی  بیان میں نہ صرف سراہا بلکہ یہ اعتراف بھی کیا کہ امن اور مذاکرات کے قیام میںپاکستان کا کردار بہت کلیدی اور مثبت رہا ہے۔ایسے ہی بیانات اشرف غنی، وزیرِخارجہ حنیف اتمر اور زلمے خلیل زاد کی جانب سے بھی سامنے آئے جبکہ افغان حکومت نے مشاورتی قومی جرگے کے مطالبے اور سفارش پر اعلان کیا کہ جن 400 ہارڈ کور اور سزا یافتہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ڈیڈلاک پیدا ہوا ہے حکومت بعض تحفظات اور عالمی تشویش کے باوجود ان کو مرحلہ وار رہا کرے گی۔ یکم ستمبر2020 کے روز کابل میں افغانستان اور پاکستان کی ان حکومتی ٹیموں کے درمیان اہم میٹنگ ہوئی جو کہ فریقین کے دو طرفہ معاملات نمٹانے اور تعلقات بہتر بنانے  کے لئے کام کرتی آرہی ہیں۔اس اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ محمدصادق خان کی ایک ٹویٹ کے مطابق یہ دوسری ریویومیٹنگ تھی جس میں پاک افغان ایکشن پلان برائے امن و استحکام کے علاوہ باہمی رابطہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیااور یہ اجلاس نتیجہ خیز اور مفید رہا۔ صادق خان کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں دو طرفہ انٹیلی جینس شیئرنگ ، تجارت اور افغان مہاجرین کے ایشوز پر بھی مفید فیصلے کئے گئے۔
امر واقع یہ ہے کہ پاکستان جہاں تاریخ کے اس اہم مرحلے پر بہت ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کرتا نظر آرہاہے وہاں مستقبل کے علاقائی منظر نامے میں بھی پاکستان بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے اور اب کی بار پاکستان تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
مسلسل رکاوٹوں، مشکلات اور حملوں کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ماہ ستمبر کے اوائل میں انٹرا افغان ڈائیلاگ کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کے لئے دوحہ قطر میں خصوصی انتظامات کئے گئے۔ پاکستان، بھارت، چین،   یو اے ای اور امریکہ سمیت تقریباً ایک درجن ممالک کے نمائندوں نے اس ایونٹ میں شرکت اور تقاریر کیں جبکہ 19 رکنی طالبان مذکراتی ٹیم کی قیادت مولوی عبدالحکیم اور حکومتی ٹیم کی سربراہی معصوم شانزئی نے کی۔ افغان مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداﷲ عبداﷲ، امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو، نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور دیگر بھی اس تاریخی ایونٹ میں شریک ہوئے تاہم 4 مختلف نکات پر ستمبر کے آخر تک فریقین میں اختلاف رہا جس کے باعث سیز فائر کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں بلکہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے باقاعدہ آغاز کے بعد دوطرفہ حملوں میں مزید اضافہ ہوا اور سیکڑوں افراد حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بنے جن میں وہ 12 سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں جو کہ نائب صدر امراﷲ صالح پر مذاکراتی سیشن سے صرف تین روز قبل کرائے گئے حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ پہلے سیشن سے لے کر آئندہ کے تین ہفتوں تک جاری رہا جس پر عوام کے علاوہ امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود مذاکرات کے آغاز کو بڑی پیشرفت قرار دیا گیا۔ 28 ستمبر 2020 کو سابق چیف ایگزیکٹو اور افغان پیس کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد آئے جہاں ان کا شاندار اور تاریخی استقبال کیا گیا اور اس دورے کے دوران انہوں نے اعلیٰ ترین حکومتی اور ریاستی حکام اور شخصیات کے علاوہ مختلف طبقہ ہائے زندگی کے اہم لوگوں سے مذاکرات اور ملاقاتیں کیں اور افغان مذاکراتی عمل کے علاوہ پاک افغان تعلقات پر نہ صرف تفصیلی گفتگو اور مشاورت کی گئی بلکہ متعدد اہم فیصلے اور اعلانات بھی کئے گئے۔
ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور ان کی ٹیم کے اعزاز میں ریکارڈ ظہرانے اور عشائیے دئیے گئے جس کی دونوں پڑوسی ممالک کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے مختلف ایونٹس سے خطاب کے دوران پاکستان کو خطے کا اہم ترین ملک قرار دے کر افغانستان کے امن کے لئے اس کے کردار کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کو مستقبل کے لئے بھی ناگزیر قرار دیا جبکہ اعلیٰ ترین پاکستانی حکام نے ان کو یقین دلایا کہ پاکستان افغان امن اور خطے کے استحکام، ترقی کے لئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ 10 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے  عبداﷲ عبداﷲ نے تجارت بڑھانے، سہولیات کی فراہمی اور مہاجرین کی مہمانداری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جبکہ ان کے دورہ پاکستان ہی کے دوران وفاقی کابینہ نے بعض دیگر اقدامات کے علاوہ افغانیوں کے لئے ویزہ شرائط اور طریقہ کار میں سہولتیں دینے کے علاوہ باہمی تجارت بڑھانے کے بارے میں بھی اہم فیصلے کئے۔ اسی دوران پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم عمران خان نے موقف اپنایا کہ عالمی برادری جاری مذاکراتی عمل کے علاوہ امریکی انخلاء کے بعد کی متوقع صورتحال کے پیش نظر امن دشمنوں پر نہ صرف کڑی نظر رکھے بلکہ مستقل امن اور استحکام کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے علاوہ پاکستان، افغانستان اور عالمی میڈیا میں اس دورے کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے مذاکراتی عمل کے علاوہ مستقبل کے علاقائی منظر نامے پر بھی بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی میڈیا نے اس دورے پر مثبت تبصرے کئے۔
ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس دورے کے دوران یہ بھی طے پایا کہ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور بعض دیگر حکام جلد کابل کا تفصیلی دورہ کرکے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے بلکہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کی خصوصی دعوتوں پر وزیراعظم عمران خان بھی اکتوبر کے وسط میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ کابل کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ان تمام اقدامات اور اعتماد سازی کو تجزیہ کار بہت خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور ان کو قوی امید ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے مثالی تعلقات قائم ہوں گے اور انٹرا افغان ڈائیلاگ کا جاری سلسلہ بھی جلد نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہوجائے گا۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 132مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP