قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان میں امن کے امکانات

تقریباً10مہینوں کے مسلسل ڈیڈلاک اور رکاوٹوں کے بعد ماہِ دسمبر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان انٹرا افغان ڈائیلاگ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جس کا پاکستان اور امریکہ سمیت پوری دنیا نے خیرمقدم کیا جبکہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پیشرفت کو بڑی کامیابی قرار دے کر کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں ایک مستحکم و پُرامن اور وسیع تر سیاسی نظام اور سیٹ اَپ کے قیام کے لئے اپنی عملی کوششیں جاری رکھے گا۔
سال 2020 کے فروری کے مہینے میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ جس میں افغانستان سے امریکی انخلاء اور دہشت گردوں سے صاف افغانستان کے قیام سمیت متعدد اہم نکات شامل تھے۔ اس معاہدے کو طالبان کی فتح کا نام دیا گیا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ افغان حکومت اور ایران جیسے ممالک نے اس پر نہ صرف خدشات کا اظہار کیابلکہ افغان حکومت میںشامل بعض اہم عہدیداران خصوصاً دونائب صدور، وزیرِ دفاع اور دیگر نے اس کی مخالفت کی اور بعض ایسے اقدامات بھی مشاہدے میںآئے جن کا مقصد امریکہ اور طالبان کے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنا تھا۔ اس کا ردّ عمل طالبان کے ریکارڈ حملوں اور بے شمار ہلاکتوں کی صورت میں آیا اور انٹرا افغان ڈائیلاگ کا اس کے باوجود عملی آغاز نہ ہو سکاکہ معاہدے میں10مارچ 2020 کو اس کے آغاز کا باقاعدہ اعلان شامل تھا۔
مسلسل حملوں اور عالمی دبائو نے فریقین کو کئی ماہ بعد 2020 کے وسط میں دوحہ میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے پر آمادہ کیا۔ جس میں فریقین کے بیالیس ارکان شریک ہوئے۔ مگر کچھ دنوں بعد طریقہ کار اور بعض بنیادی ایشوزپر پھر سے بداعتمادی اور ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہوگئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا پورا سلسلہ ہی ٹھپ ہو کر رہ گیا۔
اس دوران امریکہ اور پاکستان کی مسلسل کوشش رہی کہ نہ صرف تشدد اور حملوں کے جاری سلسلے کو روک دیا جائے بلکہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا سلسلہ بھی شروع  ہوسکے۔ اس مقصد کے لئے زلمے خلیل زادنے تین بار پاکستان کا دورہ کیا جبکہ افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے جہاں مذاکراتی عمل کے علاوہ پاک افغان تعلقات پر بھی نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔
عبداﷲ عبداﷲ کے کامیاب دورے کے بعد افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی خصوصی دعوت پر وزیرِاعظم پاکستان عمران خان اعلیٰ ترین وفد کے ہمراہ کابل گئے، جہاں مذاکرات اور پاک افغان تعلقات پر مختلف تجاویز کا تبادلہ کیاگیا اور پاکستان نے کابل کی ضرورت اورخواہش کے مطابق یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ افغان طالبان کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے اور تشدد میں کمی پر آمادہ کرنے کی عملی کوشش کرے گا۔
دسمبر کے پہلے ہفتے کے دوران اس ضمن میں بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی کہ افغان طالبان اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہوا، فریقین میں رابطے ہوئے اور 21 نکاتی ایجنڈے پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا جس کی بنیاد پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور ایک امن معاہدے کا راستہ ہموار کیا جانا تھا۔ زلمے خلیل زاد ، عبداﷲ عبداﷲ ،مائیک پومپیو، شاہ محمود قریشی اور صادق خان وہ اہم لوگ ثابت ہوئے جنہوں نے 21 نکاتی معاہدے یا ایجنڈے کا راستہ ہموار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور فریقین نے مشاورتی کمیٹیوں کی شکل میں ایک دوسرے سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا۔
دوحہ، امن مذاکرات کا پھر سے مرکز بن گیا اور یہ توقع پھر سے ہونے لگی کہ نئی امریکی انتظامیہ کے اختیارات لینے سے قبل فریقین بدلتی ہوئی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے کسی مجوزہ معاہدے کے حتمی اعلان تک پہنچ جائیں گے کیونکہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ہر صورت میں معاہدے اور ایک مجوزہ سیاسی سیٹ اپ کے قیام کو ممکن بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔
دسمبرکے دوسرے ہفتے کے دوران فریقین میں نہ صرف یہ کہ 21 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق رائے کا ماحول بن گیا بلکہ کابل میں امن مفاہمتی کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ امن کے قیام کی اس آخری کوشش کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ امریکہ کی نئی حکومت کے قیام کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ نئے صدر جوبائیڈن شاید ماضی کے اپنے طرزِ عمل اور افغان امور میں غیر معمولی دلچسپی کے باعث ٹرمپ کی پالیسی کو آگے بڑھانے پر نظر ثانی کریں۔ سیاسی اور علاقائی ماہرین نے جہاں 21 نکاتی ایجنڈے کو بڑی کامیابی سمجھا وہاں مستقل معاہدے کے امکانات کو پھر بھی مشکل کام قرار دیا۔
قبل ازیں وزیرِاعظم عمران خان ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان گئے جہاں اُن کا شاندار استقبال کیاگیا اور انہوںنے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ خطے کی صورت حال، کراس بارڈر ٹیررازم اور مجوزہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے علاوہ دوطرفہ تعلقات کی ازسرِ نو بحالی اور تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان کے وفد میں دوسروں کے علاوہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیرِ تجارت عبدالرزاق دائود اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شامل تھے۔ ایوانِ صدر پہنچنے پر اُن کا شاندار اور تاریخی استقبال کیاگیا اور ان کو گارڈ آف آنر پیش کیاگیا جس کے بعد ان کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ باقی تین اہم عہدیداروں نے اپنے متعلقہ افغان حکام کے ساتھ بھی دو طرفہ معاملات پر بات چیت کرلی۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس موقع پر خطے بالخصوص افغانستان کی جاری صورت حال، سکیورٹی کے معاملات اور مجوزہ امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی متوقع صورتحال کے علاوہ دوطرفہ طور پر اس بات پر بھی اتفاقِ رائے کیاگیا کہ دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی وفد نے خطے خصوصاً افغانستان میں بھارت کے منفی عمل دخل پر افغان عہدیداران کو نہ صرف اپنی تشویش اور تجاویز سے آگاہ کیا بلکہ ایسے بعض ثبوت پیش کرنے کی آفر بھی کی جس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ بھارت افغان دوستی کی آڑ میں نہ صرف افغان سرزمین پاکستان کے خلاف ااستعمال کرتا آرہا ہے  بلکہ وہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی کوششوں کو بھی ناکام بنانا چاہ رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی وفد نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ نہ صرف تشدد کے خاتمے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا بلکہ پاکستان کی سرزمین افغان بدامنی کے لئے استعمال کرنے کی کسی کو اجازت بھی نہیں دے گا۔ اس دورے کے دوران ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ دونوں ممالک کے عسکری اداروں بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان ایک کوآرڈی نیٹنگ سسٹم بنایا جائے گا جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ بھی شامل ہے تاکہ سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے۔ دوسری پیشرفت یہ ہوئی کہ دونوں ممالک کی تجارت کو مزید فروغ دینے کی متعدد تجاویز پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا اور کمیٹی بھی بنائی گئی۔
مسٹر بائیڈن اقتدار میں آتے ہیں تو ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں امریکی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گاکیونکہ مسٹر بائیڈن نہ صرف افغان وار کے ڈیزائنر ز میںسے ہیں بلکہ افغانستان کے بارے میں ان کا رویہ ماضی میں غیر معمولی طور پر جارحانہ بھی رہا ہے۔ وہ ماضی میں متعدد بار آن دی ریکارڈیہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو اپنی فورسز کے بے جا استعمال کرنے کے بجائے پاکستان جیسے اتحادیوں سے کام لینا چاہئے تھا جبکہ ان کا یہ مؤقف بعد میں صدر ٹرمپ نے بھی پالیسی کا حصہ بنا یاکہ امریکہ کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک میں پولیس مین کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔
کچھ عرصہ قبل جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں افغانستان کو ایک ناقابلِ اصلاح ملک قرار دے کر یہاں تک کہا کہ افغانستان نہ توکوئی ملک ہے اور نہ ہی ایک قوم۔ اس لئے یہ تقسیم بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ امریکہ کو اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اس قسم کے بیانات سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اگر وہ صدر بنتے ہیں تو افغان مسئلہ مزید پیچیدہ بھی ہوسکتا ہے اور مزید کئی علاقائی تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔ اس صورت حال کو خطے کے حالات کے تناظر میں سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ کی ترجیحات بدل بھی سکتی ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ممکن ہے۔ ||


 

یہ تحریر 139مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP