قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان موجودہ حالات کے تناظر میں

افغانستان کی سیکورٹی کے متعلق حالات نے غیرمتوقع طور پر بہت خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ شورش زدہ ملک ایک بار پھر بدترین بدامنی کا شکار ہونے والا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے نصف سے زائد صوبوں (تقریباً 18) میں طالبان نے ماہ اکتوبر کے دوران حملے کئے۔ جس کے نتیجے میں فریقین کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور حالات اتنے خراب ہونے لگے ہیں کہ ایک حالیہ اجلاس کے دوران نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈروں نے افغان حکومت کو تجویز پیش کی کہ اگر ان کی فورسز طالبان کی پیش قدمی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو عالمی فورسز کو پھر سے مختلف صوبوں میں طلب کیا جائے۔ ایک اور ذرائع کے مطابق نیٹو کے سربراہ نے اپنے ہیڈکوارٹر کو لکھے گئے ایک خط یا رپورٹ میں حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طالبان کی حالیہ پیش قدمی جاری رہی تو ملک پھر سے انارکی کی لپیٹ میں چلا جائے گا اور انٹرنیشنل فورسز کو پھر سے میدان میں اترنا پڑے گا۔ مذکورہ مراسلے میں نیٹو حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں کوئی مؤثر قدم اُٹھائیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سال 2001 کے بعد جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ چار مختلف مواقع پر پولیس نے طالبان کے گروپوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔

 

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے بین السطور میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ انٹرنیشنل فورسز کی تعداد یا مراکز کم کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حملوں اور قبضوں کی تعداد میں اضافہ اس معاہدے کے بعد دیکھنے میں ملا جو کہ حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان طے پایا ہے۔ حملوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حزب اسلامی کو متعدد مراعات دینے اور اخراجات کے لئے 40لاکھ ڈالرز کے مطالبے کی 10لاکھ کی پہلی قسط ادا کرنے کے باوجود پارٹی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کابل آنے سے گریزاں ہیں اور ان کے آنے میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیکورٹی سے متعلق وہ خدشات ہیں جن سے کابل جیسا مرکزی شہر بھی محفوظ یا مبرا نہیں ہے۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا قطر دفتر پھر سے فعال ہونے لگا ہے اور طالبان افغان حکومت کے نمائندوں کی بعض اہم ملاقاتوں کی خبریں بھی زیرگردش ہیں مگر کارروائیاں پھر سے کم یا ختم نہیں ہو پا رہیں۔

 

اور ایک درجن سے زائد صوبے بدامنی اور حملوں کی زد میں ہیں۔ قطر پر اسس کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں ملاعمر کے بھائی ملا عبدالمنان اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ معصوم ستانکزی کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہ کہ اس ملاقات میں ایک امریکی نمائندہ بھی موجود تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امن لانے کی ایک بڑی مگر آخری کوشش ہے اور اگر یہ ناکام ہوئی تو جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ اس دوران افغانستان بدترین بدامنی اور دوطرفہ حملوں اور کارروائیوں کی زد میں رہا جبکہ طالبان نے سال 2015 اور 2016 کے دوران پہلی بار اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر نہ صرف یہ کہ تین صوبوں کے کئی اہم شہر اور علاقوں پر قبضہ کیا بلکہ بیک وقت ایک درجن سے زائد صوبوں میں کارروائیاں بھی کیں اور مختلف صوبوں میں ان کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس اور وزارت داخلہ کی تفصیلات کے مطابق ان حملوں میں اس وقت شدت آ گئی جب افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان مفاہمتی فارمولے کے تحت معاہدہ ہوا اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ گلبدین حکمت یار چند روز میں کابل پہنچنے والے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران طالبان نے جن صوبوں میں موثر کارروائیاں کیں ان میں فراہ، پکیتا، خوست، ننگرہار، غزنی، بغلان، بادغیس، پنچ شیر، قندوز خازیاں، ہلمند اور متعدد دیگر صوبے شامل ہیں۔ طالبان نے عرصہ دراز کے بعد پہلی دفعہ پنج شیر پر بھی حملے کئے۔ حالانکہ یہ وہ صوبہ رہا ہے جہاں مثالی امن رہا۔ اور حالت یہ رہی کہ یہاں نیٹو یا امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ دوسری طرف طالبان نے ترکمانستان کی سرحد پر واقع صوبہ یعنی بادغیس میں گزشتہ دنوں کے دوران اتنے حملے کئے کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان آمدورفت اور اشیا کی ترسیل کا سلسلہ بھی روک دیا گیا۔

 

امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اور ترکمانستان نے سرحد پر اپنی فورسز کی تعداد بھی بڑھائی۔ بادغیس ہی میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور کئی چیک پوسٹیں رضاکارانہ طور پر ان کے حوالے کیں۔ یہی صورت حال ایک اور صوبے قندوز میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں پر مرکزی شہر کے علاوہ نصف سے زائد اضلاع پر عملاً طالبان قابض ہو چکے ہیں اور صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقے بھی ان کے قبضے میں ہیں ۔قندوز کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جان نکسن نے اتوار کے روز افغان فورسز کے چیف جنرل عبداﷲ جبسبی کے ساتھ قندوز کا دورہ کیا اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ قندوز چند ماہ قبل بھی تقریباً 10روز تک طالبان کے قبضے میں رہا تھا۔ قندوز، بادغیس، فراہ اور پنج شیر جیسے اہم اور سرحدی صوبوں میں طالبان کی کامیاب کارروائیوں نے افغان فورسز کے علاوہ تاجکستان اور ترکمانستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان اور اتحادی فورسز نے 68بڑے آپریشن کئے جس کے نتیجے میں 1895طالبان اور داعش جنگجو مارے گئے جبکہ 3000زخمی ہوئے۔ دفاعی ماہرین طالبان کی حالیہ کارروائیوں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان سمیت متعدد دیگر ممالک میں جاری بدامنی اور بعض عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی شورشوں نے دنیا کے امن اور مستقبل کے بارے میں نہ صرف متعدد سوالات پیدا کئے ہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2015-16 کے دوران عالمی دہشت گردی کے واقعات میں جہاں ایک طرف 30فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

 

ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔

وہاں دنیا کے تقریباً 20ممالک مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اب بھی یہ ہے کہ اہم اور متاثرہ ریاستوں کی سطح پر ان عوامل اور اسباب کے خاتمے کے لئے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث عالمی اور علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔ آثار بتا رہے ہیں کہ ہم ایک بار پھر انٹرنیشنل پراکسی وارز کی سیریز کا نشانہ بننے والے ہیں۔ کیونکہ ہماری جغرافیائی اہمیت خطے میں بڑی طاقتوں کی موجودگی اور خطے میں قدرتی وسائل کے لامحدود ذخائر وہ عوامل اور ذرائع ہیں جن کے باعث ہماری اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عالمی کردار اور ان کے سپانسرز اس کوشش میں ہیں کہ عدم استحکام کی صورت حال کو قائم رکھ کر ان لامحدود وسائل پر ان کے قبضے کے امکانات کو کسی نہ کسی صورت میں یقینی بنایا جائے۔ متعدد عالمی سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے فاٹا، پختونخوا اور بلوچستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 6سے 8 ٹریلین ڈالرز کے ناقابل یقین قدرتی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے قدرتی ذخائر کا حجم بھی تقریباً اتنا ہی بتایا جاتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے چھپے خزانوں کا تخمینہ 10ٹریلین ڈالرز بھی لگایا جائے تو یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ دنیا کا امیرترین خطہ ہے۔ دوسری طرف یہی حالت وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کے ساتھ عالمی معیشت کا نہ صرف مستقبل وابستہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے ٹھیکیدار یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں امن ہو اور یہ ممالک ان ذخائر سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی توجہ کا مرکز بننے کے علاوہ لیڈنگ رول نبھانے کے قابل ہو جائیں۔خطے میں روس، امریکہ، چین اور ہندوستان جیسے اہم ممالک کی موجودگی بھی امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بادی النظر میں دکھائی یہ دے رہا ہے کہ اس تناظر میں بھی افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لئے بھی خطرات بڑھا دیئے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک افواج افغانستان کے ساتھ بارڈر میکنزم کو مکمل فعال بنانے میں بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔


[email protected]


وطن کا ناز


عسکر پاک، دنیا میں، عجب اک آن رکھتی ہے
یہ اعلیٰ ظرف رکھتی ہے، یہ اونچی شان رکھتی ہے
یہ سب افواج عالم سے الگ پہچان رکھتی ہے
ہر اک ساعت یہ باندھے جنگ کا سامان رکھتی ہے
کہ شاعر اور نغمہ خواں اسے رخشندہ کہتے ہیں
یہ مہروماہ سے روشن اسے تابندہ کہتے ہیں
وطن کا ناز ہے یہ قوم کی آنکھوں کا تارا ہے
یہ ارض پاک کے ہر فرد کا مخلص سہارا ہے
جہاں مشکل گھڑی میں دیس نے اس کو پکارا ہے
وہاں لبیک حاضر ہوں فقط اس کا یہ نعرہ ہے
اسے دیکھو میدانِ جنگ میں کیسے یہ لڑتی ہے
یہ پوچھو جا کے دشمن سے گلا کیسے پکڑتی ہے
سبھی کو عزم و ہمت کا کٹھن رستا دکھایا ہے
وفا کا درس، غیرت کا سبق اس نے پڑھایا ہے
امن میں جنگ میں ہر کام کا بِیڑا اٹھایا ہے
یہ وہ چھکا ہے جس نے ہار سے سب کو بچایا ہے

 

نائب صوبیدار ریاض عاقب کوہلر

**

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP