قومی و بین الاقوامی ایشوز

افغانستان۔ نیوپاورسٹرکچر، چیلنجز اور ممکنات

پڑوسی ملک افغانستان صدارتی انتخابات سے پیدا شدہ بحرانی کیفیت سے نکل آیا ہے اور پہلے‘ دوسرے نمبر پر آنے والے صدارتی امیدواران ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ ایک دوسرے کی بدترین مخالفت کے بعد مؤثر امریکی مداخلت کے باعث پاور شیئرنگ کے ایک فارمولے پر متفق ہو کر صدر اور چیف ایگزیکٹو کے عہدوں کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ تاہم ریاستی امور کی گاڑی تاحال پٹڑی پر نہیں چڑھی اور اب بھی اس جنگ زدہ ملک کو شدید سیاسی‘ دفاعی اور ریاستی مشکلات کا سامنا ہے۔ ریاستی ڈھانچہ تاحال تیاری کے مرحلے میں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ افغانستان کے آئین میں چیف ایگزیکٹو نامی اس عہدے کی گنجائش ہی نہیں ہے جو کہ باامر مجبوری عبداﷲ عبداﷲ کو دیا جا چکا ہے۔ کیونکہ افغانستان کا پارلیمانی ڈھانچہ امریکی ڈھانچے کے طرز پر ہے اور صدارتی نظام حکومت کے باعث ملک کے چیف ایگزیکٹو یا سربراہ صرف صدر ہی ہوا کرتے ہیں۔ حلف اٹھانے کے لئے کئی ہفتے گزرنے کے باوجود دونوں سٹیک ہولڈرز کے واضح اختیارات کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل یا میکنزم دکھائی نہیں دے رہا اور اب بھی دونوں لیڈروں کے درمیان اعتماد سازی کا شدید فقدان پایاجاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاورشیئرنگ کے فارمولے کے باعث افغانستان اس بدترین سیاسی بحران سے نکل آیا ہے جو کہ انتخابات کے بعد پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم فریقین کے درمیان ماضی میں اتنی تلخیاں رہی ہیں کہ انہیں ان کو دور کرنے میں کافی وقت لگے گا اور یہ دوریاں اس جنگ زدہ ملک اور اس کے معاشرے پر بری طرح اثر انداز ہوں گی۔ نئے پاور سٹرکچر کا فارمولہ مبہم بھی ہے اور مشکل بھی۔ یہ دوریاں محض افغانستان کی اندرونی سیاست تک محدود نہیں ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی قوتوں کی لابنگ بھی اس میں شامل ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ اشرف غنی کی حمایت کر رہا ہے جبکہ برطانیہ کھل کر عبداﷲ عبداﷲ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی طرح ایران بھی عبداﷲ عبداﷲ کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اور اس کے سفارتکار جاری بحران کے دوران غیر ضروری طور پر متحرک دکھائی دئے۔ بھارت اپنی روائتی احتیاط کے باوجود اس گیم سے الگ نہیں رہا۔ بظاہر وہ امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کا ساتھ دیتا رہا ہے۔ مگر وہ عبداﷲ عبداﷲ کے لئے لابنگ کرنے میں بھی مصروف رہا۔ پاکستان نے ماضی کے برعکس اب کی بار خود کو الیکشن اور اس کے بعد کے بحران سے الگ رکھا اور کسی قسم کی سفارتی یا سیاسی مداخلت کا مرتکب نہیں ٹھہرا جس کو افغانستان کے اندر کافی سراہا گیا۔ بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان نے دونوں امیدواروں کے ساتھ اپنے رابطے بہت مثبت رکھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب کی بار ماضی کے برعکس پاکستان کے بارے میں افغان لیڈر شپ اور عوام کا رد عمل کافی مثبت رہا اور اس کے غیر جانبدارانہ کردار کو بڑی حد تک سراہا گیا۔ باخبر حلقوں کے مطابق پاکستان نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران کوشش کی کہ کسی فریق ‘ لیڈر یا پارٹی کے بجائے افغان عوام کے ساتھ مستقل بنیادوں پر اچھے روابط کی بنیاد رکھی جائے اور اس تاثر کوختم یا کم کیا جائے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں پاکستان مبینہ طور پر غیر ضروری مداخلت کر رہا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت گزشتہ چند برسوں کے دوران اعلیٰ ترین حکومتی سفارتی اور عسکری سطح پر کئی بار آن دی ریکارڈ یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان مقبول عام فارمولے کے تحت پاکستان کے لئے اب سٹریٹجک ڈیپتھ نہیں رہا۔ بعض الزامات اور تلخیوں کے باوجود اب ایک زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے طرز عمل کو بڑی حد تک افغانستان کے اندر بھی کافی سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ افغانستان کی شکایات میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید کمی واقع ہو گی؟۔ سب سے بڑا سوال اس تمام پس منظر میں اب بھی یہی ہے کہ نئی حکومت چل پائے گی یا نہیں اور یہ بھی کہ کیا وہ ’’مخلوط‘‘ حکومت کوئی تبدیلی لے کر آئے گی؟ مگر فی الحال کسی قسم کی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی کیونکہ پاور شیئرنگ کا فارمولا کافی مبہم اور غیر واضح ہے۔ یہ بھی معلوم ہونا ابھی باقی ہے کہ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی عالمی حمایت کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہیں کر پائی جس کی ان کے ملک کو ضرورت تھی۔ یہاں تک کہ اقتدار پر بٹھانے والے دو ممالک یعنی امریکہ اور پاکستان کے ساتھ بھی جناب حامد کرزئی کے تعلقات کافی کشیدہ رہے اور آخری سالوں کے دوران تو وہ تنہائی کا شکار ہو گئے تھے۔ خارجہ پالیسی ‘ اقتصادی استحکام اور طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات ہی وہ ایشوز ہیں جن پر نئی حکومت اور افغانستان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ نئی حکومت کیا تبدیلی لے کر آتی ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کتنی آزاد ہو گی۔ اس کا طے ہونا ابھی باقی ہے۔ اقتصادی طور پر افغانستان اب بھی امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کا محتاج ہے۔ یہاں تک کہ اس کی فورسز کے لئے تنخواہیں بھی امریکہ سے آ رہی ہیں اور یہ اپنی افواج کی دوسری ضروریات بھی پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایسے حالات میں امریکہ کے مفادات اور پالیسیوں کا دفاع کرنا افغانستان کی مجبوری ہے۔ اگرچہ موجودہ افغانستان 80اور 90 کی دہائیوں کے مقابلے میں بہت بہتر اور خوشحال ہے۔ تاہم اس کی اقتصادی ترقی اندرونی عوامل و اسباب اور ذرائع کے بجائے غیرملکی امداد پر انحصار کرتی آئی ہے اور ضروری نہیں کہ 2014کے بعد غیر ملکی امداد اسی طرح جاری رہے کیونکہ سال 2013-14 کے دوران ویسے بھی غیرملکی امداد کی شرح میں 30سے 40فیصد تک کمی آ چکی ہے اور حالیہ بحران کے دوران ملک کی اقتصادی حالت میں مزید ابتری واقع ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دریافت شدہ قدرتی وسائل کا کل حجم تین ٹریلین ڈالرز سے زیادہ ہے۔ تاہم 80فیصد پراجیکٹس پاکستان کے گوادر کی طرح عالمی قوتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی باہمی چپقلش کے باعث مشکلات یا تعطل کا شکار ہیں جبکہ امن و امان کی صورت حال اور قومی لیڈر شپ کی روائتی کرپشن بھی ایسے منصوبوں کی ناکامی یا تاخیر کی وجہ بنی ہوئی ہیں۔ رہی بات طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تو اس جانب بھی کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی حالانکہ اشرف غنی اپنی پہلی تقریر میں ان کو مذاکرات کی پیش کش کر چکے ہیں۔ ان کی پیشکش کے جواب میں طالبان نے اپنے حملوں کی تعداد بڑھا دی اور اس وقت حالت یہ ہے کہ ماضی کے برعکس اب حملوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور کابل جیسا شہر بھی خودکش حملوں سمیت دوسری کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہا۔ عام خیا ل یہ ہے کہ دسمبر کے بعد حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا۔ بلکہ بعض تجزیہ کار تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل جنگ کا آغاز دسمبر کے بعد ہی ہو گا۔ یہی تین ایشوز یا مسائل ہی وہ چیلنجز ہیں جو کہ اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کی مخلوط حکومت کو درپیش ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق اگر دونوں لیڈروں کے درمیان مفاہمت‘ عملی تعاون اور اعتماد سازی میں تبدیلی نہیں ہوئی تو افغانستان میں ہوبہو وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی جو کہ 90 کے دوران صدر ربانی اور وزیراعظم گلبدین حکمت یار کے درمیان پیدا ہو گئی تھی۔ اس جھگڑے میں بھی لسانی منافرت یا دوری کا ایک بڑا فیکٹر شامل تھا اور یہ فیکٹر حالیہ افغان بحران کے دوران بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شمال (عبداﷲ عبداﷲ) جنوب (غنی) کا ٹکراؤ افغانستان کا ایک بڑا مستقل مسئلہ اور المیہ رہا ہے۔ یہ مسئلہ غازی امان اﷲ سے لے کر نور محمد ترکئی‘ ببرک کارمل‘ نجیب اﷲ‘ ربانی‘ حکمت یار اور حامد کرزئی سبھی کو اپنے اپنے ادوار میں درپیش رہا اور موجودہ حکمرانوں کے لئے اس میں مزید شدت آ گئی ہے۔ شمال ایران‘ بھارت اور سنٹرل ایشیائی ریاستوں کے قریب جبکہ مشرق اور جنوب پاکستان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ جغرافیائی تقسیم کے اس عمل نے دونوں یا تینوں ممالک کے اثرات بڑھا دئے ہیں اور یہ اثرات افغانستان کے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی ہر دور میں مرتب ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اﷲ شاہد کا وہ بیان بھی بعض خطرات کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اور مزید کئی اہم کمانڈرز داعش یا خلافت اسلامیہ کی بیعت کر چکے ہیں۔ یہ اسی تبدیلی یا خطرے کی جانب کھلا اشارہ ہے جس کی کوکھ سے اس خطے میں گلوبل جہاد یا گلوبل ٹیررازم کا ایک نیا مگر خطرناک پلان جنم لے سکتا ہے اور ان سرگرمیوں کا مرکز پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف کا پشتون علاقہ ہی ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران اس خطے میں ایک بڑی جنگ کا امکان اور خطرہ یقین کی حد تک بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور اگر افغانستان کی نئی حکومت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی نہیں اپنائی اور دونوں لیڈروں میں ہم آہنگی نہ ہوئی تو حملہ آور قوتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گے اور دسمبر کے بعد ان کے حملوں کا ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان‘ امریکہ‘ ایران اور افغانستان کے درمیان موجودہ فاصلے بھی حملہ آوروں کے لئے سازگار ماحول مہیا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے اور اگر ان ممالک کے درمیان کوئی میکنیزم نہ بنی تو پشتون بیلٹ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ اس حقیقت کو ماننا ہی پڑے گا کہ افغانستان کے موجودہ سسٹم اور مستقبل کو زیادہ خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہی ہے۔ اس خطرے کا سدِباب کرنا اشرف غنی‘ عبداﷲ عبداﷲ اور بعض دیگر اہم لیڈروں نے کرنا ہے جن میں حامد کرزئی‘ گلبدین حکمت یار اور طالبان لیڈر شپ بھی شامل ہیں۔ پاور شیئرنگ کا ایسا فارمولہ 1990کی دہائی میں حکمت یار اور ربانی (احمد شاہ مسعود سمیت) کے درمیان ناکام ہو چکا ہے حالانکہ وہ تینوں جہادی لیڈر تھے مگر اقتدار نے ان کو جنگ پر آمادہ کیا اور انہوں نے کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کر کے طالبان کی انٹری کا راستہ ہموار کر دیا۔ کابل میں جنم لینے والے (1960) عبداﷲ عبداﷲ کو پہلے ہی سیاسی اور نظریاتی طور پر ربانی اور احمد شاہ مسعود کے جانشین کا نام دیا جا سکتا ہے۔ وہ شمالی افغانستان یا نان پشتون ایریاز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور تاجکستان کے علاوہ ان کے ایران‘ بھارت‘ فرانس اور برطانیہ کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ ان کا خاندان ایک صدی سے افغان سیاست میں چلا آ رہا ہے۔ ان کے والد محی الدین خان ظاہر شاہ کے دور میں سینیٹر تھے۔ عبداﷲ عبداﷲ جہاد کے دور میں احمد شاہ مسعود کے دست راست رہے اور بعد میں وہ حامد کرزئی کی حکومت میں وزیر خارجہ بھی بنے۔ وہ اپنے اسی پس منظر کے باعث ان کے ساتھ نہ چل سکے اور مستعفی ہو کر 2009کے الیکشن میں کرزئی کے خلاف مضبوط امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے۔ جس میں ان کو بہت کم ووٹوں سے شکست ہوئی۔ 2013کے الیکشن میں بھی اشرف غنی اور ان کے درمیان بہت کم ووٹوں کا فرق رہا اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے نتائج تسلیم کرنے کے علاوہ بغاوت جیسے اقدام کا اعلان کر کے سسٹم کو ہلانے سے بھی گریز نہیں کیا۔عبداﷲ عبداﷲ افغان سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں بلکہ ان کی پشت پر افغان فورسز کے بعض طاقتور ہاتھ شمال کا مینڈیٹ اتحاد اور بعض اہم عالمی کردار کھڑے ہیں۔ وہ ان عوامل کے باعث اشرف غنی کو کھل کر کھیلنے نہیں دیں گے۔ کیونکہ اشرف غنی نے عبداﷲ عبداﷲ کے بقول نہ صرف ان کا حق مارا ہے بلکہ وہ عبداﷲ کی طرح مضبوط بھی نہیں ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر اشرف غنی (1949‘ صوبہ لوگر) اکثریتی آبادی یعنی پشتونوں کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر ایک ماہر تعلیم اور ماہر معاشیات کی شہرت رکھتے ہیں اور دانشور بھی ہیں۔ وہ ایک طاقتور پشتون قبیلے احمد زئی سے تعلق رکھتے ہیں جن کا حال ہی میں ڈاکٹر نجیب اﷲ کے نام سے ایک اور صدر بھی گزراہے۔ وہ بنیادی طور پر نئی نسل کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور ان کو ان حلقوں کی بھی حمایت حاصل ہے جو کہ جنگی کمانڈروں (وارڈ لارڈز) کے مخالف رہے ہیں اور یہ عناصر کرزئی کے بھی اس وجہ سے مخالف تھے کہ انہوں نے وارلارڈز کو حکومت کا حصہ بنائے رکھا تھا۔ (یہ الگ بات ہے کہ عبداﷲ عبداﷲ‘ رشیددوستم‘ غنی کی ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔) اشرف غنی کو بعض افغان حلقے ’’مٹی کے بیٹے‘‘ کا نام نہیں دے رہے جبکہ وہ عبداﷲعبداﷲ کو ایک کریڈٹ دیتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غنی 24سال سے افغانستان سے باہر رہ کر ورلڈ بنک اور دوسرے عالمی‘ امریکی اداروں میں خدمات سرانجام دیتے رہے ا ور یوں وہ اپنے ملک سے لاتعلق رہے۔ 2001میں وہ ورلڈبنک سے الگ ہو کر کابل آئے اور حامدکرزئی کے مشیر بن گئے۔ بعض حلقے ان کو امریکہ کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور ان ایشوز کو انتخابی مہم کے دوران استعمال بھی کیا گیا۔ ان کو سیاسی شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے سال 2009کے الیکشن میں کرزئی اور عبداﷲ عبداﷲ کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا۔ انہوں نے 13.5فیصد ووٹ حاصل کئے اور تیسرے نمبر کے حقدار ٹھہرے۔ اس کے بعد وہ فل ٹائم سیاستدان بن گئے۔ان کی سیاست کا محور پشتون علاقہ ہی رہا۔ تاہم ان کو شمال کے متعدد صوبوں سے بھی حالیہ الیکشن میں کافی ووٹ ملے۔ بنیادی طور پر غنی کو پشتون آبادی‘ نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقے کی حمایت حاصل ہے۔ ان کو پس پردہ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی‘ افغان ملت پارٹی اور بعض طالبان کمانڈروں کی ہمدردی بھی حاصل ہے۔ یہ ہمدردی عبداﷲ عبداﷲ کی مخالفت کے باعث ان کے حصے میں آئی۔ اور اسی ہمدردی کا نتیجہ تھا کہ طالبان نے پشتون صوبوں میں ایک غیراعلانیہ پالیسی کے تحت انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوئی بڑی کوشش نہیں کی کیونکہ ان کو علم تھا کہ اس کا فائدہ عبداﷲ عبداﷲ کو پہنچے گا۔ حزب اسلامی کی بڑی تعداد نے بھی حالیہ الیکشن میں اشرف غنی کو ووٹ ڈال دیئے۔ عبداﷲ عبداﷲ کے مقابلے میں اشرف غنی کو بلاواسطہ طور پر امریکہ‘ پاکستان اور بعض دوسرے ممالک کی محدود حمایت حاصل ہے۔ تاہم ان کو عوام کے پسندیدہ لیڈر کا مینڈیٹ بھی حاصل ہے۔ پاورشیئرنگ کے حالیہ شکل یا پلان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن دو لیڈروں کو نائب صدور کی ذمہ داریاں سوپنی گئی ہیں ان کا تعلق بھی نان پشتون علاقوں سے ہے جس کے باعث اشرف غنی غیرمحسوس طریقے سے حامد کرزئی کی طرح ان حلقوں کے نرغے اور دباؤ میں رہیں گے جو کہ پشتونوں کو پسند نہیں کرتے اور یوں لسانی دوریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ نائب صدر کے عہدے پر سابق وارلارڈ رشید دوستم بھی فائز ہیں جن کا جنگی پس منظر اور کردار نہ صرف سبھی کو معلوم ہے بلکہ افغان معاشرے میں ان کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ وہ ان چند ایک کمانڈروں میں سے ہیں جنہوں نے طالبان کے بعد پشتونوں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا اور طالبان ان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ موصوف بھی کرزئی کی حکومت میں وزیردفاع رہے ہیں۔ ان کی نظریاتی وابستگی شمال کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے الگ طبقے یا علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سرور دانش نامی لیڈر نائب صدر دوم کے عہدے پر فائز ہیں نسلی اعتبار سے وہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی کرزئی کی حکومت میں ہائرایجوکیشن اور وزارت انصاف کے قائم مقام وزیر رہے چکے ہیں۔ بظاہر وہ ایک غیرمتنازعہ شخص ہیں تاہم معاشرتی سطح پر ان کو بھی شمال کے حصے یا کوٹے میں ڈالا جاتا ہے۔ اشرف غنی نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایک درجن کے قریب جن افراد کو کابینہ کا حصہ بنانے کا فارمولہ تشکیل دیا اس میں قابل غور امر یہ رہا کہ 90فیصد وزراء کا تعلق نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے سے ہے کیونکہ وہ کرپشن کے خاتمے کا ایجنڈہ لے کر آئے ہیں اور تبدیلی بھی ان کا نعرہ ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہی لوگ اشرف غنی کی قوت بنیں گے اور انہی کے ذریعے وہ عبداﷲعبداﷲ اور دیگر کو کاؤنٹر کریں گے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی عبدالحق عمری نے مستقبل کے منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عبداﷲعبداﷲ کے متعدد ساتھی ماضی کے باعث کرپشن کا حصہ رہے ہیں جبکہ عبداﷲ عبداﷲ پر بھی ایسے الزامات ہیں ان کے مطابق کابل بنک کے مالیاتی سیکنڈل کی تحقیقات سمیت بعض دیگر احکامات کے ذریعے اشرف غنی نے عبداﷲعبداﷲ پر ابھی سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان کے کئی ساتھی اس کی زد میں آنے والے ہیں۔ ایسے اقدامات سے جہاں غنی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں عبداﷲعبداﷲ سمیت ان کے مخالفین بھی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ عمری کے مطابق افغانستان میں عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ وارلارڈ اور کرپٹ عناصر سے نجات بھی ان کا مطالبہ ہے ۔ اس تناظر میں اگر افغانستان میں نیا پاور سٹرکچر اندرونی تناؤ کی نذر ہو گیا تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گنجلک ہو جائیں گے۔ جس کے نہ صرف افغانستان پر بلکہ تمام خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP