قومی و بین الاقوامی ایشوز

اعلیٰ تعلیم بذریعہ جدید ٹیکنالوجی 

کرونا وائرس (Covid-19)نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ایک نظر نہ آنے والے جر ثومے نے دنیا بھر میں جو تباہی پھیلائی وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ بڑی بڑی سپر پاورز ایک وائرس کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم اور کوئی ملک اس وبائی مرض سے محفوظ نہیں ۔ ورلڈ بینک اور IMFجیسے معاشی ادارے شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کو اس وائرس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ افراد سے لے کر ادارے اور اداروں سے لے کر قومی اور صوبائی حکومتیں سب اس ناگہانی آفت سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس نے جہاں دنیا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے وہاں دوسرے شعبہ جات کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ 
یوں تو کرونا وائرس نے سب سے پہلے پڑوسی ملک چین میں تباہی پھیلائی 2019کے اواخر میں جنم لینے والے وائرس کو اسی لئے Covid-19کا نام دیا گیا۔ لیکن 2020 شروع ہوتے ہی یہ بہت تیزی سے پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ مارچ 2020میں یہ وباء وطن عزیز پاکستان میں بہت تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہوئی تو حکومت پاکستان نے حفاظتی اقدامات کے طور پر ملک بھر میں 15مارچ سے تمام تعلیمی ادارے ، سکول کالج اور جامعات بند کر دیں تاکہ اس وباء کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ یہ تمام تعلیمی ادارے ابھی تک بند ہیں۔ امتحانات ملتوی ہو چکے ہیں یا پھر منسوخ ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب سے زائد طلبا و طالبات اپنے تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ تعلیمی و تدریسی سلسلے منقطع ہو چکے ہیں۔ یہ وبائی مرض جس تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے بہت جلد بہتری کی توقع نہیں ہے۔ تعلیمی مشکلات کا یہ سلسلہ دنیا بھر میں پھیلا ہو ا ہے اور دو ارب طلبا و طالبات اپنے گھروں میں رہ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ وبا ء ایسے ترقی یافتہ دور میں رونما ہوئی جب ٹیکنالوجی کی بدولت انسانیت کو بہت سی سہولیات میسر ہو گئی ہیں اور اس ٹیکنالوجی نے بہت سی ناممکنات کو ممکن بنا دیا ہے ۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ سے متعلقہ آلہ جات نے انسانی زندگی کو آسان بنا دیا ہے  اور ہزاروں میل کے فاصلے بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی آج پوری دنیا پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اسی کی بدولت پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے دور افتادہ گائوں کا طالب علم براہ راست امریکہ یا کینیڈا کی بڑی یونیورسٹی میں ہونے والے لیکچر کو براہ راست دیکھ سکتا ہے، سن سکتا ہے اور سوال بھی پوچھ سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے تعلیم کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب بڑے بڑے کمپیوٹرز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ سمارٹ فون ٹیکنالوجی نے بہت سی مشکلات کو آسان کر دیا ۔ پاکستان میں سمارٹ فون تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔  شہروں اور قصبوں سے نکل کر دور افتادہ پہاڑی اور میدانی علاقوں ، صحرائوں اور ریگستانوں میں رہنے والے بھی اب اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔ سیلولر کمپنیوں نے انٹر نیٹ سروس کی فراہمی بھی ممکن بنا دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں دوسرے شعبہ جات کو جلا بخشی وہاں تعلیم کے شعبے میں بھی حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے۔PTA کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں موبائل فون کنکشنز کی تعداد 16کروڑ پچاس لاکھ جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد سات کروڑ ساٹھ لاکھ ہے ۔ اسی طرح براڈ بینڈ کنکشن کی تعداد بھی 78ملین یعنی سات کروڑ 80لاکھ ہے۔  اس پیش رفت نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ملک میں پھیلے طلبا و طالبات انٹر نیٹ اور سمارٹ فون ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سلسلہ مروجہ نظام تعلیم کا متبادل نہیں ہو سکتا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے پید ا شدہ صورتحال میں تعلیم بذریعہ ٹیکنالوجی کا تصور ایک بہت بڑی غنیمت ہے اور اسی غنیمت کی وجہ سے آج پاکستان کے لاکھوں بچے اور بچیاں اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے زیادہ تر سکولوں کالجوں اور جامعات نے تعلیم بذریعہ ٹیکنالوجی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ جس کی بدولت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ طلباو طالبات اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری و ساری رکھ سکیں۔ انہیں سکول یا کالج جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ٹیچر کو سکول جانے کی ضرورت ہے ۔ اساتذہ کرام اپنے گھر سے تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے طلباء کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ اساتذہ طلبا اور ان کے والدین کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے۔ بڑے تعلیمی ادارے خاص طور پر اپنے اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت فراہم کر رہے ہیں جس کی بدولت وہ اپنی درس و تدریس میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ اس جدید طریقہ تعلیم کے ذریعے نہ صرف اپنا علم اپنے طلبا و طالبات تک منتقل کر سکتے ہیں بلکہ انہیں بہت سے دوسرے معا ون ذرائع سے بھی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔ مثلاً جس موضوع پر وہ طلبا کو اپنا لیکچر دے رہے ہیں۔ اسی موضوع پر دنیا کے نامور ماہرین اور اساتذہ نے کیا کہا ہے اورکیا لکھا ہے یہ بھی بتا سکتے ہیں۔ یو ٹیوب نے بہت سی مشکلات کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ دنیا کے ہر موضوع پر بے شمار لیکچر اور معلوماتی ویڈیوز موجود ہیں طلبا ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ دنیا کی نمایا ں ترین یونیورسٹی کے نمایاں ترین اساتذہ اور پروفیسرز کے لیکچر یوٹیوب پر موجود ہیں جنہیں کسی بھی وقت ڈائون لوڈ کر کے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ آج کے دور کی ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیاہے۔ اس کی بدولت موجودہ مشکل ترین دور میں بھی طلبا و طالبات اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ایسے بہت سے سافٹ وئیر معرض وجود میں آ چکے ہیں جن کی بدولت ہم براہ راست بہت سے لوگوں سے بات کر سکتے ہیں۔ ویڈیو اور آڈیو لنک کی سہولت نے جغرافیائی فاصلے بے معنی کر دئیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ بہت آسان ہے کہ ایک ویڈیو لنک کے ذریعے ایک استاد اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے بہت سے طلبا و طالبات کو پڑھا سکتا ہے اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی دے سکتا ہے۔ اگرچہ ایسے بہت سے سا فٹ وئیر موجود ہیں لیکن ان میں زیادہ مقبول مائیکرو سافٹ کمپنی کا MS Teamsگوگل کمپنی کا گوگل کلاس روم یا گوگل میٹ زوم اور سکائیپ جیسے سافٹ وئیر ہیں جو کسی بھی اضافی خرچ کے بغیر مفت میسر ہیں۔ صرف اور صرف انٹر نیٹ اور سمارٹ فون یا کمپیوٹر کی دستیابی ضروری ہے اس کے علاوہ اس پر کوئی خرچ نہیں ۔ درج بالا چار سافٹ وئیر دنیا کے مقبول ترین ہیں جو کہ دنیا بھر میں درس و تدریس اور تعلیم کے لئے استعمال ہور ہے ہیں ۔ یورپ کینیڈا اور امریکہ کی اعلیٰ ترین درس گاہیں بھی آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے طلبا و طالبات کو تعلیم و تر بیت فراہم کر رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ سا تھ ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کی تعلیم گاہوں کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں کہ وہ  بھی اسی راستے پر گامزن ہو کر اپنے طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں ۔ اگرچہ مذکورہ بالا چار سافٹ وئیر تعلیمی اداروں اور طلبہ کی ضروریات پوری کر رہے ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی کی ایک نمایاں پیش رفت ایک نئے جامع سافٹ وئیر کی ایجاد ہے جسے لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کہا جاتا ہے ۔ پاکستان کی بعض جامعات نے اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی اور اپنے طلبا و طالبات کی ضروریات کے پیش نظر لرننگ مینجمنٹ سسٹم تیار کیا ہے ۔ اس حوالے سے نمایاں ترین کردار علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ہے جس نے بہت کم مدت میں جدید ترین سہولیات پر مبنی LMSتیار کر لیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت اور دور اندیشی کے سبب یہ ممکن ہوا کہ AIOU نے اپنے طلبہ و طالبات کے لئے بہترین اور جامع LMS تیار کر لیا ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں اسے فعال بنا کر لانچ بھی کر دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جو اس قومی ادارے نے حاصل کیا اور اس کی بدولت ملک بھر میں پھیلے AIOU کے چودہ لاکھ طلبہ و طالبات مستفید ہونگے ۔ یونیورسٹی نے حال ہی میں یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ سمسٹر بہار 2020سے تمام پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخل طلبہ و طالبات کی ورکشاپس بذریعہ LMS منعقد ہوں گی۔ جس میں یونیورسٹی کے مین کیمپس میں تعینات اساتذہ کرام ملک بھر میں پھیلے اپنے طلبہ و طالبات سے براہ راست مخاطب ہوں گے ۔ یونیورسٹی اس سلسلے میں اپنے طلبہ کو بھر پور معاونت فراہم کر رہی ہے۔ LMSسافٹ وئیر اپنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتا ہے۔یہ مکمل طور پر محفوظ نظام سمجھا جاتا ہے جس کی معلومات کے غلط استعمال کا امکان نہیں ہوتا۔ لاگ ان اور پاس ورڈ کے ذریعے اساتذہ اور طلبا و طالبات اپنا اکائونٹ E-Portalپر بناتے ہیں اور پھر اسی پورٹل کے ذریعے وہ اپنا اکائونٹ استعمال کرتے ہوئے LMS کی تمام خصوصیات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے اساتذہ اپنا تدریسی مواد اور مشقوں کے سوالنامے اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور طلبہ اپنی مشقیں (Assignments) ایم ایس ورڈ فائل یا امیج کی صورت میں اپنی حل شدہ مشقیں اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اساتذہ اپنا تدریسی مواد کورس سے متعلقہ کتابیں وغیرہ اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور طلبا یہ مواد ڈائون لوڈ کر کے اپنے ڈیٹا بیس میں محفوظ کرسکتے ہیں۔ LMS میں طلبہ کی حاضری کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔ جبکہ Big Blue Button کے ذریعے ملک کے قرب و جوار میں بیٹھے طلبہ و طالبات ورچوئل کلاس روم میں شریک ہو کر اپنے اساتذہ کا لیکچر براہ راست سن سکتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے وہ ورچوئل کلاس روم کے اوقات مقررہ پر شرکت نہیں کر سکے تو اس لیکچر کی ریکارڈنگ بعد میں بھی سن سکتے ہیں۔ 
 LMS کے ذریعے ورکشاپس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ نظام نہ صرف اساتذہ اور طلبہ کو سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور شعبہ امتحانات کو بھی سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ تمام تر دستیاب کوائف کی مدد سے امتحانات کا انعقاد کر سکیںاور نتائج کی بر وقت تر سیل کر سکیں۔AIOU نے LMS کے حوالے سے ملک بھر کی جامعات کو اپنے تعاون کی پیش کش کی ہے ۔ سند ھ مدرستہ السلام یونیورسٹی کراچی نے بھی اپنے طلبہ کے لئے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے ۔ اس جامعہ کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اولین درس گاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمحمد علی شیخ ہیں جو انتہائی متحرک اور انقلابی شخصیت کے مالک ہیں۔ 
سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ جسے معلومات کے تبادلے اور تفریحی مقاصد کے ساتھ ساتھ تعلیم کے فروغ کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ Facebook ، ٹویٹر ، انسٹاگرام اور WhatsAppجیسی سہولیات عصر حاضر کی اہم ترین ایجادات ہیں۔ جنہوں نے پوری دنیا کو عالمی گائوں (Global Village) میں تبدیل کر دیا ہے اور گلوبل ویلج کے ثمرات آج پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال یقیناً نقصان دہ ہے لیکن اس کا مثبت استعمال نہایت مفید ہے ۔ تعلیم و تربیت کے لئے اس کا استعمال نہایت اہم ہے۔ سوشل میڈیا کا صحیح اور مثبت استعمال معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہمارا قومی المیہ ہی ہے کہ دنیا کی چھٹی سب سے بڑی آبادی جوہری توانائی کی حامل واحد مسلم ریاست اور 60فیصد سے زائد نوجوان آبادی کا حامل ملک اب تک تعلیم کے بنیادی مسائل ہی سے نبرد آزما ہے ۔ 72سال گزرنے کے باوجود ہمارے ہاں 50فیصد کے لگ بھک نا خواندہ آبادی ہے جسے روزگار کے قابل بنانے کے لئے ہماری حکومت مجموعی قومی پیدا وار کا 2فیصد سے بھی کم تعلیمی بجٹ فراہم کر رہی ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ " زمانہ کسی کا انتظا ر نہیں کرتا" ۔ پاکستان کو نئے دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے دہرے ہدف اور دہری رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ گزشتہ کوتا ہیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طرف ہمیں تعلیم و تر بیت اور تحقیق کی رفتار بڑھانا ہوگی  تو دوسری جانب نئے اقدامات بھی کرناہوں گے ۔ دنیا کی اکانومی میں پاکستان کا حصہ 0.34فیصد ہے۔ ایک بڑی آبادی ہونے کے ناتے اندرون ملک اور بیرون ملک غیر ہنر مند اور ہنر مند لیبر مارکیٹ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ تھی ، جو چوتھے صنعتی انقلاب کے بعد شدید چیلنجز سے دوچار ہے ۔ ہائی ٹیک انڈسٹریز ، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کے بعد شائد یہ لیبر مارکیٹ اب اس قدر دنیا کی ضرورت پوری نہ کر سکے۔  خدشہ یہ ہے کہ اس قدر بڑی آبادی کو اس سے بھی بڑے معاشی ، تعلیمی چیلنجز سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیا ہم بحیثیت قوم اس کے لئے تیار ہیں!!!
صنعتی انقلاب کے بعد دنیا کو ایک بڑے انسانی بلکہ اخلاقی سوال کا سامنا بھی کرنا ہوگاکہ وہ نوکری مشین کو دیں یا انسان کو۔۔۔۔؟سر مایہ دارانہ سماج ہر صورت میں اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے خواہ  اس کے لئے کسی بھی قسم کی سفاکانہ اور بے رحم معاشی پالیسیوں کو رائج کرنا پڑے، مگر اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی نظام کو بہر حال اس سوال کا جواب بھی دینا ہوگا۔ گویا چوتھے صنعتی انقلاب کے بعد ہمیں نئے تعلیمی اور معاشی سانچے بنانے کے ساتھ ساتھ علمی ، نظریاتی اور اخلاقی دائروں میں کچھ نئے سوالات کے جوابات بھی دینے ہوں گے۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے ایسے ہی تعجب خیز اور تغیر پزیر حالات کے لئے یہ بات کہی تھی ۔جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد ۔۔۔۔ ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ ۔ 
 امید ہے دنیا کرونا وائرس کی وباء سے جلد آزاد ہو گی اور خوشیوں اور مسرتوں کے گم شدہ لمحات نسل انسانی کو واپس نصیب ہوں گے۔


مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں  شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP