قومی و بین الاقوامی ایشوز

اصلاح احوال

انسان ایک خالص جذباتی وجود ہے اور جذبہ ہمیشہ خیر و شر کے فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ اگر جذبات کا محاسبہ ترک کر دیا جائے تو انسان حیوان سے بدتر ہو جاتا ہے۔ جذبہ عقل کو ڈرائیو کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذہین قومیں بڑی دلیری سے شرور کو عقلانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان خیر اور شر کا بنیادی شعور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ شر ایک ایسی قوت ہے جس کا عملی اظہار انسان بغیر کسی مشقت کے کر لیتا ہے لیکن کارِ خیر پر نفس کو بامشقت آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر خیر بنا مشقت سے میسر ہوتی تو انسان کو تہذیب النفس کے لئے منازلِ سلوک نہ طے کرنے پڑتے۔ انسانی جذبات فرس بے لگام کی مانند ہوتے ہیں اور عقل ہمیشہ ان کے لئے صیقل کا کام کرتی ہے جبکہ شعور جذبات سے آلائش دور کرتا ہے۔ اگر انسانی طبیعت شعور پر کاربند نہ رہے تو جذبات انسان کو تہذیب سے بیگانہ کر دیتے ہیں۔ حسنِ خلق یہی ہے کہ انسان اپنے جذبات کو ہر قسم کی افراط و تفریط سے منزہ کرکے تہذیب سے مزین کر دے۔ اخلاقیات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبہ میں جوہر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن چند شعبۂ زندگی ایسے ہیں جن کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ ہمارا اشارہ پیغمبرانہ پیشہ صحافت کی طرف ہے۔ اصطلاح صحافت دراصل عربی زبان کے لفظ صحف سے ہے اور اسی سے پھر لفظ صحیفہ اور صحافت مشتق ہیں۔ صحافت کی بنیاد خبر ہے اور خبر سے مراد ہے متعجب سرگرمی، یعنی کوئی بھی خلافِ معمول واقعہ یا حادثہ خبر کہلاتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبۂ زندگی سے کیوں نہ ہو۔ چنانچہ خبروں پر مشتمل قرطاس کے مجموعے کو اخبار کہا جاتا ہے۔ اخبار تو قدیم ذریعہ ابلاغ ہے۔ آج کل ریڈیو، ٹی وی چینلز اور بالخصوص سوشل میڈیا نے تو ذرائع ابلاغ میں جوہری تبدیلیاں رونما کر دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کی نسبت آج میڈیا پر طوفانِ بد تہذیبی کے مواقع بڑھ گئے ہیں جس کے سبب بنیادی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر آزادیِ صحافت کے نام پر تخریب المعاشرت رویہ پروان چڑھا دیا گیا۔ واضح رہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل چاہے، وہ اخلاقی ہو یا سماجی، خاطر خواہ توازن کے بنا معاشرتی اضمحلال کا باعث بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی رویّے کو ہمیشہ حدود (قوانین) کا پابند کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں ایک بہترین فکری و اخلاقی توازن قائم رہے۔ جستجو قانون کی پابند نہیں ہوتی لیکن نظم ہمیشہ حدود کا محتاج رہتا ہے، اس لئے صحافت جیسا مقدس اور انتہائی اہم پیشہ یا اشتیاق اخلاقی حدود سے منزہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہاں تو اخلاقیات کا معاملہ اور زیادہ حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ صحافت ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے جس کا اخلاقی علم ہر صحافی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہر علم کے چند ایک اخلاقی مبادیات ہوتے ہیں جس پر اس علم کی اخلاقی عمارت قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ ذیل میں ہم صحافت کے اخلاقی مبادیات بیان کرتے ہیں۔ صحافت کے چار بنیادی اخلاقی اصول ہیں

اطلاع(1) (2)تنقید(3) اصلاح (4)تحسین

اطلاع

اطلاع سے مراد وہ سماجی، معاشی، اقتصادی، اخلاقی و غیر اخلاقی سرگرمی ہے جس کی اطلاع عوام الناس تک پہنچانا ضروری ہو۔ واضح رہے کہ کسی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کیوں نہ ہو، اس کے خالص نجی معاملات کو خبر کا حصہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، البتہ ایسے شخص کی سماجی، معاشی، اقتصادی، اخلاقی و غیراخلاقی سرگرمیوں کو خبر کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی مقبول عام سیاسی لیڈر، تفریحی شخصیت یا فنکار وغیرہ کی نجی زندگی کو پبلک پراپرٹی سمجھنا قرینِ جہل اور کردار کشی کے مترادف ہے۔ کیونکہ آج کل یہ فقرہ عموماً سننے کو ملتا ہے کہ سیاسی لیڈر اور فنکار کی زندگی پبلک پراپرٹی ہوتی ہے اور میڈیا بہرطور اس شخصیت کو رگیدنے کا حق رکھتا ہے، حالانکہ یہ صحافتی اقدار تو درکنار، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر یا فنکار کی نجی زندگی کو خبر کی شکل دینا زرد صحافت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اہلِ صحافت نے زرد صحافت کی اصطلاح ایسی ہی لایعنی سرگرمیوں کو سرانجام دینے والوں کے لئے وضع کی تھی۔

تنقید

تنقید سے مراد دراصل کسی موضوع، فکر یا نظریّے کا اصلاح کی غرض سے تجزیہ کرنا، تنقید اگر اصلاح کی بنیاد سے ہٹ جائے تو وہ بغاوت بن جاتی ہے جو معاشرے میں عدم استحکام اور انارکی کا موجب بن جاتی ہے۔ پس بغاوت اور تنقید میں بنیادی تمیز یہ ہے کہ بغاوت تنقیدِ محض ہے جو معاشرے میں انقلابی فضا پیدا کرکے انہدامِ اقدار کا موجب بنتی ہے جبکہ تنقید برائے اصلاح معاشرے میں متوازن رویّہ پیدا کرنے کی خاطر کی جاتی ہے تاکہ ہر معاملے میں انتہا پسندی کا مسلسل قلع قمع ہوتا رہے اور ریاست ہر شعبے میں بتدریج ترقی کی جانب گامزن رہے۔

اصلاح

اصلاح سے مراد معاشرے میں ہر غیر متوازن رویّے کی اصلاح کرنا چاہے وہ کسی بھی شعبہء زندگی سے متعلق کیوں نہ ہو۔ واضح رہے کہ اصلاح کا اہتمام ہمیشہ غیرمتوازن رویّے کو میانہ روی پر لانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ تنقید کی بنیادی وجہ دراصل اصلاح ہوتی ہے بلا اصلاح تنقید معاشرے میں تخریبی رویّے کو پروان چڑھاتی ہے جو انسانی طبیعت میں زبردست تعصب پیدا کر دیتی ہے۔ عصبیت یہ ہے کہ آپ کا رویّہ کسی ایک جانب ڈھلک جائے چنانچہ ایسی صورتحال میں انسان انصاف کرنے سے معذور ہو جاتا ہے کیونکہ جانبدار کبھی منصف نہیں ہو سکتا چنانچہ تعصب سے منزہ ہونے کے لئے میڈیا کی اصلاحات معاشرے میں ایک بہترین فکری توازن قائم کر دیتی ہیں جس کے سبب اداروں میں منفی تقابلی فضا ناپید ہو جاتی ہے۔

تحسین

کسی بھی عامی یا خاص کی امتیازی سرگرمی چاہے وہ کسی بھی لحاظ سے کیوں نہ ہو، سراہنا تحسین کہلاتا ہے۔ تحسین سے انسان کی خفیہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور معاشرے میں مثبت تقابلی فضا قائم رہتی ہے۔ تحسین سے انسان ہر مثبت معاملے میں آگے بڑھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اگر کوئی طالبعلم یا نظمِ اجتماعی کا عہدیدار وغیرہ معاشرے میں کوئی امتیازی سرگرمی سرانجام دیتا ہے تو اس کے مثبت ترقیاتی امور کو سراہنا ابلاغی اداروں کا اوّلین فریضہ ہے۔ تحسین کے سبب معاشرے میں تعمیری ذہنیت پنپنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جس کے سبب انسان آگے بڑھتا رہتا ہے اور اسی طرح ترقی کے منازل طے کرتا جاتا ہے۔

اخلاقی ضوابط

صحافی ہونے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ عالمِ ہست و بود کے ذرے ذرے کو اپنی قلم کی زد میں لا سکتے ہیں چہ جائیکہ انسان۔ اخباری صحافت کے دور میں صحافی اکثر و بیشتر دو اصطلاحات استعمال کیا کرتے تھے آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ، یعنی جب ایک صحافی کسی اہم شخصیت کا انٹرویو کرنے جاتا تو صحافتی سوال و جواب ختم ہونے کے بعد مخاطب سے کہتا کہ میں نے اپنا دفترِ صحافت بند کر دیا ہے۔ اب آپ مجھ سے آف دی ریکارڈ گفتگو کر سکتے ہیں۔ چنانچہ صحافی سے کی گئی وہ گفتگو صحیح معنوں میں آف دی ریکارڈ رہتی بلکہ وہ گفتگو ایماندار اور فرض شناس صحافی کے سینے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتی۔ ان دنوں اہم شخصیات یا معاملات پر تنقید کا بھی یہی اصول ہوا کرتا کہ جو کچھ آف دی ریکارڈ ہوتا وہ کبھی اس صحافی کے علاوہ کوئی نہ جان پاتا اور جو کچھ آن دی ریکارڈ ہوتا۔ وہ من و عن منظرِ عام پر آ جاتا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل کی ماڈرن صحافت ایک صحافی کو بامِ عروج پر صرف اس وقت ہی پہنچا سکتی ہے جب وہ کسی اہم شخصیت کے ڈرائنگ روم اور بیڈ روم سے واقف ہو کر اسے بریکنگ نیوز کا حصہ بنا دے۔

بے حیا باش ہر چہ خواہد کرد

صحافت چاہے اخبار کی ہو یا ٹی وی چینلز کی، بنیادی اخلاقی اقدار کی پاسداری ایک فرض شناس صحافی کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ آج کے دور میں صرف وہی صحافی بلند پایہ قرار پاتا ہے جو تہذیب سے بیگانہ ہو جائے اور جس کے لئے اخلاقی ضوابط کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ آزادی انسان کا فطری وصف ہے۔ اسے کسی مخصوص شعبہِ زندگی سے متعلق کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ انسانی جذبات کبھی کسی قاعدے کے پابند نہیں ہوتے، لیکن رویّے کو پابند کرنے کے لئے ضوابط کا سہارا لیا جاتا ہے اور وہ اس لئے کہ معاشرتی نظم قائم رہے۔ پس اخلاقی ضوابط کا اصل مدعا یہ ہے کہ جذبات کو شعور کی لگام میں رکھا جائے۔ اگر جذبہ شعور سے فرار اختیار کر لے تو معاشرے علمی، اخلاقی اور سماجی طور پر اپاہج ہو جاتے ہیں، پھر ہوتا یوں ہے کہ جس جذباتی گروہ کا بس چلا وہی سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ جذبے کو شعور کا پابند کر دیا جائے۔ بالخصوص اس معاملے میں جب آپ کے پاس قلم جیسی عظیم طاقت ہو۔ اگر اصولی بنیاد پر دیکھا جائے تو ایک صحافی سماج میں ایک مصلح کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے کہ محض ترسیلِ خبر کا نام صحافت نہیں۔ ہم اگر برصغیر کی مختصر صحافتی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں سر سید احمد خان، الطاف حسین حالی، ابو الکلام آزاد، ظفر علی خاں، نیاز فتح پوری، غلام احمد پرویز، حمید نظامی اور آغا شورش کاشمیری جیسے جید اور مصلح الامعاشرہ صحافیوں کے نام ملتے ہیں جن کی صحافت شعور کی آبیاری اور نفس کا تزکیہ ہوا کرتی اور جو آج بھی اہلِ صحافت کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

 

ذیل میں ہم صحافت کے ضمن میں چند ایک اخلاقی ضوابط بیان کرتے ہیں جو صحافت کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے صحافی کے لئے تزئینِ ذمہ داری کا موجب ہوں گے۔

:1صحافت کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص معاشرے اور ریاست کی آنکھ ہوتا ہے۔ لہٰذا صحافی کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں محقق و باوثوق ذرائع سے تصدیق کرنے کے بعد بغیر کسی سنسنی کے خبر متعین کرے۔

:2کسی بھی اہم سماجی، سیاسی یا مذہبی شخصیت کے متعلق کوئی خبر نشر کرتے وقت لحاظ رہے کہ کہیں مبینہ اطلاع اس شخصیت کے کردار یا اُس کی نجی زندگی پر اثر انداز تو نہیں ہو رہی، اگر اس امر کا اندیشہ ہو تو گریز کر لینا چاہئے۔

:3کسی بھی اہم سیاسی، سماجی یا مذہبی شخصیت کی تضحیک و استہزاء پر مبنی کسی بھی خبر، فیچر یا ڈاکومنٹری سے مکمل گریز کرنا چاہئے کہ ایسا کرنا کردار کشی کے مترادف ہے۔خاص طور پر وہ جب حقیقت پر مبنی نہ ہو یا قلم کار کے تخیل کا شاخسانہ ہو۔

:4فیلڈ رپورٹر ہو یا اینکر پرسن، سیاسی رہنماں سے انٹرویو یا پریس کانفرنس کے دوران ایسے سوالات سے یکسر گریز کرے جس میں عزتِ نفس مجروح ہونے یا معاشرتی فساد برپا ہونے کا خدشہ ہو۔

:5صحافت سے وابستہ ہر ادارے کو، چاہے وہ اخبار ہو، ریڈیو یا نیوز چینل، خبر اور سنسنی میں فرق ملحوظ رکھنا چاہئے کہ کسی ناگہاں حادثے یا سانحے کی اطلاع انتہائی خفی الخدشات الفاظ سے بیان کرنا چاہئے تاکہ رقیق القلب افراد حادثے کے متعلق جان کر کسی سٹریس یا ٹینشن کا شکار نہ ہو جائیں۔

:6اخبار، ریڈیو اور نیوز چینلز کے خبر نویس اعلیٰ درجے کے ادیب اور زبان پر دسترس رکھنے والی شخصیات ہوں تاکہ وہ خبر کو بیان کرنے میں متوازن اور خوبصورت الفاظ کا چناؤ کر سکیں۔ زبان و ادب سے ناشناس افراد کو ایسی اہم ذمہ داری سے دور رکھنا چاہئے۔

:7مملکتِ عظمیٰ ایک ایسی سٹیٹ ہے جس میں اکثریت اہل العقائد کی ہے اور انسان عقیدے کے لحاظ سے عصبیت سے لبریز واقع ہوا ہے۔ پس کسی مذہبی ٹاک شو یا مباحثے میں دیگر مسالکِ اسلامیہ کے عقائد و مذہبی شخصیات کا   احترام کیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے پروگرامز میں نوبت گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورت حال کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جائے۔

 :8اینکر پرسن کو دلکش یا سمارٹ ہونے کی بجائے زیرک اور دانشور ہونا چاہئے کہ میڈیا کے اس انقلابی دور میں کسی بھی ٹی چینل کا اینکر پرسن معاشرے کے لئے رول ماڈل بن جاتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اینکر زبان و ادب کا ماہر ہو اور اسے اخلاقیات کے ضوابط معلوم ہونے چاہئیں۔

:9اہل صحافت ہمیشہ ریاست کے امین ہوتے ہیں پس کسی بھی صحافی یا صحافتی ادارے کا اپنے ملک و قوم کے خلاف کوئی منفی پروپیگنڈہ یا الزام ملک و قوم کی سلامتی کو دا ؤپر لگا سکتا ہے۔ لہٰذا ایسی ہر نوعیت کی ہر سرگرمی سے    یکسر گریز کیا جائے۔

:10صحافت آزاد ہوتی ہے لیکن صحافی کبھی آزاد نہیں ہو سکتا کہ صحافی مصلح ہوتا ہے۔ چنانچہ اخلاقیات کا سب سے اولین پابند بھی صحافی ہی ہوتا ہے۔ پس صحافی اپنے انفرادی مفاد کی خاطر اپنے اصول کو قربان کرنے سے گریز کرے، دنیا میں وہی لوگ نامور ہوئے جنہوں نے اپنے حالات کو اپنے اصولوں پر قربان کیا پس صحافی کو اصول پسند اور معاشرے کے لئے مشعلِ راہ ہونا چاہئے۔

(مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔)

[email protected]

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP