شعر و ادب

اسیری

ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرئہ نیساں ہے زندانِ صدف سے ارجمند
مشکِ ازفر چیز کیا ہے، اِک لہو کی بوند ہے
مُشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفس سے بہرہ مند
''شہپرِزاغ و زغن در بندِ قید و صید نیست
ایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند''
اقبال

*****

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP