قومی و بین الاقوامی ایشوز

اسلامی فلسفہ۔ عہد بہ عہد

خلقِ قرآن کا مسئلہ دراصل خالص عقلی مسئلہ تھا۔مامون سے قبل علما و حکما کا عقائد پر یوں براہِ راست بحث مباحثہ قریباً ناجائز تھا اور اس سے قبل کے جتنے بھی موثر علما تھے‘ انہوں نے فلسفہ کو دین کے لئے سمِ قاتل سمجھا،اسلام میں سب سے پہلی عقلی تحریک کو ہم مسئلہِ خلقِ قرآن سے تعبیر کر سکتے ہیں کہ اس مسئلہ نے اس وقت اور بعد کے اذہان کو خوب جھنجوڑا اور انہیں سوچنے پر مجبور کردیا۔ ہم اگر خلقِ قرآن کو مختصر الفاظ میں بیان کریں تو لبِ لباب یہ ہے کہ قرآن جواس کے مذہب کی محکم بنیاد ہے‘ خدا کا کلام ہے یا مخلوق؟ اگر کلام ہے تو پھر یہ خدا کی صفت ہوئی چنانچہ صفت اور موصوف دو الگ الگ وجود ہیں۔ پس یہ شرک ہوا، اسکے برعکس اگر قرآن کو خدا کی مخلوق کہا جائے تو پھر خالق اور مخلوق میں فرق ثابت ہوجائے گا اور یوں یہ معتزلہ کے نزدیک اصل توحید ہے۔ خلقِ قرآن کے پیچھے سیاسی عوامل بھی یقیناًموجود ہی تھے لیکن سب سے اہم بنیاد یہ کہ اہلِ اسلام کے ہاں سوچنے کی ایک تحریک کا آغاز ہورہا تھا۔ مامون کا دور تاریخِ اسلامی میں سوچنے کا دور تھا۔ گوکہ ان کے دور میں سوچنے والوں پر زبردست تنقید کی گئی۔ حقیقتِ حال اس وقت کچھ یوں تھی کہ مامون کے دور میں مسلمان مفکرین فلاطینوس سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے کیونکہ انطاکیہ ، نصیبین اور حران کے عیسائیوں اور صائبین نے یونانی فلسفہ کی کتابوں کو سریانی سے عربی میں ترجمہ کردیا تھا سریانی علما ارسطو‘ فیثا غورث ، ہیر یقلیطس وغیرہ فلسفہ یونان کی شرح نوافلاطونی افکار و عقائد کی روشنی میں کررہے تھے \" الہیاتِ ارسطو\" کا عربی ترجمہ 226 ہجری میں ہوا تھا جبکہ یہ ارسطو کی تالیف نہیں تھی بلکہ فلاطینوس (Plotinus) کے رسائل کی آخری تین کتابوں کا ملخص تھا جو نیمیاح امیسوی (Nemiah Amesvi) نے لکھی تھی چنانچہ عربوں نے غلطی سے اِسے ارسطو کی تصنیف سمجھ لیا اور الہیات کے نوفلاطونی افکار ارسطو سے منسوب کردیئے۔ اس طرح دنیائے اسلام میں افکار فلاطینوس کی ارسطو کے پردے میں خوب اشاعت ہوئی ،بالخصوص مسلمان صوفیا پر نوفلاطونی تعلیمات کا گہرا اثر ہوا، چنانچہ جنید بغدادی ، بایزید بسطامی ، شہاب الدین سہروردی ، شیخ اکبر محی الدین ابن العربی حتیٰ کہ امام غزالی تک بنیادی افکار نوفلاطونی کہے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کندی سے لے کر فارابی ، اخوان الصفا اور ابن سینا وغیرہ تک ساریفلسفہِ اسلام کا سنگِ بنیاد یہی ہے۔، ابنِ رشد کہتا ہے کہ انسانی روح کا وہی حصہ باقی رہے گا جو عقلِ اول یا عقلِ فعال میں جذب ہو جائے گا اِسے نظریہِ وحدتِ عقل فعال کہتے ہیں ، ابن رشد نے اِس کا منطقی نتیجہ بھی قبول کرلیا اور حشر سے انکار کردیا۔ فرینک تھلی لکھتا ہے \" مسلمان فلسفیوں کی رسائی ارسطو کی اصل تعلیمات تک نہ ہوسکی وہ ان کی ترجمانی نوفلاطونی رنگ میں کرتے رہے۔ دراصل نوفلاطونی شرح کے پردے کو ہٹا کر ارسطو کی تعلیمات تک پہنچنا اس زمانے میں سخت مشکل تھا کیونکہ وہ صدیوں سے شرح و ترجمانی کے ملبے میں دفن ہوچکی تھیں البتہ دو اصناف کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے ، منطق اور ریاضیات ، جن میں مسلمان فلسفیوں نے اجتہادی اضافے کئے ۔‘‘ قدیم فلسفہ کی اسلام میں منتقلی علم الکلام کے آغاز اور معتزلہ کے ارتقا کے پیچھے وہ علوم کارفرما رہے جو یونانی اولاً زبان سے سریانی اور پھر عربی زبان میں منتقل ہوئے۔ سریانی اور یونانی سے عربی میں تراجم کا سلسلہ آٹھویں صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اموی شہزادے خالد بن یزید نے طب، کیمیا اور علم نجوم سے متعلق تصانیف کے عربی تراجم کرانے کا اہتمام کیا، البتہ سب سے پہلے باضابطہ فلسفیانہ تراجم وہ ہیں جو عظیم ادبی مصنف عبد اللہ ابن المقفع سے منسوب ہیں ، جن میں ارسطو کی The Categories ، The Hermeneutica اور The Analytica Priora شامل ہیں - اسکے علاوہ ییحییٰ بن طریق نے ہارون الرشید کے دور میں افلاطون کا مکالمہ Timaeus ارسطو کی De Anima اور مشکوک Secrets of Secrets (جسے ارسطو سے منسوب کیا جاتا ہے) شامل تھیں، تاہم ہارون کے دوسرے بیٹے مامون الرشید نے اپنے عہدِ خلافت (813-833) میں فلسفہ ، سائنس اورطب کے موضوعات پر یونانی اور دوسری غیر ملکی کتابوں کے ترجمے کا سرکاری طور پر انتظام کیا-مامون جو ایک ذہین اور روشن دماغ خلیفہ تھا، نے 830 میں بغداد میں بیت الحکمت کے نام سے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا تاکہ یہ لائبریری اور دار الترجمہ کاکام دے۔یہ ادارہ جب قائم ہوا تو اس کا پہلا نگران یوحنا ابن ماسویہ تھا۔ اس کے بعد ادارے کی نگرانی ان کے شاگرد حنین ابن اسحاق نے سنبھالی جو فلسفہ اور طب کے موضوع پر تراجم کی پوری تاریخ میں سب سے بڑی شخصیت کے طور پرجانا جاتا ہے۔ سب سے اہم فلسفیانہ تصانیف جن کا حنین ابن اسحاق ان کے بیٹے اسحاق‘ بھانجے حبیش اور شاگرد عیسی بن یحییٰ نے مل کر ایک گروہ کی صورت میں ترجمہ کیا‘ وہ حسبِ ذیل ہیں۔ ارسطو کی Analytica Posteriora جالینوس کی مرتب کردہ Synopsis of Ethics اور اسی طرح ارسطو کی کتابوں Sophists, Parmenides, The Republic, اور The Lawsکے خلاصے منطق اور فلسفہ کے موضوع پر جو تحریریں موجود تھیں‘ ان کے ترجمے بعد کے مراحل میں ہوئے۔ اس ضمن میں ابو عثمان الد مشقی اور الحسن بن سوار زیادہ مشہور ہیں۔ فلاطینوس کے آخری تین Enneads کی شرح کا ترجمہ ایمسا کے ابن نعیمہ نے کیا۔ یہ شرح جو غلطی سے ارسطو کے نام منسوب کی گئی‘ اس نے عرب اسلامی نوفلاطونیت کی بنیاد رکھ دی اور اس پر متعدد اسلامی فلاسفر نے اظہار رائے کیا، جن میں کندی ، فارابی اور ابن سینا قابلِ ذکر ہیں اور اس کے ارسطو کی تصنیف ہونے کے بارے میں کسی ایک نے بھی شک نہیں کیا۔ دوسری اس طرح کی نام نہاد ارسطوئی تصانیف میں جن کا عربی میں ترجمہ ہوا Secrets of Secrets اور De Plantis ہیں اس کے علاوہ The Book of Minerals اور Liber de causis ہیں۔ ان میں موخر الذکر کتاب جس کا عربی میں نام \" خیر محض \" آتا ہے وہ ایتھنز کے نامور نوفلاطونی مفکر پروکولوس کی تحریر کردہ Elements of Theology میں سے بتیس منتخب تجاویز (Propositions ) کا مجموعہ تھا جس کا ترجمہ دسویں صدی سے پہلے عربی زبان میں کسی غیر معروف مترجم نے کیا۔ اس نے صدور (Emanation) پر مبنی اس نظریہ کائنات کی نشوونما میں بڑا حصہ لیا جس پر فارابی اور اس کے بعد آنے والے نوفلاطونی فلسفی نے سب سے پہلے کھل کر بات کی۔ عربی زبان میں جو تراجم ہوئے انہوں نے یونانیوں کے تمام ثقافتی ورثے کو مسلمانوں کے سامنے لا کے رکھ دیا تاہم افلاطون کے مکالمات ان تک تلخیص کی صورت میں ہی پہنچے جن میں بہت کم نمونے عربی میں رہ گئے۔ Politics ارسطو کا وہ واحد بڑا کام تھا جو عربی زبان میں ترجمہ نہ ہوسکا جبکہ اس کی جگہ ایک جعلی اور سطحی تصنیف کو اپنا لیا گیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ ارسطو نے یہ اپنے شاگرد سکندر اعظم کے لئے لکھی تھی یہ تصنیف جو Secrets of secrets کے نام سے مشہور ہے‘ اس کا ترجمہ یحییٰ بن طریق نے کیا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اسے بلاد روم میں اپنے سفر کے دوران ایک یونانی عبادت گاہ میں پایا ۔مسلم سکالرز کی دلچسپی دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں مثلاً ہندوستانی اور ایرانی ثقافتوں میں اتنی نہیں تھی جتنی کہ یونانی ثقافت میں تھی۔ ہندوستانی ثقافت میں مسلمانوں کی دلچسپی کا رخ زیادہ تر ہیئت اور طب کے علوم کی طرف رہا ہندوستان کے فلسفہ جوہریت (Atomism) کے بعض پہلوؤں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’’کلام ‘‘کی جوہریت کی بنیاد تھے جو اسلامی الہیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگر ہم ایرانی اثرات کی طرف قدم بڑھائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر قدیم ایرانیوں کی ادبی اور اخلاقی روایات پر مشتمل تھے۔ ادبی روایت کی قدیم ترین مثال \" کلیلہ ودمنہ \" ہے جو ہندوستانی مردِ دانا پنڈٹ بید پائے کے جانوروں کی کہانیاں ہیں جنہیں پہلوی زبان سے ابن المقفع نے عربی زبان میں منتقل کیا۔ اتنا ہی اہم ایک اور مجموعہ ہے جس کا نام ’’جاودان خرد‘‘ (لازوال عقل) ہے جو دو صدیاں بعد ایرانی نژاد مسکویہ نے ترتیب دیا اور جو اسلام میں سب سے بڑا اخلاقی فلسفی سمجھا جاتا ہے‘ اس کے مصنف کی رائے میں اس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو وہ چار مختلف اقوام یعنی ایرانیوں ، ہندوستانیوں ، یونانیوں اور عربوں کے مواعظ اور اخلاقی تعلیمات کو کھنگال کر جمع کرسکا۔ اس مجموعے کا پہلا حصہ ماقبل تاریخ کے ایرانی بادشاہوں ہوشنگ ، بزرجمہر ، نوشیرواں ، شاہ بہمان اور دوسروں کے اقوال اور مواعظ پر مشتمل ہے تاہم یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سب سے گہرے ایرانی اثرات حکیم مانی کے مذہبی عقائد کا نتیجہ تھے جن کا اثر شعرا ، فلاسفہ اور اہل سیاست پر جن میں خلفا بھی شامل تھے ‘پوری طرح چھایا ہوا تھا۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مانی مذہب کو مانتے تھے اور جنہیں ’’زندیق‘‘ کہا جاتا تھا (یعنی مذہب زرتشت کی مقدس کتاب ’’ژند اوستا‘‘ کے عالم)ان میں معروف شاعر بشار بن برد ، ابو عیسی وراق ، برمکی خاندان کے ارکان ، ابن المقفع اور اموی خلیفہ مروان ثانی شامل تھے۔ اسلام میں باقاعدہ حریتِ فکر کا آغاز اسلام میں باقاعدہ فلسفے کا آغاز عملًا نویں صدی کے پہلے حصے میں شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کا دور جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں‘ زیادہ تر تراجم کا دور سمجھا جاتا ہے گویا اس دور میں فلسفہ یونان و دیگر تہازیب کی دانش کو بتدریج یونانی سے سریانی اسی طرح پہلوی سے عربی میں منتقل کیا گیا اور اس کا باقاعدہ اہتمام سب سے پہلے ہارون الرشید نے اپنے دور میں کیا۔ اُن کے بعد پھر ان کے بیٹے مامون نے اس کو اوج تک پہنچا دیا۔ نویں صدی سے قبل بھی فلسفیانہ تراجم کے کچھ آثار موجود ہیں گویا اس سے قبل بھی کچھ لوگ فلسفیانہ مباحث کو عربی زبان میں منتقل کرتے رہے چنانچہ ان میں نمایاں نام حنین ابن اسحاق اور قسطا بن لوقا کے ہیں جنہوں نے مختلف فلسفیانہ مباحث کو عربی زبان میں منتقل کیا لیکن تاریخِ اسلام میں باقاعدہ فلسفیانہ مباحث اور حریتِ فکر کا آغاز معروف عرب فلاسفر الکندی سے ہوتا ہے چنانچہ ہم اس دور کا آغاز اسلامی فلسفہ کے اس عظیم متکلم کے تعارف اور اِن کے فلسفیانہ مباحث سے کرتے ہیں۔ الکندی (803-873) ابویوسف یعقوب بن اسحاق الکندی پہلے عرب النسل فلاسفر تھے۔ ان کو عرب کا باقاعدہ اور فقید المثل فلاسفر تسلیم کیا جاتا ہے جن کا تعلق وسطی عرب کے ایک معروف قبیلے سے تھا۔ وہ کوفہ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔ بنیادی رسمی تعلیم کوفہ میں ہی حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے بغداد کا رخ کیا جہاں تین عباسی خلفا مامون ، معتصم اور واثق کی سرپرستی حاصل رہی جو سائنس اور فلسفے کے حامی اور دینی امور میں معتزلہ کی عقلیت پسندی کے ہم نوا تھے۔ واثق کے بعد جب متوکل نے خلافت سنبھالی تو اس دور کے فلسفہ اور معتزلین کا جو حال ہوا وہی الکندی کا بھی ہوا تاہم الکندی متوکل کی وفات کے کئی سال بعد تک زندہ رہے ۔ اس دور کے علماء اور حکماء کی طرح الکندی بھی بہت سے علوم پر دسترس رکھتے تھے جن میں نمایاں ریاضیات ، جیو میٹری،علمِ ہیئت ، موسیقی ، طبیعیات ، مابعدالطبیعیات ،بصریات ، موسمیات ، جغرافیہ ، طب ، علم الادویہ اور سیاسیات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں وہ یونانی حکماء سقراط ، افلاطون ، ارسطو اور اس کے شارحین بالخصوص ارفرودیسیا کے اسکندر کے نظریات سے بخوبی آگاہ تھے۔ فلسفہ میں سب سے پہلے وہ ارسطو کے افکار سے متاثر ہوئے اور کئی ایک مسائل میں ارسطو کی تقلید کی۔انہوں نے پہلی بار اسلام میں ایک طرف سائنس اور فلسفہ جبکہ دوسری طرف سائنس، فلسفہ اور مذہب میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش سے اسلام میں \" آمیزش ضدین \" (Syncretism) کی بنیاد رکھی جو بعد میں صوفیا اور دیگر اہلِ صلح کے ہاں بہت مقبول ہوئی۔ منطق میں وہ نوفلاطونیت( Neoplatonism) اور نوفیثاغورثیت (Neopythagoreanism) کی طرف راغب تھے جبکہ عقائد میں وہ معتزلہ کے حامی تھے انہوں نے مذکورہ بالا تمام علوم پر متعدد کتابیں لکھیں جن کی تعداد کم وبیش 256 تک پہنچتی ہے لیکن ان میں سے بہت کم باقی رہ گئی ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مذہب اور فلسفہ میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی جس کا خاطر خواہ اثر آج تک کسی نہ کسی صورت میں مسلم فلاسفروں کے نظریات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جب مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا اور مختلف فلسفیانہ نظریات پر غور و فکر کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ مذہب اور فلسفہ بالکلیہ ایک حقیقتِ عالیہ کی بات کرتے ہیں جسے مذاہب کی اصطلاح میں ’’علتِ اول‘‘اور فلسفیانہ اصطلاح میں ’’ازلی یا ابدی‘‘کہہ سکتے ہیں یا پیمبرانہ اصطلاح میں اسے ’’اللہ‘‘کہہ لیں گویا بات ایک ہی ہے۔ انہوں نے فلسفے اور عقلی اظہارِ خیال کے ساتھ گہری وابستگی اور کمال وفاداری کا برملا اظہارکیا اس سلسلہ میں ان کا ایک نہایت دلچسپ رسالہ ’’کتاب الحث علی تعلم الفلسفہ‘‘ ( تعلیمِ فکر کی تاکید)ہے جس میں وہ فلسفہ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ’’یہ انسانی صناعات میں سے سب سے اعلی اور قابلِ احترام صنعت(Art) ہے۔ یہ انسان کی اپنی قابلیت کے مطابق اشیا کی حقیقت کا علم ہے۔‘‘ارسطو کے نظریات پر انحصار کرنے والے الکندی نے خود کو صرف تجریدی فکر تک محدود نہیں کیا بلکہ ایک راست باز مسلمان کی طرح فلسفے کو ہمیشہ مذہب کے تابع رکھا۔ ان کا معروف قول ہے کہ جو سچائی فلاسفرتلاش کرتے ہیں وہ اس سچائی سے مختلف نہیں جس کی طرف پیغمبر بلاتے ہیں۔ قرآنی آیات کے ذریعے پیغمرِ اسلام ﷺ کی بات کو سمجھنے کے لئے انہوں نے سب سے پہلے تاویل کا آغاز کیا۔انہوں نے فرمایا کہ بعض مجمل آیات پر ایسے غور کرنا چاہئے جیسا کہ راسخون فی العلم (زیرک مذہبی علماء) کرتے ہیں۔ فیثا غورث اور افلاطون کے ماننے والوں کی طرح الکندی نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ ریاضیات کا علم حاصل کئے بغیر کوئی شخص فلسفی نہیں بن سکتا چنانچہ انہوں نے اپنے اس خیال کا علمی اظہار اس طرح کیا کہ طب ، بصریات اور موسیقی میں مقداری طریقوں کا اپنے ریاضیاتی قاعدوں کی مدد سے اطلاق کیا۔انہوں نے نظریہ موسیقی میں ریاضیات کو شامل کیا اور اس موضوع پر سات کتابیں لکھیں جن میں سے صرف پانچ بچ گئی ہیں۔ نظریہ موسیقی میں اس ریاضیاتی پیش رفت نے ان کو عربی موسیقیت کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام دلا دیا۔ ایچ جی فارمر کے مطابق موسیقی پر الکندی نے جو رسائل تصنیف کئے ان کا اثر دو صدیوں کے بعد تک آنے والے مصنفین پر دیکھا گیا۔ فارابی نے جو خود بھی ایک ماہر موسیقار تھا۔ اس معاملہ میں الکندی سے کسبِ فیض کیا۔ فلسفے کی شاخوں میں الکندی نے طبیعیات (Physics) اور مابعد الطبیعیات (Meta-physics ) کو شامل کیا جنہیں وہفلسفہ اولیٰ کہتے ہیں طبیعیات ان کے نزدیک محسوس اور مادی اشیا کا مطالعہ جبکہ مابعدالطبیعیات ناقابلِ حرکت اور غیر مادی اشیا کے مطالعے کا نام ۔ وہ کہتے ہیں ان دو علوم سے ماورا ء ایک اور علم بھی موجود ہے جو ان دو علوم سے بالاتر الوہی علم ہے اور جو انسانی کوشش سے نہیں بلکہ تزکیہ نفس اور الوہی تائید سے پیدا ہوتا ہے ‘جو خدا اپنے پیغمبروں کو بخشتا ہے اور ان پر ایسے ایسے حقائق بے نقاب کرتا ہے جو انسانی ذہن کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک علم الکائنات(Cosmology)ایک عماریاتی کل (Architectonic Whole)ہے اور اس کی تمام کیفیات میں اسباب کا ایک تعلق ( Causal connection) ہے لیکن اس سببیّت(Causality) کے مدارج ہیں۔ اسی طرح جس طرح وجود کے مدارج ہیں یہ سب اعلیٰ درجے کے بھی ہوسکتے ہیں اور کم تر درجے کے بھی‘ درجہ وار اسباب کا یہ تصور نوفلاطونیت کے نظریہ صدور (Emanation)کی طرح کا ہے۔ان کا ایک بہت اہم رسالہ ’’جواہرِ خمسہ‘‘ پر ہے۔ یہ طبیعی کائنات جن اصولوں کے تحت چلتی ہے وہ آپ جواہر ( Essences) کا نام دیتے ہیں اور یہ پانچ ہیں‘، ماہ‘ صورت‘ حرکت‘ زمان اور مکان۔ جواہر کی اس اسکیم کے پیچھے ان کا وہ علم ہے جو انہوں نے ارسطو کی طبیعیات اور مابعد الطبیعیات سے حاصل کیا تھا۔ ارسطو کی کتابوں کے تراجم اور ان کی شرحیں لکھنے کی وجہ سے الکندی کو مشائین (Peripatetics ) میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش موجود نہیں کہ جس طرح جدید فلسفے کی شروعات ڈیکارٹ سے ہوئیں اسی طرح اسلامی فلسفہ کی شروعات الکندی سے ہوئیں۔ (جاری ہے)

آزاد کی اِک آن ہے محکوم کا اِک سال

کس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقات

آزاد کا ہر لحظہ پیامِ ابدیت

محکوم کاہر لحظہ نئی مرگِ مفاجات

(علامہ اقبال)


مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

یہ تحریر 441مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP