قومی و بین الاقوامی ایشوز

اسلامی فلسفہ۔ عہد بہ عہد

مضمون نگار انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

 

کہا یہ جاتا ہے کہ جس دن سے انسان نے سوچنا شروع کیا ٹھیک اسی دن سے فلسفہ کا آغاز ہوگیا۔ فلسفہ کیا ہے؟ اس کے مبادیات کیا ہیں اور ایک انسان کی زندگی پر اس کا براہِ راست اور بنائے راست کیا اثر پڑتا ہے اس کا احاطہ تو انسان سوچنے کے بعد ہی سے کرتا رہا ہے لیکن یہاں پر ہم فلسفہ کا ایک عمومی تعارف، اسلامی فلسفہ (علم الکلام) اور متکلمینِ اسلام کے افکار کا حتی الامکان جائزہ لیں گے ادراکِ زوالِ امت تک اگر ہماری رسائی ممکن ہوجائے تو امت مسلمہ کو سیادتِ عالم سے معزول کرنے والے چند بنیادی عوامل میں سے ایک خرد دشمنی ہے‘ فلسفیانہ تنقید سے تحریف اور تقلید کی ترویج کا آغاز امام غزالی ؒ کے قلم سے ہوا۔آپ نے اپنی معروف تصنیف تہافت الفلاسفہ میں اپنے تمام معاصرین مسلم و غیر مسلم دانشوروں کی خوب خبر لی جبکہ اس کے مقابل نیم مسلم فلسفی ابن الرشد نے تہافت الاتہافت لکھ کر جواب تو دیا لیکن ابن الرشد کی اس تحریر کے منظرِ عام تک آنے سے پہلے پہلے غزالی اس وقت کے مسلم معاشرے میں اپنا ایک الگ صوفیانہ رنگ لے کے بیٹھ گئے تھے یہی وجہ ہے کہ پھر ابن الرشد کی طرف کسی نے کان نہیں دھراتاریخِ اسلامی کے آخری بڑے فلسفی بھی یہی ابن الرشد تھے جو متکلم کم اور فلسفی زیادہ تھے۔ آپ کے بعد آج تک اہلِ اسلام کے ہاں فلسفہ یا کلام پھر اس طرح رواج نہ پا سکا جس طرح کے اس دور میں مروج ہوگیا تھا اوراس کی بنیادی وجہ بلاشبہ امام غزالی کا وہ فقید المثل متصوفانہ علمی کام تھا جس کے آگے پھر کسی بھی مشرقی یا مغربی فلسفی یا دانشور کا طوطی نہ بول سکا۔ چنانچہ آج بھی احیائے العلوم کے پائے کا تصنیفی کام موجود نہیں آپ چونکہ یونانی فلسفہ کے ماہر اور ایک زمانے میں الحاد کی جانب بھی مائل تھے اس لئے نہ صرف مذہب اور تصوف بلکہ ملحدانہ جدلیات پر بھی کماحقہ‘ دسترس حاصل کر لی تھی۔ آپ نے احیائے العلوم میں اسلامی فلسفہ، مذہب اور تصوف یکجا کرکے رکھ دئے جو بلاشہ ایک عظیم کام ہے اسی طرح اسلام میں ایک جدید نوافلاطونیت کے آغاز کے ساتھ ہی انجام بھی ہوگیا،امام غزالی کے علمی کام کے مقابلہ میں آج تک مسلم مفکراپنا رنگ نہ جما سکے اور نہ ہی امام غزالی جیسی علمی، منطقی اور مذہبی دسترس لا سکے۔ گویا اسلامی فلسفہ ، مذہب اور تصوف کے اس شاندار امتزاج کی مثال پیش کرنا آج بھی مشکل ہی ہے۔ فلسفہ کیا ہے؟

فلسفہ یونانی زبان کے دو الفاظ کا مرکب ہےPhiloاورSophia،یا فلوس(Filos)اور سوفوس(Sofos) ۔فلوس کے معنی حُب اور سوفوس کے معنی دانش کے ہیں فلسفہ کی کوئی جامع اور غیر متبدل تعریف ممکن نہیں ابتدا میں عددی علم کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے فلسفہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی گویا فلسفہ کے بنیادی معنی دراصل ریاضی کے ہیں بعد میں ریاضیاتی اصولوں کے ایک مکمل نظام کو فلسفہ سے تعبیر کیا جانے لگا اسی فلسفہ کا دائرہ بڑھتا بڑھتا یہاں تک پہنچا کہ آج دنیا کے قریباً تمام طبعی و مابعدالطبعی علوم فلسفہ میں شمار کئے جاتے ہیں فلسفہ کی تعریف اور معنوی احاطہ جتنا مشکل ہے اس کی اقسام اتنی ہی آسان اور سادہ ہیں، فلسفہ کی صرف دو ہی بنیادی اقسام ہیں، مثالیت اور وجودیت۔ مثالیت (Idealism) مثالیت کا باقاعدہ آغاز حکیم سقراط کے شاگردِ رشید افلاطون نے کیا،قطع نظر اس سے کہ ان کا فلسفہ کیا تھا ہم مثالیت کو عام اور سادہ مفہوم میں بیان کرتے ہیں تاکہ ہمارے قارئین پہلے فلسفہ کی ابجد سے واقف ہوسکیں۔ مثالیت جیسا کہ نام سے ظاہر ہے دراصل ایک ایسا تفکراتی اسلوب ہے جس کا دائرہ محض اشیا کے بطن سے شروع ہوتا ہے یعنی کائنات میں موجود اشیا نہ صرف ایک ظاہری وجود رکھتی ہیں بلکہ اِن کا ایک باطن بھی ہے جو اِن کا اصل ہے اور جس کو روح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ معروف یونانی فلسفی افلاطون نے بھی اس کو روح سے تعبیر کیا ہے فلسفہ کی یہ قسم مذاہب کیلئے خشتِ اول کی حیثیت رکھتی ہے پھر اسی ہی سے تصوف کی راہیں سامنے آتی ہیں۔ مثالیت کو معروف مسلم متکلم محی الدین ابن العربی نے عینیت سے تعبیر کیا، مثالیت کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال کی مدد لیتے ہیں ’’جب ہم مور(Peacock) کو دیکھتے ہیں تو فوراً ہمارا دھیان اس کی خوبصورتی میں محو ہوجاتا ہے۔ پس یہی خوبصورتی ہمیں مور کی اصلیت تک لے جاتی ہے کہ اس کی دم کو کس طرح منظم اور مرقع کیا گیا ہے چنانچہ اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس پورے تصور کو کسی ایک مثال سے واضح کریں کہ اس کی ساخت میں کون سے کون سے عوامل کارفر ہوسکتے ہیں یہیں سے بات آگے بڑھتی بڑھتی مور کے خالق تک جا پہنچتی ہے کہ اتنا کچھ خود بخود تو نہیں ہوسکتا لہٰذا اس کا کوئی بنانے والا ضرور ہے۔ بنانے والا کون ہے؟ کہاں ہے؟ اور کیوں بنایا؟ ایسے اور ان جیسے تمام سوالات کا احاطہ کرکے ان کے جوابات تلاش کرنا دراصل مثالیت کے دائرے میں آتا ہے بات ابھی مکمل نہیں ہوئی کیونکہ جس نوعیت کے سوال ہیں اسی نوعیت کے جواب بھی ہوں گے۔ مطلب اگر مور کے اتنے خوبصورت پَر خود بخود نہیں بن سکتے تو پھر جس نے ان کو بنایا وہ کیسے خود بخود بن سکتا ہے۔ یہیں سے پھر مثالیت ایک ناختم ہونے والے گنجلک میں بھی داخل ہوجاتی ہے۔ مثالیت کے ماہرین نے اس گنجلک سے صحت مند فرار کا یہ اسلوب وضع کیا کہ کیوں نہ کسی ایک مقام پر تصور کو روک کر اس سے آگے بڑھنے کی جرأت نہ کی جائے مختصر یہ کہ مثالیت کی جامع تعریف یہی ہے کہ جہاں پر انسانی فکر کو گرہ لگی وہیں سے مثالیت کا آغاز ہوا پس مذاہب کا کل دائرہ کار بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ وجودیت(Existentialism)

فلسفہ کی دوسری بڑی قسم وجودیت ہے مثالیت کے برعکس اس نظریہ کے حامل الہام و وجدان کی بجائے ٹھوس وجود پر اکتفا کرتے ہیں۔ وجودیت دراصل عملی جدلیات ہے جس میں عمل کی منطق ہے۔ وجودیت کو سادہ الفاظ میں ہم یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ دراصل وجود کو پرآسائش بنانے کی منطق ہے۔ اس نظریہ کے بانی معروف یونانی فلسفی اپیکیورس(Epicurus) تھے‘ آپ کے نزدیک فلسفے کا مقصد کسی ماورائی طاقت کو حاصل کرنا یا خشک قیل و قال نہیں بلکہ غور و فکر کا مقصد وجود کو آسائش فراہم کرنا ہے۔ موجودہ سائنس بھی وجودیت ہی کی ایک منظم شکل ہے۔ مسلم فلسفہ میں ابوبکر رازی ، قاضی معری اور نطشے کے اثر سے ایک خاص حد تک ڈاکٹر محمد اقبال کا نام بھی اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے۔ وجودیت کے حامل فلسفی انسانی عقل کی اہمیت کو صرف اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ اس سے صرف انسانی وجود کو افادیت پہنچائی جائے اس سے آگے جانے سے وہ اکثر گریز کرتے ہیں۔ انسان کی کامل آزادی کا تصور بھی دراصل وجودیت سے پھوٹتا ہے۔ اس ضمن میں معروف وجودی فلسفی جین پال سارتر(Jean Paul Sartre) کا نام قابلِ ذکر ہے اس کے علاوہ بھی کئی ایک اہلِ فکر نے وجودیت کا پرچار کیا کارل مارکس اور اسٹالن کی سوشلزم بھی دراصل وجودیت ہی کی ایک عملی شکل ہے۔ فلسفہ اسلام میں عرب کے ہاں فکر و فلسفہ کی کوئی قابلِ ذکر روایت نہیں ملتی البتہ زہیر اور لبید کی شاعری میں کہیں کہیں کوئی ایک آدھ حکمت کی بات مل جاتی ہے عرب مذہب کے لحاظ سے خاصے لاپروا واقع ہوئے تھے قبل از اسلام عرب کے ہاں کئی ایک بتوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں لات، عزی ، منات‘ ود اور سواع قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے۔ قبل از اسلام عرب ایک قبائلی نظم کے ہاں زندگی بسر کرتے تھے۔ ہر قبیلے کے اپنے اپنے بت ہوا کرتے تھے اور ضرورت پیش آنے پر وہ بڑے جذباتی ہو کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ قبل از اسلام خانہ کعبہ عرب کی باقاعدہ عبادت گاہ کے طور جانا جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ آس پاس سے گزرنے والے تجارتی قافلے بھی اکثر و بیشتر یہاں قیام کرلیتے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے الہامی انقلاب کے نتیجے میں عربوں کی معاشی اور سماجی حالت تو خاصی بہتر ہوگئی لیکن علمی حالت تقریباً جوں کی توں رہی‘ جبکہ قرآن نے بارہا عقل اور فکر و تدبر کی دعوت دی، چنانچہ ارشاد ہے۔ ’’اور یہ قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل لگ چکے ہیں‘‘(سورہ محمد آیت :24) دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’یقیناًغور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔( سورہ رعد: آیت 3 ) علاوہ ازیں قرآن میں لفظ عقل 48 ،تفکر 18 اور حکمت 204 مرتبہ آیا ہے۔ قرآن کے بارہا اصرار کے باجود بھی اسلامی تہذیب کے ابتدائی ایام میں عقل و فکر کی جانب بہت کم ہی توجہ دی گئی البتہ جب خلافتِ اسلامیہ نے ملوکیت کی شکل اختیار کی تو اہلِ اسلام کی عقل سوچنے پر مجبور ہوئی کہ راست بازی اور خیر و صلح سے کوسوں دور آخر کب تک ہم ان سلاطین کے زیرِ اثر کڑھتے رہیں گے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں فلسفہ کا باقاعدہ آغاز دراصل سیاست کے موہونِ منت تھا چنانچہ سب سے پہلا گروہ جس نے بظاہر تو اسلامی جبکہ اپنے اصل کے لحاظ سے عقلی اعتراض پیش کیا۔ خوارج ہی تھا یہ گروہ دراصل حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ہونے والی تحکیم (مصالحت) کے خلاف ہوگیا تھااوراپنے امیر حضرت علیؓ پر یہ اعتراض کرکے کنارہ کرلیا کہ نصوص(قطعی قرآنی احکام)کے مقابل میں خلیفہ کا فیصلہ جائز نہیں۔ قرآن سے اخذ کی گئی خوارج کی یہ انتہا پسندانہ روش دراصل انکی اپنی خانہ ساز تھی جن کے پیچھے کچھ سیاسی و قبائلی عناد پر مشتمل عوامل بھی کارفرما تھے۔ خوارج کا یہ اعتراض تھا کہ زمین خدا کی ہے اس لئے حکم بھی اس پر خدا کا ہی چلے گا ان کا معروف قرآنی نعرہ الارض للہ والحکم للہ تاریخِ اسلامی میں آج بھی مرقوم ہے۔ خوارج کا اختلاف تو بظاہر سیاسی نوعیت کا تھا لیکن ان کا یہی اختلاف بعد میں اسلامی فلسفہ کی باقاعدہ بنیاد بن گیا۔ بعد کے زمانہ میں جب اموی سلاطین نے اپنی رعایا کی خبرگیری سے مکمل غفلت برتی تو عوام ذہنی اور جسمانی طور پر بھڑک اٹھے اسی زمانے میں کچھ اصحابِ صلح ایسے بھی تھے جنہوں نے اموی ملوکیت کے خلاف بولنا سود مند نہ سمجھا اور اس پوری سیاسی کشمکش سے الگ ہوکر اپنے ان تمام ناانصاف سلاطین کا معاملہ خدا کے سپرد کردیا،یہ لوگ بعد میں اصحابِ ارجا یعنی مرجیہ (بعد میں آنے والے)کے نام سے موسوم ہوئے لیکن عوام میں بدستور ذہنی انتشار موجود تھا کیونکہ اموی سلاطین اپنی تمام تر ناانصافیوں اور بری خصلتوں کو خدا کی جانب سے مرقوم سمجھ کے عوام کے اذہان سے بغاوت کو فرو کرنا چاہتے تھے چنانچہ اسی کشمکش میں کچھ لوگ اس دور کے نامور عالمِ دین حسن بصری کے پاس گئے اور سوال کیا کہ کچھ لوگ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کا معاملہ خدا کے سپرد کرتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں کافر قرار دیتے ہیں۔ آپ اس معاملہ میں کیا فرماتے ہیں۔ حسن بصریؒ کی مجلس میں ایک شخص واصل ابن عطا اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس سے پہلے کہ حسن بصریؒ جواب دیتے واصل بولا کہ ان کا معاملہ درمیان میں ’’المنزل بین المنزلتین‘‘ہے۔ وہ مسلمان ہیں‘ نہ کافر۔ واصل کا یہ جواب سن کر حسن بصریؒ نے فرمایا ’’اعتزل عنا‘‘ (یہ ہم سے الگ ہوئے) چنانچہ وہی واصل ابن عطا بعد میں اسلامی فلسفہ کا بانی تصور کیا جانے لگا۔ واصل اور ان کے معتقدین کا کہنا تھا کہ انسان کلی طورخود مختار ہے انسان اپنے ہر فعل کا خود ہی ذمہ دار ہے ،یہ دراصل ایک خاص ردِ عمل تھا اس نفسیات کا جو سلاطین امیہ کی پھیلائی گئی عوامی دانش کے زیرِ اثر پروان چڑھی جس کے مندرجات ہم بیان کرچکے ہیں کہ انسان تو مجبورِ محض ہے وہ جو کچھ بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے کرتا ہے اس میں انسان کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہی لوگ بعد میں جبریہ کے نام سے معروف ہوئے۔ اس کے برعکس واصل ابن عطا کے حاملین جن کا یہ نظریہ تھا کہ انسان اپنے اعمال کا خود ہی ذمہ دار ہے قدریہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہی گروہ دورِ عباسیہ میں معتزلہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مامون الرشید کے دور میں یہ گروہ اپنے عروج پر تھا۔ مامون چونکہ خود اس نظریہ کا حامل تھا اس لئے اس نے اس نظریہ کے حاملین کے ساتھ خوب وفا کی اس گروہ کے معروف افراد میں خود اس گروہ کے بانی واصل ابنِ عطا اور جاحظ قابلِ ذکر ہیں۔ معتزلہ تاریخِ اسلام کا منظم اور باقاعدہ کلامی گروہ تھا جس نے اسلامی فلسفہ یعنی علم الکلام کی بنیاد رکھی۔ علم الکلام

فلسفہ اور اس کی اقسام ہم بیان کرچکے ہیں اب ہم اسلامی فلسفہ یعنی علم الکلام کی تعریف بیان کریں گے علم الکلام دراصل ایک سیاسی منطق ہے، یونان اور اہلِ مصر کی طرح اہلِ اسلام نے غور و فکر کی باقاعدہ ترویج نہیں کی اور نہ ہی ان کے ہاں اس سلسلہ میں کوئی منظم حکمت عملی موجود تھی۔ علم الکلام کی تحریک دراصل امویوں کے خلاف ایک سیاسی محاذ قائم کرنے کے لئے بپا کی گئی تھی۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں فلسفہ ، منطق اور کلام وغیرہ کا کوئی حوالہ نہیں ملتا البتہ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے چند ایک اساتذہ کے حوالے سے کوفہ میں ایک خاص اسلامی فکر کے ثبوت ملتے ہیں لیکن اسے بھی خالص فلسفہ کہا جا سکتا ہے نہ کلام، بلکہ اس کے لئے اپنی الگ ایک اصطلاح ’’فقہ‘‘ موجود ہے جبکہ فقہ ایک طرح کا عقلی اجتہاد ہے لیکن یہ کوئی ایسی باضابطہ منطق نہیں تھی جس کو فلسفہ کا درجہ دیا جا سکے بلکہ اسی دور میں متعدد اکابرینِ اسلام دین کے معاملہ میں عقل کی جزوی مداخلت کے بھی سخت خلاف تھے اور منطق و فلسفہ کو شیطانی دجل و فریب سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ اسلامی فلسفہ کا باقاعدہ آغاز قدریہ جو بعد میں معتزلہ کے نام سے مشہور ہوا نے کیا جس کی سرپرستی مامون کررہے تھے اس کا تذکرہ ہم اس سے قبل کرچکے ہیں۔ یہاں پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ علم الکلام ہے کیا، مامون نے بیت الحکمت کے نام سے جو علمی و تحقیقی ادارہ قائم کیا تھا۔ اس میں فلسفہ یونان کی کئی ایک کتب کے تراجم ہوچکے تھے۔ گویا یہ پہلا موقع تھا جب عرب میں منطق کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت حاصل ہوئی۔ بیت الحکمت میں کئی ایک فلسفی سائنسدان اور ریسرچ سکالرز تحقیقی کام کیا کرتے تھے۔ بیت الحکمت کی سرپرستی مامون خود کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بعد میں وہ بھی معتزلہ کے ایک زبردست حامی بن کر سامنے آئے اور اس معاملہ میں اس قدر انتہا پسندانہ رویہ اپنایا کہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالمِ دین امام احمدبن حنبلؒ کو بھی نہ بخشا اور انہیں بھی سرِ عام کوڑے لگوائے، اہلِ اسلام بالخصوص عباسی حکماء نے جب عقل کے ناخن لئے تو سب سے پہلے ان کے سامنے قرآن آڑے آیا اور کیوں نہ آتا کہ قرآن نے جو عقائد کا نظام دیا تھا وہ یونانی فلسفہ کے رسیا عباسی حکما کو ناکوں چنے چبوا رہا تھا اس لئے سب سے پہلا مسئلہ یہ پیش آیا کہ قرآن مخلوق ہے یا کلام۔ گویا یہیں سے پھر اسلامی فلسفہ کا نام بھی علم الکلام رکھ دیا گیا،کلام دراصل اسلامی عقائد اور عقل میں تطبیق پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی ، خدا کی ماہیت کیا ہے۔ اس کی رویت ممکن ہے یا نہیں۔ قرآن خدا کی مخلوق ہے یا کلام ؟ اگر مغفرت اور شفاعت ممکن ہے تو پھر نیک اعمال کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ایسے اور ان جیسے تمام مسلمہ عقائد کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا دراصل علم الکلام کہلاتا ہے۔ عقل و نقل میں یہ منطقی کشمکش بعض اوقات اہلِ اسلام کو ان کے مسلمہ عقائد سے بھی برگشتہ کر جاتی لیکن منطقی اسلوب کو اس وقت مکمل سیاسی اشیرباد حاصل ہونے کے سبب قیل و قال کا یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ متوکل آیا اور اس نے معتزلہ کو سیاسی آشیر باد سے یکسر محروم کرکے بعض حکماء کو ملک بدر اور بعض کو زندان میں ڈال دیا۔ یوں معتزلہ کا عروج متوکل کے ہاتھوں زوال پذیر ہوا،لیکن معتزلہ کی منطقی روش سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اہلِ اسلام کے ہاں سوچنے سمجھنے کی راہیں کھل گئیں۔ چنانچہ بعد کے ادوار میں منطق کو اہلِ اسلام کے ہاں ویسی پذیرائی تو نہ مل سکی جیسے کہ مامون کے دور میں حاصل تھی لیکن یہ ضرور ہوا کہ ایک روش جو کہ متروک ہوتی جارہی تھی‘ کونے کھدروں میں موجود رہی ، معتزلہ سے پہلے اہلِ اسلام کے ہاں مسائل پر بحث مباحثہ کا رواج تو تھا لیکن عقائد پر کسی نے زبان نہیں کھولی تھی تاہم معتزلہ نے عقائد پر بھی سوالات اٹھائے اور ان میں سے سب سے معروف اعتراض خلقِ قرآن کا ہے.جاری ہے

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP