انٹرویو

ارشاد حسن خان سابق چیف جسٹس پاکستان 

ارشاد حسن خان نے نو عمری میں تحریک پاکستان میں حصہ لیااور بٹالہ کی جامع مسجد کے منبر پر بیٹھ کر پاکستان کے حق میں تقریر بھی کی۔ انہوں نے قائداعظم اور مادرِ ملت کے درمیان بیٹھ کر تصویر بنوائی۔ نو سال کی عمر میں والدہ اور والد انتقال کر چکے تھے۔ آپ نے نامساعد حالات کے باوجود محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔حصول تعلیم کے دوران جزوقتی ملازمتیں بھی کرتے رہے اور پھر اپنی محنت سے ڈپٹی اٹارنی جنرل، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمیشن کے عہدوں پر فائز رہے۔



سرخیاں:
٭ نو عمری میں بٹالہ کی جامع مسجد میں تحریک پاکستان کے حوالے سے تقریر کی۔
٭ جلسے میں دبلے پتلے قائداعظم کو دیکھ کر رونے لگا کہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔
٭بڑے بھائی تحریک پاکستان کے فعال کارکن تھے انہیں گولڈ میڈل بھی ملا۔
٭اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت خود اعتمادی سے نوازا ہے۔ جو ارادہ کر لیتا، پورا کر کے رہتاہوں۔
٭بڑے بھائی کی شادی والے دن والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔
٭9سال کی عمر میں والد اور والدہ کی شفقت سے محروم ہو گیا۔
٭سٹریٹ لائٹس اورباغ جناح کی پہاڑی کی لائٹوں میں بیٹھ کر پڑھتا رہا۔
٭ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اہم عہدوں پر فائز رہا۔
٭ تحریک پاکستان میں یہ نعرہ بہت مقبول تھا:
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ
کثرت سے نہ ڈر ۔ تیرا ہے خدا
٭ حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوقتی ملازمتیں بھی کرتا رہا۔
٭ہمارے دور میں بہت عظیم اساتذہ تھے۔طالب علموں کی ہر طرح سے مدد کیا کرتے تھے۔
٭ اب ہر کوئی پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے۔ فرائض بھول کر صرف حقوق لینا چاہتا ہے۔
٭نوجوان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور پختہ ارادہ کر کے محنت کریں تو ضرور کامیاب ہوں گے۔

ارشاد حسن خان نے نو عمری میں تحریک پاکستان میں حصہ لیااور بٹالہ کی جامع مسجد کے منبر پر بیٹھ کر پاکستان کے حق میں تقریر بھی کی۔ انہوں نے قائداعظم اور مادرِ ملت کے درمیان بیٹھ کر تصویر بنوائی۔ نو سال کی عمر میں والدہ اور والد انتقال کر چکے تھے۔ آپ نے نامساعد حالات کے باوجود محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔حصول تعلیم کے دوران جزوقتی ملازمتیں بھی کرتے رہے اور پھر اپنی محنت سے ڈپٹی اٹارنی جنرل، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمیشن کے عہدوں پر فائز رہے۔
 ارشاد حسن خان کا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔



س:اپنے خاندانی پس منظر پر کچھ روشنی ڈالیں۔
ج: میرے دادا جان بابو خداداد انڈیا گورنمنٹ میں آڈیٹر تھے۔ پڑھے لکھے ،معزز اور وضع دار انسان تھے۔ دادا جان کی عزت کا سکہ چلتا تھا اور ہم سمجھتے تھے کہ دنیا ہماری ہے۔ میرے والد منظور حسن خان بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ وہ انڈیا پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ سیکرٹری تھے۔دارالحکومت دہلی تھا۔ انگریز چونکہ ٹھنڈے علاقے کے رہنے والے تھے اس لیے گرمیوں میں دارالحکومت شملہ منتقل ہو جاتا تھا۔اس لیے والد صاحب بھی اکثر گرمیوں میں شملہ اور سردیوں میں دہلی چلے جاتے۔ فیملی بھی ان کے ہمراہ ہوتی۔
بٹالہ شہر میں ہماری بڑی سی حویلی تھی جو اب بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ اس جگہ کو''بھائی دا ویہڑا'' کہاجاتا تھا۔ دائیں ہاتھ مسجد تھی اور بڑے سے کھلے صحن میں کنواں تھا۔ آگے ایک بازار تھا۔ جہاں سونے کے زیورات کی پندرہ بیس دکانیں تھیں اور آگے پھل سبزی، کھلونوں اور عام استعمال کی چیزیں ٹھیلوں پر فروخت ہوتی تھیں۔ بچپن میں ہماری دنیا حویلی سے بازار تک تھی۔ 
میری والدہ یکم رمضان کو افطار کے وقت انتقال کر گئیں۔ وفات سے چند دن پہلے ہی سب کو بتا دیا تھا کہ میرا آخری وقت آ گیا ہے۔ والد صاحب اور دیگر عزیزوں سے کہا کہ کہا سنا معاف کرنا۔ مجھے انہوں نے ایک عزیزہ کو لانے کے لیے بھیجا۔ میں ان کو لے کر آیا تو والدہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مجھے آج بھی لگتا ہے کہ ان کی روح میرے اردگرد ہے اور میں ان کی شفقت کے حصارمیں ہوں۔
س: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ کتنے بہن بھائی تھے؟۔
ج:میں 7جنوری1937ء کو شملہ میں پیدا ہوا۔ آبائی گھر بٹالہ میں تھا۔ ہم9بہن بھائی تھے۔ پانچ بہنیں اور چار بھائی۔ میں بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ بھائی افتخار حسن خان ، اورنگ زیب خان، ظہور حسن خان اور میں۔ بہنیں اختر منظور، ثریا منظور،مسرت منظور، فرحت منظوراور درشہوار۔میں اور درشہوار حیات ہیں باقی سب بہن بھائی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔
 میرے والد صاحب نظم و نسق کے پابند سرکاری آفیسر تھے۔ علامہ اقبال سے ان کی بہت مشابہت تھی۔ ان کی تصویر دیکھ کر اکثر لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے۔ والدہ کی وفات کے بعد والد صاحب کو دوسری شادی کا مشورہ دیا گیا لیکن وہ نہیں مانے۔ البتہ گھر گھرہستی کے لیے میرے بڑے بھائی اورنگ زیب کی شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کی تاریخ طے ہو گئی ۔ اس دوران والد صاحب کو نمونیہ ہو گیا ۔ شادی ملتوی کرنے کی تجویز دی گئی مگر وہ نہ مانے۔ 28دسمبر1946ء کو جس دن بھائی کی شادی ہوئی اسی روز والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ میں9سال میں ماں باپ کی محبت و شفقت سے محروم ہو گیا۔
س:تحریک پاکستان میں کس طرح حصہ لینا شروع کیا؟
ج: والد صاحب سرکاری افسر ہونے کے باوجود مسلم لیگی تھے۔ بڑے بھائی اورنگ زیب خان تو مسلم لیگ میں بڑے فعال تھے۔ ان کی بہت خدمات ہیں۔ ان کو اس حوالے سے گولڈ میڈل بھی ملا۔ قاسم رضوی، احمد سعید کرمانی، ڈاکٹر ضیاء الاسلام ان کے ساتھیوں میں سے تھے۔میرے بھائی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری بھی رہے۔ان کا اٹھنا بیٹھنا مسلم لیگ کے ساتھ تھا۔ وہ تحریک پاکستان کے ایسے مجاہد تھے جو نظریے کی بنیاد پر تن من دھن سب نچھاور کر دیتے  ہیں۔ ہماری حویلی بھی مسلم لیگ کی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ اس لیے تحریک پاکستان کی طرف میرا رجحان فطری تھا۔
س: بٹالہ میں تحریک کے حوالے سے کیسا ماحول تھا، کیا سرگرمیاں تھیں؟
ج: والد محترم کے انتقال کے بعد کچھ عرصہ ہم بٹالہ میں رہے پھردہلی چلے گئے۔ بٹالہ میں تحریک پاکستان زوروں پر تھی۔ محلہ محلہ کوچہ کوچہ جلسے ہوتے ، جلوس نکلتے، ہم بھی ان میں شامل ہوتے تھے۔ ان میں سب سے مقبول نعرہ تھا''پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الٰہ الااللہ…'' ہر جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا جس میں مسلم لیگ کے مقامی رہنما خطاب کرتے تھے۔ بٹالہ کے ایک لیڈر ملک بہاؤالدین بہت اعلیٰ مقرر اور وضع دار انسان تھے، رئیس تھے۔ نفیس اچکن پہنے رکھتے تھے۔ میں ان سے بہت متاثر تھا۔ وہ بہت متاثر کن تقریر کرتے تھے۔ان کو دیکھ کر میں نے بھی ضد کی کہ میں بھی تقریر کروں گا۔ آخر مجھے اجازت مل گئی۔ خاندان کے ایک بزرگ سے تقریر لکھوائی اور جامع مسجد کے منبر پر بیٹھ کر تقریر کر دی۔میں نے کہا'' میرا اس وقت آپ سے کچھ کہنا یوں ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان بن کر رہے گا۔ پاکستان زندہ باد''۔ لوگوں کو میری تقریر پسند آئی۔ ملک بہاؤ الدین بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے مجھے گھر بلا کر شاباش دی۔تواضع کی اور ایک روپیہ انعام دیا جو اس وقت بڑی رقم تھی۔ میرا حوصلہ بڑھا۔ جب پاکستان بناتو ان کو شہید کر دیا گیا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔
س: تحریکی سرگرمیاں دہلی میں کس طرح جاری رہیں؟
ج:دہلی میں جب ہم سکول میں پڑھتے تھے تو ہر طرف نفرت کی خلیج نظر آتی تھی۔ سکول میں پڑھنے لکھنے میں ہندو لڑکے ہم سے تیز تھے۔ وہ گروپ بنا کر ہم مسلمانوں کے پاس آتے اور نعرہ لگاتے۔
جس طرح چڑیوں کو نخلستان مل سکتا نہیں
 اس طرح مسلم کو پاکستان مل سکتا نہیں
 ہمیں پوری ہندو برادری یہ چیلنج کرتی تھی۔ ہم بھی پوری قوت سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیتے۔ 
موت ٹل سکتی ہے۔ پاکستان ٹل سکتا نہیں۔
میرے چچا زاد بھائی ملک نعیم اشرف تحریک پاکستان کے پر جوش کارکن تھے۔ بٹالہ میں ہماری حویلی مشترکہ تھی۔ انہوں نے حویلی پر ایک روز مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا۔ پولیس انہیں گرفتار کر کے لے گئی۔ یہ پہلی گرفتاری تھی جو میرے خاندان نے وطن عزیز کے لیے دی۔ اس وقت مسلم لیگ کا یہ نعرہ زبان زد عام تھا۔
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ
کثرت سے نہ ڈر، تیرا ہے خدا
س: قائداعظم کو دیکھنے اور ملاقات کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔ یہ خوشگوار واقعات کب اور کیسے پیش آئے؟
ج: جب میں والد صاحب کے ہمراہ دہلی میں مقیم تھا ان دنوں ایک بار قائداعظم محمد علی جناح تشریف لائے۔ میں اور چند دوسرے بچے ایک دن ان سے ملنے چلے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح دبلے، پتلے، دراز قد، انتہائی رعب دار شخصیت کے مالک تھے، محترمہ فاطمہ جناح  بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ ہم نے تحریک پاکستان کے لیے چندہ اکٹھا کیا تھا جو دس بارہ روپے ہوگا۔ وہاں کوئی پروٹوکول نہیں تھا ۔ جب انہیں اطلاع دی گئی کہ سکول کے کچھ طالب علم آئے ہیں تو انہوں نے فوراً کہا آئیں اندر آئیں۔ اس وقت وہ کوئی تعزیتی پیغام لکھوا رہے تھے( بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ ملک برکت علی جو پاکستان کی تحریک میں پیش پیش ایک سچے سیاستدان اور لیڈر تھے اور پاکستان حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بہت کام کیا،5اپریل1946ء کو ان کا انتقال ہوا ہے۔ یہ تعزیتی پیغام انہیں کے لیے تھا)۔
قائداعظم نے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ جو ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہمیں آتی تھی، اسی میں جواب دے دیا۔ پھر ان کے ساتھ تصویربنوانے کی فرمائش کی۔ اس وقت فاطمہ جناح بھی وہاں تھیں۔ قائداعظم نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ باہر بنچ پر بیٹھیں،میں آتا ہوں۔ پانچ منٹ بعد ہی قائداعظم اپنے دفتر سے باہر تشریف لے آئے۔ محترمہ فاطمہ جناح ان کے ہمراہ تھیں۔ وہ خود بنچ پر بیٹھ گئے اور ہم سب کو کہا کہ پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ میں کس سے بات کر رہا ہوں ۔ میں نے بغیر کسی جھجک کے کہا کہ میں درمیان میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔
قائداعظم نے انتہائی نرمی کے ساتھ میرے گالوں کو تھپتھپایا اور بڑی خوش دلی کے ساتھ تصویر بنوائی۔ ایک طرف وہ بیٹھے۔ دوسری طرف فاطمہ جناح بیٹھ گئیں۔ باقی لڑکے پیچھے کھڑے ہو گئے۔میں اس وقت بہت چھوٹا تھا اس لیے ملاقات کی تفصیل نہیں جانتا لیکن اس تاثر کو میں کبھی نہیںبھلا پاؤں گا جو ملاقات کے وقت قائداعظم کا مجھ پر پڑا۔ انتہائی شفیق، نرم خو اور با اعتماد، توجہ اپنی طرف کھینچ لینے والی شخصیت… ان کے ساتھ بننے والی تصویر نہ جانے کہاں کھو گئی لیکن ان کی شخصیت کا سحر مجھے اب تک مسحورکئے ہوئے ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ میرے ایک کزن تھے، سعید زکریا، وہ تقریبات میں ٹینٹ اور لاؤڈ سپیکر کا ٹھیکہ لیا کرتے تھے۔ ایک دن میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ یہ مسلم لیگ کا ایک جلسہ تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں جمع تھے۔ سعید زکریا اس جلسے میں انتظامات کے ٹھیکہ دار تھے، انہوں نے جلسے سے تھوڑی دور ایک جگہ پر مجھے بٹھا دیا ۔میں لوگوں کا ہجوم دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران ہلچل سی مچ گئی۔ قائداعظم آگئے… ''قائداعظم زندہ باد…لے کر رہیں گے پاکستان… بن کے رہے گا پاکستان…'' لوگ قائداعظم محمد علی جناح کی جھلک دیکھنے کے لیے امڈ آئے۔ قائداعظم آئے اور بڑی مشکل سے سٹیج پر پہنچے۔میں بہت چھوٹا تھا اس لئے ان کی تقریر تو یاد نہیں لیکن ان کے چند الفاظ میری سماعت میں آج بھی محفوظ ہیں۔ انہوں نے پاٹ دار آواز میں کہا تھا… ''پاکستان بن کر رہے گا۔'' میں بھیڑ سے باہر ایک طرف بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اچانک میں نے رونا شروع کر دیا۔ سعید زکریا پریشان ہو گئے۔ مجھے پیار سے کہنے لگے روتے کیوں ہو؟ میں نے جواب دیا قائداعظم محمد علی جناح  دبلے پتلے شخص ہیں، کہیں اس بھیڑ میں گر کر زخمی نہ ہو جائیں، اس لیے رو رہا ہوں۔ 
یہ میری قائداعظم سے محبت ہی تھی جو میں وکیل بنا اور پھر اﷲتبارک و تعالیٰ نے عزت بخشی اور چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر پہنچا ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید یہ عزت بچپن کے چند معصوم آنسوؤں کے بدلے میں ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بخشی ہو۔
س: پاکستان کب اور کیسے ہجرت کی؟ اس وقت کیا صورت حال تھی؟
ج:اگست1947ء کے مہینے میں ہم دہلی سے کراچی پہنچے، یہ سخت مشکل کا وقت تھا، میں اپنے بڑے بھائی اورنگ زیب خان کے ہمراہ تھا، ٹرین سے ہم نے سفر کیا، ٹرین مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ دہلی سے پاکستان آنے والی پہلی ٹرین ہماری تھی جو فوج کے پہرے میں دہلی سے کراچی پہنچی ۔ اس دوران جہاں جہاں گاڑی رکتی تھی، ہندو ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن ہمارے سارے کمپارٹمنٹ اندر سے سیل تھے اور فوج کا پہرہ ہونے کی وجہ سے الحمدللہ ہمیں ذاتی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس سٹیشن پر گاڑی رکتی تھی، وہاں خون کے نشانات پڑے ہوئے نظر آتے تھے۔ چونکہ میں بچہ تھا، نہ سمجھے انداز میں بھائی سے پوچھتا کہ کیا یہاں ہولی کھیلی جا رہی ہے؟ ہر جگہ ہولی کے رنگ ہیں، کیا یہ ہولی کا میدان ہے؟ وہ جواب دیتے ، نہیں بیٹا یہ ہولی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے خون کے نشان ہیں۔ ہر طرف سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی تھیں۔میں نے خود دیکھا کہ وہاں عورتیں بے یارو مددگار ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
 جب ہم کراچی پہنچے تو میں سخت بخار میں تپ رہا تھا…کیمپ میں ہمیں سر چھپانے کی جگہ ملی… نیا شہر… بیماری، یہ پریشان کن صورتحال تھی۔ انتہائی نامساعد حالات… بھائی جان اورنگ زیب خاں دہلی میں فارن آفس میں ملازم تھے، کراچی پہنچنے کے بعد کچھ دن ہم کیمپ میں رہے، ہجرت کے وقت ہم سمیت سب لوگوں کا بہت برا حال تھا۔ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا، خاندان کے لوگ بچھڑ گئے تھے۔ لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے، ہر طرف آہ و بکا کا منظر تھا، جیسے قیامت صغریٰ برپا ہو گئی ہو۔
اورنگ زیب خان مسلم لیگ کے پُرجوش اور فعال ورکر تھے۔ وہ تحریک پاکستان کے ہر اول دستے بلکہ تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن بھی تھے۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنامسلم لیگ تھا، سیاست کے کارزار کے ایسے مجاہد جو نظریے کی بنیاد پر تن من دھن نچھاور کر دیتا ہے۔ کراچی کے مہتہ ہاؤس میں فارن آفس میں ان کی ملازمت تھی لیکن ان کی دلچسپی سیاست میں زیادہ تھی۔ فارن آفس والوں نے انہیں رہائش کے لیے کوارٹر بھی الاٹ کیا مگر کچھ عرصہ بعد ہی وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لاہور چلے آئے۔  
س: جب آپ نے پاکستان ہجرت کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً دس سال ہو گی۔ پاکستان آکر تعلیمی مراحل کہاں سے اور کیسے طے کیے؟
ج:میں مسلم ماڈل ہائی سکول میں داخل ہوا، ڈاکٹر محبوب الحق (سابق وزیر خزانہ) کے والد عبدالعزیز شیخ وہاں ہیڈ ماسٹر تھے، میرا تعلیم کے لیے شوق زوروں پر تھا لیکن معاشی حالات خراب تھے، ایک دن میں ان کے آفس گیا اور بتایا کہ میں سکول چھوڑ رہا ہوں، اب میں تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے نرمی کے ساتھ دریافت کیا کہ تعلیم جاری نہ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا: سر ! آپ کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ میں تعلیم کیوں جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ انہوں نے میری سخت بات کی طرف دانستہ توجہ نہ دی اور ایک بار پھر نرمی سے تعلیم جاری نہ رکھنے کی وجہ پوچھی، پھر خود ہی کہا: اگر فیس کا مسئلہ ہے تو میں آپ کی فیس معاف کر دیتا ہوں۔ میں پھر بھی نہ مانا، انہوں نے مجھے سٹیشنری، کاپیوں اور یونیفارم کی پیشکش کی اور کہا کہ سکول آپ کی دیگر ضروریات بھی پوری کرے گا۔ میں نے تو ہیڈ ماسٹر ساحب سے عرض کیا۔ آدھی چھٹی کے وقت میرے ہم جماعت اور دوسرے لڑکے اپنے جیب خرچ میں مختلف چیزیں خریدتے ہیں۔ میں کیسے خریدوں گا؟ انہوںنے سکول فنڈ سے مجھے فنڈ جاری کر دیا، یوں میں نے تعلیم جاری رکھی۔ 
باغ جناح کی پُرفضا وسعت میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں روشنی کے  بڑے بڑے لیمپ لگے ہوئے تھے اور میں زمانہ طالب علمی میں یہاں آ کر پڑھتا تھا، یہ بڑے قیمتی سال تھے اور میری تعلیمی بنیاد مضبوط ہو رہی تھی، باغ جناح میں گزرا ہوا وقت اب بھی مجھ پر کیف و سرور کا عالم طاری کر دیتا ہے۔ میرے تعلیمی کیریئر کی بنیاد اسی خوشگوار ماحول میں پڑی تھی۔ سکول میں جب میں پڑھتا تھا تومجھے یاد ہے کہ ہم کوپر روڈ پر رہتے تھے، ایک دن پتہ چلا کہ ہماری بجلی کٹ گئی ہے۔ میں گلی میں سرکاری لیمپ کے نیچے بیٹھ کر کئی دن پڑھتا رہا۔ بجلی کٹ گئی لیکن میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی پڑھائی سرکاری لیمپ کے نیچے بیٹھ کر پوری کی۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، میں کم عمری سے ہی خود اعتماد تھا، میں نے محلے کے چند بچوں کو اکٹھا کر کے گلی میں ہی پڑھانا شروع کر دیا، اس سے مجھے دو فائدے ہوئے ، ایک تو میری دہرائی ہو جاتی، دوسرا جیب خرچ کے لیے رقم مل جاتی، بچپن سے ہی میری تربیت خود انحصاری کی بنیاد پر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آنے  دی۔ ٹیوشن پڑھانے سے بچپن میں ہی عزت کا احساس پیدا ہوا کہ میرے ننھے شاگردوں میں مری عزت ہے اور اس عزت و وقار کے لیے مجھے ہمیشہ راست قدم رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی مجھے راست بازی کے لیے تیار کیا اور یہ راست بازی زندگی کے ہر لمحے میری رہنما رہی، مجھے درست فیصلہ کرنے میں کبھی کسی مغالطے کا شکار نہ ہونا پڑا۔
میں نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ ایک خطرناک پہاڑی سلسلہ ہے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر ہوں۔ نیچے گہری کھائی ہے۔ میرے ہاتھ میں کتابیں ہیں۔ اچانک پائوں پھسلتا ہے اور میں کھائی میں گرنے لگتا ہوں۔ میںایک ہاتھ میں مضبوطی سے کتابیں پکڑے رکھتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے ایک چٹان، مجھے لگتا ہے کہ اگر میں نے کتابیں پکڑے رکھیں تو میں کھائی میں گر جائوں گا مگر میں کتابیں نہیں گراتا اور انہیں مضبوطی سے تھامے رکھتا ہوں۔ اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ ویسے تو یہ خواب تھا لیکن یہ حقیقت بھی ہے۔ میں جو معاشی طور پر کمزور، والدین کے سائے سے محروم، زندگی کے پُر خطر راستے پر تنہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تعلیم کو میرا آسرا بنایا اور میں کامیابیوں کے پہاڑ سر کر سکا۔ خدا نے مجھے راہ دکھائی اور میں اسی لیے پوری توجہ کے ساتھ علم کے راستے پر چلتا رہا۔



 میں نے زندگی کے ابتدائی حصہ میں ہی ایک مقصد بنا لیا تھا کہ مجھے قائداعظم محمد علی جناح کی طرح  وکیل بننا ہے اور وکیل پڑھ لکھ کر ہی بنا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میں ہمیشہ جدوجہد کرتا رہا۔ یہاں تک کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔ میری کتاب''ارشاد نامہ'' میری اسی جدوجہد کی کہانی ہے۔
س: جیسا کہ آپ نے بتایا کہ آپ کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے لیکن پھر بھی آپ نے مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم کیسے حاصل کر لی؟
ج: میں نے شاید پہلے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت زیادہ خود اعتمادی سے نوازا ہے۔ میں نے تعلیمی اداروں میں داخلہ، مختلف اداروں میں ملازمت اور بہت سی کامیابیاںاللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اسی خود اعتمادی کی بدولت حاصل کی ہیں۔ گورنمنٹ کالج میں داخلے کا خواب ہر طالب علم کی آنکھوں میں سجا ہوتا ہے۔ میرے اللہ کا کرم ہے کہ میرے جیسے ایک بے وسیلہ اور یتیم بچے نے گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ جب داخلے کھلے تو میں نے بھی داخلہ فارم پُر کرکے جمع کروا دیا۔ میٹرک میں میرے بس مناسب نمبر تھے کوئی امتیازی پوزیشن نہ تھی۔ تب داخلہ انٹرویو میں پاس ہونے پر ملتا تھا۔ مجھے بھی انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔ جب میں سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو میں نے درخواست کی۔''سر کالج میں داخل ہونے کے لیے میری ایک پیشگی شرط ہے۔ میری بات سن کر ایک مشترکہ قہقہہ بلند ہوا۔ پرنسپل صاحب نے تجسس کے ساتھ میری طرف دیکھا اور پوچھا۔''نوجوان شرط کیا ہے؟''۔
شاید اس جملے میں استہزا بھی شامل تھا جو میں نے محسوس نہیں کیا۔ میں نے اپنی دھن میں کہا۔'' جناب کالج کی انتظامیہ کا یہ دستور ہے کہ نوٹس بورڈ پر کالج میں داخلے میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نام اس نوٹس کے ساتھ لگا دیئے جاتے ہیں کہ داخلہ فیس اور دیگر واجبات تین دن کے اندر جمع کرا دیئے جائیں ایسا نہ ہونے کی صورت میں داخلہ روک دیا جائے گا۔ جناب میرے لیے اس شرط کو ختم کر دیں کیونکہ میں نے پہلے ہی کراچی کے تفریحی سفر کا پروگرام بنا رکھا ہے جو کچھ میں نے پس انداز کیا تھا میرا ارادہ ہے کہ اسے اس دورے پر خرچ کروں۔ کراچی سے واپس آ کر میں ایک ماہ کے اندر داخلہ فیس جمع کروا دوں گا۔ اگر آپ اس درخواست کو قبول کریں تو مجھے داخلہ دیں ورنہ میں آپ کا کالج جوائن نہیں کر سکوں گا۔''
 یہ سن کر سلیکشن بورڈ کے ایک سینئر ممبر نے قدرے تیز لہجے میں مجھے کہا''گٹ آئوٹ'' میں واپس آگیا۔ لیکن اگلے دن کالج گیا تو میرا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں شامل تھا۔ بعد میں بھی میری بہت سی ایسی حرکتیں برداشت کی گئیں۔ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل قاضی محمد اسلم فلسفے کے مایہ ناز پروفیسر اور انتہائی شفیق انسان تھے۔ ان کا اولین مقصد دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا تھا۔
 میں کالج میں پڑھتا تھا اور سیکنڈ ٹائم بھائی اورنگ زیب کی فرنیچر کی دکان پر بیٹھتا تھا۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سڑک پار کر رہا ہوں تو ایک تانگے والے نے آواز دی۔ تانگے میں محترمہ فاطمہ جناح تشریف فرما تھیں۔ میں نے ادب سے سلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم آپ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک چمکتا ہوا سونے کا تحفہ عطا کیا اور تانگہ چلا گیا۔ لوگ میرے اردگرد جمع ہوگئے اور مبارکبادیں دینے لگے کہ تمہیں وہ مل گیا جو کسی وزیر کو بھی نہیں ملا۔ اس کے چند دنوں بعد میں کالج یونین کا سیکرٹری منتخب ہوگیا۔ تب تعلیمی اداروں میں سیاست نہیں گھسی تھی۔ لیڈر شپ خدمت اور صلاحیت کی بناد پر دی جاتی تھی۔ میں چونکہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں متحرک تھا اس لیے جلد ہی کالج میں نمایاں ہوگیا۔
 س: چیف جسٹس کے عہدے تک کیسے پہنچے؟
 ج: میں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی ملازمتیں بھی کیں۔ بڑے بھائی نے مجھے اور ایک دوسرے بھائی کو اپنی فرنیچر کی دکان پر بٹھا لیا تھا مگر میں نے دکان پر جانا چھوڑ دیا۔ فیروز سنز میں بھی کئی سال جز وقتی ملازمت کی۔ وہاں کے بھی کئی دلچسپ واقعات ہیں۔ میں گلی کی ٹیوب لائٹس اور باغ جناح کی پہاڑی پر لائٹ میں بیٹھ کر بھی پڑھتا رہا۔ وہاں سے روزانہ گلاب کا پھول لاتا۔ سوٹڈ بوٹڈ رہتا اور گلاب کا پھول سینے پر سجائے رکھتا۔ قائداعظم کی طرح وکیل بننے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ کالج سے کیا۔ پرنسپل پروفیسر سراج الحق صاحب نے بہت زیادہ تعریف والا لیٹر دیا۔ میں لیٹر اور اپنے کاغذات اکائونٹنٹ جنرل کے پاس ملازمت کے لیے لے کر گیا۔ انہوں نے لیٹر پڑھا اور فائل ہوا میں اچھال دی۔ میں واپس جانے لگا تو مجھے بلایا اور میرا ماتھ چوما اور کہا کہ تمہارے ماتھے سے روشنی نکلتی دیکھ رہا ہوں۔ یہ کلرک کی نوکری تمہارے شایان شان نہیں۔ تم کسی بڑے کام کے لیے پیدا ہوئے ہو۔ چونکہ قائداعظم کی طرح وکیل بننے کا ارادہ تھا اس لیے گریجوایشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاء کالج جا پہنچا۔ شیخ امتیاز علی پرنسپل تھے۔ گریجوایشن میں میرے نمبر تو زیادہ نہیں تھے لیکن کالج یونین کا سیکرٹری رہ چکا تھا اور غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے داخلہ مل گیا۔ انجمن حمایت اسلام لاء کالج میں لیکچرر کی ملازمت بھی مل گئی۔
1959ء میں مجھے وکالت کا لائسنس مل گیا۔ مجھے سینئر وکلاء اور ججوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ دلچسپ واقعات بھی پیش آتے رہے اور مجھے سیکھنے کا موقع بھی ملتا رہا۔1961ء میں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ویسٹ پاکستان، 1966ء میں سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان،1969ء سے 1981ء تک ڈپٹی اٹارنی جنرل اور 1981ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز ہوا۔ مارچ 1984ء سے جولائی1988ء تک سیکرٹری وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ اکتوبر1994ء میں سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کے عہدے پر تقرر ہوا، جون1995ء سے اپریل 1996ء تک لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپریل 1996ء میں مستقل جج سپریم کورٹ اور 26 جنوری2000ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تقرر ہوا۔ مختلف ممالک میں کئی کانفرنسوں اور سیمینارز میں کلیدی خطاب کیا۔ عدلیہ کے امیج کو ابھارنے اور نظام عدل پر عوام کا اعتماد بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ کئی بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قائم مقام صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔16 جنوری 2002ء کو چیف الیکشن کمشنر تعینات اور 15 جنوری2005ء کو ریٹائر ہوا۔ جہاں بھی رہا انصاف اور قانون کی برتری کے سوا کسی معاملے سے تعلق نہیں رکھا۔ جہاں بھی قانون اور انصاف پر زد پڑتی دیکھی ،ڈٹ گیا۔
س:۔ عام تاثر یہ ہے کہ ہمارے ہاں سستا اور فوری انصاف نہیں ملتا۔ عدالتی نظام کی بہتری کے لیے آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟
ج: ایک وقت تھا عدلیہ اور ججوں کا بہت احترام تھا۔ فیصلے بھی انصاف کے مطابق کیے جاتے تھے۔ عدلیہ میں بڑی نامور اور نیک نام شخصیات تھیں۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب دیکھیں ججوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ میں نے بطور چیف جسٹس بہت سی اصلاحات کی تھیں۔ خرابی کی بڑی وجہ بدعنوانی ہے۔ تحریک پاکستان میں بھی کچھ لالچی لوگ موجود تھے جنہوں نے تحریک میں پیسہ خرچ کیا۔ پاکستان بننے کے بعد جب انہوں نے اپنا پیسہ نفع کے ساتھ وصول کرنا چاہا تو قائداعظم نے ایک ایک کو کان سے پکڑ کر نکال دیا۔ اسی طرح ہر شعبے سے بدعنوان لوگوں کو نکال باہر کیا جائے لیکن نکالے گا کون؟ بدعنوانی ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل چکی ہے۔ جب بدعنوانی ختم ہو جائے گی تو ہر شعبہ، ہر محکمہ بہتر ہو جائے گا۔ ایک پاکیزہ معاشرے وجود میں آئے گا۔
س: ہم پاکستان کو کس طرح علامہ اقبال، قائداعظم اور مشاہیر تحریک پاکستان کے تصور اور امیدوں کے مطابق بنا سکتے ہیں؟
ج: موجودہ پاکستان صرف مطالبات کا پاکستان ہے۔ پاکستان بن گیا تو ہر شخص اپنے مطالبات لے کر نکل آیا۔ تحریک پاکستان کے دوران لوگ بھوکے ننگے سڑکوں پر نکلے۔ انہوں نے پورے خلوص سے حصول پاکستان کے لیے جدوجہد کی۔ بعد میں فوج اور عدلیہ کے سوا ہر کوئی اپنے حلقوں کی ٹریڈ یونین بن کرآگیا اور مطالبے شروع کردیئے۔ اپنے فرائض کا کسی کو خیال نہیں۔ ہم نے کبھی سوچا تھا کہ ڈاکٹر ہڑتال کیا کریں گے۔ جب تک قوم میں وہ جذبہ پیدا نہیں ہوگا جو تحریک پاکستان میں تھا تب تک پاکستان بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق نہیں بن سکتا۔ کاش ہمیں قائداعظم جیسا مخلص، دیانت دار اور اصول پسند ایک رہنما مل جائے تو پاکستانی قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔
س: نوجوانوں کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: نوجوانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور پھر مصمم ارادہ کرلیں اور پورے خلوص سے اس ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل محنت کریں۔ فتح اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے اپنا اپنا کام کریں۔ محنت کا پھل اللہ ضرور دیتا ہے۔ میری مثال آپ کے سامنے ہے۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ اللہ پر بھروسہ کیا اور بلاخوف کام کیا۔ اﷲ نے اتنا کرم کیا کہ شکر ادا نہیں ہو سکتا۔ آج کے نوجوان بھی محنت کو شعار بنائیں، وطن کے لئے کام کریں۔ اﷲ تعالیٰ اُنہیں ضرور کامرانیوں سے نوازے گا۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP